پہلگام حملے کا ایک سال اور ہنی مون پر ہلاک ہونے والے انڈین بحریہ کے افسر: ’گھر میں اس کی تصویر لگانے کا حوصلہ بھی نہیں‘

    • مصنف, زویا متین، کمال سینی اور نیتو سنگھ
    • عہدہ, بی بی سی پنجابی اور بی بی سی ہندی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

ایشانیا دیوی نے کمرے کی دیوار پر ایک شیشے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’میں نے ایک بار اس سے سوال کیا تھا کہ یہاں کوئی شیشہ کیوں نہیں ہے۔ اگلے ہی دن وہ شیشہ لے آیا تھا۔‘

ایشانیا کے شوہر شبھم دویدی ان 26 افراد میں سے ایک تھے جو ایک سال قبل 22 اپریل کو اس وقت ہلاک ہوئے جب مسلح شدت پسندوں نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں پہلگام کے قریب سیاحوں پر گولیاں برسائیں تھیں۔

کشمیر کا یہ خطہ، انڈیا اور پاکستان کے بیچ بٹا ہوا ہے اور دونوں ملکوں کے بیچ کئی جنگوں کی وجہ بن چکا ہے۔

دلی نے پہلگام حملے کے بعد پاکستان پر الزام لگایا کہ حملہ آور ایک ایسی تنظیم سے تعلق رکھتے تھے جو پاکستان میں موجود ہے تاہم اسلام آباد نے اس کی تردید کی۔

دو ہفتوں کے بعد انڈیا نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں موجود شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے بیچ چار روزہ تنازع کا آغاز ہوا جس کا اختتام اچانک جنگ بندی کے اعلان سے ہوا۔

انڈیا میں پہلگام حملے کی نوعیت کی وجہ سے بھی غصہ پھیلا جس میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت ہندو مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ ان میں کئی جوان سیاح تھے جن کی شادی حال ہی میں ہوئی تھی اور ان کی زندگیاں اچانک سے ختم ہو گئیں۔

انتباہ: چند قارئین کے لیے ذیل میں موجود تفصیلات پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

ایک سال کے عرصہ میں پہلگام سانحے کو سرکاری بیانات، سکیورٹی تجزیوں اور نئی پابندیوں کی مدد سے دیکھا گیا ہے۔

لیکن اس کے نتائج سب سے زیادہ بند کمروں اور ان گھروں میں محسوس کیے گئے جہاں وقت نے دکھ کی شدت کو کم نہیں کیا بلکہ صرف شکل تبدیل کی ہے۔

ایشانیا کے لیے ان کا وہ کمرہ، جس میں کبھی ان کے شوہر بھی ان کے ساتھ ہوا کرتے تھے، وقت کو ساکت رکھنے کا طریقہ بن گیا ہے۔ انھوں نے جن چیزوں کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے وہ پہلی نظر میں معمولی لگتی ہیں۔

ہر چیز اسی جگہ موجود ہے جہاں پہلے تھی۔ بیڈ، الماری، شبھم کا خریدا ہوا شیشہ، سب ویسے ہی اسی جگہ پر موجود ہیں۔

ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’بیڈ کا یہ والا حصہ شبھم کا ہے۔ میں یہاں نہ بیٹھتی ہوں، نہ لیٹتی ہوں۔ نیند میں بھی نہیں۔‘

انھیں ایک سال پہلے کا وہ دن آج بھی یاد ہے جو کسی عام سے دن کی طرح شروع ہوا تھا۔ دو ماہ قبل ہی ان کی شادی ہوئی تھی اور وہ خاندان کے دیگر نو افراد کے ساتھ چھٹیاں لے کر کشمیر گئے تھے۔

اس دن شبھم اور ایشانیا بیسران وادی کی جانب گئے جو پہلگام میں واقع ہے لیکن باقی لوگ قصبے میں ہی رک گئے تھے۔

بعد میں دیے جانے والے انٹرویوز میں ایشانیا نے بتایا کہ وہ لوگ پیدل چل رہے تھے جب ایک آدمی نے ان کے قریب آ کر ان کے شوہر سے مذہب پوچھا اور پھر گولی مار دی۔ انھوں نے کہا کہ حملہ آوروں سے انھوں نے کہا کہ ان کو بھی گولی مار دیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔

بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یادیں بنانے کا زیادہ وقت ہی نہیں ملا لیکن اس نے اتنی یادیں دے دیں کہ میں ان کے ساتھ زندہ رہ سکتی ہوں۔‘

ان کے فون پر شادی کے لمحات محفوظ ہیں جن میں وہ اپنے شوہر کو بار بار تلاش کرتی ہیں۔ کبھی وہ پرانی ویڈیوز میں ان کی آواز سنتی ہیں۔ ’میں یاد کرنے کی کوشش کرتی ہوں کہ اس کی آواز کیسی لگتی تھی، وہ کیسے ہنستا تھا۔‘

حملے کے بعد ایشانیا اکثر شبھم کے بارے میں بات کرتی تھیں۔ پہلے اس لیے کہ لوگ سوال کرتے تھے اور پھر اس لیے کہ انھیں اس سے مدد ملتی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میڈیا سے بات کرنا میرے لیے تھراپی جیسا ہے۔‘ لیکن عوامی جذبات کی وجہ سے بھی کچھ پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ جب انھوں نے پاکستان پر فضائی حملوں کے بعد کہا کہ وزیراعظم مودی کو پارلیمان میں ہلاک ہونے والوں کے نام لینے چاہیے تھے تو ان کے خلاف سوشل میڈیا پر بیان بازی ہوئی۔ لیکن انھیں سے فرق نہیں پڑا۔

’میں بولوں گی، باہر نکلوں گی، ہر چیز کروں گی جو میں کرنا چاہتی ہوں۔ یہ لوگ مجھے نہیں بتا سکتے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے کیوں کہ میں نے اپنا شوہر کھویا ہے۔‘

ایشانیا کو اس بارے میں بات چیت سے مدد ملی لیکن کئی دیگر ایسے ہیں جن کے لیے ایسا نہیں ہو سکا۔

راجیش نروال کے بیٹے ونے نروال پہلگام حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ چ26 سالہ انڈین بحریہ کے افسر اپنے ہنی مون کے لیے کشمیر گئے تھے۔

حملے کے بعد ان کی اہلیہ کی وہ تصویر سوشل میڈیا پر پھیل گئی تھی جس میں وہ اپنے شوہر کے بے جان جسم کے ساتھ ساکت بیٹھی ہوئی تھیں۔

گھر میں ونے کا سامان اب بھی بند پڑا ہے۔ خاندان والے ان کا نام نہیں لیتے اور نہ ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر بات کرتے ہیں۔

راجیش کہتے ہیں کہ ’ہم میں سے کسی کے پاس اتنی ہمت نہیں۔ ہم تو گھر میں اس کی تصویر لگانے کا حوصلہ بھی نہیں کر پائے۔‘

لیکن اس گھر میں ونے کی یادیں ہر طرف موجود ہیں۔ جب وہ چھوٹے تھے تو باپ بیٹا صحن میں کرکٹ کھیلتے تھے۔ راجیش روز کام سے واپس آتے تو ونے انتظار کر رہا ہوتا تھا۔ چھٹی والے دن تو پورا دن کھیل چلتا رہتا۔

راجیش کہتے ہیں کہ ’میں کام میں مگن ہوتا ہوں تو دھیان بٹ جاتا ہے لیکن گھر آتے ہی درد ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔‘

ونے اور شبھم کے خاندان نے مختلف طریقوں سے زندہ رہنا سیکھا ہے۔ ایک نے بات چیت سے یادوں کو زندہ رکھا ہوا ہے تو دوسرے نے خاموشی سے لیکن دونوں ہی اب ایک ایسی چیز کے گرد زندگی برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں جو اب موجود نہیں۔

کان پور میں ایشانیا ٹکڑے جوڑنا سیکھ رہی ہیں۔ روز شام کو وہ گھر والوں سے شبھم کے بارے میں ایک گھنٹے تک بات کرتی ہیں جس میں ایک ہی شخص کے بارے میں ہر بار وہی تفصیلات ایک نئے طریقے سے سامنے آتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’بیٹا یا شوہر کھونے کا دکھ کبھی نہیں جاتا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جینا چھوڑ دیں۔‘

وہ موسیقی سنتی ہیں، لکھتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’لکھتے ہوئے میں رو پڑتی ہوں، لیکن یہ ضروری ہے، چلانا بھی۔‘

وہ ایک تربیت یافتہ رقاصہ بھی ہیں لیکن اس فن کی جانب لوٹ نہیں پائی ہیں۔ ’میرے پیر حرکت ہی نہیں کر پاتے۔‘ انھیں امید ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ چیزیں تبدیل ہوں گی۔