آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, جنگ بندی کی کوئی مدت طے نہیں، ناکہ بندی اور دھمکیاں مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہیں: ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق ایران نے مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی۔‘ تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں مذاکرات ممکن ہیں۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز میں تین مال بردار جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں
  • پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے خلاف ورزی کے مرتکب دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے
  • ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کے ساتھ ساتھ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا
  • اسلام آباد میں دوبارہ مذاکرات کا امکان تھا تاہم ایران اور امریکہ کی جانب سے اپنے وفود پاکستان روانہ نہیں کیے گئے
  • ایران کے ایک سینیئر مشیر مہدی محمدی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان ’بے معنی‘ ہے اور یہ ’اچانک حملے کے لیے مزید وقت حاصل کرنے کی چال ہے‘

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, امریکی بحریہ کے سیکریٹری جان سی فیلن ٹرمپ انتظامیہ سے علیحدہ

    امریکی بحریہ کے سیکریٹری جان سی فیلن ٹرمپ انتظامیہ سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق بحریہ کے سیکریٹری جان سی فیلن فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

    محکمۂ دفاع کے ترجمان شان پارنیل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فیلن امریکی بحریہ کے سیکریٹری نہیں ہیں۔

    بحریہ کے سیکریٹری کے طور پر جان سی فیلن کی ذمہ داریوں میں امریکی بحریہ اور میرین کور سمیت تقریباً دس لاکھ فوجی اہلکاروں اور سول ملازمین کی نگرانی شامل تھی۔

    فیلن ایک ایسے وقت میں اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے ہیں کہ جب امریکہ آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کر رہا ہے۔

    جان سی فیلن اس مہینے عہدہ چھوڑنے والے دوسرے اعلیٰ سطحی امریکی فوجی عہدیدار ہیں۔ اس سے قبل اپریل کے اوائل میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسِتھ نے آرمی چیف آف سٹاف رینڈی جارج سے اپنے عہدے سے الگ ہونے کی درخواست کی تھی۔

  2. میزائلوں کے بعد ایران میں ریلیوں کے دوران ڈرونز کی نمائش, غنچے حبیب زاد، بی بی سی فارسی

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی فوج کا طویل فاصلے تک مار کرنے والا ڈرون ’آرش‘ آج رات تہران کے ایک بڑے چوراہے میں حکومت کے حامی مظاہرے کے دوران نمائش کے لیے پیش کیا گیا، جبکہ قریبی شہر کرج اور جنوبی شہر بندر عباس میں بھی ایسے ہی مظاہروں میں ایرانی ڈرونز کی نمائش کی گئی۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کی جانب سے تہران میں ہونے والے ایک مظاہرے کی جاری کردہ ویڈیو میں ایک گروہ کو ’میں تمہارے لیے لڑوں گا، اے مادرِ وطن‘ کے نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا جبکہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروہ حزب اللہ کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔

    گزشتہ رات بھی ان مظاہروں کے دوران تہران سمیت ایران کے کئی شہروں میں میزائلوں کی نمائش کی گئی جبکہ ایک ویڈیو میں تہران میں موجود ہجوم کو ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

    یہ حکومت کے حامی مظاہرے 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران بھر کے بڑے چوراہوں میں روزانہ منعقد ہو رہے ہیں، جن میں ایرانی حکام اور سرکاری ٹی وی عوام کو شرکت کی ترغیب دے رہے ہیں۔

    عام طور پر رات کے وقت ہونے والے یہ مظاہرے نہ صرف حکومت کے لیے عوامی حمایت کا تاثر پیش کرتے ہیں، جہاں لوگ اسلامی جمہوریہ کا پرچم لہراتے ہیں بلکہ اندھیرا ہونے کے بعد مخالفین کے لیے بڑے چوراہوں میں جمع ہونا بھی مشکل بنا دیتے ہیں۔

  3. ایران میں آٹھ خواتین کو سزائے موت سے بچا لیا گیا: امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران میں مبینہ طور مظاہروں میں شامل آٹھ خواتین کو ایرانی حکام سے اُن کی درخواست کے بعد اب پھانسی نہیں دی جائے گی۔

    تاہم ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان آٹھ خواتین کو کبھی پھانسی دیے جانے کا فیصلہ ہی نہیں ہوا تھا۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ ’ان خواتین میں سے چار کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے گا جبکہ باقی چار ایک ماہ قید کی سزا کاٹیں گی۔‘

    انھوں نے اپنی درخواست کو تسلیم کرنے پر ایران اور اس کی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    ٹرمپ نے منگل کے روز ان خواتین کے حوالے سے ایرانی حکومت سے اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی رہائی ’مذاکرات کے لیے ایک بہترین آغاز ہو سکتی ہے۔‘

    ایران کی عدلیہ کے زیرِِ انتظام خبر رساں ادارے میزان نیوز نے کہا کہ ٹرمپ ’جھوٹی خبروں‘ کا شکار ہوئے ہیں جو ’مخالف‘ اپوزیشن میڈیا نے پھیلائی تھیں۔

    ادارے کے مطابق کچھ خواتین کو پہلے ہی رہا کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر پر ایسے الزامات ہیں جن میں سزائے موت شامل نہیں۔

    جیسا کہ اس سے قبل یہ خبر آپ تک پہنچائی گئی تھی کہ رپورٹ کیا گیا ایران نے جنگ کے آغاز سے اب تک ایک درجن سے زائد افراد کو سزائے موت دی ہے، جن میں بعض پر اسرائیل کے لیے جاسوسی اور کچھ پر رواں سال حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔

  4. ایران سے منسلک جہازوں کے ناکہ بندی سے بچ نکلنے کی اطلاعات ’درست‘ نہیں: امریکی فوج کا دعویٰ

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے اُن کی افواج اب تک 29 جہازوں کو روک چکی ہیں اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ متعدد تجارتی بحری جہازوں کے ناکہ بندی سے بچ نکلنے کی میڈیا رپورٹس ’درست نہیں‘ ہیں۔

    سینٹکام کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دو ایرانی پرچم بردار ٹینکرز ’ہیرو ٹو‘ اور ’ہیڈی‘، جن کا میڈیا میں ذکر کیا گیا تھا کسی بحری قافلے کے حصے کے طور پر ناکہ بندی عبور نہیں کر سکے بلکہ انھیں روکنے کے بعد ایران کی بندرگاہ چاہ بہار میں لنگر انداز کر دیا گیا ہے۔‘

    بیان کے مطابق ایک اور جہاز ’ڈورینا‘ نے ناکہ بندی کی ’خلاف ورزی‘ کی کوشش کی جس کے بعد اسے بحرِ ہند میں امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

    سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’امریکی فوج کی رسائی عالمی سطح تک ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’امریکی افواج مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر بھی کارروائی کرتے ہوئے ناکہ بندی کو نافذ کر رہی ہیں۔‘

  5. جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی، ہم ایک متفقہ ردِعمل اور جواب کے منتظر ہیں: ترجمان وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی۔‘

    کیرولین لیویٹ نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے گزشتہ روز صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کا حوالہ دیا اور کہا کہ امریکہ ایرانی قیادت کی جانب سے ایک متفقہ تجویز کا انتظار کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کی قیادت کے اندر ’تقسیم‘ پائی جاتی ہے۔ اُن کے مطابق جنگ بندی کے دوران بھی ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ جاری ہے جس میں امریکی بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے جس نے ایرانی تیل کی برآمدات کو روک رکھا ہے۔

    لیویٹ نے جنگ بندی میں تین سے پانچ دن کی توسیع سے متعلق خبروں کو ’غلط‘ قرار دیا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ نے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی وہ بحری ناکہ بندی سے ’مطمئن‘ ہیں اور ’سمجھتے ہیں کہ ایران اس وقت بہت کمزور پوزیشن میں ہے۔‘

    انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’اس وقت تمام اختیارات صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہیں۔‘

    کیرولین لیویٹ سے پوچھا گیا کہ کیا وائٹ ہاؤس کو معلوم ہے کہ ایران میں کسی معاہدے کی حتمی منظوری کون دے گا؟

    اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’وائٹ ہاؤس اور ہماری انٹیلی جنس کمیونٹی کو یقیناً اس بارے میں بہتر معلومات ہیں۔‘

    تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہم ایک متفقہ ردِعمل اور جواب کے منتظر ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی قیادت کی جانب سے مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آ رہے ہیں،‘ جنھیں انھوں نے ’عوامی سطح پر بے معنی باتیں‘ قرار دیا۔

  6. لبنان میں آئی ڈی ایف کے لیے خطرہ بننے والی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان میں ایک ایسی گاڑی کو نشانہ بنایا جو اس کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کے لیے خطرہ بن رہی تھی۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں ایک گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اسرائیلی فوجیوں کے قریب اس انداز میں پہنچی جس سے ان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس میں موجود افراد اُن پر حملہ کرنے کی نیت سے اُن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    یہ بیان لبنانی سرکاری میڈیا کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں کہا گیا تھا کہ گاؤں الطیر میں ایک گاڑی پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے دو گاڑیوں کی نشاندہی کی جو ’حزب اللہ کے زیرِ استعمال ایک فوجی تنصیب‘ سے روانہ ہوئی تھیں۔

    بیان کے مطابق گاڑی میں موجود افراد نے اسرائیل کی ’فارورڈ ڈیفنس لائن‘ عبور کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور خطرے کا باعث بن رہے تھے جس کے بعد ایک گاڑی اور وہ عمارت جہاں سے گاڑیاں روانہ ہوئی تھیں کو نشانہ بنایا گیا۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ’انھیں بعد ازاں یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ ان حملوں میں دو صحافی زخمی ہوئے ہیں‘ تاہم اُن کی جانب سے یہ کہا گیا کہ وہ ’ریسکیو ٹیموں کو علاقے تک پہنچنے سے نہیں روک رہے۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’اسرائیلی فوج صحافیوں کو نشانہ نہیں بناتی اور واقعے کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘

  7. بریکنگ, ناکہ بندی، دھمکیاں اور وعدوں کی خلاف ورزی مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہیں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ایران کے صدر کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی، دھمکیاں اور وعدوں کی خلاف ورزی مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی، دھمکیاں اور ان کے بقول ’وعدوں کی خلاف ورزی‘ امریکہ کے ساتھ ’حقیقی اور جامع مذاکرات‘ کی راہ میں بنیادی رکاوٹیں ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران نے مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔‘

    ان کاکہنا تھا کہ ’دنیا آپ کی نہ ختم ہونے والی منافقانہ بیان بازی اور دعوؤں اور اقدامات کے درمیان تضاد کو دیکھ رہی ہے۔‘

    ان کا یہ بیان اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا، تاہم ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا۔

  8. وائٹ ہاؤس میں خاموشی، مگر دُنیا کی نظریں صدر ٹرمپ کے آئندہ اقدام پر, بی بی سی کے نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس برنڈ ڈیبسمین جونیئر کا تجزیہ

    آج وائٹ ہاؤس میں غیر معمولی طور پر نہایت خاموش دن گزرا ہے۔

    اگرچہ دنیا کی نظریں ایران پر جمی ہوئی ہیں اور یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آیا مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہوں گے یا نہیں، اس کے باوجود وائٹ ہاؤس کی جانب سے خاموشی برقرار ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھی ان کی حالیہ پوسٹ کے علاوہ، جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں آٹھ سزائے موت روک دی گئی ہیں، بہت کم ردعمل سامنے آیا ہے۔

    آج وائٹ ہاؤس میں واحد دیگر ’خبر‘ ایک نہایت مختصر اور تاحال غیر واضح سکیورٹی الرٹ تھا، جس کے باعث لان میں موجود صحافیوں کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ کیا تھی۔

    یہاں موجود رپورٹرز انتظامیہ کے ایران سے متعلق آئندہ اقدامات پر سوالات کی بھرمار کے ساتھ وائٹ ہاؤس پریس آفس سے رابطے میں مصروف رہے یا مختلف حکام کو فون کر کے کسی بھی قسم کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

    امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس میں تفصیلات نہ ہونے کے برابر ہیں زیادہ تر نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع پر مبنی ہیں اور اکثر ایک دوسرے سے متضاد بھی ہیں۔

    اگر کوئی نئی پیش رفت نہ ہوئی تو آج ٹرمپ کی کیمرے کے سامنے آمد کی توقع نہیں ہے کیونکہ ان کا عوامی شیڈول دن کے باقی حصے میں بند کمرہ پالیسی اجلاسوں تک محدود ہے۔

  9. بریکنگ, فوجی جارحیت سے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرنا ہے: باقر قالیباف

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف نے اب سے کُچھ دیر قبل اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ ’مکمل جنگ بندی اسی صورت میں بامعنی ہو سکتی ہے جب اسے سمندری ناکہ بندی اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے جیسے اقدامات سے پامال نہ کیا جائے اور تمام محاذوں پر ’صیہونی جارحیت‘ کو روکا جائے۔‘

    اُن کا ایکس پر جاری اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’ایسی صریح خلاف ورزیوں کی موجودگی میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ممکن نہیں۔‘

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے اپنے بیان کے آخر پر کہا کہ ’فوجی جارحیت کے ذریعے اپنے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے اور نہ ہی دھونس سے یہ ممکن ہوگا۔‘

    ’آگے بڑھنے کا واحد راستہ ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرنا ہے۔‘

  10. لبنانی صدر کی امن مشن میں شامل دوسرے فرانسیسی اہلکار کی ہلاکت کی مذمت

    لبنان کے صدر جوزف عون نے جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے خدمات انجام دینے والے فرانسیسی فوج کے دستے پر حملے اور اس میں ہونے والی اہلکار کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔

    اس سے قبل فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے سنیچر کے روز ہونے والے حملے کے نتیجے میں دوسرے فرانسیسی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، جس کا الزام انھوں ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ پر عائد کیا۔

    تاہم حزب اللہ کی جانب سے اس حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    صدر عون کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں انھوں نے اس واقعے کی دوبارہ مذمت کرتے ہوئے فرانس اور یونیفل یعنی اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس برائے لبنان کی قیادت سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

    واضح رہے کہ لبنان میں قیامِ امن کے لیے یہ فورس سنہ 1978 میں اقوامِ متحدہ نے قائم کی تھی۔

  11. یونان کی مال بردار جہاز پر ایرانی حملے کی تصدیق

    یونان کے وزیرِ خارجہ کے مطابق یونانی مال بردار جہاز ایپامینونڈاس کو پاسداران انقلاب کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ایران نے اسے حراست میں لیا ہے۔

    سی این این سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جہاز پر حملہ کیا گیا اور اسے ’شدید نقصان‘ پہنچا ہے۔ یونانی میڈیا کے مطابق شپنگ کی وزارت نے جہاز کو حراست میں لیے جانے کی تردید کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ یونان کے مال بردار جہاز پر حملہ ہوا۔ تاہم میں اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتا کہ اسے ایرانیوں نے تحویل میں لیا ہے۔‘

    اس سے قبل پاسداران انقلاب نے کہا تھا کہ ایپامینونڈاس اور ایم ایس سی فرانسسکا کو ’تحویل میں لے لیا گیا‘۔

    برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کا کہنا ہے کہ جہاز پر پاسداران انقلاب کی ایک گن بوٹ نے فائرنگ کی تھی جس سے جہاز کے برج کو نقصان پہنچا ہے۔

  12. فرانسیسی امن دستے کا دوسرا اہلکار لبنان میں ہلاک ہو گیا: صدر ایمانویل میکخواں

    فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ہاتھوں زخمی ہونے والا فرانسیسی امن دستے کا دوسرا اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’کارپورل اینیسیٹ جیرارڈن کو گذشتہ روز وطن واپس بھیجا گیا تھا اور آج صبح وہ دم توڑ گئے۔‘

    سنیچر کے روز جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے خدمات انجام دینے والے فرانسیسی اہلکار اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب گشت کے دوران ان پر فائرنگ کی گئی۔

    میکخواں نے حملے کا الزام حزب اللہ پر لگایا ہے، تاہم ایران کی حمایت یافتہ اس تنظیم نے واقعے سے ’کسی بھی قسم کے تعلق‘ سے انکار کیا ہے۔

    امن دستے کے دو مزید اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

    اس سے پہلے میکخواں نے کہا تھا کہ وہ حزب اللہ اور اسرائیل میں جنگ بندی کی ’بھرپور‘ حمایت کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ انھوں نے تشویش کا اظہار بھی کیا کہ ’جاری عسکری کارروائیوں کی وجہ سے ممکنہ طور پر یہ جنگ بندی پہلے ہی متاثر ہو چکی ہے۔‘

    انھوں نے حزب اللہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے ہتھیار ترک کر دیں اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ لبنان کی خود مختاری کا احترام کرے۔

  13. لبنان میں کار پر اسرائیلی حملے سے دو افراد ہلاک: سرکاری میڈیا

    لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان کے گاؤں ال تری میں کار پر اسرائیلی حملے سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ’حزب اللہ کی جاری دہشت گردی کی کارروائیوں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے گذشتہ روز اسرائیلی فوج نے رہائیشیوں کو انتباہ جاری کیا تھا کہ وہ دریائے لیطانی سے دور رہیں۔

    16 اپریل کو لبنان اور اسرائیل میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جس نے 10 روز تک جاری رہنا ہے۔ جمعرات کے روز واشنگٹن سفارتی سطح کے مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔

    حزب اللہ اور اسرائیل دونوں نے ہی ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے ہیں۔ اس سے پہلے اسرائیلی فوج نے کہا کہ حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز پر حملہ کیا تھا۔

  14. بریکنگ, اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں امریکہ ایران مذاکرات ممکن ہیں، ٹرمپ کا نیو یارک پوسٹ کو پیغام

    نیو یارک پوسٹ کے مطابق اسلام آباد میں آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں کے دوران مذاکرات ہونے کے امکان کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا ہے کہ ’یہ ممکن ہے۔‘

    نیو یارک پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ذرائع نے کہا ہے کہ اگلے 26 سے 72 گھنٹوں تک یعنی جمعے کو پاکستان میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو سکتا ہے۔

    نیو یارک پوسٹ سے وابستہ صحافی کیٹلن ڈورنبوس نے کہا ہے کہ انھیں ٹرمپ اور پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ بات چیت جمعے کو بھی ممکن ہے۔

    اسلام آباد کا علاقہ ریڈ زون تاحال سیل ہے اور وہاں سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ علاقے میں موجود سرکاری دفاتر بدستور بند ہیں۔

    اطلاعات ہیں کہ براہ راست مذاکرات کی میزبانی کرنے والا سرینا ہوٹل تاحال عام عوام کے لیے بند ہے۔ نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق صرف مخصوص عملے کو ہی ہوٹل تک رسائی حاصل ہے۔

  15. امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کے ’دو ہزار سے زیادہ بجلی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا‘

    ایران کے نائب وزیرِ توانائی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران بجلی کے ہزاروں مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مصطفیٰ رجبی مشہدی کا کہنا تھا کہ ’بجلی کے بنیادی ڈھانچے سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد مقامات پر حملے کیے گئے۔‘ انھوں نے کہا کہ اس کے باوجود بجلی کی بندش عموماً ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں بحال کر دی جاتی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’بجلی کے نظام کو نشانہ بنانا عوام پر حملے کے مترادف ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ ایران کے بجلی کے شعبے میں تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار افراد کام کرتے ہیں جن میں سے تیس ہزار چوبیس گھنٹے خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق حملوں کے دوران اس شعبے کے 12 ملازمین ہلاک ہوئے۔

    اس جنگ کے دوران ایران کے بجلی کے نظام کو بارہا نشانہ بنایا گیا۔ 21 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر دوبارہ نہ کھولی تو امریکی افواج ایرانی بجلی گھروں کو ’نشانہ بنا کر تباہ‘ کریں گی جس کا آغاز ’سب سے بڑے پاور پلانٹ سے کیا جائے گا۔‘

    28 مارچ کو تہران میں بجلی کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کے باعث بڑے پیمانے پر بندش کی اطلاعات تھیں۔ 29 مارچ کو وزارتِ توانائی نے بتایا کہ تہران صوبے میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے نتیجے میں دارالحکومت کے بعض حصوں اور ہمسایہ صوبہ البرز میں بجلی متاثر ہوئی تھی۔

  16. کیا یہ جہاز آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے؟, جانیتھن جوزفس، بزنس رپورٹر/بی بی سی

    آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے جن تین جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، ان میں سے بظاہر دو کا تعلق دنیا کی سب سے بڑی شپنگ کمپنی ایم ایس سی سے ہے۔

    جمعے کو آبنائے ہرمز بظاہر کچھ دیگر جہازوں کے لیے کھلی تھی اور شاید ان جہازوں کی کوشش تھی کہ وہ جلد از جلد اسے عبور کر لیں۔

    ایم ایس سی فرانسسکا اور ایم ایس سی ایپامینونڈاس سمیت چار دیگر جہاز اس لڑائی کے آغاز سے خلیج میں پھنسے ہوئے تھے۔

    میری ٹائم ڈیٹا کی کمپنی لائنر لیٹیکا کے تجزیے کے مطابق ایم ایس سی کلارا، ایم ایس سی گریس، ایم ایس سی مارگریٹ ہشتم اور ایم ایس سی میڈلین بحیرہ عرب میں مشرق کی جانب محفوظ ہیں۔

    تاہم نسبتاً چھوٹے مال بردار بحری جہاز ایم ایس سی فرانسسکا اور ایم ایس سی ایپامینونڈاس اتنے خوش قسمت نہیں تھے اور انھیں بظاہر جانچ پڑتال کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

    تاحال ایم ایس سی نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کمپنی عام طور پر ایسے معاملات میں خاموشی اختیار کرتی ہے۔

    اس کمپنی کا ہیڈکوارٹر زمین سے گھرے ہوئے ملک سوئٹزرلینڈ میں ہے۔ اس کے باوجود یہ کمپنی دنیا بھر میں سمندری راستوں کے ذریعے اشیا کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد کنٹرول کرتی ہے۔

  17. ایران امریکہ مذاکرات اور آپ کے سوال

    اسلام آباد میں جنگ بندی کے بعد معاہدے کے لیے مذاکرات کے دوسرے دور میں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کی قیادت کی شرکت متوقع تھی لیکن بات چیت فی الحال آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔

    اس صورتحال سے متعلق لوگوں کے سوالات کے جواب جانیے ترہب اصغر اور فرقان الہی کی اس ویڈیو میں۔۔۔

  18. اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں ایران میں ایک اور شخص کو پھانسی دے دی گئی, بی بی سی مانیٹرنگ

    ایران کی ایک عدالت نے بدھ کو اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق مذکورہ شخص حساس سرکاری ادارے کی پیسِیو ڈیفنس کمیٹی میں کام کرتا تھا اور اس کے موساد کے ایک افسر سے وسیع روابط تھے۔

    منگل کو بھی ایران نے جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے متعلق ایک اور شخص کو پھانسی دی تھی۔ اس شخص پر بھی موساد سے روابط رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

    تنازع کے آغاز کے بعد سے ایران اب تک ایک درجن سے زائد افراد کو پھانسی دے چکا ہے۔ بعض افراد پر اسرائیل کے لیے جاسوسی، کچھ پر جلا وطن اپوزیشن گروپ مجاہدینِ خلق تنظیم سے وابستگی جبکہ دیگر پر جنوری کے ہنگاموں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

    ادھر منگل کو ایران کی عدلیہ نے ان خبروں کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ آٹھ خواتین کو جلد پھانسی دی جائے گی۔ یہ تردید اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

    عدلیہ کے زیر انتظام میزان نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کو ’جعلی خبروں‘ کے ذریعے گمراہ کیا گیا جو ’دشمن‘ میڈیا نے پھیلائیں۔ ایجنسی کے مطابق ان خواتین میں سے کئی کو پہلے ہی رہا کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر کو ایسے الزامات کا سامنا ہے جن کی سزا موت نہیں ہے۔

  19. راولپنڈی اور اسلام آباد میں خصوصی سکیورٹی انتظامات میں نرمی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد میں رواں ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا امکان تھا تاہم دونوں ملکوں کے وفد نے فی الحال پاکستان آنے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

    اطلاعات ہیں کہ راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس سے لے کر اسلام آباد ایکسپریس وے پر تعینات فوجی اہلکاروں کو وہاں سے ہٹا لیا گیا ہے۔

    ان اہلکاروں کو اسلام آباد میں مذاکرات کے امکان کے پیش نظر وی وی آئی پی موومنٹ کے حوالے سے تعینات کیا گیا تھا۔

    حکام کے مطابق فوجی اہلکاروں کو امریکہ اور ایران کے درمیان مزاکرات کے دوسرے دور کے لیے ان دونوں ملکوں کی شخصیات کی پاکستان آمد اور ان کی سکیورٹی کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

    گلزار قائد اور ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب جانے والے راستوں سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔

    ایکسپریس وے پر پولیس اہلکاروں کی نفری میں بھی بڑی حد تک کمی کر دی گئی ہے۔ تاہم وہاں اب بھی اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس کے اہلکار تعینات ہیں۔

  20. لبنان اور اسرائیل کے درمیان ’جنگ بندی میں توسیع کے لیے رابطے‘

    لبنان کے صدر جوزف عون کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی مدت میں توسیع کے لیے رابطے جاری ہیں۔

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن ڈی سی میں جمعرات کو مذاکرات کا دوسرا دور ہونے جا رہا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان اس وقت 10 روزہ عارضی جنگ بندی جاری ہے جو 16 اپریل کو نافذ ہوئی تھی۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں صدر جوزف عون نے کہا کہ جن مذاکرات کی تیاری کی جا رہی ہے وہ اسرائیلی جارحیت کے مکمل خاتمے، لبنانی علاقوں سے اسرائیلی انخلا، قیدیوں کی واپسی، بین الاقوامی سرحدوں پر لبنانی فوج کی تعیناتی اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو پر مبنی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’مذاکرات کے حوالے سے لبنان کا مؤقف واضح ہے۔ کوئی رعایت نہیں، کوئی سودے بازی نہیں اور کوئی ہتھیار ڈالنا نہیں۔ سوائے اس کے کہ لبنانی خودمختاری اور تمام لبنانیوں کے مفاد کو یقینی بنایا جائے۔‘

    صدر عون کے دفتر کی جانب سے جاری پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی حمایت نے لبنان کو ایک ایسا موقع فراہم کیا ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔