’دفاعی افواج ایکٹ‘ قومی اسمبلی سے منظور: ’چیف آف ڈیفنس فورسز وزیر اعظم کے اعلیٰ فوجی مشیر ہوں گے‘

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی نے جمعرات کو دفاعی افواج اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق دو بِل کثرت رائے سے منظور کیے ہیں۔

قومی اسمبلی نے ’پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026‘ کی منظوری دی ہے جو 13 نومبر 2025 سے موثر بالعمل سمجھا جائے گا۔ اس میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے ہیڈکوارٹر کے قیام کا ذکر ہے۔ اس بِل میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز قومی سلامتی اور مسلح افواج کے معاملات پر وزیر اعظم کے اعلیٰ فوجی مشیر ہوں گے۔

یہ بِل جمعرات کو قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایوان میں پیش کیا۔ اس موقع پر سپیکر نے شق وار منظوری لی جس کے بعد خواجہ محمد آصف نے بل منظوری کے لیے پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔

دوسری طرف قومی اسمبلی سے منظور کیے گئے نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق بِل میں تجویز دی گئی ہے کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کی تشکیل سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا جائے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ’دونوں بلز میں معمولی ترامیم کی گئی ہیں۔ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کا آفس ختم کر کے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو دیا گیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’آرمی چیف کا آفس ختم کر چیف آف ڈیفنس فورسز کو دینے کی ترامیم کی گئی ہیں۔‘

ان بلز کی منظوری سے قبل اپوزیشن کی جانب سے ضمنی ایجنڈے پر بلز کی منظوری کی تحریک کی مخالفت کی گئی تھی۔

’دفاعی افواج ایکٹ‘ اور ’نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ‘ میں کیا ہے؟

پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 میں ’دفاعی افواج کے ہیڈکوارٹر کے قیام‘ کا ذکر ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا ہیڈکوارٹر ہوگا۔

اس بِل میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو ’قومی سلامتی‘ اور ’مسلح افواج سے متعلق تمام معاملات پر‘ وزیر اعظم پاکستان کا ’پرنسپل ملٹری ایڈوائزر‘ قرار دیا گیا ہے۔

مزید یہ کہا گیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے پاس مسلح افواج کا آپریشنل اور کمانڈ کنٹرول ہو گا اور وہ اس بارے میں ’وفاقی حکومت کو جوابدہ ہوں گے۔‘

چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات اور فرائض کے بارے میں اس بِل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایسے اختیارات استعمال کریں گے اور ایسے فرائض انجام دیں گے جو ’کثیر جہتی انضمام، عملی ہم آہنگی، رابطہ کاری اور ان تمام امور کی نگرانی کے لیے ضروری ہوں جن کے مسلح افواج کے لیے مشترکہ اور تزویراتی مضمرات ہوں۔‘

یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کو اختیار ہوگا کہ وہ ’مسلح افواج سے متعلق قوانین کے مطابق کسی بھی شخص کو ملازمت سے ریٹائر، فارغ یا سبکدوش کر سکتے ہیں۔‘

اس میں آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت تقرر کردہ اشخاص شامل نہیں۔

مزید یہ کہا گیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز مسلح افواج سے متعلق قوانین کے تحت کسی بھی شخص کا ’استعفی منظور یا اسے مسترد کر سکتے ہیں، یا اس کو ملازمت میں برقرار رکھ سکتے ہیں، یا کسی شخص کی ریٹائرمنٹ کی عمر یا ملازمت کی مدت کی حد میں کمی کر سکتے ہیں۔‘

اس بِل کے مقاصد اور وجوہات کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ ’معرکہ حق قومی طاقت کے تمام عناصر کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کی ایک شاندار مثال رہا ہے جس میں پاکستانی عوام کی بھرپور حمایت شامل تھی تاکہ ہماری قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو درپیش خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔‘

’اس کے نتیجے میں دفاعی افواج کا ہیڈکوارٹر مسلح افواج کا ہیڈکوارٹر ہوگا اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی کمان اور اختیار کے تحت کام کرے گا جو قومی سلامتی، دفاع اور مسلح افواج سے متعلق تمام امور پر وزیرِ اعظم کے پرنسپل ملٹری ایڈوائزر ہوں گے۔‘

اس بل میں درج ہے کہ اگر اسے ’موثر بنانے میں کوئی مشکل درپیش ہو یا فی الوقت نافذ العمل کسی بھی دوسرے قانون اور اس ایکٹ کے درمیان کوئی عدم مطابقت ختم کرنی ضروری ہو تو صدر مملکت حکم کے ذریعے ایسی مشکل کا ازالہ کر سکے گا۔‘

اس کے نفاذ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’کوئی بھی قواعد، ضوابط، ہدایات، اعلامیے، احکامات جہاں تک وہ اس ایکٹ کے احکامات سے متناقص نہ ہوں وہ بدستور نافذ العمل رہیں گے۔ وہ قانونی طور پر وضع، جاری یا لیے گئے متصور ہوں گے اور 13 نومبر 2025 سے موثر ہوں گے۔‘

دریں اثنا نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل کے مطابق موجودہ قانون میں جہاں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ذکر ہے وہاں چیف آف ڈیفنس فورسز کے الفاظ شامل کیے جائیں گے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں چیف آف ڈیفنس فورسز نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے رکن ہوں گے۔

مسودے میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کو بھی نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں شامل کیا جائے تاکہ سٹریٹجک فورسز سے متعلق امور میں نمائندگی اور رابطہ کاری کو باضابطہ قانونی حیثیت دی جا سکے۔

مجوزہ ترمیم کے مطابق قانون پارلیمنٹ سے منظوری کے فوری بعد نافذ العمل ہوگا، تاہم اس کا اطلاق 27 نومبر 2025 سے تصور کیا جائے گا۔

مسودے کے مطابق یہ ترامیم پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 میں تجویز کردہ نئے دفاعی کمانڈ ڈھانچے سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے متعارف کرائی جا رہی ہیں۔

چیف آف ڈیفینس فورسز اور کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے عہدے

خیال رہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ نے نومبر 2025 کے دوران 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے افواجِ پاکستان کی کمان میں تبدیلیوں، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کا خاتمہ اور چیف آف ڈیفینس فورسز کا عہدہ متعارف کروایا تھا۔

27ویں آئینی ترمیم کے تحت مسلح افواج کے سربراہان سے متعلق آئین کے آرٹیکل 243 میں ترامیم کی گئیں اور چیف آف ڈیفینس فورسز کا عہدہ تخلیق کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت چیف آف ڈیفینس فورسز کا تقرر کریں گے۔

اس میں یہ بھی درج تھا کہ آرٹیکل 243 میں پیش کی گئی ایک اور ترمیم کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 کو ختم ہو جائے گا۔ اس کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف، جو چیف آف ڈیفینس فورسز بھی ہوں گے، وزیر اعظم کی مشاورت سے نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے سربراہ مقرر کریں گے جن کا تعلق پاکستانی فوج سے ہو گا۔

بعض دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چیف آف ڈیفینس فورسز کا عہدہ تخلیق کرنا وقت کی ضرورت تھی کیونکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی صرف ایک علامتی عہدہ تھا۔ تاہم بعض مبصرین کہتے ہیں کہ اس عہدے سے مسلح افواج میں بری فوج کا کردار مزید طاقتور ہو گا۔

جولائی 2026 کے دوران وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر انھیں کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

27ویں آئینی ترمیم کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے بجائے کمانڈر آف نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا ایک نیا عہدہ متعارف کروایا گیا تھا۔

اس عہدے کا بنیادی تعلق پاکستان کے جوہری اور تزویراتی اثاثوں کی نگرانی اور کمان سے ہے۔