اوڈیسا: وہ شہر جہاں ساحلوں پر رونق اور آسمان پر میزائل ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں

- مصنف, اولیکسی نازاروک
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
میں کئی سالوں سے سمندر کی سیر پر نہیں گیا تھا۔ چنانچہ جب مجھے تین دن کی چھٹی ملی تو میں نے یوکرین کے مشہور ترین ساحلی تفریحی مقامات میں سے ایک ’اوڈیسا‘ جانے کا فیصلہ کیا۔
میرا مقصد روزمرہ کی مصروفیات سےکچھ وقت دور ہونا اور سکون سے گزارنا تھا اور میں ایسا کرنے میں کامیاب رہا۔ مسلسل بمباری اور اردگرد موجود لوگوں کی بڑی تعداد بھی مجھے ایسا کرنے سے نہیں روک سکی۔
مجھے وہاں پہنچ کر سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کے سیاحوں کا رویہ پرسکون تھا، اس خطرے کے باوجود بھی کہ یہ علاقہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے خطرناک مقامات میں سے ایک تھا۔
کیئو سے اوڈیسا جانے والی سڑک اب کافی بہتر حالت میں ہے۔ اس کی مرمت کر دی گئی ہے اور تقریباً ہر جگہ سڑک کی سطح اچھی اور ہموار ہے۔
تاہم پٹرول کی قیمتیں انتہائی زیادہ ہیں۔ کم ایندھن خرچ کے باوجود کیئو سے اوڈیسا تک آنے جانے کا خرچ تقریباً 130 امریکی ڈالر آیا۔
اوڈیسا اب بہت زیادہ مہنگا شہر بن چکا ہے۔
تین دن کے قیام کے دوران دو افراد نے وہاں تقریباً ایک ہزار امریکی ڈالر خرچ کیے اور یہ خرچ کسی بڑی عیاشی کے بغیر تھا، یعنی ہم نے واضح طور پر متوسط طبقے کے معیار کے مطابق اپنے پیسے خرچ کیے۔
کھانے پینے کے معاملات خاصے توجہ طلب ہیں اور وجہ یہ ہے کہ یہاں صرف کھانا مہنگا ہی نہیں بلکہ تقریباً ہر جگہ رش بھی ہوتا ہے۔ دو افراد کے لیے ایک عام رات کے کھانے کا اوسط بل تقریباً 50 امریکی ڈالر بنتا ہے جبکہ ریستورانوں میں جگہ حاصل کرنے کے لیے کئی دن پہلے بکنگ کرانا ضروری ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن سب سے زیادہ حیران کن بات یہاں کا ماحول ہے۔ ایک طرف قیمتوں کے لحاظ سے یہ ایک پرتعیش سیاحتی مقام ہے، جبکہ دوسری طرف یہاں ہر وقت جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔
اتوار 19 جولائی کو یوکرین کی سب سے بڑی بندرگاہ اوڈیسا کے قریب روسی میزائل حملے میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔ پیر 20 جولائی کو شہر میں ایک اور بمباری کے نتیجے میں تین افراد مارے گئے۔ اس کے اگلے روز شہر کے تاریخی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہاں بمباری کے واقعات کیئو کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔ سائرن دن میں چار سے چھ مرتبہ بجتے ہیں جبکہ رات کے وقت بھی ان کی آواز سنائی دیتی ہے۔
شہر کو اس جنگ کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے، خاص طور پر بندرگاہ کے قریبی علاقے کو۔ روسی حملوں کے باعث یہاں روزانہ لوگ اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔
اس کے باوجود ساحلوں پر لوگوں کا ہجوم موجود رہتا ہے اور لگتا ہے کہ یہاں کُچھ ہوا ہی نہیں کیونکہ لوگ اس مقام پر شایا اپنا غم بھولنے کے لیے آتے ہیں۔
مقامی ذرائع حملوں کی تفصیلات مسلسل نشر کرتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ’ایک میزائل اب اوڈیسا کے مشہور ساحل ایبیزا بیچ کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘
قریب موجود دوسرے ساحل پر موجود لوگ اس پر عدم دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ جملے سننے کو ملتے ہیں کہ ’اوہ، وہ تو ایبیزا جا رہا ہے، ہماری طرف نہیں آ رہا۔‘ حالانکہ دونوں ساحلوں کے درمیان فاصلہ زیادہ سے زیادہ چار کلومیٹر کے قریب ہے۔
ساحلوں پر پناہ گاہیں موجود ہیں، لیکن وہاں پہنچنے کے لیے تقریباً دس منٹ پیدل چلنا پڑتا ہے، اسی لیے زیادہ تر لوگ وہیں کھڑے رہتے ہیں اور آسمان پر گزرنے والے میزائلوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہUllstein Bild/Ullstein Bild via Getty Images
شدید ترین بمباری کے دوران ایک موقع پر ہم بھی پناہ لینے کے لیے بھاگے۔ جس جگہ ہم پہنچے وہ قریب ہی ایک بار تھا، جس کی چھت کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی تھی۔
کیا عجیب پناہ گاہ تھی، کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ایک ایسی جگہ جو صرف ذہنی تسلی کا ذریعہ تھی اور کُچھ نہیں۔
اوڈیسا کی اہمیت
روسی حملے کے دوران یوکرین کے شہر اوڈیسا میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے خاص طور پر روسی صدر ولادیمیر پیوتن اور ماسکو حکومت کے عزائم کو مدنظر رکھتے ہوئے۔
اوڈیسا کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ روس کی تاریخ اور ثقافت میں اس شہر کا ایک اہم مقام ہے۔
بحیرۂ اسود کے شمال مغربی ساحل پر واقع یہ شہر دس لاکھ سے زائد آبادی رکھتا ہے۔ یہ ایک کثیر نسلی ثقافتی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم سیاحتی اور نقل و حمل کا مرکز بھی ہے۔
اسے کبھی کبھی ’بحیرۂ اسود کا موتی‘ بھی کہا جاتا ہے، شاید اس لیے کہ یہاں کا تاریخی طرزِ تعمیر روسی انداز کے بجائے زیادہ بحیرۂ روم کے انداز سے مشابہ ہے جس پر فرانسیسی اور اطالوی اثرات بھی نمایاں ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اوڈیسا، کیئو یا یوکرین کے دیگر شہروں سے بہت مختلف شہر ہے۔
یہ شہر آج بھی مضبوط روسی جڑیں رکھتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخ کے لحاظ سے یہاں دو نہایت اہم واقعات پیش آئے۔
پہلا واقعہ سنہ 1905 میں پیش آیا، جب اوڈیسا میں مزدوروں کی بغاوت ہوئی۔ اس بغاوت کو سمندر میں موجود جنگی جہاز پوتمکن کے عملے کی حمایت حاصل تھی۔ یہ بغاوت زارِ روس کی فوجوں کی جانب سے ایک قتلِ عام پر ختم ہوئی جس میں اندازاً 1000 افراد مارے گئے۔
یہ بغاوت ان کئی کوششوں میں سے ایک تھی، جنھوں نے بالآخر سنہ 1917 کے روسی انقلاب کی راہ ہموار کی۔ بعد ازاں اسے سرگئی آئزن سٹائن کی سنہ 1925 میں بنائی گئی مشہور فلم ’بیٹل شپ پوتمکن‘ میں امر کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسرا اہم واقعہ دوسری عالمی جنگ کے دوران پیش آیا، جب سنہ 1941 میں رومانیہ اور جرمن فوجوں نے شہر پر حملہ کیا۔ اوڈیسا کا دفاع 73 دن تک جاری رہا اور اس دوران 40000 سے 60000 کے درمیان سوویت فوجی ہلاک ہوئے۔
آخرکار سوویت یونین نے اوڈیسا کو ’ہیرو شہر‘ کا خطاب دیا۔
دھماکہ خیز بارودی سرنگوں والے ساحل
اس سال اوڈیسا کے بہت سے ساحلوں کو سرکاری طور پر دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
سمندری ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے والی دھماکہ خیز بارودی سرنگیں اب اتنا خوف پیدا نہیں کرتیں، کیونکہ ساحل کے ساتھ حفاظتی بند موجود ہیں جو انھیں روک دیتے ہیں۔
مثلاً جس ساحل پر میں سب سے زیادہ جاتا رہا وہاں بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر عمر کے لوگ موجود تھے۔ سڑکوں پر روایتی مناظر بھی اب تک قائم تھے، جہاں مکئی فروخت کی جا رہی تھی، راپانا اور بکلوا فروخت کر رہے تھے۔
ایک اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس علاقے کے تقریباً تمام باشندے روسی زبان بولتے ہیں۔
ہم نے سانژیئکا کا بھی دورہ کیا۔ وہاں دلکش گلیمپنگ مقامات، بارز اور چٹان سے نیچے سمندر تک جانے والی سیڑھیاں بن چکی ہیں۔
تاہم چونکہ وہاں کوئی بندرگاہ موجود نہیں اور سمندر کھلا ہے اس لیے دھماکہ خیز بارودی سرنگیں آسانی سے ساحل تک پہنچ سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے میرا دل پانی میں اترنے کو بالکل نہیں چاہا۔
یقیناً ہم نے ’پریووز‘ بازار کا بھی دورہ کیا۔ وہاں اشیا کی ورائٹی حیرت انگیز ہے، قیمتیں کیئو جیسی ہی ہیں لیکن دھوپ کی وجہ سے پھل کہیں زیادہ میٹھے ہیں۔
اس وقت شہر میں مقامی مصنوعات کو فروغ دینے کا ایک مضبوط رجحان موجود ہے، جیسے فورشماک، میکاڈو ٹماٹروں سے تیار کردہ سنیکس اور دیگر ’اوڈیسا کی خصوصی سوغات‘۔ انھوں نے کامیابی سے انھیں ایک شاندار برانڈ میں تبدیل کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رات کے وقت جنگی حالات کے باعث بجلی کی بندش کی وجہ سے شہر کا مرکزی علاقہ اکثر اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ سڑکوں پر جنریٹروں کی گونج سنائی دیتی ہے جو کیئو کی سردیوں کی یادیں تازہ کر دیتی ہے۔
اور اسی اندھیرے کے درمیان، فضائی حملوں کے سائرن یا طیارہ شکن دفاعی نظام کی آوازوں کے باوجود سڑکوں پر بیٹھے مقامی موسیقار اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔
اوڈیسا ہمیشہ کی طرح آج بھی شاندار اور اپنی خاص فضا کی وجہ سے جانا جاتا ہے، باوجود اس کے کہ اس کے گرد جنگ کی تمام تلخ حقیقتیں موجود ہیں۔
روس سے دوری اختیار کرنا
اوڈیسا کے بہت سے لوگ سنہ 2023 کے ڈی کالونائزیشن قانون کے حامی ہیں۔ اس قانون کے تحت مقامی حکام کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے شہروں سے ایسے تمام سڑکوں کے نام، یادگاریں اور تحریریں ہٹا دیں جن کا تعلق روس کی سامراجی ماضی سے ہو سکتا ہے۔
جن مجسموں کو ہٹایا جانا تھا ان میں روسی ملکہ کیتھرین کا مجسمہ بھی شامل تھا۔ اسی طرح ان سڑکوں کے نام بھی تبدیل کیے گئے جو روسی اور سوویت شخصیات کے نام پر رکھے گئے تھے۔
مثلاً پشکن سٹریٹ کا نام بدل کر اٹیلین سٹریٹ رکھ دیا گیا، جبکہ کیتھرین سٹریٹ اب یورپین سٹریٹ کہلاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس شہر میں یوکرینی زبان کے استعمال کو بھی خصوصی طور پر فروغ دیا جا رہا ہے، جہاں اب بھی روسی زبان بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہے۔
جب اوڈیسا کے باشندوں میں روس کے خلاف پائی جانے والی مزاحمت کے بارے میں ایک مقامی شخص سے پوچھا جاتا ہے جو اپنے شہر کے اس ورثے پر فخر کرتے ہیں کہ یہ ایک کثیر ثقافتی بندرگاہ ہے جو دنیا کے لیے کھلی رہی ہے تو اس کا جواب لا جواب کر دینے والا ہوتا ہے۔
اوہدے کیپر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دشمن خود ہم سے کہیں زیادہ اس معاملے پر کام کر رہا ہے تاکہ ایک روسی زبان بولنے والے شہر کو یوکرینی شہر بنا دے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ لوگوں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ سمجھیں کہ روسی اصل میں کون ہیں اور کیا ہمیں واقعی ان کی ضرورت ہے یا نہیں۔‘
جیسا کہ یوکرین کے باقی حصوں میں بھی صورتحال ہے اگر روس اوڈیسا پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا تو ایسا لگتا ہے کہ وہ کم از کم اسے مفلوج کرنے کے لیے سر توڑ کوشش کرے گا۔



















