شاہد آفریدی: جب پاکستانی کپتان کے خلاف کھلاڑیوں نے قرآن پر قسم اُٹھائی

Shahid Afridi
،تصویر کا کیپشنشاہد آفریدی کی زندگی کافی ہنگامہ خیز رہی ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

اکثر کہا جاتا ہے کہ خواب سچ ہو جاتے ہیں۔ لیکن تیز اور جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی نے شاید ہی سوچا ہو گا کہ اُن کا دیکھا ہوا ایک خواب اتنی جلدی حقیقت بن جائے گا۔

شاہد آفریدی کی زندگی کافی ہنگامہ خیز رہی ہے۔ شعیب اختر کی طرح وہ بھی اپنے کیریئر کے دوران اور اس کے بعد خبروں میں رہے۔ پہلے اپنی جارحانہ بیٹنگ کی وجہ سے اور پھر اپنے بیانات کے باعث۔

ان کے اس انداز کی جھلک اُن کی خود نوشت ’گیم چینجر‘ میں بھی نظر آتی ہے۔

ویسٹ انڈیز نہیں، نیروبی میں قسمت چمکی

شاہد آفریدی نے پہلی بار چار اکتوبر 1996 کو پوری دنیا کی توجہ حاصل کی تھی۔

انھوں نے نیروبی میں سری لنکا کے خلاف صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی۔ اُس وقت یہ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی تیز ترین سنچری تھی۔

تاہم شاہد آفریدی کا بین الاقوامی کرکٹ تک پہنچنا بھی کسی خواب سے کم نہیں تھا۔

وہ پاکستان کی ابتدائی ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔ اُس وقت وہ پاکستان انڈر 19 ٹیم کے ساتھ ویسٹ انڈیز کے دورے پر تھے۔

پاکستان کی سینئر ٹیم کے لیگ سپنر مشتاق احمد کے زخمی ہونے کے بعد آفریدی کو اچانک ویسٹ انڈیز سے نیروبی بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اُس وقت پاکستان انڈر 19 ٹیم کے کوچ ہارون رشید تھے۔

اُنھوں نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے شاہد کو بلا کر بتایا کہ تمھیں ویسٹ انڈیز سے واپس بھیج کر کینیا روانہ کیا جا رہا ہے۔ وہاں تمھیں پاکستان کی سینئر ٹیم کے ساتھ شامل ہونا ہے۔ ایک لمحے کے لیے اُنھیں یقین ہی نہیں آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔‘

پاکستان انڈر 19 ٹیم کے ویسٹ انڈیز کے دورے کے دوران کرکٹر ذیشان پرویز سے متعلق ایک تنازع بھی سامنے آیا تھا۔ اسی وقت شاہد آفریدی کو نیروبی بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔

لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آفریدی کو ویسٹ انڈیز سے واپس کیوں بھیجا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی سوچنے لگے تھے کہ کہیں اُن کا نام بھی اُس تنازع سے تو نہیں جڑا۔

ہارون رشید بتاتے ہیں: ’شاہد کے بڑے بھائی طارق آفریدی کا بھی مجھے فون آیا۔ اُنھوں نے پوچھا کہ شاہد کو ویسٹ انڈیز سے واپس کیوں بھیجا جا رہا ہے۔ میں نے اُن سے کہا کہ آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کیونکہ وہ پاکستان کی سینئر ٹیم میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔ تب اُنھیں اصل وجہ سمجھ آئی۔‘

خواب میں جے سوریا اور مرلی دھرن کو چھکے لگائے

Cricket
،تصویر کا کیپشنمرلی دھرن کا شمار دُنیا کے خطرناک سپنرز میں ہوتا تھا

نیروبی میں ہونے والے اُس ٹورنامنٹ میں پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر شاداب کبیر، شاہد آفریدی کے ساتھ ایک ہی کمرے میں ٹھہرے تھے۔ وہ آفریدی سے متعلق ایک دلچسپ واقعے کے گواہ بھی ہیں۔

شاداب کبیر نے بی بی سی ہندی کو بتایا: ’ہماری پریکٹس دن میں ہوئی تھی۔ واپس آنے کے بعد ہم بہت تھکے ہوئے تھے اور سو گئے۔ شام کو میں نے شاہد کو جگایا اور کہا کہ مغرب کی نماز کا وقت ہو رہا ہے۔‘

’جاگنے کے بعد اُنھوں نے بتایا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں مرلی دھرن اور جے سوریا کو چھکے مار رہا ہوں۔ میں نے مذاق میں کہا کہ باقی رنز میچ میں بنا لینا۔‘

وہ بتاتے ہیں: ’بات آئی گئی ہو گئی۔ لیکن اسی رات میں گہری نیند میں تھا کہ شاہد اچانک اٹھے اور میچ کی تیاری کرنے لگے۔ اُنھوں نے مجھے بھی جگا کر کہا کہ اٹھو، میچ کے لیے جانا ہے۔‘

’میں نے اُن سے کہا، بھائی سو جاؤ، ابھی رات کے ڈھائی بجے ہیں۔‘

شاداب کبیر کے مطابق: ’وہ میچ کے لیے بہت زیادہ پُرجوش تھے۔ یہ سب خدا کی طرف سے ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں کیا ہے اور وہ کیا کہہ رہا ہے۔ خدا نے اُنھیں عزت دینی تھی اور وہ اُنھیں ملی۔‘

Shahid Afridi

وقار اور وسیم کا انداز بھی بدل گیا

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان کی ٹیم میں شامل ہونے کے بعد شاہد آفریدی نے نیٹ پریکٹس میں وسیم اکرم اور وقار یونس کی گیندوں پر جارحانہ بیٹنگ کی۔

یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے کہ لیگ سپنر کے طور پر ٹیم میں آنے والا یہ کھلاڑی اتنی اچھی بیٹنگ بھی کر سکتا ہے۔

اگلے دن نیٹ پریکٹس میں وسیم اور وقار کا انداز بھی بدل گیا۔ دونوں تیز گیند بازوں نے اپنی گیندوں کی رفتار بڑھا کر آفریدی کو آزمانے کی کوشش کی۔ لیکن جوں جوں رفتار بڑھتی گئی، آفریدی کے بلے کی طاقت بھی بڑھتی گئی۔

اس دوران وسیم اکرم کو اچانک پاکستان واپس آنا پڑا۔ جاتے ہوئے اُنھوں نے اپنی جگہ کپتانی سنبھالنے والے سعید انور سے کہا کہ ’نوجوان شاہد آفریدی میں بہت صلاحیت ہے، اُن کی بیٹنگ سے فائدہ اٹھانا مت بھولنا۔‘

اس کے بعد جو ہوا، وہ کرکٹ کی تاریخ کا حصہ بن گیا۔

جس سری لنکن ٹیم کے خلاف آفریدی نے تیز ترین سنچری بنائی، وہ اُس وقت ون ڈے کرکٹ کی عالمی چیمپیئن تھی۔

جن گیند بازوں کے خلاف اُنھوں نے چوکوں اور چھکوں کی برسات کی، اُن میں مرلی دھرن، جے سوریا، چامنڈا واس اور دھرما سینا شامل تھے۔

جے سوریا نے اپنے 10 اوورز میں 94 رنز دیے تھے جبکہ مرلی دھرن کے 10 اوورز میں 73 رنز بنے تھے۔

شاہد آفریدی نے اُس اننگز میں 40 گیندوں پر 102 رنز بنائے تھے، جن میں 11 چھکے اور چھ چوکے شامل تھے۔

سری لنکا کے کرکٹر روشن مہانامہ بھی اُس میچ میں کھیلے تھے۔ اُنھوں نے اپنی کتاب ’ریٹائرڈ ہرٹ‘ میں آفریدی کی اُس اننگز کا ذکر کیا ہے۔

روشن مہانامہ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’ہمیں خود پر پورا اعتماد تھا۔ اُس وقت سری لنکا پاکستان اور انڈیا کو شکست دے چکا تھا۔ لیکن ہم نے نہ شاہد آفریدی کو دیکھا تھا اور نہ اُن کے بارے میں سنا تھا۔‘

’وہ ہم سب کے لیے نئے تھے، اس لیے اُن کی اننگز ہمارے لیے ایک بڑا سرپرائز تھی۔ اُنھوں نے ہمیں حیران کر دیا تھا۔‘

اُنھوں نے بالکل مختلف انداز کی کرکٹ کھیلی۔ اگرچہ ہم بھی ایسی کرکٹ کھیلنے کے عادی تھے۔ ہماری ٹیم میں جے سوریا اور اروندا ڈی سلوا جیسے جارحانہ بلے باز موجود تھے، لیکن وہ دن مکمل طور پر آفریدی کا تھا۔

Shahid Afridi

’آپ نے میرے لیے کیا چھوڑا ہے؟‘

پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ بھی اس میچ کو یاد کرتے ہیں۔

اُنھوں نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’شاہد آفریدی کی طرح میں بھی ابتدائی ٹیم میں شامل نہیں تھا۔ مجھے انگلینڈ سے بلایا گیا تھا۔‘

’جب ہم نیٹ پریکٹس کر رہے تھے تو ساتھی کھلاڑیوں نے مجھے خبردار کیا کہ شاہد آفریدی کی لیگ سپن میں آنے والی تیز گیند سے بچنا، وہ بہت خطرناک ہوتی ہے۔‘

’ہوا بھی ایسا ہی۔ اُن کی تیز گیند میرے پاؤں کے پنجے پر بہت زور سے لگی۔‘

رمیز راجہ کہتے ہیں کہ ’جہاں تک شاہد کی بیٹنگ کا تعلق ہے، اُنھوں نے جس سوچ کے ساتھ بیٹنگ کی اُس میں نہ ڈر تھا اور نہ کسی قسم کا خوف۔ حال ہی میں رضا اللہ کی بیٹنگ میں بھی ہمیں ایسا ہی انداز دیکھنے کو ملا ہے۔‘

’تیز ترین سنچری بنا کر شاہد آفریدی آؤٹ ہوئے اور واپس لوٹ رہے تھے۔ اسی وقت میں بیٹنگ کے لیے میدان میں جا رہا تھا۔‘

’میں راستے میں رکا اور اُن سے مذاق میں پوچھا، آپ نے میرے لیے کیا چھوڑا ہے؟‘

اس کا مطلب یہ تھا کہ آفریدی اتنی تیز بیٹنگ کر چکے تھے کہ اب کوئی کتنی بھی تیزی سے کھیلے، اس طرح رنز نہیں بنا سکتا تھا۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ رمیز راجہ نے ہی شاہد آفریدی کو بتایا تھا کہ اُنھوں نے تیز ترین سنچری کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

تیز ترین سنچریوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر

Shahid Afridi
،تصویر کا کیپشنشاہد آفریدی کی یہ سنچری اب تیز ترین سنچریوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے

سب سے پہلے نیوزی لینڈ کے کوری اینڈرسن نے صرف ایک گیند کے فرق سے اُن کا ریکارڈ توڑا تھا۔

اس کے بعد جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرز نے 31 گیندوں پر سنچری بنا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

لیکن 30 سال بعد بھی آفریدی کی اُس اننگز کا اسی طرح ذکر کیا جاتا ہے۔

وکٹ کیپر معین خان بھی اُس میچ میں پاکستان ٹیم کا حصہ تھے۔

اُنھوں نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ آفریدی ایسے کرکٹر تھے جنھوں نے اپنی پہلی اننگز سے لے کر کیریئر کے اختتام تک ایسا اثر چھوڑا کہ مخالف ٹیم ہمیشہ پریشان رہتی تھی۔

’چاہے بیٹنگ ہو یا بولنگ، وہ کچھ بھی کر سکتے تھے۔ صرف نیروبی کی اننگز ہی نہیں، اُنھوں نے اپنے کیریئر میں کئی یادگار اننگز کھیلی ہیں۔‘

وہ بلا سچن کا نہیں، گنگولی کا تھا

شاہد آفریدی نے جس بلے سے 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، اُس کے بارے میں طویل عرصے تک یہی کہا جاتا رہا کہ وہ سچن ٹنڈولکر کا بلا تھا۔

شاہد آفریدی نے بھی اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ سچن ٹنڈولکر کا بلا تھا جو وقار یونس کے پاس تھا اور وقار نے بیٹنگ کے لیے وہ بلا آفریدی کو دیا تھا۔

تاہم اب وقار یونس نے اس بارے میں مختلف بات کہی ہے۔

اُن کے مطابق وہ بلا سچن ٹنڈولکر کا نہیں بلکہ سوراو گنگولی کا تھا۔

وقار یونس نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’میری سوراو گنگولی سے دوستی تھی۔ ایک دن اُنھوں نے مجھے اپنا ایک بلا دکھایا۔‘

’میں اُس بلے کو دیکھنے لگا تو اُنھوں نے کہا کہ اس کا توازن بہت اچھا ہے۔ اگر آپ کو پسند ہے تو آپ اسے رکھ لیجیے۔‘

وقار یونس کہتے ہیں ’یہ بلا میرے پاس تھا۔ نیروبی میں شاہد آفریدی نے نیٹ میں بہت جارحانہ بیٹنگ کی تھی۔‘

’جب وہ سری لنکا کے خلاف بیٹنگ کے لیے جا رہے تھے تو میں نے وہ بلا اُنھیں دے دیا اور کہا کہ اسی سے بیٹنگ کریں۔‘

’اُنھوں نے اسی بلے سے تاریخی اننگز کھیلی۔ بعد میں میں نے بلا اُنھیں تحفے میں دے دیا۔ ایک نوجوان کھلاڑی نے ریکارڈ ساز اننگز کھیلی تھی، اس لیے اس بلے پر اُن کا حق زیادہ تھا۔‘

Shahid Afridi
،تصویر کا کیپشن

سب سے پہلے ’بوم بوم‘ کس نے کہا؟

لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ شاہد آفریدی کے لیے ’بوم بوم‘ کا لفظ پہلی بار کس نے اور کب استعمال کیا تھا۔

اس کا جواب 15 اپریل 2005 کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان کانپور میں کھیلے گئے ون ڈے میچ سے جڑا ہے۔

اس میچ میں شاہد آفریدی نے 10 چوکوں اور نو چھکوں کی مدد سے 45 گیندوں پر سنچری بنائی تھی۔

اسی دوران کمنٹری باکس سے ’بوم بوم‘ کے الفاظ سنائی دیے تھے۔

شاہد آفریدی کو سب سے پہلے ’بوم بوم‘ کہنے والے روی شاستری تھے۔

اس کے بعد ’بوم بوم‘ اُن کے نام کا ایسا حصہ بن گیا کہ آج بھی لوگ انھیں اسی نام سے پکارتے ہیں۔

Shahid Afridi

’تم نے میچ فکس کیا ہے‘

شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں ٹورنٹو میں سہارا کپ کے دوران انڈیا کے خلاف بنائی گئی ایک سنچری کا بھی ذکر کیا ہے۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ اُس اننگز کے دوران اُن کے کپتان نے اُن پر میچ فکسنگ کا الزام لگایا تھا۔

آفریدی لکھتے ہیں: ’میں نے سعید انور کے ساتھ اننگز کا آغاز کیا تھا۔ سعید انور کے آؤٹ ہونے کے بعد کپتان عامر سہیل بیٹنگ کے لیے آئے۔‘

’میں اُس وقت جارحانہ انداز میں کھیل رہا تھا۔ عامر سہیل پچ کے درمیان آئے۔ میں اُن کے پاس گیا کیونکہ مجھے لگا کہ وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔‘

’لیکن میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی جب اُنھوں نے گالی دیتے ہوئے مجھ پر چلّا کر کہا: ’مجھے معلوم ہے کہ تم نے وسیم اکرم کے ساتھ مل کر یہ میچ فکس کیا ہے۔‘

آفریدی لکھتے ہیں: ’یہ سن کر میرا دل بیٹھ گیا۔ اُس وقت میں ایک نوجوان کرکٹر تھا۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔‘

’لیکن میں نے خود کو سنبھالا اور سنچری بنانے میں کامیاب رہا۔‘

کپتان کے خلاف بغاوت کا اصل محرک کون تھا؟

2009 کی آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے دوران پاکستان کی تقریباً پوری ٹیم نے کپتان یونس خان کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔

کھلاڑیوں کو یونس خان کے سخت رویے سے شکایت تھی اور وہ اُن کی قیادت میں کھیلنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

ایک کمرے میں کھلاڑیوں کی میٹنگ ہوئی جس میں شامل کھلاڑیوں نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پر قسم بھی اٹھائی تھی۔

ان کھلاڑیوں میں نائب کپتان شاہد آفریدی بھی شامل تھے۔

آفریدی نے اپنی کتاب میں اس پوری صورتحال کا ذمہ دار اپنے ایک ساتھی کرکٹر کو قرار دیا ہے، اگرچہ اُنھوں نے اُس کھلاڑی کا نام نہیں بتایا۔

بعد میں ایک ٹی وی پروگرام میں شاہد آفریدی، محمد یوسف اور سعید اجمل نے اس بغاوت کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی تھی۔

جب یونس خان اسی پروگرام میں مہمان بنے تو اُنھوں نے کہا کہ اب ہر کھلاڑی دوسرے پر الزام ڈال رہا ہے۔

یونس خان نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ معاملہ کپتان بننے کی خواہش سے جڑا تھا اور اُنھوں نے اس بغاوت کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر شاہد آفریدی کی طرف اشارہ کیا تھا۔

سیاسی رہنماؤں نے کیا پیشکش کی؟

Nawaz Sharif

شاہد آفریدی نے 2019 میں شائع ہونے والی اپنی خود نوشت میں پاکستان کے چند اہم سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ملنے والی پیشکشوں کا بھی ذکر کیا ہے۔

آفریدی کے مطابق یہ پیشکش اُن کی حمایت حاصل کرنے کے بدلے کی گئی تھیں۔

وہ لکھتے ہیں: ’سب سے پہلے پیشکش بلاول بھٹو زرداری نے کی تھی۔‘

آفریدی کے مطابق پیپلز پارٹی کے لوگوں نے کہا تھا کہ اعجاز بٹ (سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ) کے ساتھ اُن کا تنازع حل کرانے میں مدد کی جائے گی، لیکن اس کے بدلے اُنھیں بلاول کے ساتھ سیاسی جلسوں میں شرکت کرنا ہو گی۔

آفریدی لکھتے ہیں کہ اُنھوں نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔

وہ نواز شریف کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں ایک عہدہ دینے کی پیشکش اور عمران خان کی جانب سے بھی ساتھ شامل ہونے کی دعوت کا ذکر کرتے ہیں۔

’میری تعریف کرنا‘

Shahid Afridi
،تصویر کا کیپشن

شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں 1999 کے دورۂ انڈیا کا بھی ذکر کیا ہے۔

ان کے مطابق اُس دورے میں ٹیم کے کوچ جاوید میانداد کا رویہ اُن کے ساتھ اچھا نہیں تھا۔

آفریدی لکھتے ہیں کہ جب اُنھوں نے چنئی ٹیسٹ میں سنچری بنائی تو میانداد نے اُن سے کہا: ’سنو، تمھیں پریزنٹیشن اور انٹرویو میں میرا شکریہ ادا کرنا ہے۔‘

’تمھیں بتانا ہے کہ میں نے تمھیں کتنا تیار کیا ہے اور ایک اچھا بلے باز بنایا ہے۔ سمجھے؟‘

بعد میں دونوں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے۔

2016 میں جاوید میانداد کے ایک متنازع بیان کے بعد شاہد آفریدی نے اُن کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

میانداد نے آفریدی پر میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔ بعد میں دونوں کے درمیان صلح ہو گئی تھی۔

تنازعات اور لفظی جنگ

شاہد آفریدی اور انڈین کرکٹرز کے درمیان لفظی جنگ بھی ہوتی رہی ہے۔

ان انڈین کرکٹرز میں گوتم گمبھیر، شکھر دھون اور عرفان پٹھان شامل ہیں۔

انگلینڈ میں منعقد ہونے والے ایک لیجنڈز ٹورنامنٹ میں انڈین کرکٹرز نے شاہد آفریدی کے ساتھ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد میچ منسوخ کرنا پڑا تھا۔

شاہد آفریدی کو متعدد بار جرمانوں اور پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، جن میں پچ کو نقصان پہنچانے، گیند کو دانت سے کاٹنے اور ایک تماشائی کے چہرے کے قریب دھمکی آمیز انداز میں بلا لہرانے جیسے واقعات شامل ہیں۔