آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بیرون ملک سے 15 پر کال اور ’دو گھنٹوں میں بازیابی‘: لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا کے کیس میں چار ملزمان گرفتار
پاکستان کے شہر لاہور میں پولیس نے مبینہ طور پر اغوا کی گئی دو خواتین کو بازیاب کروا کر چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
لاہور پولیس نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ لڑکیوں کے اغوا کی اطلاع ایک لڑکی کے والد نے فون کر کے دی تھی اور بتایا تھا کہ ان سے 15 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کو جمعے کو عدالت میں پیش کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ طلب کیا جائے گا، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
مبینہ اغوا کا واقعہ 29 جون کو پیش آیا تھا، جبکہ پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دو جولائی کو ملی، جس کے بعد تفتیش کاروں نے ہالینڈ اور سپین سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بازیاب کروایا۔
اس مقدمے کی ایف آئی آر لاہور کے تھانہ ڈیفینس سی میں درج کی گئی ہے۔
ایف آئی آر میں کیا لکھا ہے؟
واقعے کا مقدمہ بازیاب ہونے والی ہالینڈ کی ایک خاتون کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے اور اس کے مطابق مبینہ اغوا کا واقعہ 29 جون کو پیش آیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ان کی ملاقات سنگاپور میں لاہور کے ایک شخص سے ہوئی تھی، جس نے نہ صرف دونوں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی بلکہ ان کے ویزے بھی جاری کروائے۔
ایف آئی آر کے مطابق 29 جون کو انھیں اس شخص، اس کے باس اور دیگر تین افراد نے اغوا کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درخواست گزار کے مطابق اغواکار’بہت جارحانہ‘ برتاؤ کر رہے تھے اور اس دوران انھیں پاکستان بُلانے والا شخص بھی متاثرہ شخص ہونے کا ڈرامہ کر رہا تھا۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس دوران انھیں ’آزاد‘ کرنے کے لیے ان سے تاوان کا مطالبہ کیا گیا اور ان کی ساتھی کا متعدد بار ریپ کیا گیا اور ان کا ریپ کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔
اس ایف آئی آر کا بڑا حصہ انگریزی زبان میں متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق لکھا گیا ہے۔
پولیس نے خواتین کو کیسے بازیاب کروایا؟
ڈی ائی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بازیاب ہونے والی ایک لڑکی کے والد نے سپین سے پولیس کی ہیلپ لائن ون فائیو پر کال کی تھی، جس میں انھوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی دو دن سے پاکستان آئی ہوئی ہے اور آخری مرتبہ جب ان کی اپنی بیٹی سے بات ہوئی تھی تو انھوں نے بتایا کہ اسے ایف آئی آر میں نامزد ملزمان نے اغوا کرلیا ہے اور پندرہ لاکھ ڈالر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سینیئر پولیس افسر کے مطابق جب کوئی ایسی کال بیرون ملک سے آتی ہے تو اس کی اطلاع اعلیٰ افسران اور چیف منسٹر ہاؤس کو دی جاتی ہے۔
’جیسے ہی یہ کال موصول ہوئی تو وزیر اعلیٰ کی کال آئی اور انھوں نے کہا کہ ’دو گھنٹے کے اندر اندر یہ لڑکیاں بازیاب کروائیں اور ان ملزمان کو گرفتار کریں۔‘
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق سپین سے آنے والی کال میں یہ بھی بتایا گیا کہ لڑکی نے والد سے گفتگو کے دوران اس گاڑی کا نمبر بھی بتایا تھا، جس میں ملزمان انھیں سوار کرکے لے جا رہے تھے۔
تاہم انھوں نے کہا کہ ’یہ خواتین اپنی مرضی سے پاکستان آئیں تھیں اور اپنے کہیں بھی آنے جانے کی اطلاع اور تصاویر اپنے گھر والوں سے شئیر کر رہی تھیں۔‘
’ہم نے ان لڑکیوں کے گھر والوں سے فوراً تمام تصاوپر منگوائیں، جس میں اس گاڑی کی تصویر بھی شامل تھی جس پر وہ ان لڑکوں (مبینہ ملزمان) کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ ہم نے اس گاڑی کی نمبر پلیٹ سے فوری سارا ڈیٹا نکال لیا اور اس کی ٹریسنگ شروع کر دی۔‘
ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ہی انھیں معلوم ہوا کہ یہ ’گاڑی کب شاہدرہ سے گزری، کب سرگودھا پہنچی، کب اسلام آباد گئی، وہاں کہاں کہاں رکی۔‘
’اس طرح ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم لاہور کے ڈیفینس کے علاقے تک جا پہنچے، جہاں ہم نے چھاپہ مارا اور ان لڑکیوں کو بازیاب کروایا۔‘
’ہم نے لڑکیوں کو بازیاب کروایا اور پکڑے جانے والے ملزمان کی مدد سے دیگر ملزمان کو پکڑا۔‘
سینیئر پولیس افسر کے مطابق ’ابتدائی تفتیش میں لڑکیوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کے ساتھ ریپ بھی کیا گیا ہے۔‘
فیصل کامران کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کا میڈیکل معائنہ بھی کروالیا گیا ہے اور جلد ہی اس کی رپورٹ بھی مل جائے گی۔
مقامی پولیس کے مطابق اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے چار ملزمان کو کل متعلقہ عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ بازیاب ہونے والی ان غیر ملکیوں لڑکیوں کے سفارت خانوں سے رابطہ کیا گیا ہے اور انھیں جلد ہی ان کے ممالک واپس بھیج دیا جائے گا۔
معاملہ ہے کیا؟
لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق یہ سارا معاملہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے وعدے سے شروع ہوا تھا۔
ان کے مطابق یہ معاملہ پاکستان کے باہر سے شروع ہوا جب یہ دونوں غیر ملکی خواتین مرکزی ملزم سے سنگاپور میں کاروبار کے سلسلے میں ملیں۔ وہاں ان دونوں پارٹیوں کے درمیان کرپٹو میں سرمایہ کاری کے لیے بات چیت ہوئی۔
’مرکزی ملزم اور اس کے دوست نے مل کر ڈالرز میں لڑکیوں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی اور ان کے درمیان یہ طے پایا کہ اس سرمایہ کاری سے آنے والا منافع آپس میں تقسیم ہوگا، جس کے بعد یہ لڑکے پاکستان آگئے۔‘
تاہم فیصل کامران کے مطابق ان خواتین نے ملزمان کو منافع کی رقم نہیں دی اور ان کے ’فون کالز اور مسیجز کا جواب دینا بند کر دیا۔‘
سینیئر پولیس افسر کہتے ہیں کہ یہ خواتین مبینہ طور پر مزید سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کرنے پاکستان آئی تھیں اور انھیں تین جولائی کو پاکستان سے واپس جانا تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’دو تین دن یہ خواتین اور ملزمان مختلف شہروں میں گھوتے پھرتے رہے۔ جس میں لاہور، اسلام آباد اور مری بھی شامل ہیں۔ وہاں انھوں نے مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کی کھانے وغیرہ کھائے۔‘
’ان خواتین کی واپسی تین جولائی کو تھی، اس لیے یہ لاہور واپس آگئیں۔ جیسے ہی یہ واپس لاہور پہنچیں تو ان میں سے ایک ملزم نے کہا ’میں تو اپنے پیسے واپس لیے بغیر ان لڑکیوں کو پاکستان سے نہیں جانے دوں گا۔‘
’جس کے بعد اس نے اپنے دوست کی مدد سے کرائے پر گھر لیا اور اس کے دوست نے دو غنڈے بلا کر لڑکیوں کو اغوا کروایا اور پھر ان کے باپ کو کال کرکے اغوا برائے تعاوان کے لیے پیسے مانگے۔‘
ڈی آئی جی فیصل کامرن کہتے ہیں کہ ’بےشک یہ لین دین کا معاملہ ہو لیکن پیسوں کی واپسی کے لئے کسی کو اغوا تو نہیں کیا جاسکتا۔‘