آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران- امریکہ مذاکرات پر شکوک کے بادل مگر اسلام آباد میں تیاریاں مکمل: ’خود چھت پر جائیں نہ بچوں کو جانے دیں‘
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کے دوسرے دور پر تو ایرانی حکام کے تازہ بیان کے بعد شکوک کے بادل منڈلانے لگے ہیں لیکن ان مذاکرات کے مجوزہ مقام یعنی پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں اس تناظر میں جاری تیاریوں میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی ہے۔
ایک طرف جہاں امریکی وفد کی آمد سے قبل راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر امریکی طیاروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف اسلام آباد کا ریڈ زون سخت حفاظتی حصار میں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ ان کے نمائندے پیر کو پاکستان پہنچ جائیں گے تاہم ایران نے پیر کی صبح کہا ہے کہ اس نے امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے وفد بھیجنے کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے۔
ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے اس بارے میں بیان کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کے اس دوسرے دور کے حوالے سے سکیورٹی کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جو21 اپریل کو شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ پاکستان جا سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد سکیورٹی انتظامات میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ریڈ زون میں سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات
حکومتِ پاکستان کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بات چیت کہاں اور کب ہو گی تاہم مذاکرات کے پہلے دور کو مدِ نظر رکھا جائے تو بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ پہلے دور کی طرح اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع سرینا ہوٹل ہی وہ مقام ہو گا جہاں دونوں ممالک کے نمائندے مل بیٹھیں گے۔
بات چیت کے پہلے دور میں جہاں سرینا ہوٹل امریکی وفد کی میزبانی کر رہا تھا وہیں ایرانی وفد کو ریڈ زون میں ہی واقع میریٹ ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا اور اس بار بھی یہ دونوں ہوٹل حکومتِ پاکستان کی جانب سے حاصل کر لیے گئے ہیں۔
ان دونوں ہوٹلوں میں مقیم مہمانوں کو اتوار کی سہ پہر تک کمرے خالی کرنے کے لیے کہہ دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرینا چوک سے میریٹ چوک تک کا علاقہ یعنی شہر کا ریڈ زون جسے مذاکرات کے پہلے دور کے موقع پر توسیع دے کر زیرو پوائنٹ سے فیصل مسجد تک بڑھا دیا گیا تھا بدستور ایک چھاؤنی کا سا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس علاقے میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ منع ہے اور سکیورٹی کے انتظامات پاکستانی فوج نے سنبھالے ہوئے ہیں جس کی معاونت کے لیے اسلام آباد، پنجاب پولیس اور رینجرز کے جوان بھی تعینات ہیں۔
پنجاب کے مختلف اضلاع سے لگ بھگ چھ ہزار افسران اور اہلکاروں پر مشتمل نفری کو راولپنڈی، اسلام آباد طلب کیا گیا ہے، جن میں ایلیٹ فورس کے 200 سنائپرز بھی شامل ہیں۔
ریڈ زون میں واقع تمام نجی و سرکاری دفاتر اور سکول بھی پیر کو بند رکھے گئے ہیں اور دفتری اور تدریسی عمل آن لائن جاری رکھنے کو کہا گیا ہے۔
اسلام آباد اور اس سے ملحقہ شہر راولپنڈی میں پبلک ٹرانسپورٹ اتوار سے ہی مکمل طور پر بند ہے جبکہ دونوں شہروں میں ہیوی ٹرانسپورٹ کا داخلہ بھی تا حکم ثانی روک دیا گیا ہے۔
پیر کو اسلام آباد کے کمرشل ہب یعنی بلیو ایریا میں دکانیں کھلیں تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان دکانداروں سے کہا گیا ہے کہ جیسے ہی انھیں دکانیں بند کرنے کو کہا جائے گا تو انھیں اس حکم پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔
سخت حفاظتی انتظامات کی وجہ سے عوام کے معمولاتِ زندگی بھی خاصی حد تک متاثر ہوئے ہیں اور اس کی ایک وجہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بروقت اعلانات کی عدم دستیابی کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
حفاظتی انتظامات اور ماضی میں ایسے مواقع پر کیے گئے اقدامات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی میں عوام اتوار کی شب تک ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی اداروں میں پیر کو تدریسی عمل جاری رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں اعلانات کے منتظر رہے اور اطلاعات کی عدم موجودگی کا فائدہ سوشل میڈیا پر ’فیک نیوز‘ پھیلانے والے عناصر نے اٹھایا جو اختتامِ ہفتہ پر سڑکوں، ہوسٹلز، دکانوں اور تعلیمی اداروں کی بندش کے نوٹیفیکیشن پھیلاتے رہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اتوار کو رات گئے جہاں صرف ریڈ زون میں دفاتر اور تعلیمی ادارے پیر کو بند رکھنے کا اعلان سامنے آیا وہیں ’فیک نیوز‘ پر مبنی نوٹیفیکیشنز کو جعلی قرار دینے کے بیانات بھی جاری کیے گئے۔
رن وے سے ملحقہ علاقے میں بازار تا حکم ثانی بند رکھنے کے احکامات
راولپنڈی کی حدود میں واقع نور خان ایئر بیس پاکستان آنے والی اہم غیرملکی شخصیات اور وفود کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہ دو دن سے ہائی سکیورٹی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔
عمومی طور پر غیرملکی وفود یا سربراہانِ مملکت کی نور خان ایئربیس آمد کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات تو ہوتے ہیں لیکن اس فضائی اڈے سے ملحقہ آبادیوں اور بازار بند نہیں کروائے جاتے اور ایسی شخصیات کی پاکستان میں آمد اور دورہ مکمل ہونے کے بعد جہاز کے ٹیک آف کرنے سے چند گھنٹے پہلے پنجاب پولیس کے اہلکاروں کو اس علاقے میں تعینات کیا جاتا ہے۔
مذاکرات کے پہلے دور کے موقع پر اگرچہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان آئے تھے تاہم اس وقت بھی ایسے سخت انتظامات دیکھنے کو نہیں ملے تھے جو اس بار کیے گئے ہیں۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اہم شخصیات کے جہاز اترنے کے بعد نور خان ایئربیس کے باہر وی آئی پی موومنٹ کے دوران گلزار قائد اور ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کو بھی بند کردیا جائے گا۔
اہلکار کے مطابق اہم شخصیات کو نور خان ایئر بیس سے لانے اور انھیں ہوٹل تک چھوڑنے کی تمام تر ذمہ داری فوج کے کنٹرول میں ہو گی تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی خدمات بھی لی جائیں گی۔
انھوں نے کہا کہ وی وی آئی پیز روٹ کے لیے ایکسپریس ہائی وے پر فوج تعینات ہوگی جبکہ ان کے ساتھ ساتھ پنجاب اور اسلام آباد پولیس کے اہلکار بھی تعینات ہوں گے۔ ایکسپریس ہائی وے سے ملحقہ آبادیوں میں پنجاب پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز کے اہلکار بھی تعینات کردیے گئے ہیں۔
اس مرتبہ نور خان ایئربیس سے ملحقہ تمام آبادیوں میں قائم بازاروں اور دکانوں کو بھی تا حکم ثانی بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
اس اڈے کے رن وے کے ساتھ چاہ سلطان اور صادق آباد کے علاقے ہیں جہاں پر زیادہ تر گاڑیوں کی مرمت اور فرنیچر کی دکانیں ہیں۔ ان علاقوں میں پیر کو صرف کریانہ سٹور، میڈیکل سٹور اور دودھ، دہی کی دکانیں کھلی دیکھی گئیں۔
محمد اشرف راولپنڈی کے علاقے صادق آباد کے رہائشی ہیں اور ان کی 'چاہ سلطان ' میں گاڑیوں کی ورکشاپ ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پہلے جب وہ دکان پر جانے کے لیے گھر سے نکلے تو ان کی گلی کے باہر تعینات پولیس اہلکار نے انھیں روک لیا تاہم جب اسے رہائشی ثبوت اور گھر سے باہر نکلنے کا مقصد بتایا گیا تو پولیس اہلکار نے انھیں جانے کی اجازت دے دی۔
محمد اشرف کا یہ بھی کہنا تھا جب وہ اپنی دکان پر پہنچے اور اسے کھولنے لگے تو ایک اور پولیس اہلکار نے جو کہ کچھ فاصلے پر تعینات تھا، انھیں ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے اس علاقے کی دکانوں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔
اشرف کے مطابق ایسا صرف ان کے ساتھ ہی نہیں ہوا بلکہ دیگر دکانداروں کو بھی کام سے روک دیا گیا۔
صادق آباد کے ہی رہائشی مبین احمد کے بقول پولیس اہلکار میگا فون کے ذریعے لوگوں کو آگاہ کر رہے ہیں کہ وہ خود اپنے مکانات کی چھتوں پر جائیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو جانے دیں۔
انھوں نے کہا کہ محلے کے چند مکانات کی چھتوں پر پہلے ہی پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سکیورٹی کے اتنے سخت اقدامات کم ہی دیکھنے کو ملے ہیں۔
مبین احمد کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان جب پاکستان کے دورے پر آئے تھے تو اس وقت سکیورٹی کے سخت انتظامات دیکھنے کو ملے تھے تاہم مبین احمد کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران رن وے سے ملحقہ آبادیوں میں واقع بازار بند نہیں کروائے گئے تھے اور نہ ہی لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی تھی۔
کون کون پاکستان آ رہا ہے؟
امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
اخبار نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔
بی بی سی اُردو کے روحان احمد کو وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسلام آباد جائیں گے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے ایران کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور میں بھی یہی شخصیات پاکستان آئی تھیں۔
اس سے قبل ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ معاہدے پر دستخط کے لیے خود بھی اسلام آباد جا سکتے ہیں۔
نیویارک پوسٹ کی طرف سے پاکستان جانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ 'شاید میں بعد میں کسی اور تاریخ کو چلا جاؤں۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ کل کیا ہوتا ہے۔'
دوسری جانب ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے ٹیم کے ناموں کا اعلان تو دور کی بات، خود مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے بھی مثبت جواب نہیں دیا گیا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی اتوار کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے اس گفتگو کا جو اعلامیہ جاری کیا، اس میں یہ تو درج ہے کہ دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا لیکن پاکستان میں ایران امریکہ مذاکرات کے متوقع دوسرے دور سے متعلق کوئی بھی تفصیلات نہیں دی گئیں۔