بلیو پاسپورٹ، اسلحہ لائسنس: خیبرپختونخوا میں اراکین اسمبلی کے لیے نئی مراعات کا مجوزہ قانون متنازع کیوں بنا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے ارکان اسمبلی کے لیے بلیو پاسپورٹ، اسلحے کے لائسنس اور دیگر مراعات پر مبنی قانون پر نظر ثانی کا حکم دیا ہے۔
’خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی پاورز، امیونیٹیز اینڈ پرویلج 2026‘ نامی قانون میں ارکان اسمبلی کے لیے اختیارات، مراعات اور استحقاق میں اضافہ کیا گیا ہے جسے حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔
مگر اس قانون پر مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر کافی تنقید کی جا رہی ہے۔ کئی لوگوں نے اعتراض اٹھایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف وی آئی پی کلچر کے مخالف رہے ہیں مگر اب بھی ارکان اسمبلی کے لیے وہی اختیارات، مراعات اور استحقاق مانگے جا رہے ہیں۔
حکومتی ارکان کے علاوہ اس قانون سازی میں خیبرپختونخوا میں اپوزیشن کی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن اور عوامی نیشنل پارٹی شامل ہیں۔
ادھر تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات اور سابق وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ بلیو پاسپورٹ کے بارے میں سفارشات وفاقی حکومت کو بھیجی گئی ہیں اور یہ ’پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ اس سے پہلے بھی ایسی سفارشات وفاقی حکومت کو بھیجی جا چکی ہیں اور یہ پاسپورٹ وفاقی حکومت کی منظوری سے جاری ہو سکیں گے۔‘
شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ ’اس وقت خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین کی تنخواہیں اور مراعات دیگر صوبوں سے اب بھی کم ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے۔ ’اگر ایم پی ایز کی تنخواہوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس پر تنقید کیوں کی جا رہی ہے؟‘
ان سے جب کہا گیا کہ پی ٹی آئی تو اس طرح کے وی آئی پی کلچر کی مخالفت کرتی آئی ہے، اب کیا ہوا ہے؟ تو انھوں نے کہا کہ ’بنیادی طور پر یہ قانون 1988 سے ہے اور اس میں وقت کے ساتھ تھوڑی بہت ترامیم کی جاتی ہیں۔ اس میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی کی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ ترامیم دیگر صوبوں سے کچھ نکات لے کر کی گئی ہیں تاکہ تمام صوبوں کے قوانین میں یکسانیت لائی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیبر پختونخوا اسمبلی کا نیا قانون کیا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
خیبر پختونخوا اسمبلی نے حال ہی میں خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی (اختیارات، استحقاقات اور مراعات) ایکٹ 2026 منظور کیا ہے، جس کا مقصد اسمبلی، اس کے ارکان اور کمیٹیوں کے اختیارات، استحقاقات، مراعات اور قانونی تحفظات کو ازسرِ نو مرتب کرنا ہے۔
اس قانون کے تحت ارکان اسمبلی، سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور اسمبلی کی کمیٹیوں کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ متعدد نئی مراعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
قانون کا ایک اہم حصہ ارکان اسمبلی کو دی جانے والی نئی سہولیات اور مراعات سے متعلق ہے۔ اس کے تحت ارکان اسمبلی اور ان کے شریک حیات کو بلیو (آفیشل) پاسپورٹ جاری کیا جا سکے گا جبکہ شریک حیات کے لیے اس سہولت کو تاحیات رکھنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ تاہم اس کا نفاذ وفاقی قوانین اور منظوری سے مشروط ہوگا۔
ارکان اسمبلی کو ٹول ٹیکس کی ادائیگی سے استثنی دیا گیا ہے اور انھیں سرکاری یا مخصوص رہائش گاہ میں مفت رہائش فراہم کرنے کی قانونی گنجائش بھی شامل کی گئی ہے۔
قانون کے مطابق ارکان اسمبلی چار اسلحہ لائسنس حاصل کر سکیں گے، جن میں دو مفت جبکہ دو مقررہ فیس کے ساتھ جاری کیے جا سکیں گے۔ سکیورٹی خدشات کی صورت میں انھیں کیٹیگری بی سکیورٹی اور ضرورت پڑنے پر سکیورٹی عملہ فراہم کیا جا سکے گا۔
ارکان کو ملک بھر میں، بشمول گلگت بلتستان اور کشمیر، اپنے ساتھ سکیورٹی عملہ لے جانے کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کے شیشے کالے کرنے، کلبز کی رکنیت حاصل کرنے، خصوصی سرکاری شناختی کارڈ رکھنے اور اپنی ذاتی گاڑی پر اسمبلی کا مونوگرام یا مخصوص نمبر پلیٹ استعمال کرنے کی سہولت بھی دی گئی ہے۔
ایک اور اہم شق کے تحت ارکان اسمبلی کو ’جسٹس آف پیس‘ کے اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عوامی شکایات سن سکیں گے اور متعلقہ سرکاری اداروں، خصوصاً پولیس اور ضلعی انتظامیہ، کو کارروائی کے لیے سفارش یا ہدایات دے سکیں گے۔ تاہم یہ عدالتی اختیار نہیں ہوگا اور وہ مقدمات کا فیصلہ نہیں کر سکیں گے۔
سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے بھی وسیع مراعات رکھی گئی ہیں۔ ان کی تنخواہ، الاؤنسز اور دیگر مراعات کا تعین اسمبلی کی فنانس کمیٹی کرے گی۔ انھیں سرکاری رہائش یا اس کے متبادل اخراجات، ہاؤس الاؤنس، میڈیکل، ٹیلی فون، انٹرنیٹ، سفری، بیرون ملک سفر اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ سپیکر کو دو سرکاری فلیگ گاڑیاں اور ایک بکتر بند گاڑی جبکہ ڈپٹی سپیکر کو دو سرکاری گاڑیاں مل سکیں گی۔ سرکاری رہائش کی دیکھ بھال، بجلی اور گیس کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی۔
اراکین صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز کی رقم بھی فنانس کمیٹی مقرر کرے گی اور قانون میں کوئی مخصوص رقم درج نہیں کی گئی۔ تاہم ہاؤس رینٹ، یوٹیلٹی، کنوینس، ٹیلی فون، میڈیکل، سیشن، سفری اور آفس مینٹیننس سمیت مختلف الاؤنسز کی قانونی گنجائش شامل کی گئی ہے۔ قانون میں یہ بھی درج ہے کہ قائد حزب اختلاف کو صوبائی وزیر سے کم مراعات نہیں دی جا سکیں گی۔
قانون کا سب سے زیادہ زیرِ بحث حصہ اسمبلی اور سپیکر کے اختیارات سے متعلق ہے۔ نئے قانون کے تحت سپیکر کو اسمبلی کی کارروائی، احاطے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ اسمبلی استحقاق کی خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزا بھی دے سکے گی جبکہ ایسے مقدمات سننے کے لیے اسمبلی کی جوڈیشل کمیٹی کو قانونی اختیار دیا گیا ہے۔
صحافیوں اور میڈیا کے حوالے سے بھی قانون میں متعدد شقیں شامل کی گئی ہیں۔ سپیکر کسی صحافی، اخبار یا میڈیا ادارے کی اسمبلی کی کارروائی تک رسائی محدود یا ختم کر سکتا ہے۔ اسمبلی یا اس کی کمیٹیوں کی کارروائی سپیکر کی اجازت کے بغیر شائع یا رپورٹ کرنے پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اگر کسی صحافی کی اسمبلی کوریج کی اجازت واپس لے لی جائے تو اس کے بعد اسمبلی کی کارروائی کی رپورٹنگ جرم تصور ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اسمبلی کی کارروائی کی توہین، غلط رپورٹنگ، استحقاق مجروح کرنے والی اشاعت یا کمیٹی رپورٹ کو قبل از وقت شائع کرنے پر قید اور جرمانے کی سزائیں بھی رکھی گئی ہیں۔
قانون اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے اختیارات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ ضلعی اور دیگر سرکاری افسران کو ارکان اسمبلی یا متعلقہ کمیٹیوں کی طلبی پر اجلاسوں میں شرکت کا پابند بنایا گیا ہے، جس سے کمیٹیوں کی نگرانی اور احتسابی صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نئے اختیارات، مراعات اور استحقاق پر تنقید
ان شقوں پر سب سے زیادہ تنقید ارکان اسمبلی کے لیے نئی مراعات، بلیو پاسپورٹ، ٹول ٹیکس چھوٹ، سکیورٹی اور اسلحہ لائسنس کی سہولت کے ساتھ ساتھ صحافیوں اور میڈیا پر سپیکر کے اختیارات کے حوالے سے کی جا رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ اختیارات آزادی صحافت، شفافیت اور جمہوری احتساب کے حوالے سے سوالات پیدا کرتے ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ قانون اسمبلی کے وقار، خودمختاری اور مؤثر قانون سازی کو یقینی بنانے کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار لحاظ علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس قانون کو پاس کرنے کے بعد ’پی ٹی آئی بھی اس روایتی راہ پر چل نکلی ہے جس پر ماضی میں وہ تنقید کرتی رہی ہے۔ اب پی ٹی آئی کی حکومت بلیو پاسپورٹ، ٹول ٹیکس، فیول، تنخواہوں میں اضافے اور ریسٹ ہاؤسز میں رہائش کی آسائشیں حاصل کر رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جس قائمہ کمیٹی نے اس کی منظوری دی تھی، اس کی سربراہی پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی ڈپٹی سپیکر کر رہی تھیں اور اس لیے اس بل کو چند ماہ تک چھپائے رکھا گیا۔ یہ بل خیبر پختونخوا اسمبلی کی ویب سائٹ پر بھی کہیں سامنے نہیں آیا تھا۔‘
اس قانون پر سب سے زیادہ تنقید ارکان اسمبلی کے لیے نئی مراعات، خصوصاً سرکاری (بلیو) پاسپورٹ کی سہولت، اور حکومتی و اپوزیشن جماعتوں کی متفقہ حمایت پر کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے بلیو پاسپورٹ کے معاملے کو ’سیاسی رشوت‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ تحریک انصاف کا ’دوہرا معیار‘ ہے۔
اپنے ویڈیو پیغام میں وزیر مملکت طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ’کے پی اسمبلی کا منظور کردہ بل اور اس کے تحت دی جانے والی غیر منصفانہ مراعات وفاقی حکومت پر کسی صورت لازم نہیں ہیں اور وفاق اس ماورائے قانون اقدام کو تسلیم نہیں کرے گا۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ ’بلیو پاسپورٹ تاحیات دینے کی اجازت نہیں۔ وفاقی حکومت، وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے پچھلے دو سالوں میں کفایت شعاری کے تحت بلیو (آفیشل) پاسپورٹس کی تعداد پہلے ہی آدھی کر دی ہے۔ اب یہ پاسپورٹ صرف اور صرف آفیشل ڈیوٹی پر مامور افراد کو ملیں گے۔‘
انھوں نے اس حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنما اقبال آفریدی کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ماضی میں ان کے بیٹے نے ’بلیو پاسپورٹ کا غلط استعمال کیا، وہ اس آفیشل پاسپورٹ پر یورپ گیا اور وہاں جا کر اسی پاسپورٹ کو سرینڈر کر کے سیاسی پناہ لے لی۔‘
مگر بظاہر صوبے میں مسلم لیگ ن سمیت اپوزیشن جماعتوں کو پی ٹی آئی کی پالیسیوں پر کوئی اعتراض نظر نہیں آ رہا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما احمد کنڈی اس سے زیادہ مراعات کا مطالبہ بھی کرتے نظر آئے ہیں۔
جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قانون اسمبلی کی خودمختاری، وقار اور مؤثر قانون سازی کو یقینی بنانے کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔
حکومت اور اپوزیشن ارکان نے نئی مراعات کا دفاع کیا
حکومتی اور حزب اختلاف کے اراکین نے اس قانون کی حمایت میں ایک ساتھ پریس کانفرنس کی ہے۔ تاہم اس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کوئی رکن موجود نہیں تھا۔
صوبائی حکومت کے ترجمان اور وزیر اطلاعات شفیع جان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے بارے میں کافی بحث جاری ہے، جن میں بلیو پاسپورٹ، اسلحہ کے لائسنس اور دیگر کچھ نکات شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کابینہ میں جس کی منظوری دی گئی تھی اور بلیو پاسپورٹ کے بارے میں جو ڈرافٹ کابینہ کے اجلاس میں پاس ہوا، ’اس میں نہ کوئی سپاؤز کا ذکر تھا اور نہ ہی عمر بھر کے لیے یہ پاسپورٹ ہونا تھا، لیکن جب یہ بل اسمبلی میں آیا تو اس میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کی گئیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے احمد کنڈی نے اس میں ترامیم کیں اور یہ بل پھر اسمبلی سے منظور ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کابینہ نے بلیو پاسپورٹ کی منظوری دی تھی، اس وقت اس میں سپاؤز یا بچے یا تاحیات شامل نہیں تھا۔
شفیع جان نے ساتھ یہ بھی کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کو، ان کی سپاؤز اور ان کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ تاحیات ملتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ’پاکستان میں 57 ہزار افراد کے پاس بلیو پاسپورٹ ہیں تو یہ کن لوگوں کو جاری کیے گئے ہیں، ان کے نام بھی سامنے آنے چاہییں، حالانکہ اس وقت قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے اراکین کی مجموعی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہو گی۔‘
اس کے علاوہ انھوں نے اسلحہ لائسنس کا ذکر کیا اور کہا کہ ’اب زیادہ اس لیے کیے گئے ہیں کیونکہ اس وقت سکیورٹی کے حالات خراب ہیں اور اراکین کو دھمکیاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ قانون پہلے بھی موجود تھا، اب اس میں معمولی رد و بدل کیا گیا ہے۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی احمد کنڈی نے اس بارے میں کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کو بیرون ملک دورے کرنے پڑتے ہیں اور اس کے لیے ان کے لیے بیرون ملک سفر کرنے کے لیے بلیو پاسپورٹ ضروری ہے، بلکہ وہ یہ چاہیں گے کہ سپیکر کے لیے ریڈ پاسپورٹ دیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’صحافیوں کا کام ہے تنقید کرنا، وہ کرتے رہیں، جبکہ اراکین پارلیمان کا کام ہے قانون سازی کرنا اور وہ قانون سازی کریں گے۔‘
عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی ارباب عثمان نے کہا ہے کہ ’ہمارا صوبہ انتہائی محروم رہا ہے اور قربانیاں دے رہا ہے، چاہیے یہ تھا کہ ہمیں زیادہ مراعات ملنی چاہییں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم عوامی لوگ ہیں، اگر دوسروں کو مل رہا ہے تو ہمیں کیوں نہیں مل سکتا؟ اور اگر مجھے بلیو پاسپورٹ ملتا ہے تو اس سے عام آدمی پر کیا اثر پڑتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ اور اسلحہ لائسنس وفاقی حکومت کی منظوری سے ہوں گے اور اگر وفاقی حکومت منظوری نہیں دیتی تو یہ نہیں ہوگا، اس لیے اس میں تنقید کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘
اس قانون میں صحافیوں اور خاص طور پر ان صحافیوں کے بارے میں بھی قوانین شامل ہیں جو صوبائی اسمبلی کی کوریج کرتے ہیں۔ اس بارے میں پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ صحافیوں کو اعتراض ہے اور اس بارے میں وہ صحافیوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں گے۔
شفیع جان نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے سپیکر سے کہا ہے کہ ’تمام پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس طلب کیا جائے اور کوئی ایسا قانون پاس نہیں ہونا چاہیے جس پر عوامی سطح پر اعتراض ہو۔ اس پر نظر ثانی کی جائے۔‘























