’میرے پاس وقت بہت کم تھا‘: وہ شخص جس کے جسم میں سؤر کے گردے نے 271 دن تک کامیابی سے کام کیا

،تصویر کا ذریعہKate Flock/Massachusetts General Hospital
امریکہ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک مریض کے جسم میں سؤر سے حاصل کیا گیا گردہ 271 روز سے کامیابی سے کام کرتا رہا، جو اس نوعیت کا اب تک کا سب سے طویل ریکارڈ ہے۔
مریض ٹم اینڈریوز کے مطابق اس پیوندکاری نے انھیں نئی امید دی اور کئی ماہ تک انھیں ہسپتال جا کر ڈائیلاسس کے ذریعے خون صاف کرانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
میساچوسٹس جنرل بریگھم ہسپتال کی ماہر ٹیم کا کہنا ہے کہ ’ان کے تجربے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسانی گردہ دستیاب ہونے تک سؤر کے اعضا کو عارضی طور پر ایک ’پل‘ (یعنی برج) کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے مریض کو وقتی سہارا مل سکتا ہے۔
تاہم سؤر کا یہ گردہ آخرکار کام کرنا بند کر گیا اور ڈاکٹروں کو اسے نکالنا پڑا۔ اس کے بعد ٹم اینڈریوز کو کچھ عرصے کے لیے دوبارہ ڈائیلاسس کرانا پڑا، یہاں تک کہ انھیں ایک ڈونر مل گئے اور انسان کا ہی گردہ انھیں لگا دیا گیا۔
اعضا کی پیوندکاری کے لیے درکار اعضا کی شدید کمی کے باعث دنیا بھر کے ڈاکٹر اور سائنس دان زینو ٹرانسپلانٹیشن پر کام کر رہے ہیں۔ اس طریقے میں انسانوں کے علاج کے لیے دوسرے جانوروں کے اعضا استعمال کیے جاتے ہیں۔
امریکہ میں اس وقت تقریباً ایک لاکھ افراد گردے کی پیوندکاری کے منتظر ہیں، جبکہ ہر سال صرف 25 ہزار کے قریب گردوں کی پیوندکاری ہو پاتی ہے۔ دوسری جانب برطانیہ میں بھی سات ہزار سے زیادہ افراد گردے کی پیوندکاری کی انتظار فہرست میں شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKate Flock/Massachusetts General Hospital
’گردے کی پیوندکاری کے لیے سات سال انتظار کرنا پڑ سکتا تھا‘
ٹم اینڈریوز کو بتایا گیا تھا کہ گردے کی پیوندکاری کے لیے ان کی باری آنے میں سات سال تک لگ سکتے ہیں۔ تاہم ڈائیلاسس پر رہنے والے مریض اوسطاً صرف پانچ سال تک ہی زندہ رہ پاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’میرے پاس وقت بہت کم تھا اور یہ صورتِ حال انتہائی مایوس کن ہوتی جا رہی تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم سؤر کے گردے کی پیوندکاری کے خیال نے انھیں ایک نئی امید دی۔ ان کے بقول یہ ایسا تھا جیسے ’اندھیری سرنگ کے آخر میں روشنی نظر آ جائے۔‘
ٹم اینڈریوز نے کہا کہ ’امید ہی سب سے بڑی چیز تھی۔ اسی امید نے مجھے مشین پر انحصار سے نجات پانے اور اپنی زندگی دوبارہ معمول کے مطابق گزارنے کا موقع دیا۔‘
زینو ٹرانسپلانٹیشن کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہKate Flock/Massachusetts General Hospital
سؤر کو زینو ٹرانسپلانٹیشن کے لیے سب سے موزوں جانور سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے اعضا کا حجم انسانی اعضا سے کافی حد تک ملتا جلتا ہے، جبکہ انسان صدیوں سے سؤر پالنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔
زینو ٹرانسپلانٹیشن ایک طبی عمل ہے جس میں انسانوں کے علاج کے لیے کسی دوسرے جانور، جیسے سؤر، کے عضو، بافت (ٹشو) یا خلیات استعمال کیے جاتے ہیں۔
تاہم یہ عمل اتنا سادہ نہیں کہ کسی فارم سے سؤر کا گردہ نکال کر براہِ راست کسی انسان کے جسم میں لگا دیا جائے۔
انسانی مدافعتی نظام فوری طور پر اس گردے کو ایک غیر انسانی عضو کے طور پر پہچان لیتا ہے اور اس کے خلاف شدید ردِعمل شروع کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں گردہ خراب یا یوس کہہ لیس کہ تباہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں چند ہی منٹوں کے اندر گردے کے خلیات کو نقصان پہنچنا شروع ہو جاتا ہے، عضو کے اندر خون جمنے لگتا ہے اور وہ کام کرنا چھوڑ سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسی مشکل پر قابو پانے کے لیے محققین نے ’یوکاٹن منی ایچر پگ‘ تیار کیے ہیں۔ ان سؤروں کے جینیاتی نظام میں 69 مختلف تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ ان کے اعضا انسانی جسم کے لیے زیادہ موزوں بن سکیں۔
ان تبدیلیوں کے ذریعے سؤر کے خلیات میں موجود بعض ایسی خصوصیات ختم کر دی جاتی ہیں جنھیں انسانی مدافعتی نظام پہچان کر حملہ آور ہو جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ انسانی ڈی این اے کے کچھ حصے بھی شامل کیے جاتے ہیں، جو ایک طرح کا حفاظتی پردہ یا ’کیموفلیج‘ بناتے ہیں۔ اس سے سؤر کے ٹشوز کو انسانی مدافعتی نظام سے بچانے میں مدد ملتی ہے۔
مزید یہ کہ ممکنہ انفیکشن سے بچاؤ کے لیے سؤر کے ڈی این اے میں موجود بعض غیر فعال یا چھپے ہوئے وائرسوں کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے بھی جینیاتی تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔
سؤر کے گردے نے 271 روز تک کام کیا

،تصویر کا ذریعہKate Flock/Massachusetts General Hospital
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ٹائپ ٹو ذیابیطس کے باعث ٹم اینڈریوز گردوں کے ایک سنگین مرض میں مبتلا ہو گئے تھے اور ان کے گردے بتدریج ناکارہ ہو رہے تھے۔
جب 25 جنوری 2025 کو ان کی زینو ٹرانسپلانٹیشن کی گئی تو اس وقت ان کی عمر 66 برس تھی۔
طبی جریدے دی لانسیٹ میں حال ہی میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق سؤر سے حاصل کیے گئے گردے نے پیوندکاری کے فوراً بعد کام شروع کر دیا تھا۔
یہ گردہ 271 روز تک کامیابی سے کام کرتا رہا۔ تاہم اسی سال اکتوبر میں اسے نکالنا پڑا۔ اس کے بعد ٹم اینڈریوز کو 82 روز تک ڈائیلاسس کرانا پڑا، یہاں تک کہ رواں سال جنوری میں انھیں ایک عطیہ کنندہ (ڈونر) سے انسانی گردہ مل گیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق نیا گردہ اب بخوبی کام کر رہا ہے۔
میساچوسٹس جنرل بریگھم کے سینٹر فار ٹرانسپلانٹیشن سائنسز سے وابستہ ڈاکٹر لیونارڈو ریلا کا کہنا ہے کہ پیوندکاری کے لیے دستیاب اعضا کی کمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم مریضوں کو امید دینے کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ زینو ٹرانسپلانٹیشن ایسے مریضوں کے لیے ایک اہم متبادل ثابت ہو سکتی ہے جنھیں ڈونر میسر نہیں ہوتا۔ اس طریقے سے ممکنہ طور پر مریضوں کو طویل عرصے تک ڈائیلاسس سے بچاتے ہوئے پیوندکاری تک پہنچایا جا سکتا ہے۔‘
ممکانات اور چیلنجز

،تصویر کا ذریعہSurgeons connected the pig's kidney to blood vessels inside Tim Andrews' body so the organ could filter blood.
ابتدائی طور پر ایسے اشارے ملے تھے کہ ٹم اینڈریوز کا مدافعتی نظام پیوند کیے گئے عضو کو قبول نہیں کر رہا، تاہم ڈاکٹروں نے ادویات میں تبدیلی کر کے اس مسئلے پر کامیابی سے قابو پا لیا۔
تاہم تقریباً چھ ماہ بعد گردے کی خون کی شریانوں کو نقصان پہنچنا شروع ہو گیا اور عضو میں سوجن پیدا ہوگئی، جس کے بعد اس کی کارکردگی بتدریج متاثر ہونے لگی اور بالآخر اس نے کام کرنا بند کر دیا۔
ماہرین اب تک اس کی درست وجہ معلوم نہیں کر سکے ہیں، کیونکہ تحقیقات کے دوران ایسے شواہد نہیں ملے کہ سؤر کے گردے پر اینٹی باڈیز نے حملہ کیا ہو۔
طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع ہونے والے اپنے مقالے میں ڈاکٹروں نے لکھا ہے کہ ’یہ کیس گردے کی کلینیکل زینو ٹرانسپلانٹیشن سے وابستہ ممکنات یا امکانات اور چیلنجز، دونوں کو واضح کرتا ہے۔‘
ان کے مطابق یہ تجربہ اس بات کی امید دلاتا ہے کہ مستقبل میں جانوروں کے اعضا انسانی مریضوں کے لیے عارضی یا مستقل علاج کا ذریعہ بن سکتے ہیں، تاہم اس شعبے میں اب بھی کئی سائنسی اور طبی سوالات کے جواب تلاش کرنا باقی ہیں۔



















