جیب میں 50 پاؤنڈز لیے برطانیہ آنے والا لڑکا اربوں کی سرمایہ کاری کے مشورے دینے والا ماہر کیسے بنا

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 13 منٹ

18 برس کی عمر میں پیٹر کومولافے کی زندگی ایک ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی جہاں انھیں سب کچھ نئے سرے سے شروع کرنا تھا۔

وہ نائجیریا سے برطانیہ پہنچے تو نہ ان کے پاس پیسہ تھا، نہ کوئی مضبوط سہارا اور نہ ہی مستقبل کا واضح راستہ۔ وہ بے گھر تھے اور شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے تھے۔

والدین کی دعائیں ان کے ساتھ تھیں۔ لیکن عملی طور پر ان کے پاس زندگی سنوارنے کے لیے بہت محدود وسائل موجود تھے۔ ایسے میں انھیں ایک نئی دنیا میں اپنی جگہ بنانا تھی۔

مگر یہی نوجوان آگے چل کر برطانیہ میں مالیاتی مشوروں کی دنیا کی ایک معتبر آواز بن گیا۔ آج پیٹر نہ صرف ذاتی مالیات کے معروف ماہر سمجھے جاتے ہیں بلکہ ایک مقبول مصنف اور مقرر بھی ہیں۔

پیٹر 1979 میں انگلینڈ میں نائجیریئن والدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والدین بہتر تعلیم، روزگار اور نائجیریا میں موجود اپنے خاندان کی مدد کے لیے برطانیہ آئے تھے۔ اس زمانے میں انھوں نے اپنے بیٹے کی دیکھ بھال کے لیے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا۔ انھوں نے اخبار میں اشتہار دے کر ایک ایسے برطانوی خاندان کی تلاش کی جو ان کی پرورش کر سکے۔

اس دور میں اس طرح کے نجی اور غیر رسمی انتظامات نسبتاً عام تھے اور بعض اوقات انھیں ’فارمنگ‘ کہا جاتا تھا۔

یوں صرف تین ماہ کی عمر میں پیٹر کو جنوب مشرقی انگلینڈ کے ساحلی شہر ہیسٹنگز میں رہنے والے سانڈرز خاندان کے سپرد کر دیا گیا۔ یہ ایک سفید فام برطانوی جوڑا تھا جس نے ان کی پرورش کی۔

بعد کے برسوں میں پیٹر کے دل میں ایک بڑا خواب پروان چڑھنے لگا۔ وہ خود کو لندن کے معروف مالیاتی مرکز کینری وارف جیسی جگہ پر دیکھنا چاہتے تھے جہاں برطانیہ اور دنیا کے بڑے مالیاتی ادارے قائم ہیں۔

یہی خواب آگے چل کر ان کی زندگی کا رُخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پیٹر کہتے ہیں کہ ’میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میری پرورش سانڈرز خاندان کے ہاں ہوئی۔‘

تاہم ان کا بچپن آسان نہیں تھا۔

اکثریتی سفید فام آبادی والے علاقے میں ایک سیاہ فام بچے کے طور پر انھیں نسل پرستانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سکول میں انھیں توہین آمیز القابات سے پکارا جاتا، ان کا مذاق اڑایا جاتا اور مسلسل غنڈہ گردی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ کئی بار وہ سکول سے گھر واپس لوٹتے تو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوتیں۔

ان کے رضاعی والدین نے سکول انتظامیہ سے شکایت بھی کی، لیکن اس سے صورت حال میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ آخرکار ان کے رضاعی والد نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ اپنے لیے خود کھڑے ہوں۔

پیٹر یاد کرتے ہیں کہ ’یہ فوراً بند ہو گیا۔ اس شخص نے پھر کبھی میری طرف نہیں دیکھا۔‘

ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں وہ چند ہفتے اپنے حقیقی والدین کے ساتھ گزارتے اور پھر ہیسٹنگز واپس آ جاتے تھے، لیکن یہ دورے انھیں خوشی سے زیادہ بے چینی دیتے تھے۔ ان کی روزمرہ زندگی کا معمول متاثر ہوتا، دوستوں سے دوری اختیار کرنا پڑتی اور وہ ایسی جگہ چلے جاتے جہاں انھیں اپنائیت کا احساس نہیں ہوتا تھا۔

پھر ایک گرمیوں میں، جب وہ آٹھ سال کے تھے، ان کی زندگی نے ایک نیا موڑ لیا۔

اس وقت تک ان کے والدین نائجیریا واپس جا چکے تھے۔ انھوں نے پیٹر کو اپنے پاس بلایا اور وہ پہلی بار ہوائی جہاز میں سوار ہوئے۔

بچپن سے ان کا خواب پائلٹ بننے کا تھا۔ آسمان کی بلندی سے دنیا کو دیکھنے کا تصور انھیں ہمیشہ مسحور کرتا تھا۔

پیٹر کہتے ہیں کہ ’پہلی بار جہاز میں سوار ہونے کا خیال ہی میرے لیے بے حد پُرجوش تھا۔‘

ایک اجنبی ملک

انھیں آج بھی لاگوس کے ہوائی اڈے پر اترنے کا وہ لمحہ اچھی طرح یاد ہے۔ جہاز سے باہر قدم رکھتے ہی وہ شور، ہجوم اور ایک بالکل مختلف دنیا سے روبرو ہوئے۔

اس وقت پیٹر صرف انگریزی بول سکتے تھے۔ وہ یوروبا زبان کا ایک لفظ بھی نہیں جانتے تھے، حالانکہ ان کے وسیع خاندان کی یہی زبان تھی۔

ہوائی اڈے پر ان کی والدہ انھیں لینے آئیں۔ پھر تاریک سڑکوں پر کئی گھنٹے کے سفر کے بعد وہ ایک ایسی جگہ پہنچے جو ان کے لیے بالکل اجنبی تھی۔ تھکن سے نڈھال ہو کر وہ سو گئے۔

اگلی صبح آنکھ کھلی تو وہ رشتہ داروں کے ایک ہجوم میں گھرے ہوئے تھے۔ سب ان سے ملنا چاہتے تھے۔ چونکہ وہ دوسروں سے مختلف دکھائی دیتے تھے، اس لیے فوراً سب کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ لوگ ان سے بات کرنے کو کہتے تاکہ ان کا برطانوی لہجہ سن سکیں۔

پیٹر یاد کرتے ہیں کہ ’یہ دراصل کافی دباؤ والا تجربہ تھا۔ تقریباً کسی تقریب جیسا۔ میں گویا سب کی توجہ کا مرکز تھا، جبکہ میں ابھی ابھی جاگا تھا اور یہی سوچ رہا تھا کہ میں کہاں ہوں اور یہ سب لوگ کون ہیں۔‘

وہ اس سفر کے دن گن رہے تھے کیونکہ ان کے خیال میں یہ صرف دو ہفتوں کا قیام تھا۔

پھر ایک صبح وہ خوشی خوشی اپنا سوٹ کیس پیک کرکے ڈرائنگ روم میں آ گئے۔

’ہم ہوائی اڈے کب جا رہے ہیں؟ ہماری پرواز کس وقت ہے؟‘

ان کی والدہ یہ سن کر مسکرا دیں۔ تب انھیں بتایا گیا کہ وہ واپس نہیں جا رہے بلکہ اب ہمیشہ کے لیے یہیں رہیں گے۔

پیٹر کہتے ہیں کہ ’میں مایوس تھا، بے بس تھا، بہت غصے میں تھا اور مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں پھنس گیا ہوں۔ آٹھ سال کی عمر میں آپ کے پاس واقعی کوئی اختیار نہیں ہوتا۔‘

ردِعمل کے طور پر انھوں نے خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا اور کسی سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

خاموش احتجاج کے طور پر انھوں نے یوروبا بولنے سے بھی انکار کر دیا۔ وقت کے ساتھ انھوں نے یہ زبان سیکھ لی اور سکول میں روانی سے بولنے بھی لگے، لیکن اپنے خاندان کو کبھی اس کا احساس نہیں ہونے دیا۔ وہ صرف اسی وقت جواب دیتے تھے جب ان سے انگریزی میں بات کی جاتی۔

ان کے بقول، ’یہی ایک طریقہ تھا جس سے میں انھیں بتا سکتا تھا کہ میں وہاں رہ کر خوش نہیں تھا۔‘

نائجیریا میں ان کے ابتدائی سال آسان نہیں تھے۔ برطانوی لہجے اور مختلف پس منظر کی وجہ سے انھیں اکثر چھیڑا جاتا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ وہ ماحول سے ہم آہنگ ہو گئے، لیکن یہ احساس کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا کہ وہ اس جگہ سے تعلق نہیں رکھتے۔

اسی دوران ایک چیز ہمیشہ ان کے ساتھ رہی: لکھنے کا شوق۔

وہ جہاں بھی جاتے، اپنے ساتھ قلم، پنسل اور کاغذ رکھتے۔ کہانیاں لکھتے، ڈائری نوٹ کرتے اور بعد میں 15 سال کی عمر میں یونیسیف کے لیے تشہیری تحریریں بھی لکھنے لگے۔

پیٹر کہتے ہیں، ’شاید اس لیے کہ مجھے اپنی موجودہ جگہ پسند نہیں تھی، اس لیے میرے لیے دوسری جگہوں کا تصور کرنا آسان تھا۔‘

جس علاقے میں وہ رہتے تھے وہاں نہ نل کا پانی دستیاب تھا اور نہ ہی مسلسل بجلی۔ خوراک بھی محدود تھی اور روزمرہ زندگی کئی مشکلات سے بھری ہوئی تھی۔

پیٹر کہتے ہیں کہ ’مجھے بہت کم عمری سے یہ سکھا دیا گیا تھا کہ اگر تم کسی خراب صورتِ حال سے نکلنا چاہتے ہو تو اسے بہتر بنانا تمھاری اپنی ذمہ داری ہے۔‘

تمام تر مشکلات کے باوجود ان کا خواب زندہ رہا۔ وہ راتوں کو جاگتے، آسمان پر گزرتے جہازوں کو دیکھتے اور دل ہی دل میں خود سے کہتے کہ ایک دن انھیں ان میں سے کسی ایک جہاز میں ضرور سوار ہونا ہے۔

چند پاؤنڈ اور ایک پتہ

ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پیٹر کے والدین اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ نائجیریا کی زندگی سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہو سکے تھے۔ چنانچہ انھوں نے پیسے جمع کیے تاکہ انھیں دوبارہ برطانیہ بھیجا جا سکے۔

ان کی روانگی اچانک ہوئی۔

پیٹر یاد کرتے ہیں، ’میرے والد نے کہا تھا کہ تقریباً ایک ہفتے میں روانگی کی تیاری کرو۔ پھر تین دن بعد اچانک بتایا گیا کہ تم چار گھنٹوں میں جا رہے ہو، اپنا سامان باندھ لو۔‘

وہ جلدی جلدی اپنی چیزیں سمیٹ کر ہوائی اڈے روانہ ہو گئے۔ اس وقت ان کی جیب میں صرف 67 امریکی ڈالر، یعنی تقریباً 50 پاؤنڈ تھے۔ ان کے پاس ہیسٹنگز میں اپنے سابق رضاعی خاندان کے گھر کا پتہ تو تھا، لیکن ایک دہائی سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔ درحقیقت سانڈرز خاندان کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ پیٹر گذشتہ دس برس نائجیریا میں گزار چکے ہیں۔

18 سال کی عمر میں انھیں مالی معاملات کی زیادہ سمجھ نہیں تھی۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے پاس موجود رقم کتنے دن چل سکتی ہے، یا یہ کہ اگر ان کے رضاعی والدین وہاں نہ ملے تو وہ کیا کریں گے۔

اکتوبر کی سردی میں، موسم کے مطابق مناسب لباس کے بغیر، وہ ہیتھرو ہوائی اڈے پر اترے۔ وہاں سے ٹرین کے ذریعے ہیسٹنگز پہنچے اور سانڈرز خاندان کے دروازے پر دستک دی۔

لیکن کوئی جواب نہ ملا۔

وہ تقریباً تین گھنٹے سردی میں گھر کے باہر بیٹھے رہے۔ پھر سامنے رہنے والے ایک پڑوسی نے انھیں پہچان لیا۔ کچھ دیر بعد ان کے رضاعی والدین گھر واپس آ گئے۔

اس لمحے انھیں شدید سکون کا احساس ہوا، لیکن یہ احساس زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔

پیٹر کہتے ہیں کہ ’اپنی سادہ لوحی میں میں نے سوچا تھا کہ میرا بہت پُرتپاک استقبال ہوگا۔ لیکن اب جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سمجھتا ہوں کہ وہ دس سال سے میری کوئی خبر نہیں رکھتے تھے۔ ان کی زندگی آگے بڑھ چکی تھی۔ ان کے ہاں ایک اور بچہ تھا اور وہ کوئی خوش حال خاندان بھی نہیں تھے۔‘

وہ چند ماہ تک ان کے ساتھ رہے۔ اس دوران ان کے رضاعی والد نے نیشنل انشورنس نمبر بنوانے، برطانیہ کے نظام کو سمجھنے اور پہلی نوکری حاصل کرنے میں ان کی مدد کی۔ ان کی رضاعی والدہ سلویا نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن تعاون کیا۔

تاہم پیٹر جانتے تھے کہ یہ مدد مستقل نہیں ہو سکتی۔

پیٹر کہتے ہیں کہ ’آخرکار مجھے معلوم تھا کہ مجھے اپنا راستہ خود بنانا ہوگا۔‘

سڑکوں پر زندگی

پیٹر کو ایک سپر مارکیٹ میں شیلفوں پر سامان رکھنے کی ملازمت مل گئی اور زندگی میں پہلی بار ان کے ہاتھ باقاعدہ تنخواہ آئی۔ انھوں نے مشترکہ رہائش میں ایک کمرہ لے لیا، لیکن مالی معاملات سنبھالنا ان کے لیے آسان نہ تھا۔

وہ جلد ہی اپنی ساری آمدنی خرچ کر بیٹھے اور کرایہ ادا نہ کر سکے۔ نتیجتاً انھیں رہائش چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

ان کے ذہن میں اپنے رضاعی خاندان کے پاس واپس جانے کا خیال آیا، لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔

پیٹر کہتے ہیں کہ ’انھوں نے مجھے ابتدائی سہارا دے دیا تھا اور میں نے اسے ضائع کر دیا تھا۔‘

یوں وہ تقریباً ایک ماہ تک بے گھر رہے اور سڑکوں پر راتیں گزاریں۔ ہر شام ان کی کوشش ہوتی کہ کوئی نسبتاً گرم یا محفوظ جگہ مل جائے جہاں رات کاٹی جا سکے۔

ان کے بقول، ’یہ بہت تھکا دینے والا اور خوفناک تجربہ تھا۔‘

مدد ایک ایسے شخص سے ملی جس سے وہ کبھی توقع نہیں کر سکتے تھے۔ اس شخص کا نام کیتھ تھا، لیکن مقامی لوگ اسے ’کیتھ ٹیٹھز‘ کہتے تھے، ایک ایسا لقب جو اسے اس کے نمایاں خراب دانتوں کی وجہ سے ملا تھا۔

ایک رات کیتھ نے پیٹر کو سردی سے بچنے کے لیے ایک میز کے نیچے سونے کی کوشش کرتے دیکھا۔ اس نے انھیں اپنے صوفے پر سونے کی پیشکش کی۔ چند دن بعد کیتھ نے انھیں اپنی والدہ کے گھر منتقل ہونے کی دعوت دی، جو قریبی گاؤں رائی میں واقع تھا۔

پیٹر کہتے ہیں کہ ’اگر میں اس رات گلی کے دوسرے کونے میں سو رہا ہوتا تو شاید میری اس سے کبھی ملاقات نہ ہوتی۔‘

پیٹر نے اس موقع کو اپنی زندگی دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے استعمال کیا۔ انھوں نے رہائش کے لیے ایک پناہ گاہ میں درخواست دی اور ساتھ ہی ملازمت کی تلاش بھی شروع کر دی۔

جلد ہی انھیں دو ملازمتوں کے انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ ان میں سے ایک ایسٹبورن کے ایک بینک میں تھا، جو ہیسٹنگز سے تقریباً 30 منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اس انٹرویو میں جانا ہی نہیں چاہتے تھے۔

بے گھر رہنے کے دوران انھوں نے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایسے چیک استعمال کیے تھے جن کے پیچھے رقم موجود نہیں تھی، جس کے باعث وہ کئی بینکوں کے مقروض ہو گئے تھے۔ انھیں یقین تھا کہ ان کا مالی ماضی ان کے راستے کی بڑی رکاوٹ بنے گا۔

پیٹر کہتے ہیں کہ ’میں سمجھتا تھا کہ مجھے یہ نوکری مل ہی نہیں سکتی۔‘

لیکن انھیں بتایا گیا کہ اگر وہ انٹرویو میں شریک نہ ہوئے تو ان کا وظیفہ بند ہو سکتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے دل پر پتھر رکھا اور جانے کا فیصلہ کر لیا۔

وہ جینز اور چمڑے کی جیکٹ پہن کر انٹرویو میں پہنچ گئے، شاید اس یقین کے ساتھ کہ یہ کوشش بھی ناکام رہے گی۔ مگر انٹرویو لینے والی خاتون کی رائے مختلف تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹر ایک بہترین کیشیئر ثابت ہو سکتے ہیں۔

پیٹر یاد کرتے ہیں کہ ’انھوں نے میرے اندر وہ صلاحیت دیکھی جو میں خود اپنے اندر نہیں دیکھ پاتا تھا۔‘

ایک اہم موڑ

غیر متوقع طور پر پیٹر کو نہ صرف اپنا راستہ مل گیا تھا بلکہ وہ شعبہ بھی مل گیا تھا جس میں وہ واقعی مہارت رکھتے تھے۔

پیٹر کہتے ہیں کہ ’دلچسپ بات یہ تھی کہ میں لوگوں کو آسانی سے سمجھا لیتا تھا کہ وہ اپنے پیسے کو اپنے لیے بہتر طریقے سے کیسے کام پر لگا سکتے ہیں۔‘

ملازمت کے پہلے ہی سال کے دوران انھیں بینک کے صارفین کے ساتھ براہِ راست کام کرنے والی ٹیم میں منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ مالیاتی مصنوعات اور خدمات کے بارے میں مشورے دینے لگے۔ یہیں سے ان کا کریئر تیزی سے آگے بڑھنا شروع ہوا۔

بعد کے برسوں میں انھوں نے کئی بڑے بینکوں میں کام کیا، ریلیشن شپ مینجمنٹ اور کاروباری ترقی جیسے اہم شعبوں میں ذمہ داریاں سنبھالیں اور بتدریج مالیاتی خدمات کی دنیا میں اپنا مقام بناتے گئے۔

ان دنوں وہ ہفتے کے اختتام پر ایک دوست سے ملنے جایا کرتے تھے۔ وہاں سے دریا کے پار کینری وارف کی بلند و بالا عمارتیں دکھائی دیتی تھیں۔ لندن کا یہ مالیاتی ضلع دنیا کے بعض بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

پیٹر کے بقول، ’میرے لیے کینری وارف کامیابی کی علامت تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ اگر آپ وہاں کام کرتے ہیں تو آپ نے زندگی میں کچھ حاصل کر لیا ہے۔‘

وہ ان عمارتوں کے درمیان چلتے ہوئے خود سے کہتے تھے کہ ایک دن وہ بھی یہیں کام کریں گے۔

بالآخر 2012 میں ان کا یہ خواب حقیقت بن گیا۔

انھیں دنیا کی بڑی انشورنس اور مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک میں ملازمت کی پیشکش ہوئی۔ اس کمپنی کا دفتر ون کینیڈا سکوائر کی 50ویں منزل پر واقع تھا، جو کینری وارف کی نمایاں ترین عمارتوں میں شمار کی جاتی ہے۔

پیٹر کہتے ہیں کہ ’میرے لیے یہ ایک انکشاف جیسا تھا۔ میری پسندیدہ فلم دی پرسیوٹ آف ہیپینس ہے اور کینری وارف تک پہنچنے کا میرا سفر دراصل میری اپنی ’پرسیوٹ آف ہیپینس‘ تھا۔‘

بے گھری سے کینری وارف کی 50ویں منزل تک پہنچنے کا سفر، وہ بھی یونیورسٹی کی ڈگری کے بغیر، ان کے لیے آج بھی ناقابلِ یقین محسوس ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جس شخص نے خود یہ سب نہ جھیلا ہو، اس کے لیے اس احساس کو سمجھنا آسان نہیں۔‘

انھیں وہ دن بھی یاد ہیں جب وہ سڑکوں پر رات گزارتے تھے۔

پیٹر کہتے ہیں کہ ’جب میں بے گھر تھا اور لوگوں کو ان کے گرم اور محفوظ گھروں میں جاتا دیکھتا تھا تو سوچتا تھا کہ یہ احساس کیسا ہوگا۔‘

صرف پانچ برس کے اندر اندر وہ کال سینٹر کے ایک ملازم سے ترقی کرتے ہوئے اپنی ٹیم کے سربراہ بن گئے اور کمپنی کی ایگزیکٹو کمیٹی تک پہنچ گئے۔ وہ یہ مقام حاصل کرنے والے پہلے رنگ دار ملازم تھے۔

بعد میں انھوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی زندگی کے تجربات اور مالیاتی علم کو دوسروں کے فائدے کے لیے استعمال کریں گے۔ چنانچہ انھوں نے سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن اور اپنی کتاب The Money Basics: How to Become Your Own Financial Hero کے ذریعے لوگوں کو مالی معاملات بہتر انداز میں سمجھانے کا کام شروع کیا۔

اس کام کے پیچھے ان کا محرک بھی بہت سادہ ہے۔

پیٹر کہتے ہیں کہ ’اگر کسی نے مجھے وہ بھی 10 فیصد سکھا دیا ہوتا جو آج میں جانتا ہوں تو شاید میں زندگی میں کہیں بہتر فیصلے کرتا۔‘