آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میجر جنرل فیصل نصیر کی بطور نیکٹا سربراہ تعیناتی اہم کیوں ہے؟
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
پاکستان کی وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا گیا ہے اور یوں وہ وزارت داخلہ کے تحت سنہ 2008 میں قائم کیے جانے والے اس ادارے کے پہلے فوجی سربراہ بن گئے ہیں۔
واضح رہے کہ نیکٹا کا کام دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف قومی حکمت عملی مرتب کرنا، ایکشن پلان تیار کرنا، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانا اور وفاقی حکومت کو پیش رفت سے آگاہ کرنا ہے۔ نیکٹا کو ماضی میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف تشکیل دیے گئے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔
اس ضمن میں جاری ہونے والے سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق میجر جنرل فیصل نصیر کی یہ تعیناتی تین سال کے لیے ’سیکنڈمنٹ‘ (یعنی سادہ الفاظ میں ڈیپوٹیشن) کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
میجر جنرل فیصل نصیر اس سے قبل انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے انٹرنل ونگ، جسے ’ڈی جی سی‘ کہا جاتا ہے، کے سربراہ رہے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ان کی تقرری وفاقی حکومت کی منظوری سے کی گئی ہے اور یہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور آئندہ احکامات تک برقرار رہے گی۔
نیکٹا کے قیام کے بعد سے اس ادارے کی سربراہی مجموعی طور پر پولیس سروس کے افسران کے پاس رہی ہے اور ان میں وہ افسران بھی شامل تھے جنھوں نے سویلین خفیہ ایجنسی انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کی بھی باگ ڈور سنبھالے رکھی۔
نیکٹا میں فوجی افسر کو بطور سربراہ لانے کی ضرورت کیوں پڑی؟
پولیس سروس آف پاکستان سے ریٹائر ہونے والے خواجہ خالد فاروق سنہ 2011 سے سنہ 2013 کے درمیان نیکٹا کے سربراہ یعنی نیشنل کوآرڈینیٹر رہ چکے ہیں۔
بی بی سی نیوز اُردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ حالیہ تعیناتی سے قبل میجر جنرل فیصل نصیر جس پوزیشن پر تھے، وہ بہت اہم ذمہ داری تھی، جبکہ دوسری جانب نیکٹا کا کوئی خاص اثر دکھائی نہیں دیتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی رائے میں گذشتہ برسوں کے دوران نیکٹا محض ایک ریسرچ ونگ یا تھنک ٹینک بن کر رہ گیا ہے، جہاں کچھ مقالے لکھے جاتے ہیں اور اس حوالے سے کام ہوتا ہے۔ اُن کے بقول یہ کوئی ’آپریشنل‘ ادارہ نہیں ہے۔
خواجہ خالد فاروق کا کہنا ہے کہ نیکٹا کے بطور سابق سربراہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ادارہ دیگر انٹیلیجنس ایجنسیوں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب میجر جنرل فیصل نصیر کی تعیناتی سے ہو سکتا ہے کہ اس ادارے کے وسائل میں اضافہ ہو جائے اور اس ادارے کی اپنی مہارت بھی بڑھ جائے اور یوں یہ ایک باخبر اور بااثر افسر کے تحت چلنے والا ایک مفید ادارہ بن جائے۔
انھوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ فیصل نصیر نیکٹا میں پہلے فوجی افسر سربراہ کے طور پر آئے ہیں، مگر اس ادارے میں نچلی سطح پر فوجی افسران کی تعیناتی ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے۔
سابق پولیس افسر کے مطابق نیکٹا کا پہلا قانون اُن کے دور میں بنا تھا، جب یہ بحث ہو رہی تھی کہ اس ادارے کو کس کے تحت کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق قانون میں اس ادارے کو پہلے وزیر اعظم کے تحت رکھا گیا اور اس کی ایک کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری داخلہ کو دی گئی۔
ان کے مطابق ’اس کے بعد پھر قانون میں تبدیلی کر کے نیکٹا کو وزارت داخلہ کے تحت کر دیا گیا۔‘
فیصل نصیر کی تعیناتی کے پس منظر میں خالد فاروق نے کہا کہ بظاہر ’نیکٹا کا بنیادی کردار تبدیل کر کے اسے اب سویلین سےعسکری ادارہ بنا دیا گیا ہے۔‘
نیکٹا کی کارکردگی سے متعلق بات کرتے ہوئے خواجہ خالد فاروق نے کہا کہ ’نیکٹا کی کارکردگی کبھی مؤثر اور غیرمعمولی نہیں رہی۔ شاید اس کی ایک وجہ اونرشپ کا مسئلہ رہا ہے۔‘
ان کے مطابق زیادہ سے زیادہ جو اس ادارے میں ہوتا آیا ہے، وہ یہی ہے کہ محض رپورٹیں تیار ہوتی ہیں اور ’ریسرچ سیل‘ ان رپورٹس کو اپنے ریکارڈ کا حصہ بنا لیتا ہے۔
نیکٹا کے بانی سربراہ طارق پرویز، جن کا تعلق بھی پولیس سروس سے تھا، نے بی بی سی نیوز اُردو کو بتایا کہ اس ادارے کے بطور بانی سربراہ اُن کا یہ تصور تھا کہ ایک جگہ تمام انٹیلیجنس معلومات جمع ہوں گی اور پھر یہ ادارہ رابطہ کاری کا کردار ادا کرے گا۔
یعنی آئی ایس آئی، آئی بی یا سی ٹی ڈی کی جانب سے دی جانے والی ’تھریٹ اسسمنٹ‘ کی بنیاد پر یہ ادارہ آزادانہ طور پر حکومت اور پالیسی ساز اداروں کو اپنی بامقصد ’اسسمنٹ‘ دے گا اور یوں سویلین ’اِن پُٹ‘ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
نیکٹا کے پہلے سربراہ طارق پرویز کے مطابق میجر جنرل فیصل نصیر کی تعیناتی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب ’ملٹری مائنڈ سیٹ‘ فیصلہ کرے گا کہ کیا خطرات لاحق ہیں۔
اُن کی رائے میں فوج کے زیر اثر نیکٹا زیادہ مفید ادارہ نہیں رہے گا کیونکہ بامقصد اسسمنٹ ممکن نہیں ہو سکے گی، کیوںکہ اس ادارے کا سربراہ اب خود فوج کا حصہ ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں طارق پرویز نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ میجر جنرل فیصل نصیر کی تعیناتی سے سول ملٹری توازن متاثر ہو گا۔
ان کی رائے میں ’ایسے میں اگر اس ادارے کو بے تحاشا وسائل بھی دستیاب کر دیے جائیں، اس ادارے کو پکڑ دھکڑ کے اختیارات بھی مل جائیں اور گلی گلی نیکٹا کے دفاتر بھی کھول دیے جائیں تو بھی وہ مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکیں گے، جن کو ذہن میں رکھ کر اس ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔‘
طارق پرویز نے کہا کہ ’نیکٹا کا کبھی آپریشنل کردار تھا بھی نہیں، نہ اس نے کسی متوازی خفیہ ایجنسی کے طور پر کام کرنا تھا، جس کے بارے میں آغاز کے دنوں میں چند آئی ایس آئی افسران نے مجھ سے بات کرتے ہوئے خدشات کا اظہار بھی کیا تھا۔‘
دوسری جانب دفاعی تجزیہ کار اور سابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل خالد نعیم لودھی نے بی بی سی نیوز اُردو کو بتایا کہ یہ خدشات درست نہیں ہیں کہ نیکٹا کی سربراہی کسی فوجی افسر کے پاس آنے سے توازن بگڑ جائے گا، کیونکہ انسداد دہشت گردی جیسے معاملات میں فوج کا اہم کردار ہے۔
اُن کے مطابق آئی ایس آئی سے تعلق رکھنے والا ایک افسر اس ادارے کے لیے موزوں انتخاب ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ذمہ داری کی نوعیت بھی ایک جیسی ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت متعدد سویلین اداروں کی سربراہی بھی فوجی افسران کے پاس ہے۔ جن میں نادرا، این ڈی ایم اے اور پی ٹی اے جیسے ادارے شامل ہیں۔
سابق سیکریٹری دفاع کے مطابق ہو سکتا ہے کہ اس تعیناتی کے ذریعے نیکٹا جیسے غیرمؤثر سمجھے جانے والے ادارے کو مضبوط بنانے کا ارادہ کیا گیا ہو۔
انھوں نے کہا کہ تاہم اہم سوال تو یہی ہے کہ اتنے اہم فوجی افسر کو اس ادارے میں کیوں بھیج دیا گیا؟
بی بی سی نیوز اردو کی منزہ انوار نے جب یہی سوال وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے پوچھا تو انھوں نے اس معاملے پر اپنے مختصر ردعمل میں کہا کہ میجر جنرل فیصل نصیر کی نیکٹا کے سربراہ کے طور پر تعیناتی فوج کے ادارے نے کی ہے، اس لیے وہ اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
صحافی و تجزیہ کار ماجد نظامی نے بی بی سی نیوز اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ تاثر درست معلوم ہوتا ہے کہ اس تعیناتی کے ذریعے نیکٹا کے ’مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے‘ کی کوشش کی گئی ہے۔
تاہم اُن کے بقول اصل امتحان اب یہ ہے کہ یہ ادارہ عملی طور پر کتنے عرصے میں فعال اور مؤثر بنایا جا سکے گا، اس کے راستے میں حائل انتظامی اور ادارہ جاتی مشکلات کیسے دور ہوں گی، اور اسے درکار بجٹ اور افرادی قوت کس طرح فراہم کی جائے گی۔
ان کے مطابق اس وقت سب سے اہم اور بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا نیکٹا کے موجودہ قانونی ڈھانچے میں کسی حاضر سروس فوجی افسر کی بطور سربراہ یا نیشنل کوآرڈینیٹر تعیناتی کی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔
ماجد نظامی کے مطابق نیکٹا ایکٹ 2013، جو ادارے کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہے، بظاہر اس بات کا تذکرہ کرتا ہے کہ ادارے کی قیادت گریڈ 22 یا اس کے برابر عہدے کا افسر کرے گا اور ادارے کے سربراہ کا تقرر باری باری بیوروکریسی یا پولیس سروس آف پاکستان سے کیا جا سکتا ہے۔
اُن کے نزدیک یہ معاملہ بھی وضاحت طلب ہے کہ آیا کسی حاضر سروس فوجی افسر کی تعیناتی کے لیے قانون میں ترمیم کی جائے گی یا پھر موجودہ قانونی فریم ورک کے اندر ہی اس تقرری کا جواز نکالا گیا ہے۔
میجر جنرل فیصل نصیر کون ہیں؟
بی بی سی نیوز اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق فوجی افسر فیصل نصیر کو سنہ 2022 میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ وہ آئی ایس آئی کے انٹرنل ونگ، جسے عام طور پر ’پولیٹیکل ونگ‘ یا صرف ’سی‘ بھی کہا جاتا ہے، کے سربراہ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے مراد کاؤنٹر انٹیلیجنس نہیں، بلکہ یہ محض ایک حرف کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ آئی ایس آئی میں ان کے علاوہ ڈی جی اے، بی وغیرہ جیسے مخففات بھی استعمال ہوتے ہیں۔
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی بطور میجر جنرل اسی عہدے پر تعینات رہے تھے۔ یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو ’سیاسی سرگرمیوں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی‘ سمیت چار الزامات پر 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔
دستیاب معلومات کے مطابق میجر جنرل فیصل نصیر نے فوج کی پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا اور اپنے کریئر کے ابتدائی حصے میں ہی کور آف ملٹری انٹیلیجنس میں چلے گئے تھے، جس کے بعد ان کا کریئر زیادہ تر انٹیلیجنس اسائنمنٹس تک محدود رہا۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان سے متعلق زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
انھیں اپنے کریئر کے دوران تمغہ بسالت اور امتیازی سند جیسے اعزازات کے علاوہ آرمی چیف کمنڈیشن کارڈ بھی مل چکا ہے۔
اپنے کریئر کے دوران میجر جنرل فیصل نصیر دو مرتبہ بلوچستان میں تعینات رہے۔
سنہ 2022 میں بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے سرفراز بگٹی، جو اب وزیر اعلیٰ بلوچستان ہیں، نے بتایا تھا کہ میجر جنرل فیصل نصیر بلوچستان میں انتہائی کشیدہ حالات کے دوران تعینات رہے ہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا تھا کہ ’ہم نے انھیں انسداد دہشت گردی اور کاؤنٹر انٹیلیجنس کے معاملات، جن میں چاہے لشکر جھنگوی ہو، داعش ہو یا دیگر ممالک کی ایجنسیاں، نہایت ذہانت اور پیشہ ورانہ انداز میں کام کرتے دیکھا ہے۔‘
دوسری جانب پاکستان کے عوامی حلقوں میں بھی میجر جنرل فیصل نصیر کا نام نیا نہیں ہے۔
اپریل 2022 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد اُن کی جانب سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا گیا تھا اور احتجاجی جلسوں اور تقاریر کے دوران وہ میجر جنرل فیصل نصیر کا نام لے کر ان پر شدید تنقید کرتے تھے۔
تین نومبر 2022 کو لانگ مارچ کے دوران جب ایک قاتلانہ حملے میں عمران خان زخمی ہوئے تو انھوں نے اس حملے کا الزام جن تین شخصیات پر عائد کیا تھا، ان میں سے ایک فیصل نصیر تھے۔ تاہم پاکستانی فوج نے اس الزام کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا تھا۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران عمران خان نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیا تھا کہ ’میجر جنرل فیصل نصیر کو عہدے سے ہٹایا جائے یا ان کا تبادلہ کیا جائے۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج کرانا چاہتے ہیں مگر ایسا نہیں کیا جا رہا۔
عمران خان کے ان الزامات پر فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’عمران خان کی جانب سے ادارے اور ایک مخصوص افسر کے خلاف بے بنیاد الزامات ناقابل قبول ہیں۔‘
آئی ایس پی آر نے اپنی پریس ریلیز میں یہ بھی کہا تھا کہ ’فوج نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ ادارے اور اس کے سینیئر افسر کے خلاف ہتک عزت پر قانونی کارروائی کی جائے۔‘
سوشل میڈیا پر ردعمل
فیصل نصیر کی بطور نیکٹا سربراہ تعیناتی کی خبر گذشتہ روز سے پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث اور صارفین اس پر اپنی اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایکسپریس ٹربیون سے منسلک خارجہ اور دفاعی امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی کامران یوسف نے لکھا کہ ’میجر جنرل فیصل نصیر کی نیکٹا کوآرڈینیٹر کے طور پر تقرری اس وقت سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔‘
ان کے مطابق ’یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ فیض حمید سے قبل سکیورٹی اداروں سے باہر بہت کم لوگ آئی ایس آئی میں ڈی جی (سی) کے منصب سے واقف تھے۔ روایتی طور پر یہ ایسا عہدہ سمجھا جاتا تھا جس کی نوعیت ہی پس منظر میں رہ کر کام کرنے کی متقاضی تھی۔ تاہم فیض حمید کی تقرری کے بعد یہ صورتحال بدل گئی۔ اس کے بعد سے ڈی جی (سی) کا عہدہ بار بار عوامی اور میڈیا توجہ کا مرکز بنتا رہا ہے۔‘
کامران یوسف کے مطابق ’کسی بھی انٹیلیجنس ادارے کے لیے ایسی غیرمعمولی عوامی توجہ عموماً فائدہ مند نہیں سمجھی جاتی۔ انٹیلیجنس ادارے عموماً خاموشی اور رازداری کے ماحول میں زیادہ مؤثر انداز میں کام کرتے ہیں۔‘
تجزیہ کار امتیاز گل نے لکھا کہ میجر جنرل فیصل نصیر کی ’سیکنڈمنٹ‘ دراصل نیکٹا کی سربراہی میں باقی ماندہ محدود سویلین کردار کا بھی خاتمہ معلوم ہوتی ہے۔
ان کے مطابق ’نیکٹا، جہاں پہلے ہی حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کی نمایاں موجودگی ہے، اب بظاہر جی ایچ کیو اور آبپارہ کے اثر و رسوخ کا مزید براہ راست توسیعی ادارہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔‘
اینکر پرسن ابصا کومل نے ایکس پر لکھا کہ ’صحافی عارضی سرکاری عہدوں پر فائز افراد سے اتنے ذاتی طور پر وابستہ کیوں ہو جاتے ہیں؟ میں دیکھ رہی ہوں کہ کچھ لوگ تو جیسے یہ ماننے کو ہی تیار نہیں کہ ایک مخصوص شخصیت کی کہیں اور تعیناتی ہو گئی ہے۔ کیا معمول کی تقرریاں اور تبادلے ہمیشہ سے صحافیوں کے لیے اتنا بڑا جذباتی صدمہ رہے ہیں؟‘