آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے گریزاں کیوں ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے گا۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’اس حقیقت کی بنیاد پر کہ حکومتِ ایران شدید طور پر منقسم ہے، جو کہ غیر متوقع نہیں، اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہم سے ایران پر اس وقت تک حملے روکنے کی درخواست کی ہے کہ جب تک کہ وہاں کے رہنما اور نمائندگان ایک متفقہ تجویز پیش نہ کر دیں۔‘
’چنانچہ میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام معاملات میں مکمل طور پر تیار اور مستعد رہیں، لہٰذا میں جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کروں گا جب تک ان کی جانب سے تجویز پیش نہ کر دی جائے اور بات چیت کسی ایک نتیجے پر نہ پہنچ جائے، چاہے وہ کسی بھی سمت میں ہو۔‘
ادھر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جنگی اقدام کے مترادف ہے، اور یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔
انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’کسی تجارتی جہاز پر حملہ کرنا اور اس کے عملے کو یرغمال بنانا اس سے بھی بڑی خلاف ورزی ہے۔ ایران جانتا ہے کہ پابندیوں کو کس طرح غیر مؤثر بنایا جاتا ہے، اپنے مفادات کا دفاع کیسے کیا جاتا ہے، اور دباؤ اور دھونس کا مقابلہ کس طرح کیا جاتا ہے۔‘
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جنگ بندی میں توسیع کے لیے امریکہ کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کشیدگی میں کمی لانے اور ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری اور اعتماد سازی کے لیے ضروری گنجائش پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
’ہم تمام فریقین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس پیش رفت سے فائدہ اٹھائیں، ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو جنگ بندی کو نقصان پہنچا سکتا ہو، اور ایک پائیدار اور دیرپا حل تک پہنچنے کے لیے مذاکرات میں تعمیری انداز میں شریک ہوں۔‘
بیان کے مطابق سیکرٹری جنرل مزید مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے میں پاکستان کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ سیکرٹری جنرل کو امید ہے کہ یہ کوششیں تنازع کے ایک جامع اور دیرپا حل کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم جنگ بندی میں توسیع کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں بات چیت کا دوسرا دور تاحال غیریقینی صورتحال کا شکار ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے اس بات چیت کے لیے اپنے نائب جے ڈی وینس کی قیادت میں وفد پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا گیا تھا اور امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق وینس نے بدھ کی صبح پاکستان پہنچنا تھا۔
تاہم اب یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ ابھی تک اس سوال کا جواب میزبان پاکستان سمیت کسی کے پاس نہیں ہے کہ امریکی وفد کے آنے پر مذاکرات کے میز پر بیٹھنے کے لیے ایران سے کوئی موجود ہو گا یا نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے پاس مذاکراتی وفد بھیجنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔‘
مگر ایرانی حکام کی جانب سے تاحال امریکہ سے مذاکرات کا ایک اور دور کرنے کے بارے میں مثبت سگنل نہیں مل رہے ہیں۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ایران کسی دھمکی یا دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کرے گا۔
ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ 'اس حقیقت کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے کہ اس قدر قدیم تہذیب رکھنے والا ملک کسی دھمکی یا دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کرے گا۔'
انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ ایک ٹھوس، اسلامی اور مذہبی اصول ہے۔ کاش امریکہ اسے سمجھ جاتا۔‘
منگل کی دوپہر ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں اُن اطلاعات کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک ایرانی وفد اسلام آباد روانہ ہوا ہے۔ اسی بیان میں ایرانی حکام کے مؤقف کو بھی دہرایا گیا ہے جن میں پارلیمنٹ کے سپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف بھی شامل ہیں اور جن کا کہنا ہے کہ تہران ’دھمکیوں کے سائے میں کسی قسم کے مذاکرات قبول نہیں کرتا۔‘
اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں، جن کے سبب تہران مذاکرات کے دوسرے دور میں حصہ لینے سے انکاری دکھائی دیتا ہے؟
مذاکرات کی راہ میں رُکاوٹیں
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ 'اشتعال انگیز اقدامات اور جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں' سفارتی عمل کے تسلسل میں حائل رکاوٹیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف 'دھمکیاں اور مداخلت' اور ایران کے بارے میں 'متضاد بیانات اور دھمکی آمیز زبان' بھی سفارتی عمل میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان 12 اپریل کو مکمل ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد یہ باتیں منظرِ عام پر آئیں تھیں کہ بات چیت بے نتیجہ رہی ہے، امریکہ کو ایران کی افزودہ یورینیم سے مسئلہ ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار بنائے۔
ایران نے یہ بھی کہا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی تک وہ مذاکرات پر راضی نہیں ہو گا تاہم پھر تل ابیب اور بیروت کے درمیان بات چیت کے نتیجے میں لبنان میں جنگ بندی ہو گئی لیکن یہ مذاکرات کے لیے ایران کی پیشگی شرائط میں سے اب تک پوری ہونے والی واحد شرط ہے۔ ایران کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اس کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور اس پر عائد پابندیاں بھی ہٹائی جائیں، تاہم یہ مطالبہ مذاکرات میں زیرِ بحث آ سکتا ہے۔
ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول بھی ایک ایسا نکتہ تھا جو مذاکرات کے دوران کسی بھی کامیابی میں رُکاوٹ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے اور یہ معاملہ پہلے دور کی بات چیت کے بعد مزید سنگین ہوا ہے۔
لبنان میں جنگ بندی کے بعد عباس عراقچی نے جب آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تو لگا کہ بات چل نکلی ہے لیکن جلد ہی یہ معاملہ پھر اس وقت لٹک گیا جب امریکی صدر نے معاہدہ ہونے تک امریکی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے سے انکار کر دیا۔
اسی دوران امریکی میرینز کی جانب سے خلیج عمان میں ایک ایران پرچم بردار بحری جہاز پر فائرنگ اور اسے قبضے میں لینے کا واقعہ پیش آ گیا جسے نہ صرف ایران نے بحری قزاقی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا بلکہ اس کا بدلہ بھی لینے کا اعلان کر دیا۔
اور اب صورتحال یہ ہے کہ ایرانی قیادت آبنائے ہرمز میں امریکہ ناکہ بندی اور صدر ٹرمپ کے لب و لہجے سے شدید خائف دکھائی دیتی ہے۔
ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کہہ چکے ہیں کہ امریکی صدر 'جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ناکہ بندی کے ذریعے مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا اپنی اشتعال انگیزی کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں۔'
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کو دھمکیوں کی آمیزش والے مذاکرات قبول نہیں اور یہ کہ ایران نے گذشتہ دو ہفتے میں ’میدان جنگ میں نئے پتے لانے کی تیاری کی ہے۔'
ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ماحول میں مذاکرات ممکن ہیں یا نہیں؟
’ایران مذاکرات کے لیے بیتاب نہیں نظر آنا چاہتا‘
اس صورتحال میں بھی امریکہ اور ایران مذاکرات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار پُرامید نظر آتے ہیں کہ ایرانی وفد اسلام آباد ضرور پہنچے گا۔
قائدِ اعظم یونیورسٹی سے منسلک بین الاقوامی امور کے ماہر ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد شعیب نے بی بی سی اردو کے روحان احمد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بطور ایرانی کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ وہ مذاکرات کے لیے بیتاب نظر آئے۔‘
وہ سمجھتے ہیں کہ ایران اندرونی سیاست بھی یہ تقاضا کرتی ہے کہ ان کے رہنما سخت گیر نظر آئیں۔
’ایران میں قدامت پسند لوگ دیکھ رہے ہیں کہ وہ مذاکرات کے اس دور سے بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔‘
’ان کا لبنان میں جنگ بندی کروانے کا مطالبہ پورا ہوا، اب ظاہر سی بات ہے وہ اپنے مزید مطالبات منوانے کی بھی کوشش کریں گے۔‘
آسٹریلیا کی میں یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سڈنی سے منسلک بین الاقوامی امور کے ماہر محمد فیصل سمجھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کا رویہ بھی ایران کی ہچکچاہٹ کی ایک وجہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جنگ بندی ہوئی تو توقع کی جا رہی تھی کہ مذاکرات ہوں گے۔ پھر مذاکرات کا پہلا دور ہوا اور اس کے دوران ہی ٹرمپ نے ایران کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا اور بحری ناک بندی ایک جنگی عمل ہے۔‘
’اس سے ایران کے مذاکرات پر اعتماد کو ٹھیس پہنچا، اس لیے پاکستانی وفد مذاکرات کے پہلے دور کے بعد تہران بھی گیا تھا جس کا مقصد انھیں یقین دہانی کروانا تھا۔‘
محمد فیصل مزید کہتے ہیں: ’ایران ایسے وقت میں مذاکرات کے لیے نہیں جاتا چاہتا جب اسے براہ راست دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔‘
’اس سے مذاکرات کا عمل پیچیدہ ہو جاتا ہے، ایسے ماحول میں امریکہ کے لیے کوئی رعایت کرنا ایران میں شکست کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔‘
اس صورتحال میں ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے پیر کو دیے گئے بیان میں ایک اہم نکتہ 'اب تک' کے الفاظ ہیں۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امریکہ سے 'مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے 'اب تک' ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔'
یہ جملہ اس امکان کو ظاہر کرتا ہے کہ تہران آخری لمحے میں پاکستان جانے کا فیصلہ کر سکتا ہے اور یوں بھی دونوں ملکوں کے درمیان سفر بھی تو چند گھنٹوں کا ہی تو ہے۔
پاکستان کے لیے سخت آزمائش
بی بی سی کے پال ایڈمز کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے ریڈ زون کے اندر ایک علامتی دروازہ ہے جس پر 'امریکہ ایران معاہدہ' لکھا ہے۔ اس دروازے کو کھولے قدرے پریشان پاکستان کی حکومت کھڑی ہے جو اس بات سے آگاہ ہے کہ ثالث کے طور پر اس کی نئی شناخت کڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔
ان کے مطابق منظرنامہ تیار ہے لیکن مہمان ابھی تک نہیں پہنچے اور سوال یہی ہے کہ کیا ایک بار پھر وینس اور قالیباف آئیں گے؟ یا پھر جیسا کہ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر عندیہ دیا تھا کہ وہ خود آئیں گے؟
پال ایڈمز کے مطابق بظاہر حالات موافق نہیں دکھائی دیتے لیکن فریقین یہ بھی نہیں چاہتے کہ اسلام آباد آ کر یہ نازک سفارتی عمل ان کے ہاتھوں بکھر جائے اور جاری رابطوں کی غیر معمولی شدت سے اندازہ ہوتا ہے کہ پردے کے پیچھے کسی نہ کسی معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جو ایسا معاہدہ ہو سکتا ہے جس میں دونوں جانب سے کچھ رعایتیں ہوں، لیکن جسے دونوں اپنی اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں۔
دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کے اختتام پر ختم ہو رہی ہے۔ ایسے میں کوئی معاہدہ کم از کم مذاکرات کے لیے مزید وقت فراہم کر سکتا ہے۔ کیا ایران اور امریکہ کی بحری ناکہ بندیوں کے باہمی خاتمے کی طرف پیش رفت ہو سکتی ہے؟ یہ ایک اہم آغاز ہو گا۔