اسرائیلی قید سے ایک لبنانی شہری رہا، مزید چار کی رہائی آج متوقع
لبنان کے ان پانچ شہریوں میں سے ایک کو واپس ان کے ملک کے حوالے کر دیا گیا ہے جنہیں اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کے دوران حراست میں لیا تھا، جبکہ باقی چار افراد کی رہائی جمعہ تک مؤخر کر دی گئی۔
اسرائیلی حکام کے مطابق تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ یہ افراد عام شہری تھے، کسی مسلح یا دہشت گرد تنظیم سے وابستہ نہیں تھے اور نہ ہی کسی کارروائی میں شریک رہے تھے، اس لیے انھیں مزید حراست میں رکھنے کا کوئی جواز موجود نہیں تھا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسرائیل پانچ لبنانی شہریوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔ بعد ازاں لبنانی فوج نے آئی سی آر سی کے ذریعے ان میں سے ایک شخص، مالک غازی، کو وصول کر لیا۔ انھیں جنوبی لبنان کے ناقورہ بارڈر کراسنگ سے شہر صور میں لبنانی فوجی انٹیلی جنس کے دفتر منتقل کیا گیا۔
باخبر ذرائع کے مطابق باقی چار افراد، جن میں حسین عبداللہ محمود عیاش، اسعد محمود محمد الحسیکہ (شامی شہری)، علی حسن شور اور سام ابراہیم الصمادی شامل ہیں، کو جمعہ کی صبح لبنان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔ ریڈ کراس نے اس عمل کو ایک جاری انسانی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام تفصیلات آپریشن مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائیں گی۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد سے پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وہ عام شہری ہیں اور کسی دہشت گرد سرگرمی یا تنظیم سے ان کا تعلق ثابت نہیں ہوا۔ اسی بنیاد پر ان کی رہائی کا فیصلہ کیا گیا۔ جنوبی لبنان میں تنازع کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے اپنی تحویل میں موجود افراد کو رہا کیا ہے۔
لبنانی حکام نے اگرچہ اسرائیل میں موجود اپنے شہریوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی، تاہم متاثرہ خاندانوں اور ان کے امور کی نگرانی کرنے والی ایک کمیٹی کے مطابق کم از کم 33 افراد 2024 سے مختلف اوقات میں لبنانی سرزمین سے حراست میں لیے گئے۔ ان میں ایک شامی شہری اور حزب اللہ کے بعض جنگجو بھی شامل ہیں۔
یہ پیش رفت گزشتہ ماہ روم میں امریکی سرپرستی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان مذاکرات میں لبنانی حکومت نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ زیرِ حراست لبنانی شہریوں کی پہلی کھیپ کو رہا کرے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے اس رہائی کو دونوں ممالک کی جانب سے کی جانے والی ان کوششوں سے جوڑا ہے جن کا مقصد 1980 کی دہائی میں لبنان میں اغوا اور قتل کیے گئے لبنانی یہودی شخصیات کی باقیات کا سراغ لگانا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران لبنان اور اسرائیل نے ان باقیات کی تلاش کے لیے مختلف زمینی سرگرمیاں بھی انجام دی ہیں، تاہم ان کارروائیوں کی نوعیت اور نتائج کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔