آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جنسی مجرم پکڑنے کے لیے ’سٹنگ آپریشن‘: امریکہ میں تہلکہ مچانے والے متنازع ٹی وی شو کی کہانی
- مصنف, میریم بالانیسکو
- عہدہ, بی بی سی کلچر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
انتباہ: اس تحریر میں درج تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
رابرٹ پیٹنسن کی نئی فلم ’پرائم ٹائم‘ ایک متنازع ٹی وی سیریز کے گرد گھومتی ہے، جس میں مبینہ جنسی مجرموں کو پکڑنے کے لیے خفیہ آپریشنز (سٹنگ آپریشنز) کیے جاتے تھے۔ یہ سیریز ناظرین میں بے حد مقبول ہوئی اور ریٹنگز کے لحاظ سے بڑی کامیابی ثابت ہوئی، لیکن ساتھ ہی اس نے ٹیلی ویژن صحافت اور نشریاتی اخلاقیات کے بارے میں شدید بحث بھی چھیڑ دی۔
نومبر 2004 میں امریکی ٹیلی ویژن پر ایک نہایت متنازع اور سنسنی خیز سیگمنٹ ’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ نشر ہوا، جو این بی سی کے کرنٹ افیئرز پروگرام ڈیٹ لائن کا حصہ تھا۔
اسے ایک عام تحقیقی نیوز رپورٹ کے انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ ٹی وی عملہ ایک مضافاتی علاقے کے گھر میں موجود رہتا اور ان اجنبی افراد کا انتظار کرتا جو وہاں آنے والے ہوتے تھے۔
لیکن یہ عام افراد نہیں ہوتے تھے۔
ان افراد کو ایک آن لائن رضاکار گروپ ’پرورٹڈ جسٹس‘ جال میں پھنساتا تھا۔ اس گروہ کا دعویٰ تھا کہ وہ بچوں کے خلاف ممکنہ جنسی جرائم کرنے والوں کو پکڑتا ہے۔
اس مقصد کے لیے ایک ’ڈیکوئے‘ استعمال کیا جاتا تھا، یعنی ایک بالغ اداکار یا اداکارہ جو خود کو نوعمر لڑکا یا لڑکی ظاہر کرتے تھے اور ان افراد سے آن لائن رابطہ قائم کرتے تھے۔
جب یہ افراد طے شدہ ملاقات کے لیے گھر پہنچتے تو دروازے پر ان کا استقبال یہی ڈیکوئے کرتا۔ گھر میں نصب خفیہ کیمرے ان کی آمد کو ریکارڈ کرتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد پروگرام کے میزبان کرس ہینسن اچانک سامنے آ جاتے اور آنے والے شخص کو اس کے آن لائن پیغامات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد دکھاتے، جنھیں بظاہر مجرمانہ ارادوں کا ثبوت قرار دیا جاتا تھا۔
اسی دوران گھر کے باہر مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار انتظار کر رہے ہوتے تھے، جو پروگرام کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان افراد کو گرفتار کر لیتے تھے۔
’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ نے امریکہ میں ایک کہرام مچا دیا تھا۔
تحقیقی صحافت اور ریئلٹی ٹی وی کے امتزاج پر بنی یہ سیریز ناظرین کو بیک وقت خوف زدہ بھی کرتی تھی اور اپنی جانب متوجہ بھی اور جلد ہی اس کی ہر قسط اوسطاً 70 لاکھ ناظرین تک پہنچنے لگی۔
میزبان کرس ہینسن کے پروگرام نے صحافتی رپورٹنگ، حقیقی پولیس کارروائی اور تفریح کے درمیان موجود روایتی حدود کو دھندلا دیا۔ دی گارڈین کے ایڈرین ہورٹن کے مطابق یہ ’اخلاقی احتساب اور سماجی رسوائی کی ایک آسان مگر بے چینی پیدا کرنے والی کہانی تھی۔‘
پروگرام کی مقبولیت اس قدر بڑھ گئی کہ اسے جلد ہی امریکی ٹیلی ویژن کے انتہائی اہم رات 9 بجے کے نشریاتی وقت پر منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کا مقابلہ اے بی سی کی مقبول اور ناقدین کی پسندیدہ سیریز ’لوسٹ‘ سے تھا۔
رابرٹ پیٹنسن کی نئی فلم ’پرائم ٹائم‘ کا آغاز بھی اسی جگہ سے ہوتا ہے۔
رابرٹ پیٹنسن نے فلم میں پروگرام کے میزبان کرس ہینسن کی منفرد شخصیت اور انداز کو مؤثر طریقے سے پیش کیا ہے۔
ہینسن ایک تجربہ کار تحقیقاتی صحافی تھے۔ ’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ کی پہلی نشریات سے ایک سال قبل انھوں نے کمبوڈیا میں ایک خفیہ آپریشن کیا تھا، جس کے نتیجے میں نشر ہونے والے پروگرام نے بچوں کی جنسی سمگلنگ میں ملوث جنسی جرائم کے مرتکب افراد کو بے نقاب کیا تھا۔
یہی تجربہ بعد میں امریکہ میں تیار کیے جانے والے اس متنازع پروگرام کے لیے ایک نمونہ ثابت ہوا۔
2025 کی دستاویزی فلم پریڈیٹرز کے ہدایت کار ڈیوڈ اوسٹ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’یہ مغربی تہذیب کی تاریخ کا ایک غیر معمولی لمحہ تھا، جب پہلی مرتبہ بچے آن لائن زندگی گزار رہے تھے اور آن لائن ہی بالغ ہو رہے تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’یہ وہ وقت تھا جب نوجوان انٹرنیٹ کو انتہائی غیر منظم انداز میں استعمال کر رہے تھے اور پھر اچانک بالغوں کو اس صورتحال کا احساس ہوا۔ اس نے انہیں خوف زدہ کر دیا۔‘
جیسا کہ ڈیوڈ اوسٹ کی دستاویزی فلم پریڈیٹرز میں بیان کیا گیا ہے، وہ خود بھی بچپن میں جنسی استحصال کا شکار رہ چکے ہیں۔
انھوں نے ’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ میں اس امید سے دلچسپی لینی شروع کی تھی کہ شاید اس کے ذریعے وہ بہتر طور پر سمجھ سکیں کہ ایسے جرائم کے مرتکب افراد کے محرکات کیا ہوتے ہیں۔
بعد میں جب انھیں ’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ کے مداحوں کی آن لائن کمیونٹیز اور فینڈمز کا پتا چلا تو انھوں نے اس موضوع پر اپنی دستاویزی فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔
دستاویزی فلم پریڈیٹرز کے آخری حصے میں پروگرام کے میزبان کرس ہینسن کے انٹرویوز بھی شامل ہیں۔ ہینسن کا کہنا ہے کہ ان کا کام اوسٹ جیسے متاثرین کے لیے تھا اور وہ ایک ’بڑے مقصد کی خدمت‘ کر رہے تھے۔
’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ سے پہلے بھی اس نوعیت کے پروگراموں کی ایک مثال موجود تھی۔ ریئلٹی شو چیٹرز، جو 2000 میں شروع ہوا تھا، بے وفا شریکِ حیات یا ساتھیوں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے لیے خفیہ کارروائیاں دکھاتا تھا۔
کلچر اور شوبز امور کے صحافی لوئس سٹیپلز کے مطابق ’اس کا تصور کافی حد تک ملتا جلتا تھا: لوگ اپنے ساتھیوں کو دھوکا دہی کرتے ہوئے پکڑوانے کے لیے پروگرام کے حوالے کر دیتے تھے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’یہ ایک عجیب مگر انتہائی دلچسپ طرز کی تفریح بن گئی، جس میں نجی غلطیوں کو عوامی رسوائی اور انتقامی انصاف میں تبدیل کر دیا جاتا تھا۔‘
رئیلٹی شوز کا نیا عہد
تاہم ہینسن کے پروگرام کی مقبولیت نے بلاشبہ ریئلٹی ٹی وی میں سنسنی خیزی کے ایک نئے دور کو جنم دیا۔ اس سے پہلے ’بگ برادر‘ اور ’سروائیور‘ جیسے پروگرام سماجی تجربات کے تصور کے گرد گھومتے تھے، لیکن ’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ کے بعد ریئلٹی ٹی وی میں مزید اشتعال انگیز اور چونکا دینے والے فارمیٹس سامنے آنے لگے۔
صحافی لوئس سٹیپلز کے مطابق ’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ اس دور کی بہترین مثال ہے، جسے میں ریئلٹی ٹی وی کا ’وائلڈ ویسٹ‘ دور کہتا ہوں۔
ان کے بقول 2004 کے آس پاس ایسے پروگراموں کی ایک نئی لہر آئی جو تماشائیت اور چونکا دینے والے مواد پر زیادہ انحصار کرتے تھے۔
ان میں ’دا سوین‘ جیسا متنازع میک اوور شو اور ’دیئر از سمتھنگ اباؤٹ میریم‘ جیسا ڈیٹنگ پروگرام شامل تھا، جس میں مرد شرکا کو یہ بات نہیں بتائی گئی تھی کہ جس خاتون کے ساتھ وہ تعلق قائم کر رہے ہیں وہ ٹرانس جینڈر ہیں اور یہ حقیقت بعد میں ایک ڈرامائی انکشاف کے طور پر ظاہر کی گئی۔
اسی تناظر میں ’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ بھی ریئلٹی ٹی وی کی اس بڑھتی ہوئی دوڑ کی علامت بن گیا، جہاں ناظرین کی توجہ، ریٹنگز اور سرخیوں کے حصول کی خاطر پروگراموں کی حدود مسلسل وسیع کی جا رہی تھیں۔
’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ کے فارمیٹ میں عموماً کرس ہینسن مشتبہ افراد کی جنسی نوعیت کی آن لائن گفتگو (چیٹ لاگز) لفظ بہ لفظ ان کے سامنے پڑھتے اور ان سے تند و تیز یا طنزیہ انداز میں سوالات کرتے تھے۔
ہینسن کے سامنے آنے سے پہلے، پروگرام میں استعمال کیے جانے والے ’ڈیکوئے‘ (وہ بالغ اداکار جو خود کو کم عمر ظاہر کرتے تھے) اکثر ان افراد کو مزید دلیرانہ یا نامناسب تبصرے کرنے پر اکساتے تھے اور بعض اوقات انھیں جسمانی طور پر نامناسب حرکات کرنے یا خود کو بے نقاب کرنے تک لے جاتے تھے۔
تاہم ’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ کی سب سے نمایاں خصوصیت محض اس کا اشتعال انگیز مواد نہیں تھا، بلکہ یہ تھی کہ اس کے سنسنی خیز اور بعض اوقات تمسخر آمیز انداز کو ایک ایسے بیانیے کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا جس کے مطابق ہینسن اور ان کی ٹیم سماجی انصاف کے قیام کے لیے کام کر رہی ہے۔
ڈیوڈ اوسٹ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال، کم عمر افراد کو شکار بنانے اور بچوں کی سمگلنگ جیسے موضوعات سیاست میں اتنے بڑے مسائل بن جاتے ہیں، کیونکہ یہ ایسے معاملات ہیں جن کے ساتھ خود کو وابستہ کرنا غیر معمولی طور پر آسان ہوتا ہے۔‘
اوسٹ، جو خود بچپن میں جنسی استحصال کا شکار رہ چکے ہیں، کہتے ہیں کہ اپنی دستاویزی فلم میں کرس ہینسن کے طریقۂ کار پر سوال اٹھانے کی وجہ سے انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی موصول ہوئیں۔
انہوں نے فلم میں ’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ کے مبینہ ملزمان کی وہ خام فوٹیج بھی شامل کی جو معلومات تک رسائی کے قوانین کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔ ان مناظر میں بعض افراد رحم کی اپیل کرتے ہوئے، اپنی ذاتی زندگی اور ذہنی صحت کے مسائل بیان کرتے ہوئے اور اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اوسٹ کے مطابق ’یہ معاملہ بظاہر نیکی اور بدی کے درمیان ایک سادہ اور دوٹوک مقابلے کی طرح پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ سماجی طور پر ہم سب نے بھی ایک ایسی دنیا کی تشکیل میں بڑا کردار ادا کیا ہے، جہاں میڈیا کے ذریعے نوجوانوں اور نوعمروں کو حد سے زیادہ جنسی رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔‘
ڈیوڈ اوسٹ مزید کہتے ہیں کہ ’بطور معاشرہ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں کو تحفظ کی ضرورت ہے۔ ہم اکثر انھیں عام انسانوں کی طرح قبول نہیں کرتے، اس لیے یہ بات قابلِ فہم ہے کہ ان کی شناخت کے تحفظ کے بارے میں ہمیں بہت زیادہ تشویش نہیں ہوتی۔‘
تاہم وہ اس مؤقف کے ممکنہ خطرات کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں: ’لیکن اگر آپ یہ فیصلہ کر لیں کہ کچھ مخصوص گروہوں کو تحفظ کی ضرورت نہیں، تو پھر آپ یہ دلیل بھی دینا شروع کر سکتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو بھی تحفظ کی ضرورت نہیں ہے۔‘
سنہ 2006 میں پیش آنے والے ایک نہایت افسوسناک واقعے نے ’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ کے اخلاقی پہلوؤں پر شدید سوالات اٹھا دیے۔ اس واقعے میں ٹیکساس کے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی لوئس ولیم ’بل‘ کانراڈٹ کو ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم جب وہ طے شدہ مقام پر نہیں پہنچے تو کرس ہینسن کی ٹی وی ٹیم اور پولیس جلد بازی میں حاصل کیے گئے تلاشی اور وارنٹ گرفتاری کے ساتھ ان کے گھر پہنچ گئی۔
اس کارروائی کے کچھ ہی دیر بعد کانراڈٹ نے خودکشی کر لی اور ان کی بہن نے پروگرام کے خلاف 105 ملین ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا اور پھر یہ مقدمہ عدالت سے باہر طے پایا۔
اوسِٹ کی دستاویزی فلم پریڈیٹرز یہ ظاہر کرتی ہے کہ کرس ہینسن کی ٹیم اور پولیس کے درمیان تعاون کس حد تک گہرا تھا اور پولیس افسران پروگرام میں شامل ہونے کے لیے مبینہ طور پر معاوضہ حاصل کرتے تھے، جبکہ زیادہ مؤثر اور سنسنی خیز مناظر حاصل کرنے کے لیے وہ معمول کے مطابق کیمرے بھی پہنتے تھے، ایسے وقت میں جب باڈی کیمرے ابھی عام نہیں ہوئے تھے۔
سنہ 2021 میں بل کانراڈٹ کی خودکشی پر ردِعمل دیتے ہوئے کرس ہینسن نے دعویٰ کیا کہ کانراڈٹ کے پاس بچوں سے متعلق فحش مواد موجود تھا، تاہم ایسکوائر میگزین نے اپنی تحقیق میں اس دعوے پر سوالات اٹھائے تھے۔
ہینسن نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ کانراڈٹ کی موت ’ایک مشکل اور افسوسناک لمحہ تھی‘ لیکن وہ خود کو اس کے لیے ’ذمہ دار نہیں‘ سمجھتے۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ ’فرض کیا جا سکتا ہے‘ کہ کانراڈٹ اپنے خلاف الزامات اور ممکنہ نتائج کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے۔
اس طرز کے ریئلٹی شوز کا رجحان
این بی سی نے ’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ کو سنہ 2008 میں بند کر دیا تھا، لیکن اس کا ریٹنگز پر مبنی فارمیٹ آج بھی تقریباً اسی شکل میں زندہ ہے۔
یہ تصور بعد میں ایک مستقل اور خودمختار پروگرام کی صورت اختیار کر گیا۔ پروگرام کے سابق میزبان کرس ہینسن اب ’ٹیک ڈاؤن ود کرس ہینسن‘ کے نام سے ایک نئی سیریز پیش کرتے ہیں، جو ٹروبلو نامی سٹریمنگ پلیٹ فارم پر نشر ہوتی ہے۔ اس پلیٹ فارم کی مشترکہ بنیاد بھی خود ہینسن نے 2022 میں رکھی تھی۔
دوسری طرف انٹرنیٹ پر بھی اس طرز کے پروگراموں کی نقل کرنے والے متعدد گروپس سامنے آ چکے ہیں۔
لوئس سٹیپلز کا کہنا ہے ’اب ہر شخص کے پاس اپنے موبائل فون کے ذریعے اس قسم کا مواد دوبارہ تخلیق کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔‘
وہ اس تناظر میں لوئس تھیرو کی نیٹ فلکس دستاویزی فلم ’انسائیڈ دا مینوسفیئر‘ کا حوالہ دیتے ہیں، جس میں اسی نوعیت کی سٹنگ کارروائیاں دکھائی گئی ہیں۔
سٹیپلز مزید کہتے ہیں کہ ’ہم یہ سمجھنا پسند کرتے ہیں کہ ہم ٹو کیچ آ پریڈیٹر جیسے پروگراموں کے دور سے آگے بڑھ چکے ہیں، لیکن توجہ حاصل کرنے والی ڈیجیٹل معیشت یہ ثابت کرتی ہے کہ ہم آج بھی سوشل میڈیا پر اسی نوعیت کے انتہائی اور سنسنی خیز مواد کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔‘
’اگر ہم آج کے آن لائن ماحول کو دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ خود ساختہ انصاف (ویجلانٹے جسٹس) کا تصور بہت سے وائرل مواد کی بنیاد بن چکا ہے۔ میرا الگورتھم مسلسل مجھے ایسی ویڈیوز دکھاتا رہتا ہے جن میں کسی شخص کو بدتمیزی کی وجہ سے پرواز سے اتارا جا رہا ہوتا ہے، یا کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں عملے کے ساتھ نسل پرستانہ رویہ اختیار کرنے پر اسے مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
’یہ تاثر کہ برے لوگوں کو ان کے اعمال کی سزا مل رہی ہے، یا انصاف ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، آج بھی لوگوں کی توجہ حاصل کرنے اور آن لائن دلچسپی پیدا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
دستاویزی فلم پریڈیٹرز میں ڈیوڈ اوسٹ نے ’سکیٹ ہینسن‘ نامی ایک شخص سے بھی گفتگو کی ہے، جو پروگرام کے میزبان کرس ہینسن کی نقل کرتا ہے اور ان کا مداح سمجھا جاتا ہے۔ اس شخص کو ممکنہ جنسی مجرموں کو بے نقاب کرنے والی ویڈیوز سے مالی فائدہ اٹھانے میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔
اوسٹ کہتے ہیں کہ ’کچھ لوگ (کرس ہینسن) کو مکمل طور پر ایک ہیرو سمجھتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ آپ انسانیت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، معاشرے کے کمزور ترین افراد کے بارے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے اور آپ سماجی طاقت کے توازن کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔‘
چاہے ’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ جیسے پروگراموں کو ریٹنگز حاصل کرنے کے لیے استحصالی حربہ سمجھا جائے یا انصاف کے حقیقی ذرائع، یہ پروگرام اور ان جیسے دیگر فارمیٹس آج بھی لوگوں کو منقسم رکھتے ہیں۔
اسی طرح اس پروگرام سے متاثر ہو کر بنائی گئی نئی فلم پرائم ٹائم بھی شدید اختلافِ رائے کا باعث بنی ہوئی ہے۔
اگرچہ فلم کو بعض ناقدین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے، لیکن کچھ تبصرہ نگاروں نے اس پر سخت تنقید بھی کی ہے۔ جان بلیسڈیل نے اسے ’سطحیت کے بارے میں ایک سطحی فلم‘ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ’ٹو کیچ آ پریڈیٹر‘ کے سابق میزبان کرس ہینسن نے فلم کو ’استحصالی‘ اور ’ایک ڈرامائی افسانہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
ہینسن نے یہ بھی کہا ہے کہ انھوں نے فلم کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کیا ہے۔
یہ فلم یقیناً اس بات پر اہم سوالات اٹھاتی ہے کہ ہمارا معاشرہ کس نوعیت کا مواد نہ صرف شوق سے دیکھتا ہے بلکہ خود تخلیق بھی کرتا ہے اور صحافت اور تفریح کے درمیان لکیر کس قدر دھندلی ہو چکی ہے۔
دستاویزی فلم پریڈیٹرز کے ہدایت کار ڈیوڈ اوسٹ کا کہنا ہے کہ فلم بناتے وقت وہ خود بھی اس تضاد سے بخوبی آگاہ تھے۔
انھوں نے کہا ’جب بھی ہم کسی منظر کے نیچے موسیقی شامل کرتے ہیں تاکہ ناظر کوئی خاص احساس محسوس کرے، تو ہم بھی اسی عمل کا حصہ بن جاتے ہیں۔‘
اوسٹ کے مطابق ’ہم اس پورے نظام کے اندر موجود ہیں جہاں معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تفریح بھی پیش کی جاتی ہے۔‘
’جب ہمارے کام کو دیکھنے والے ناظرین ہماری آمدنی کا ذریعہ بن جائیں تو کیا ہوتا ہے؟ جب ہمیں سنسنی خیز اور تاریک کہانیاں سنانے کی ترغیب ملنے لگے تو کیا ہوتا ہے؟‘