28ویں آئینی ترمیم کی بازگشت، ووٹر کی عمر پر بحث اور حکومتی ابہام

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

حکومت کی جانب سے ایک بار پھر ایک آئینی ترمیم کے حوالے سے بحث چھیڑ دی گئی ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے خاص طور پر اس لیے کہ نئے مالی سال کے آغاز میں اب محض چند دن باقی رہ گئے ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ کے مطابق اب تک 27 آئینی ترامیم ہو چکی ہیں اور آئندہ کوئی بھی ترمیم آئے گی تو وہ 28ویں ہی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ جن معاملات پر گفتگو ہو رہی ہے وہ بنیادی نوعیت کے ہیں، جن میں این ایف سی ایوارڈ، آبادی، پانی کی ترسیل اور دیگر اہم قومی ایشوز شامل ہیں۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ مختلف حلقوں میں ان مسائل پر مختلف زاویوں سے بات ہوتی رہتی ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہر معاملے پر آئینی ترمیم ہی واحد راستہ ہو، تاہم اگر کسی نکته پر وسیع اتفاقِ رائے پیدا ہو جائے تو ترمیم کی صورت اختیار کی جا سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کسی جلد بازی میں نہیں بلکہ مشاورت کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔

وفاقی وزیر قانون کی طرف سے یہ وضاحت بھی سامنے آئی ہے کہ ’جب بھی کسی آئینی ترمیم کا باضابطہ آغاز ہوگا، اس سے پہلے پارلیمان میں موجود تمام حلیف جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا اور ان کی مشاورت سے ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔‘

تاہم اب تک واضح تفصیلات سامنے نہیں لائی گئی ہیں اور یہی ابہام اس حوالے سے بحث کو مزید تقویت دے رہا ہے۔

28ویں ترمیم سے متعلق رانا ثنااللہ نے کن معاملات کو بنیادی نوعیت کے امور قرار دیا ہے؟

وفاقی وزیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ متوقع 28ویں آئینی ترمیم صرف بنیادی نوعیت کے معاملات تک محدود ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی عہدوں اور نظامِ حکومت سے متعلق بعض حلقے صدارتی نظام کے حق میں مؤقف رکھتے ہیں، تاہم مجموعی طور پر ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام کو ہی پاکستان کے لیے زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ نئی ترمیم سے متعلق بحث کی گنجائش ضرور موجود ہے، لیکن مختلف سیاسی و آئینی حلقوں میں اس ترمیم کے دائرہ کار اور موضوعات پر متنوع آرا پائی جاتی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ، آبادی کے تناسب، پانی کی تقسیم اور دیگر اہم قومی امور ایسے موضوعات ہیں جو وقتاً فوقتاً زیرِ بحث آتے رہتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق ان معاملات میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس پر اتفاقِ رائے ہونے کے بعد آئینی ترمیم کے بغیر عملدرآمد ناممکن ہو۔

رانا ثنا اللہ نے ووٹر کی عمر سے متعلق بھی ایک تجویز کا ذکر کیا اور کہا کہ جب الیکشن لڑنے کے لیے کم از کم عمر 25 سال مقرر ہے تو ووٹ ڈالنا بھی ایک اہم قومی ذمہ داری ہے، اس لیے اس پہلو پر آرا سامنے آ رہی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’بلاول بھٹو زرداری کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے ان کی جماعت کی حمایت ناگزیر ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کسی معاملے پر وسیع تر اتفاقِ رائے قائم ہوگا تو وہی 28ویں ترمیم کی صورت میں سامنے آئے گا، تاہم بعض معاملات پر فیصلہ سازی میں تاخیر مناسب نہیں ہوگی۔

اتوار کو رانا ثنااللہ نے جیو ٹی وی کے ایک پروگرام میں بتایا کہ ان اہم امور پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔ صدرمملکت سے متعلق اس پر مشاورت سے متعلق ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ وہ اس کا براہ راست جواب نہیں دیں گے۔

واضح رہے کہ 12 مئی کو صدر مملکت آصف زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات ہوئی۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ صدر نے مہنگائی کے دباؤ میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی۔ اس ملاقات میں نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار، سپیکر ایازصادق، وزیرِداخلہ محسن نقوی، وزیرِ قانون اعظم نذیرتارڑ، سینیٹرسلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹرعاصم بھی موجود تھے۔

بلاول بھٹو نے نئی ترمیم سے متعلق کیا بیان دیا؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم سے متعلق ان سے رسمی یا غیر رسمی طور پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی اجازت کے بغیر یہ ترمیم منظور نہیں ہو سکتی۔ بلاول بھٹو کے مطابق ’ترمیم کسی ایک جماعت کے بس کی بات نہیں ہے۔‘

سیاسی مبصرین کے مطابق 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق جاری بحث اس بات کی عکاس ہے کہ ملک کے اہم آئینی اور انتظامی امور پر مختلف تجاویز زیر غور ہیں، تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پر ہوگا۔

وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ اور بلاول بھٹو زرداری کے متعدد پالیسی بیانات کی مزید وضاحت کے لیے بی بی سی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ سے بھی رابطہ کیا۔

قمر زمان کائرہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جن امور کی طرف رانا ثنا اللہ نے توجہ دلائی ہے ان پر بغیر کسی باقاعدہ مشاورت یا ایجنڈے کے بات چیت ہوتی رہتی ہے اور ’جب وہ کوئی بات کرتے ہیں تو اس کا جواب بھی دیا جاتا ہے۔‘ ان کے مطابق یہ مشاورتی عمل کسی واضح شکل میں نہیں ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق ابھی جو بحث چل رہی ہے وہ ’معمول کی اور انفرادی سطح کی ہے مگر جب حکومت اگر کچھ سامنے لے کر آئے گی تو پھر ان تجاویز کو سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔‘ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ این ایف سی سے متعلق بھی ہونے والی باتیں میڈیا پر ہی سن رہے ہیں جو کہ انفرادی نوعیت کی بحث ہے۔

اس وقت ترمیم سے متعلق بحث کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والی تجزیہ کار مسرت قدیم کہتی ہیں کہ حکومت کی طرف سے ووٹر کی عمر بڑھانے والی تجویز کا مقصد بہت واضح نظر آتا ہے کہ نوجوانوں کے ووٹ بینک کو کم کیا جائے اور اس کا ہدف بظاہر ایک جماعت ہے۔

ان کی رائے میں دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں ووٹر کی عمر 18 برس تک ہی ہوتی ہے۔ ’اگر حکومت ایسی کوئی ترمیم لے کر آتی ہے تو یہ ایک غیرجمہوری رویہ ہوگا۔‘

سندھ کے امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار نصیر میمن نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا ہے کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی نہ کوئی اہم پیشرفت چاہتی ہے تاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اعداد و شمار کو بہتر بنایا جا سکے۔

ان کے مطابق انڈیا کی جانب سے دریائے چناب پر کی جانے والی سرگرمیاں یقیناً ایک خطرہ ہیں، تاہم پاکستان کے لیے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پانی کے معاملے پر ایسا تنازع پیدا نہ ہو جو ملک کے اندرونی استحکام کو متاثر کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انڈیا پاکستان کے اندرونی اختلافات کو ہوا دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

نصیر میمن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو انڈیا کے کسی ممکنہ منصوبے کا فوری ردعمل دینے کے بجائے سوچ سمجھ کر، دانشمندانہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق انڈیا کے لیے مکمل طور پر دریائے چناب کا پانی روکنا ممکن نہیں، کیونکہ وہاں قائم چھوٹے پن بجلی منصوبوں کے لیے پانی کا بہاؤ جاری رکھنا اس کی مجبوری بھی ہے۔

انھوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ’اس لیے کسی ایک سیاسی جماعت کو نشانہ بنانے یا سبق سکھانے کے لیے پالیسی اقدامات کرنے کے بجائے وسیع تر قومی مفاد کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔‘

نصیر میمن نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی اخراجات پر قابو پانا چاہتی ہے تو وہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے حوالے کیے گئے 17 شعبوں کو مکمل طور پر صوبائی سطح پر کیوں نہیں منتقل کر دیتی، جبکہ صوبے ان شعبوں کا نظم و نسق سنبھالنے کے لیے تیار بھی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو محصولات میں اضافے کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہوگی اور ایسی اصلاحات لانا ہوں گی جو مالی اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوں۔ انھوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے نتیجے میں حکومت کو تقریباً 1600 سے 1800 ارب روپے تک ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔