انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کی ہائی کورٹ نے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکہ کیس میں 38 ملزمان کو پھانسی اور 11 ملزمان کو عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے نے تقریباً ایک سال تک اس اہم مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر حتمی سماعت کی تھی اور فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جو منگل کو سنایا گیا۔
خیال رہے کہ جولائی 2008 میں ریاست میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے، جن میں 56 افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملے میں کل 78 افراد کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا، جن میں سے 49 کو ایک خصوصی عدالت نے فروری 2022 میں سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کو ملزمان کی جانب سے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، اور عدالت نے اب ان سزاؤں کو برقرار رکھا ہے۔
عدالت نے ہلاک ہونے والے 56 افراد کے ہر ایک کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دینے اور زخمی متاثرین میں سے ہر ایک کو ایک لاکھ روپے دینے کا حکم بھی دیا ہے۔
گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سانگھوی نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے تاریخی قرار دیتے ہوئے دہشت گرد حملوں میں ملوث افراد کے خلاف ’زیرو مرسی‘ کی ایک مثال بتایا ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’آج گجرات ہائی کورٹ نے انڈیا کے مضبوط ترین اور تاریخی فیصلوں میں سے ایک فیصلہ سنایا ہے۔‘
کیس کے متاثرین کے اہل خانہ نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ 26 سالہ یش ویاس، جنھوں نے بم دھماکوں میں اپنے والد اور بڑے بھائی کو کھو دیا تھا، کا کہنا ہے کہ فیصلہ مناسب ہے۔ روزنامہ دی انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میرے والد، میرے بھائی اور کئی دوسرے لوگ ان دھماکوں میں مارے گئے تھے۔‘ ان کے والد ہسپتال میں ملازم تھے اور کام پر موجود تھے جب وہ ہلاک ہوئے۔
ایک دوسرے متاثرہ خاندان کے فرد وجے مودی نے اخبار کو بتایا کہ ’چاہے دیر ہوئی ہو، لیکن اہم بات یہ ہے کہ اب انصاف مل گیا ہے۔‘ وجے کی والدہ، جو اس وقت 55 سال کی تھیں، اس واقعے میں زخمی ہو گئی تھیں اور 2016 میں فوت ہو گئی تھیں۔
دوسری جانب اس معاملے میں ملزمان کی طرف سے پیروی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علما مہاراشٹر (ارشد مدنی گروپ) کی قانونی امداد کمیٹی نے اسے ایک ناقابلِ یقین اور مایوس کن فیصلہ قرار دیا ہے۔
تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کل 49 ملزمان میں سے جمعیۃ علما مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے جمعیۃ علما احمد آباد (گجرات) کے تعاون سے 39 ملزمان کو قانونی امداد فراہم کی ہے۔
تنظیم کے پریس سیکریٹری فضل الرحمن قاسمی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ ان کے مطابق تنظیم کے صدر مولانا ارشد مدنی نے فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ناقابلِ یقین اور مایوس کن فیصلہ ہے۔
جمعیت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائے گی اور ملزمان کو پھانسی کے تختے سے بچانے کے لیے ملک کے نامور فوجداری وکلا کی خدمات حاصل کرے گی اور ان کے مقدمات مضبوطی کے ساتھ لڑے گی۔ ’ہمیں پورا یقین ہے کہ اعلیٰ عدالت سے ان نوجوانوں کو مکمل انصاف ملے گا۔‘
جمعیت نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ایسے متعدد معاملات ہیں جن میں نچلی عدالتوں نے سزائیں سنائیں، مگر جب وہی مقدمات اعلیٰ عدالتوں میں گئے تو مکمل انصاف ہوا۔ ان کے مطابق اس کی ایک بڑی مثال اکشردھام مندر حملہ کیس ہے، جس میں نچلی عدالت نے مفتی عبدالقیوم سمیت تین افراد کو پھانسی اور چار افراد کو عمر قید کی سزا دی تھی۔ یہاں تک کہ گجرات ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے ان سب کو نہ صرف باعزت بری کر دیا بلکہ بے گناہوں کو دہشت گردی کے الزام میں ملوث کرنے پر گجرات پولیس کی سخت سرزنش بھی کی تھی۔
غور طلب ہے کہ مجرم قرار دیے گئے افراد کا تعلق گجرات، اتر پردیش، کرناٹک، کیرالا، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش، راجستھان، بہار اور دہلی سے ہے اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے غیر قانونی طریقے سے دھماکہ خیز مواد جمع کیا تھا اور پھر بم دھماکے کیے، جن میں 56 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔
اس معاملے میں استغاثہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزمان نے 2002 کے گجرات فسادات کا ’انتقام‘ لینے اور جمہوری طور پر منتخب حکومت کو برطرف کرنے کے لیے سلسلہ وار دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ 2022 میں عدالت نے 78 میں سے 28 ملزمان کو بری کر دیا تھا، جبکہ اس مقدمے میں ایک ملزم نے سرکاری گواہ بننے کا فیصلہ کیا تھا۔