بنوں اور لکی مروت میں پولیس امن کمیٹیوں کے ساتھ نئے معاہدے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں اور لکی مروت میں قائم پولیس امن کمیٹیاں اب ایک نئے معاہدے کے تحت ازخود دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں نہیں کر سکیں گی۔

معاہدے کے مطابق ایسی کارروائیوں کا اختیار محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور دیگر مجاز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہوگا، جبکہ امن کمیٹیاں صرف متعلقہ پولیس حکام کی ہدایات کے مطابق معاونت فراہم کریں گی۔

اس معاہدے میں امن کمیٹیوں کے ارکان پر غیر قانونی سرگرمیوں، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال، سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت اور شہریوں کو ہراساں کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے زیرِ استعمال اسلحے کی نگرانی اور ریکارڈ رکھنے کی شرائط بھی شامل ہیں۔

یہ معاہدہ سنیچر کے روز بنوں اور لکی مروت میں پولیس امن کمیٹیوں کے رہنماؤں، پولیس حکام اور مقامی منتخب نمائندوں کی موجودگی میں طے پایا۔ اس موقع پر رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت، پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی نسیم علی شاہ، رکنِ صوبائی اسمبلی پختون یار خان، ریجنل پولیس افسر غفور آفریدی اور ضلعی پولیس حکام شریک تھے۔

پولیس امن کمیٹیاں کیوں قائم کی گئی تھیں؟

لکی مروت اور بنوں میں پولیس اہلکاروں پر مسلسل حملوں اور بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے بعد پہلے لکی مروت اور بعد میں بنوں میں پولیس امن کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں۔

ان کمیٹیوں میں زیادہ تر پولیس اہلکار شامل تھے جبکہ بعض مقامی افراد بھی ان کی معاونت کرتے تھے۔ ان کمیٹیوں کا مقصد شدت پسندوں کی سرگرمیوں کی روک تھام اور پولیس کی معاونت کرنا تھا۔

مقامی سطح پر بعض حلقوں نے ان کمیٹیوں کی کارکردگی کو سراہا اور دعویٰ کیا کہ ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے حملوں میں کمی آئی۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان کمیٹیوں پر اختیارات سے تجاوز اور بعض معاملات میں اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے الزامات بھی سامنے آنے لگے۔

معاہدے کا پس منظر کیا ہے؟

گذشتہ ہفتے لکی مروت پولیس امن کمیٹی کے ایک عہدیدار سمیع اللہ کو پشاور کے علاقے پشتخرہ چوک کے قریب سے مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا، جس کے بعد امن کمیٹی سے وابستہ اہلکاروں نے احتجاج کرتے ہوئے ڈیوٹی چھوڑ دی تھی۔

امن کمیٹی کے ایک رہنما یونس خان نے اس وقت کہا تھا کہ جب تک ان کے ساتھی کو بازیاب نہیں کروایا جاتا، وہ ڈیوٹی انجام نہیں دیں گے۔ بعد ازاں سمیع اللہ بازیاب ہو گئے تھے۔

اسی دوران بنوں اور لکی مروت میں امن کمیٹیوں سے وابستہ بعض اہلکاروں اور عہدیداروں کے تبادلوں کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ اگرچہ یہ احکامات تاحال واپس نہیں لیے گئے، تاہم معاہدے میں شریک سیاسی رہنماؤں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان معاملات کو جلد حل کیا جائے گا۔

معاہدے میں کیا طے پایا؟

بنوں اور لکی مروت میں الگ الگ معاہدے کیے گئے ہیں جن کا بنیادی مقصد امن کمیٹیوں کے کردار، اختیارات اور ذمے داریوں کو واضح کرنا ہے۔

معاہدے کے مطابق، امن کمیٹیوں کے ارکان دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پولیس اور دیگر اداروں کی مدد کریں گے۔ وہ ازخود کوئی کارروائی نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی متوازی پولیسنگ کے مجاز ہوں گے۔ تمام سرگرمیاں متعلقہ پولیس حکام کے احکامات اور قانون کے مطابق انجام دی جائیں گی۔

کسی شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں رکھا جائے گا۔ دہشت گردی یا عسکریت پسندی سے متعلق مشتبہ افراد کو سی ٹی ڈی یا متعلقہ اداروں کے حوالے کیا جائے گا۔ گرفتاریوں کو قانونی طریقۂ کار کے مطابق ظاہر کیا جائے گا۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگی، تشدد، غیر قانونی گرفتاری، نجی حراست اور انتقامی کارروائیوں سے مکمل اجتناب کیا جائے گا۔ معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ گرفتار افراد کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔

چھاپوں اور دیگر کارروائیوں کے دوران طے شدہ پولیس قواعد و ضوابط کی پابندی لازم ہوگی۔ بعض کارروائیوں کے لیے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ سرکاری اسلحہ یا وسائل کو ذاتی، سیاسی یا قبائلی تنازعات میں استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

اہلکاروں کے پاس موجود سرکاری اسلحے کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے گا۔ ڈیوٹی کے دوران صرف مجاز اہلکار ہی پولیس یونیفارم پہن سکیں گے۔

تو کیا امن کمیٹیوں پر ماورائے قانون کارروائیوں کے الزامات تھے؟ سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز گردش کر رہی تھیں جن میں سفید کپڑوں میں ملبوس افراد ایک نوجوان کو ساتھ لے جاتے دکھائی دے رہے تھے۔ ان ویڈیوز کے بعد بعض حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ پولیس امن کمیٹیوں کے ارکان ماورائے قانون کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

بی بی سی ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتا ہے تاہم بنوں پولیس امن کمیٹی کے ترجمان شیری خان نے ان الزامات کو مسترد کیا۔

انھوں نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم پہلے بھی قانون کے مطابق کام کرتے تھے۔ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ کمیٹی کے لوگ ماورائے قانون یا ماورائے عدالت کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس معاہدے پر دستخط دراصل اس بات کی یقین دہانی ہے کہ ہم پہلے بھی قانون کے دائرے میں کام کرتے تھے اور آئندہ بھی اسی کے مطابق کام کریں گے۔‘

شیری خان کا دعویٰ تھا کہ امن کمیٹیوں کے قیام کے بعد علاقے میں حملوں میں 70 سے 80 فیصد تک کمی آئی ہے اور سکیورٹی کی صورتحال پہلے سے بہتر ہوئی ہے۔

امن کمیٹیوں سے کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد کیسے ہوگا؟

سینٹرل پولیس آفس کے ترجمان عبدالسلام خالد کے مطابق بنوں اور لکی مروت میں امن کمیٹیاں امن و امان کے قیام کے لیے کام کر رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ نئی مفاہمت کے تحت یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی قیادت سی ٹی ڈی اور دیگر مجاز ادارے کریں گے جبکہ امن کمیٹیوں کے ارکان پولیس کمانڈ کے تحت کام کریں گے۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ بعض شکایات تھیں کہ سرچ آپریشنز کے دوران بعض اہلکار کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام سے ہٹ کر کام کرنے لگتے تھے جس کے باعث واضح ضابطہ کار وضع کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔

عبدالسلام خالد نے کہا کہ انسپکٹر جنرل پولیس نے تمام اہلکاروں کو پولیس ڈسپلن کی پابندی کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ فورس کے اندر ’کسی قسم کی بے ضابطگی یا اختلاف برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

معاہدے میں شریک رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا کہ امن کمیٹیوں سے وابستہ اہلکار اب بھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے سکتے ہیں، تاہم یہ کارروائیاں متعلقہ ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) کی اجازت اور پولیس کمانڈ کے تحت ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریری معاہدہ اس بات کی ضمانت ہے کہ تمام فریق اس کی شرائط کے پابند رہیں گے۔

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب ان پولیس کمیٹیوں کا مستقبل کیا ہو گا؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار فدا عدیل کے مطابق بنوں اور لکی مروت میں طے پانے والے معاہدوں میں کہیں یہ ذکر نہیں کہ امن کمیٹیاں ختم کر دی جائیں گی۔

ان کے بقول مقامی منتخب نمائندوں کا خیال ہے کہ ان کمیٹیوں نے امن کی بحالی میں کردار ادا کیا ہے، تاہم نئے معاہدے کے بعد ان کی سرگرمیاں واضح قانونی حدود اور پولیس کمانڈ کے تحت انجام دی جائیں گی۔

فی الحال ان کمیٹیوں کے خاتمے یا ان کے ڈھانچے میں کسی بڑی تبدیلی کے حوالے سے کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔