آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکی صدر کے بعد روسی صدر کا دورہ چین: ’جامع شراکت داری اور سٹریٹجک تعاون‘ پر بات ہوگی، کریملن

روسی صدر ولادیمیر پوتن منگل کو چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کے لیے چین کا دورہ کریں گے۔ کریملن کے مطابق صدر پوتین 19 مئی کو دو روزہ دورے پر چین روانہ ہوں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حال ہی میں بیجنگ کا دورہ مکمل کر کے واپس جا چکے ہیں۔

خلاصہ

  • ایران سے جنگ بندی پاکستان کے کہنے پر ایک ’فیور‘ کے طور پر کی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایئرفورس ون پر امریکی صحافیوں سے گفتگو
  • انڈین وزیراعظم کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات، مودی کی امارات پر حملوں کی مذمت
  • ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات، نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ کا اجلاس مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم
  • صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین بھی نہیں چاہتا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے جبکہ صدر شی نے انھیں بتایا ہے کہ چین ایران کو عسکری ساز و سامان نہیں دے گا
  • صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ چین امریکہ سے نہ صرف تیل خریدے گا بلکہ انھوں نے 200 بوئنگ طیارے خریدنے کا بھی وعدہ کیا ہے

لائیو کوریج

  1. ضلع کیچ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے خاتون پولیس کانسٹیبل ہلاک

    بلوچستان کے ضلع کیچ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک خاتون پولیس کانسٹیبل ہلاک جبکہ ان کے شوہر اور بچہ زخمی ہوگئے۔

    پولیس حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ آبسر ریسرچ فارم کے قریب کی گئی۔

    تربت میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سُنیل جان، ان کی اہلیہ لیڈی کانسٹیبل شکیلہ شاہ آباد سے موٹر سائیکل پر تربت شہر کی جانب جارہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے آبسر کے قریب ان پر فائرنگ کر دی۔

    ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے لیڈی کانسٹیبل شکیلہ ہلاک اور ان کا شوہر اور ایک آٹھ سالہ بچہ زخمی ہوگئے۔

    پولیس اہلکار کے مطابق تاحال اس واقعے کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے جن کے بارے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

    کوئٹہ میں پولیس حکام کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق لیڈی کانسٹیبل شکیلہ سنیچر کے روز صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب اپنے شوہر اور دو کمسن بچوں کے ہمراہ جارہی تھیں کہ نامعلوم مسلح افراد نے راستے میں ان پر فائرنگ کی۔

    پولیس حکام کے مطابق لیڈی کانسٹیبل کورٹ ڈیوٹی کے لیے جا رہی تھی۔

    فائرنگ سے لیڈی کانسٹیبل ہلاک، ان کے شوہر اور آٹھ سالہ بچہ زخمی ہوگئے جبکہ سات ماہ کا بچہ جو کہ خاتون کانسٹیبل کی گود میں تھا محفوظ رہا۔

    کوئٹہ میں اس واقعے کے حوالے سے فراہم کردہ معلومات میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ خاتون کانسٹیبل کے شوہر اس حملے کا بنیادی ہدف تھے جس میں وہ زخمی ہوئے۔

    بلوچستان میں گزشتہ تین سے چار ہفتوں کے دوران ہونے والے حملے میں کسی خاتون کانسٹیبل کی ہلاکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

    اس سے قبل اپریل کے تیسرے ہفتے میں ضلع خضدار کے علاقے باجوئی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں خضدار پولیس کی ایک لیڈی کانسٹیبل ملک ناز ہلاک ہوگئیں تھیں۔

  2. امریکی صدر کے بعد روسی صدر کا دورہ چین: ’جامع شراکت داری اور سٹریٹجک تعاون‘ پر بات ہوگی، کریملن

    روسی صدر ولادیمیر پوتن منگل کو چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کے لیے چین کا دورہ کریں گے۔

    کریملن نے سنیچر کے روز اعلان کیا ہے کہ صدر پوتین 19 مئی کو دو روزہ دورے پر چین روانہ ہوں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حال ہی میں بیجنگ کا دورہ مکمل کر کے واپس جا چکے ہیں۔

    کریملن کے بیان کے مطابق پوتن اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان ’جامع شراکت داری اور سٹریٹجک تعاون‘ پر گفتگو کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنما اہم بین الاقوامی اور علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے اور مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے۔

    دورے کے دوران صدر پوتن چین کے وزیر اعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں وہ اقتصادی اور تجارتی تعاون پر بات چیت کریں گے۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین روسی توانائی کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے اور مغربی پابندیوں کے بعد ماسکو کا اہم اقتصادی شراکت دار بن کر سامنے آیا ہے۔

  3. امریکہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر عالمی حمایت کا جھوٹا تاثر دے رہا ہے: ایران کا الزام

    اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایک مسودہ قرارداد کے لیے ’وسیع بین الاقوامی حمایت‘ کی جعلی تصویر بنا رہا ہے اور اس قرارداد کے شریک ممالک کو کسی بھی نئی کشیدگی کے خلاف خبردار کیا ہے۔

    مشن نے سنیچر کی صبح ایکس پر جاری اس بیان میں کہا کہ ’اب یہ بالکل واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ اپنی سیاسی طور پر متعصبانہ اور یکطرفہ مسودہ قرارداد کے مبینہ شریک ممالک کی تعداد کو استعمال کرتے ہوئے اپنی جاری غیر قانونی کارروائیوں کے لیے ’وسیع بین الاقوامی حمایت‘ کی جھوٹی تصویر بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور خطے میں مزید فوجی مہم جوئی کی راہ ہموار کر رہا ہے۔‘

    یہ بیان امریکہ اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان مشترکہ طور پر تیار کردہ آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق مسودہ قرارداد کے جواب میں دیا گیا۔

    مشن نے ممکنہ نئی کشیدگی کے خلاف بھی خبردار کیا اور اس کے ’شریک‘ ممالک کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اگر امریکہ کسی نئی کشیدگی کو جنم دیتا ہے تو تمام شریک ممالک واشنگٹن کے ساتھ مل کر بین الاقوامی سطح پر اس کے نتائج کے ذمہ دار ہوں گے۔ کوئی بھی سیاسی بہانہ یا سفارتی پردہ انھیں امریکی جارحیت کو سہولت دینے، ممکن بنانے اور اسے قانونی جواز دینے کی ذمہ داری سے بری نہیں کر سکتا۔‘

    واضح رہے کہ پانچ مئی کو امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ نے بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے دفاع کے لیے ایک قرارداد تیار کی ہے۔

    بیان میں ایران پر الزام لگایا گیا کہ وہ ’آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوششوں، آبنائے میں بحری جہازوں پر حملے کی دھمکیوں، جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے والی سمندری بارودی سرنگیں بچھانے اور دنیا کے سب سے اہم آبی راستے پر ٹول وصول کرنے کی کوششوں کے ذریعے عالمی معیشت کو یرغمال بنا رہا ہے۔‘

    ایران نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز اور وسیع خطے میں کسی بھی قسم کی عدم تحفظ کی براہ راست ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے کیونکہ انھوں نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جارحیت کی جنگ شروع کی تھی۔‘

    آبنائے ہرمز کے ساحلی ملک کے طور پر ایران نے جنگ کے ابتدائی دنوں سے اس آبی راستے پر کنٹرول کو اپنی دفاعی اقدامات کا حصہ قرار دیتے ہوئے برقرار رکھا ہے۔ ملک نے اسی دوران عمان کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے، جو آبنائے ہرمز کا ایک اور ساحلی ملک ہے تاکہ اس آبی راستے میں آزاد اور محفوظ آمد و رفت کے لیے قواعد و ضوابط مرتب کیے جا سکیں۔

  4. لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے، چھ افراد ہلاک متعدد زخمی

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق مُلک کے جنوبی قصبے پر اسرائیلی فضائی حملے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے جن میں تین پیرا میڈکس بھی شامل ہیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے 45 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔

    وزارت صحت کے مطابق قصبہ حاروف میں سول ڈیفنس کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک چوتھا پیرا میڈک شدید زخمی ہوا۔ اس حوالے سے بی بی سی نے اسرائیلی فوج سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

    جمعے کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن ڈی سی میں دو روزہ مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان نے اپنی غیر مستحکم جنگ بندی کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 16 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے بعد سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کے تبادلے جاری رہے ہیں۔

    بدھ کے روز لبنان کی وزارت صحت نے بتایا تھا کہ جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 22 افراد ہلاک ہوئے جن میں آٹھ بچے بھی شامل تھے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن، ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے مکمل احترام، اور مشترکہ سرحد پر حقیقی سکیورٹی کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ محکمہ خارجہ جون میں مذاکرات کے سیاسی مرحلے کو دوبارہ شروع کرے گا۔

    پیگوٹ کے مطابق ’اس کے علاوہ 29 مئی کو پینٹاگون میں ایک سکیورٹی اجلاس شروع کیا جائے گا جس میں دونوں ممالک کے فوجی وفود شرکت کریں گے۔‘

  5. ٹرمپ کا امریکہ اور نائجیریا کی مشترکہ کارروائی میں داعش کے رہنما کی ہلاکت کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور نائجیریا کی افواج نے ایک مشترکہ کارروائی میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ داعش کے دوسرے اہم رہنما کو ہلاک کر دیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں کہا کہ ابو بلال المینوکی اب افریقہ کے عوام کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور نہ ہی امریکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کسی کارروائی کی منصوبہ بندی کر سکیں گے۔

    انھوں نے المینوکی کو ’دنیا کا سب سے خطرناک اور سرگرم دہشت گرد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ہلاکت سے اس تنظیم کی عالمی سرگرمیاں بری طرح کمزور ہو گئی ہیں۔

    المینوکی کو سنہ 2023 میں داعش سے تعلق کے باعث امریکہ کی جانب سے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

  6. ایران امارات اختلافات کے باعث برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم، مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہوسکا

    برکس گروپ کے رکن ممالک، جن میں ایران اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں، کے وزرائے خارجہ جمعے کے روز دو روزہ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام رہے، جس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بتائی جا رہی ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس کے اختتام پر میزبان ملک انڈیا نے مشترکہ بیان کے بجائے ایک صدارتی اعلامیہ جاری کیا، جس میں اختلافات کی نشاندہی کی گئی۔

    ایران نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اس اتحاد یعنی برکس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی مذمت کرے، جبکہ امریکہ کی اتحادی متحدہ عرب امارات پر ایران نے اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

    انڈیا کی جانب سے جاری بیان اور اجلاس کی دستاویز میں کہا گیا کہ ’مغربی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بعض رکن ممالک کے درمیان مؤقف میں اختلاف پایا گیا۔‘

    بیان کے مطابق ان آرا میں جلد از جلد بحران کے حل، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت اور خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام جیسے نکات شامل تھے۔

    اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ مذاکرات کے دوران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، عالمی آبی راستوں میں سمندری آمدورفت کی آزادی اور شہری انفراسٹرکچر و انسانی جانوں کے تحفظ پر زور دیا گیا۔

    تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پریس کانفرنس کے دوران، کسی ملک کا نام لیے بغیر، کہا کہ برکس کے ایک رکن نے بیان کے بعض حصوں کو ’روکا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارا اس ملک سے کوئی اختلاف نہیں، وہ موجودہ جنگ میں ہمارا ہدف نہیں تھا۔ ہم نے صرف ان امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جو بدقسمتی سے اس کی سرزمین پر موجود ہیں۔‘

    متحدہ عرب امارات نے بعد ازاں وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا کہ وہ ’اپنی خودمختاری، قومی سلامتی یا آزادانہ فیصلوں کو متاثر کرنے والے کسی بھی الزام یا دھمکی کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ امارات ’کسی بھی دھمکی، دعوے یا جارحانہ اقدام کے خلاف اپنے تمام خودمختار، قانونی، سفارتی اور فوجی حقوق محفوظ رکھتا ہے۔‘

    امارات کے نائب وزیر خارجہ اور برکس اجلاس میں نمائندہ خلیفہ بن شاہین المرر نے کہا کہ 28 فروری 2026 سے ’متحدہ عرب امارات کو ایران کی جانب سے بار بار غیر ضروری اور دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں براہِ راست شہری تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    انھوں نے ایران پر بین الاقوامی سمندری راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی الزام لگایا، جن میں آبنائے ہرمز کی عملی بندش بھی شامل ہے۔

    خلیفہ بن شاہین المرر نے زور دے کر کہا کہ ’متحدہ عرب امارات کسی سے تحفظ کا انتظار نہیں کرتا اور نہ ہی اس معاملے میں کسی کی معاونت کا منتظر ہے بلکہ ہو خود ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے جسے انھوں نے ’کھلی جارحیت‘ قرار دیا۔‘

  7. شی جن پنگ سے اہم ملاقات کے بعد ٹرمپ کا تائیوان کو پیغام، آزادی کے اعلان سے گریز کی تاکید

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تائیوان کو چین سے باضابطہ آزادی کا اعلان کرنے سے خبردار کیا ہے۔

    جمعے کے روز فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے، بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ دو روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر، صدر ٹرمپ نے کہا ’میں نہیں چاہتا کہ کوئی فریق آزادی کے معاملہ پر بات کرے۔‘

    تائیوان کے صدر لائی چنگ تے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تائیوان کو باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ خود کو پہلے ہی ایک خودمختار ریاست سمجھتا ہے۔

    امریکہ طویل عرصے سے تائیوان کی حمایت کرتا آیا ہے اور قانون کے تحت اس کی دفاعی مدد کا پابند بھی ہے، تاہم اسے چین کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات بھی برقرار رکھنا ہوتے ہیں۔

    ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ انھوں نے اس معاملے پر ’کسی ایک مؤقف کی حمایت کا وعدہ نہیں کیا۔‘ چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کو مسترد نہیں کرتا۔

    امریکہ کا روایتی مؤقف یہی رہا ہے کہ وہ تائیوان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتا، جبکہ بیجنگ کے ساتھ تعلقات اسی بنیاد پر قائم ہیں کہ دنیا میں صرف ایک چین کی حکومت کو تسلیم کیا جائے۔

    چین تائیوان کے صدر پر سخت تنقید کرتا رہا ہے اور اسے ’شرپسند‘ اور ’خطے کے امن کو نقصان پہنچانے والا‘ قرار دے چکا ہے۔

    تائیوان کے بہت سے لوگ خود کو ایک الگ قوم سمجھتے ہیں، تاہم اکثریت موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کے حق میں ہے، جس میں نہ تو چین سے باقاعدہ آزادی کا اعلان کیا جائے اور نہ ہی اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔

    فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں جنگ لڑنے کے لیے ہزاروں میل سفر کرنا پڑے گا، میں ایسا نہیں چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ معاملات ٹھنڈے رہیں اور چین بھی تحمل کا مظاہرہ کرے۔‘

    واشنگٹن واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی شی جن پنگ سے تائیوان پر تفصیلی بات چیت ہوئی، تاہم انھوں نے اس پر بات کرنے سے گریز کیا کہ آیا امریکہ تائیوان کے دفاع کے لیے مداخلت کرے گا یا نہیں۔

    ان کے مطابق شی جن پنگ اس معاملے پر ’بہت مضبوط مؤقف رکھتے ہیں‘ اور تائیوان کی آزادی کی کسی بھی تحریک کو نہیں دیکھنا چاہتے۔

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے مذاکرات کے دوران خبردار کیا کہ ’تائیوان کا مسئلہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے اہم ہے‘ اور اگر اسے غلط طریقے سے نمٹایا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان تصادم ہو سکتا ہے۔

    جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ تائیوان کے معاملے پر چین کے ساتھ جنگ کا امکان دیکھتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’نہیں، مجھے ایسا نہیں لگتا، سب ٹھیک رہے گا۔ شی جن پنگ جنگ نہیں چاہتے۔‘

  8. غزہ پر تازہ حملے میں اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کے اہم کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے غزہ سٹی پر فضائی حملے میں حماس کے کمانڈر عزالدین الحدّاد کو ہلاک کر دیا ہے، جنھیں اُس نے ’سات اکتوبر کے حملے کے منصوبہ سازوں میں سے ایک‘ قرار دیا تھا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے مشترکہ بیان میں کہا کہ الحدّاد ’ہزاروں اسرائیلی شہریوں اور اسرائیلی دفاعی افواج کے اہلکاروں کے قتل، اغوا اور زخمی ہونے کے ذمہ دار‘ تھے۔

    عینی شاہدین کے مطابق غزہ سٹی کے وسط میں واقع ایک رہائشی عمارت، جسے ’المعتز‘ کہا جاتا ہے، کو دو مختلف سمتوں سے بیک وقت داغے گئے تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد ایک گاڑی پر بھی حملہ کیا گیا۔

    یہ حملہ اُس وقت کیا گیا جب حماس کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے جاری ہیں۔

    حماس نے تاحال اس بات کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ تردید کہ اس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے کمانڈر الحدّاد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یہ فضائی حملہ غزہ سٹی کے مرکز میں واقع اپارٹمنٹ بلاک پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، تاہم زخمیوں کو نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ عمارت سے ایک لاش اور کئی زخمی افراد کو نکالا گیا۔

    عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق ایک دوسری فضائی کارروائی میں اس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جو جائے وقوعہ سے روانہ ہو رہی تھی، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ پہلی کارروائی میں شدید زخمی ہونے کے بعد الحدّاد کو اسی گاڑی کے ذریعے منتقل کیا جا رہا تھا۔

    عینی شاہدین کے مطابق سادہ لباس میں ملبوس حماس کے مسلح افراد ایک شدید زخمی شخص کو عمارت کے عقبی راستے سے نکال کر گاڑی میں منتقل کرتے نظر آئے۔ بعد ازاں اس گاڑی کو تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا۔

    ایک سینئر اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے کہا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق الحدّاد کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

  9. اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو 20 سال کے لیے معطل کرے تو قابلِ قبول ہوگا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو 20 سال کے لیے روکنے کی تجویز قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، جس سے لگتا ہے کہ وہ پہلے کے اپنے سخت مؤقف سے کچھ پیچھے ہٹ گئے ہیں، کیونکہ اس سے قبل وہ ایران سے جوہری سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ چاہتے تھے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ مدت ’حقیقی طور پر 20 سال‘ ہونی چاہیے۔ ماضی میں وہ ایران سے مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ وہ یورینیم کی افزودگی، جوہری ہتھیار بنانے کے ایک اہم مرحلے کو مستقل طور پر بند کرے اور اسے مستقبل میں کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

    تاہم اُنھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر اُن کا صبر ختم ہو رہا ہے۔

    28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی افواج نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔ گزشتہ ماہ قائم ہونے والی جنگ بندی، جس کا مقصد مذاکرات کے لیے ماحول سازگار کرنا تھا، مجموعی طور پر برقرار رہی ہے اگرچہ کہیں کہیں فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ پاکستان اس تمام صورتحال میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    اس کے باوجود دونوں فریق تاحال ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر دکھائی دیتے ہیں اور ایک دوسرے کی حالیہ تجاویز کو مسترد کر چکے ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کی جانب سے پیش کی گئی تجویز میں جنگ کا تمام محاذوں پر فوری خاتمہ، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایران پر مزید حملے نہ کرنے کی ضمانت شامل تھی۔ اس میں اسرائیل کی جانب سے لبنان میں ایران کے اتحادی حزب الله پر حملوں کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔

    چین کے دارالحکومت بیجنگ میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں جانب اس بات پر اتفاق ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور اسے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہوگا، جس کی بندش سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    جب ایک صحافی نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کی 20 سالہ معطلی ناکافی ہے، تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’20 سال کافی ہیں، لیکن اُن کی جانب سے اس کی ضمانت حقیقی ہونی چاہیے۔‘ تاہم اُنھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

    امریکی میڈیا کے مطابق اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی جانب سے پانچ سال تک یورینیم افزودگی روکنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کم از کم 20 سال کی مدت پر زور دیا تھا۔ تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پہلی بار خود 20 سال کی مدت کا ذکر کیا ہے۔

    اپنے پہلے دورِ صدارت میں ٹرمپ نے سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کو نکال لیا تھا۔ اُن کا ایک اعتراض یہ تھا کہ اس معاہدے میں شامل بعض شقیں وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو جاتی تھیں۔

    ادھر اسرائیل نے تاحال ٹرمپ کے حالیہ بیان پر کسی قسم کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہے، تبھی ایران کے خلاف جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

    نیتن یاہو اس سے قبل بھی سنہ 2015 کے جوہری معاہدے کی سخت مخالفت کر چکے ہیں، کیونکہ اُن کے مطابق اس میں شامل ’سن سیٹ کلازز‘ مستقبل میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا موقع دے سکتی تھیں، جو اسرائیل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

  10. مستونگ میں ایک پُل کو ’دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی گئی‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے دھماکہ خیز مواد سے ایک پُل کو نقصان پہنچانے کے علاوہ چار گاڑیوں کو نذر آتش کیا ہے۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے جمعے کے روز آباد کے علاقے میں کوئٹہ تفتان شاہراہ پر ایک پُل کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کر کے اسے اُڑانے کی کوشش کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے پُل کو جزوی نقصان پہنچا۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے سے نقصان کے باوجود پُل سے چھوٹی گاڑیاں گزر رہی ہیں تاہم ہیوی ٹریفک کو متبادل راستے سے گزارا جا رہا ہے۔

    اس علاقے میں مسلح افراد نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر ناکہ بندی کی جس دوران تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والے ایرانی پتھر سے لوڈ چار گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔

    جبکہ گذشتہ روز آباد کے قریب درینگڑھ میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس تھانے کو بھی نذر آتش کیا تھا۔

  11. پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ، پانچ روپے کی کمی

    پاکستان کی وزارت توانائی نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ، پانچ روپے کی کمی کا اعلان کیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 409.78 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 409.58 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں قریب 15، 15 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔

    مارچ سے اب تک پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتیں میں پانچ مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ اس دوران تین مرتبہ کمی بھی کی گئی ہے۔ مارچ میں پیٹرول کی قیمت میں ہونے والے پہلے اضافے سے قبل اس کی قیمت 255 روپے فی لیٹر تھی۔

    روئٹرز کے مطابق گذشتہ روز عالمی منڈیوں کی تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا تھا اور برینٹ کروڈ کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔

  12. بریکنگ, اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق ہو گیا: امریکی محکمۂ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں دو روزہ مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 45 دن کی توسیع پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ بات چیت دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کو آگے بڑھائے گی، ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو مکمل طور پر تسلیم کیا جائے گا اور مشترکہ سرحد پر حقیقی سکیورٹی قائم کی جائے گی۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا ہے۔

    بدھ کے روز لبنان کی وزارت صحت نے کہا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں ملک کے جنوبی علاقوں میں 22 افراد ہلاک ہوئے، جن میں آٹھ بچے شامل ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ جون میں مذاکرات کے سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کرے گا۔

    ’29 مئی کو پینٹاگون میں ایک سکیورٹی ٹریک شروع کیا جائے گا جس میں دونوں ممالک کے فوجی وفود شرکت کریں گے۔‘

  13. پاکستان اور ایران کے 31 شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی، سنگاپور کے تعاون سے پاکستانی شہری جلد واپس گھر پہنچ جائیں گے: اسحاق ڈار

    پاکستانی حکام کے مطابق 11 پاکستانی شہریوں اور ایران کے 20 شہریوں کو، جو امریکی حکام کی جانب سے بین الاقوامی سمندری حدود میں ضبط کیے گئے جہازوں پر سوار تھے، کامیابی کے ساتھ وطن واپس لایا جا رہا ہے۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ و نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ان تمام افراد کو سنگاپور کے راستے محفوظ طریقے سے منتقل کیا گیا، جہاں سے وہ بنکاک پہنچ چکے ہیں اور اسلام آباد کے لیے پرواز پر سوار ہو گئے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ افراد آج رات اسلام آباد پہنچ جائیں گے، جبکہ ایرانی شہریوں کو بعد ازاں ان کے ملک واپس بھیجنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔

    بیان کے مطابق تمام افراد کی صحت تسلی بخش ہے اور وہ حوصلہ مند ہیں۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، خصوصاً مشکلات میں گھرے شہریوں کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    پاکستانی وزیرِ خارجہ نے اس عمل میں تعاون پر سنگاپور کے وزیرِ خارجہ ویوین بالاکرشنن، وزیرِ اعظم اور سنگاپور کی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے ایرانی شہریوں کی واپسی کے لیے پاکستان پر اعتماد کیا۔

    اسحاق ڈار نے امریکہ اور تھائی لینڈ کی بھی تعریف کی جنھوں نے 31 افراد کی واپسی کے عمل میں قریبی تعاون فراہم کیا اور بنکاک کے ذریعے ٹرانزٹ کی سہولت دی۔

    اسحاق ڈار نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ اور سنگاپور و تھائی لینڈ میں پاکستان کے سفارتی مشنز کی مشترکہ کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جن کی بروقت کوششوں سے یہ کارروائی محفوظ اور کامیاب طریقے سے مکمل ہوئی۔

  14. کنٹرول لائن کے قریب انڈین فوج کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت: ’عامر شفیع کی ایک ماہ قبل دھوم دھام سے شادی ہوئی تھی‘, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے صحافی نصیر چوہدری اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے ریاض مسرور

    پاکستان اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، جہاں انڈین فوج انھیں درانداز اور عسکریت پسند قرار دے رہی ہے جبکہ اہلِ خانہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات اور میت کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل ہجیرہ کے علاقے بٹل چوکی سے تعلق رکھنے والے چوہدری عامر شفیع کے والد محمد شفیع نے 12 مئی 2026 کو اپنے بیٹے کی گمشدگی کی رپورٹ مقامی تھانہ سہڑا میں درج کروائی تھی۔ درخواست کے مطابق عامر شفیع اسی روز تقریباً 11 بجے گھر سے نکلے تھے اور واپس نہیں لوٹے۔

    پولیس حکام کے مطابق گمشدگی کی ابتدائی تحقیقات جاری تھیں کہ اسی دوران انڈین میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ عامر شفیع کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    تھانہ سہڑا کے محرر لیاقت شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گمشدگی کی رپورٹ درج ہونے کے بعد پولیس معاملے کی جانچ کر رہی تھی کہ میڈیا کے ذریعے اس واقعے کی اطلاع ملی، جس کے بعد کیس کی نوعیت مزید حساس ہو گئی ہے۔‘

    عامر شفیع کے بڑے بھائی محمد سکندر کے مطابق وہ چھ بھائی ہیں، جن میں سے چار بیرونِ ملک روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں جبکہ وہ خود کوٹلی میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عامر اپنے والدین کے ساتھ گاؤں میں رہتے تھے۔

    سکندر نے بتایا کہ ’ہم نے باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا تھا کہ ہم باقی بھائی کمائی کر کے عامر کے گھر کے اخراجات میں مدد کریں گے تاکہ وہ ہمارے والدین کے ساتھ رہ سکیں۔

    ان کے مطابق عامر شفیع کی شادی کو بمشکل ایک ماہ ہوا تھا اور ان کی ولیمے کی تقریب 10 اپریل کو ہوئی تھی۔

    سکندر نے کہا کہ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ 12 مئی کو عامر کو ایک نامعلوم نمبر سے فون کال موصول ہوئی جس کے بعد وہ گھر سے نکلے۔ ’اسی روز ہمارے والد مویشیوں کے ساتھ باہر تھے جبکہ عامر ہی روزانہ مویشی چرانے جاتے تھے۔

    وہ بتاتے ہیں کہ جب انھیں عامر کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی تو وہ فوری طور پر کوٹلی سے گاؤں پہنچے، تاہم اگلے روز میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ عامر کو انڈین فورسز نے ہلاک کر دیا ہے۔

    سکندر کے مطابق خاندان نے پولیس کو تمام دستیاب معلومات فراہم کر دی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ عامر کو کال کس نے کی تھی۔

    انھوں کہا کہ ’ہم عام لوگ ہیں، ہمارا کسی قسم کی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے بھائی پر دہشت گردی کا الزام لگنا ہمارے لیے انتہائی حیران کن ہے۔‘

    عامر کے والد محمد شفیع نے بھی انڈین موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا ایک ’معصوم اور عام شہری‘ تھا جسے علاقے کے لوگ اچھی طرح جانتے تھے۔

    اس واقعے کے بعد بٹل چوکی میں اہلِ خانہ اور مقامی کمیٹی کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مطالبہ کیا گیا کہ میت فوری طور پر واپس لانے کے اقدامات کیے جائیں۔

    ادھر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے ڈائریکٹر امجد یوسف نے اقوام متحدہ سے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک شہری کی ہلاکت کا معاملہ ہے جسے غیر جانبدار تحقیقات کے ذریعے واضح کیا جانا چاہیے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ عامر شفیع کو ایک کارروائی کے دوران گرفتار کرنے کے بعد قتل کیا گیا اور بعد ازاں انھیں عسکریت پسند قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق عامر کا کسی تنظیم یا سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

    دوسری جانب انڈین فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ 12 مئی کو شام چار بجے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بنایا گیا۔ فوج کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے منج کوٹ سیکٹر سے ایک مسلح گروپ سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    انڈین فوج کی وائٹ نائٹ کور کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’الرٹ فورسز نے تکنیکی نگرانی کے ذریعے گروہ کو دیکھا اور انھیں واپس جانے کی وارننگ دی، تاہم فائرنگ کے بعد جوابی کارروائی میں ایک درانداز ہلاک ہو گیا۔‘

    انڈین میڈیا نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص کالعدم لشکرِ طیبہ سے وابستہ تھا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب لائن آف کنٹرول پر حالات عمومی طور پر کشیدہ رہتے ہیں اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں اور دراندازی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

    تاحال اس واقعے کی غیر جانبدار تصدیق نہیں ہو سکی، اور دونوں جانب کے متضاد دعوؤں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

  15. ایران سے جنگ بندی پاکستان کے کہنے پر کی: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی دراصل پاکستان کے کہنے پر کی گئی ہے۔

    چین کے دورے سے واپسی پر ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم نے واقعی دیگر ممالک کی درخواست پر جنگ بندی کی۔ میں خود اس کے حق میں نہیں تھا مگر ہم نے یہ پاکستان کے لیے ایک ’فیور‘ کے طور پر کیا۔ انھوں نے پاکستانی قیادت کی ایک بار پھر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ شاندار لوگ ہیں‘۔

    ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے ایران کی تجاویزکو دیکھا ہے اور وہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 20 سال تک جوہری پروگرام کی معطلی اچھی تجویز ہے مگر یورینیم کے افزدوگی سے متعلق لیول کی گارنٹی تسلی بحش نہیں ہے۔

    آبنائے ہرمز سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’میں نے (چینی صدر سے) کسی فیور کے لیے نہیں کہا، ہمیں کسی فیور کی ضرورت نہیں ہے‘۔

  16. پاکستان میں سونے کی قیمت میں 15500 روپے فی تولہ کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں جمعے کے روز سونے کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ مقامی صرافہ بازار میں سونے کی قیمت میں 15 ہزار 500 روپے فی تولہ کمی ہوئی۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق جمعے کے روز مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 15 ہزار 500 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 76 ہزار 862 روپے ہو گئی۔

    اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 13 ہزار 289 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 8 ہزار 832 روپے مقرر کی گئی۔

    بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت 155 ڈالر کمی کے بعد 4 ہزار 545 ڈالر فی اونس تک آ گئی۔

    صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کا تعین عالمی نرخوں کے مقابلے میں 20 ڈالر پریمیم شامل کر کے کیا جاتا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی ہے۔

    دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔ فی تولہ چاندی 972 روپے سستی ہو کر 8 ہزار 232 روپے پر آ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 833 روپے کمی کے بعد 7 ہزار 57 روپے ہو گئی۔

  17. ایران کا جوہری پروگرام 20 سال کے لیے معطل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام 20 سال کے لیے معطل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔‘

    امریکی صدر نے جمعے کو کہا کہ ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے ائیر فورس ون پر سوار صحافیوں سے کہا کہ ’وہ (چینی صدر شی) سختی سے محسوس کرتے ہیں کہ ان (ایران) کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھول دیں۔‘

    چین کے دورے سے واپسی پر ٹرمپ نے امریکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ چند دنوں میں ایرانی تیل خریدنے والی چینی تیل کمپنیوں پر عائد پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کریں گے۔ انھوں نے یہ بتایا کہ چین امریکہ سے اربوں ڈالر کی سویا بین خریدے گا، جو کسانوں کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔

    تائیوان سے متعلق سوالات پر ٹرمپ نے کہا کہ تاحال تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری نہیں دی، ممکن ہے دیں اورممکن ہے نہ دیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘

    ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تائیوان معاملے پر گفتگو کی، نہیں لگتا کہ تائیوان پر کوئی تنازع ہونے جا رہا ہے، تائیوان کے حوالے سے چین سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ صدر شی کو آمر سمجھتے ہیں تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا ’میں انھیں چین کا صدر سمجھتا ہوں اور ان کی عزت کرتا ہوں۔‘

  18. انڈین وزیراعظم کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات، مودی کی امارات پر حملوں کی مذمت

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی اور متحدہ عرب امارات میں مقیم ہندوستانی کمیونٹی کے لیے ان کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا، جبکہ ملک پر حملوں کی ’سختی سے‘ مذمت کی۔

    نریندر مودی نیدرلینڈ، سویڈن، ناروے اور اٹلی کے یورپی دوروں کے سلسلے سے پہلے جمعہ 15 مئی کو ابوظہبی پہنچے۔ ان کا یہ دورہ خلیج فارس میں کشیدگی اور توانائی کی سلامتی کے خدشات کے درمیان ہوا ہے۔

    نریندر مودی کے دفتر نے ایکس نیٹ ورک پر اعلان کیا کہ ’اس سفر کے دوران توانائی، دفاع، بنیادی ڈھانچے، جہاز رانی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔‘

    انڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابوظہبی نے ہندوستان میں پانچ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا عہد کیا ہے، حالانکہ مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    مودی نے انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ ’آبنائے ہرمز کی آزادی، کشادگی اور سلامتی کو برقرار رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری ضروری ہے۔‘

  19. برکس اجلاس: ایران کا امریکہ مخالف سخت مؤقف، مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان

    ایران کے وزیر خارجہ نے برکس اجلاس میں اپنے خطاب کے اہم نکات سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر شیئر کیے ہیں۔ ان کے ٹویٹ کے مطابق برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران نے کہا کہ امریکی دباؤ کے خلاف ہماری مزاحمت کوئی نئی جنگ نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم میں سے بہت سے ممالک اسی قسم کے ناپسندیدہ دباؤ اور جبر کی مختلف صورتوں کا سامنا کرتے ہیں۔‘

    عباس عراقی نے تجویز دی کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر آگے بڑھیں اور واضح کریں کہ ایسے اقدامات کا تعلق ماضی سے ہے اور انھیں تاریخ کے کچرے دان میں ڈال دیا جانا چاہیے۔‘

  20. متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے نئے تیل پائپ لائن منصوبے کو تیز کر دیا

    متحدہ عرب امارات نے ایک نئی پائپ لائن کی تعمیر میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے ملک کو امید ہے کہ وہ 2027 تک فجیرہ کے راستے اپنی تیل برآمدی صلاحیت کو دوگنا کر لے گا اور آبنائے ہرمز پر انحصار مزید کم کر دے گا۔

    ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید نے ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک) کو ویسٹ ایسٹ پائپ لائن منصوبے پر عمل درآمد تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ بات ابوظہبی کے سرکاری میڈیا دفتر نے جمعے کو بتائی۔ حکام کے مطابق منصوبہ اس وقت زیرِ تعمیر ہے۔

    متحدہ عرب امارات پہلے ہی اپنے تیل کا ایک حصہ آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر حبشان-فجیرہ پائپ لائن کے ذریعے برآمد کرتا ہے، جس کی یومیہ گنجائش تقریباً 1.8 ملین بیرل خام تیل ہے۔ یہ پائپ لائن تیل کو براہ راست بحیرہ عمان کے ساحل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    خلیجی ممالک میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ہی وہ ممالک ہیں جن کے پاس ایسی پائپ لائنیں موجود ہیں جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے خام تیل برآمد کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔

    دوسری جانب عمان کو بحیرہ عمان پر طویل ساحلی پٹی ہونے کی وجہ سے کھلے پانیوں تک براہ راست رسائی حاصل ہے۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش یا رکاوٹوں کی دھمکیوں نے عالمی جہاز رانی کو متاثر کیا ہے اور توانائی منڈیوں میں تشویش پیدا کی ہے۔