پشاور کے عمران خان کرکٹ سٹیڈیم میں خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس: ’ساؤنڈ سسٹم، کرسیاں اور باقی سامان اسمبلی سے لایا گیا‘

،تصویر کا ذریعہ@PTIKPOfficial
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پاکستان کی قومی اسمبلی یا پھر کسی بھی صوبائی اسمبلی کا کوئی اجلاس بلانے کی جب بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس اسمبلی سیشن میں کن معاملات پر بات چیت ہو گی یا اسمبلی اجلاس کا ایجنڈا کیا ہو گا۔
لیکن دو روز قبل جب خیبر پختونخوا کے اسمبلی سیشن کے حوالے سے ایک نوٹیفیکیشن آیا تو اجلاس کے مقام پر بات ہونے لگی۔ دراصل کے پی اسمبلی نے یہ اجلاس پشاور کے عمران خان کرکٹ سٹیڈیم میں منعقد کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔
تنقید کے باوجود بھی بدھ کے روز یہ اجلاس عمران خان کرکٹ سٹیڈیم میں ہی ہوا اور بہت سے صارفین نے اس حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت پر نہ صرف تنقید کی بلکہ ان پر عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو ضائع کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ اس کے علاوہ اس اجلاس کے دوران بد انتظامی بھی دیکھی گئی۔
لیکن خیبرپختونخوا اسمبلی نے کرکٹ سٹیڈیم میں اجلاس بلانے کا فیصلہ کیوں کیا اور کیا واقعی اس پر بہت زیادہ اخراجات ہوئے؟
ان سوالوں کے جواب جاننے سے پہلے ہم یہ دیکھ لیتے ہیں کہ اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری نوٹیفیکشن میں کیا کہا گیا تھا اور اس کا کیا قانونی جواز پیش کیا گیا تھا؟
خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ کے مراسلے میں کیا کہا گیا؟
صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق اسمبلی کا اجلاس سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی ہدایت پر 22 اپریل 2026 بروز بدھ سہ پہر تین بجے عمران خان کرکٹ سٹیڈیم (ارباب نیاز سٹیڈیم) پشاور میں منعقد ہو گا۔
مراسلے میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا گیا کہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے آئین و قواعد کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ اجلاس طلب کیا، جو صوبائی اسمبلی کے طریقہ کار و قواعد 2025 کے مطابق منعقد کیا جا رہا ہے۔
مراسلے کے مطابق سپیکر نے ہدایت کی کہ اجلاس کے دوران تمام انتظامی سیکرٹریز کی بروقت موجودگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایوان کی کارروائی مؤثر اور منظم انداز میں آگے بڑھائی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اراکین اسمبلی کے لیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ@PTIKPOfficial
پی ٹی آئی کو کرکٹ گراؤنڈ میں اجلاس کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کھلے میدان میں اجلاس منعقد کرنے کا مقصد یہ تھا کہ عوام کو براہ راست اس اجلاس میں شامل کیا جائے اور بتایا جائے کہ ان کے منتخب نمائندے کیسے اجلاس میں شرکت کرتے ہیں، کیا سوالات اٹھاتے ہیں اور یہ ساری کارروائی کیسے ہوتی ہے۔
بابر سلیم سواتی کا کہنا تھا کہ ’اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر قدغنیں ہیں اور ان پر دباؤ ہے‘ اور ایسے میں وہ اپنی آواز بہتر انداز میں عوام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
’ساؤنڈ سسٹم، کرسیاں اور باقی سامان اسمبلی سے لایا گیا‘
سوشل میڈیا پر اس اجلاس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کے لیے عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو خرچ کیا گیا تاہم اس بارے میں صوبائی اسمبلی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس کے لیے کوئی زیادہ رقم خرچ نہیں کی گئی۔
انھوں نے بتایا کہ ’ساؤنڈ سسٹم اسمبلی سے لایا گیا، کرسیاں اور باقی سامان بھی اسمبلی سے لایا گیا، صرف پی سی بی کی جانب سے سٹیڈیم میں نصب سکرینز کو استعمال کرنے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے سکرینز نجی طور پر لائی گئی تھیں اور اس کے لیے کوئی زیادہ خرچہ نہیں کیا گیا تھا۔‘
واضح رہے کہ پشاور کے عمران خان کرکٹ سٹیڈیم کی حال ہی میں تزین و آرائش کی گئی ہے تاہم اس کے باوجود پی ایس ایل کے لیے تیار اس سٹیڈیم میں ٹورنامنٹ کا کوئی میچ اب تک نہیں ہو سکا۔
اجلاس شروع ہونے میں تاخیر اور بدانتظامی

،تصویر کا ذریعہ@PTIKPOfficial
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ اجلاس دوپہر تین بجے شروع ہونا تھا اور اس کے لیے کالجز اور یونیورسٹیز کے کچھ طلبا وہ طالبات بھی پہنچے تھے تاہم اجلاس اتنی تاخیر سے شروع ہوا کہ بیشتر لوگ اجلاس شروع ہونے سے پہلے ہی سٹیڈیم سے چلے گئے تھے۔
اس بارے میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اجلاس بہت کم وقت میں شیڈول دیا گیا اور اس کے لیے کس بھی رکن نے اپنے سوشل میڈیا پیجز پر لوگوں کو شریک ہونے کی اپیل نہیں دی تھی اس لیے شاید لوگ کم آئے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آئندہ اس کے لیے بہتر تیاری کی جا سکتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شریک ہو سکیں۔‘
اس اجلاس کو دیکھنے کے لیے آنے والے کچھ طلبا اور طالبات کا کہنا تھا کہ یہ ایک اچھی کاوش ہے اور اس سے انھیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔
بی ایس کی طالبہ سلوی نواز نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ یہ اجلاس دیکھنے آئی ہیں اور یہ لمحہ ان کے لیے یادگار ہے کیونکہ اسمبلی کی عمارت میں شاید انھیں یہ سب کچھ دیکھنے کا موقع نہ مل سکتا۔
یہ اجلاس شام دیر تک جاری رہا اور جب وزیر اعلی سہیل آفریدی تقریر کر رہے تھے تو شدید آندھی چلنے لگی اور وزیر اعلی کو تقریر مختصر کرنا پڑی۔ اس کے علاوہ ساؤنڈ سسٹم میں بھی بار بار مختلف مسائل آتے رہے۔
سکیورٹی کے انتظامات سخت تھے اور سٹیڈیم کے قریب سبزی منڈی اور دیگر دکانیں بند کروا دی گئی تھیں، جس پر لوگوں نے غصے کا اظہار کیا۔
اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس میں شرکت کی۔
پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی جماعت کا یہ موقف ہے کہ آئینی اور جمہوری سطح پر یہ اجلاس کہیں بھی منعقد ہو، پیپلز پارٹی موجود ہو گی۔


























