آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’خودکشی کی کوشش بھی جرم ہے‘: پاکستان کی شرعی عدالت نے پارلیمان سے منظور قانون کو کالعدم کیوں قرار دیا؟
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مقام, اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے خودکشی کی کوشش کو جرم نہ قرار دینے سے متعلق قانون سازی کو اسلامی اصولوں کے منافی قرار دے کر اسے کالعدم قرار دے دیا ہے۔
فیڈرل شریعت کورٹ نے یہ حکم پارلیمان سے منظور ہونے والی قانون سازی کے خلاف دائر درخواستوں پر دیا۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے سنہ 2022 میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 325 میں تبدیلی کی تھی، جس میں خودکشی کی کوشش کو جرم کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا اور اس قانون سازی کے مطابق خودکشی کی کوشش کرنے والے شخص کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جانی تھی۔
فیڈرل شریعت کورٹ نے اپنے فیصلے میں قومی اسمبلی میں کی جانے والی قانون سازی کا ذکر کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی شخص جو ذہنی بیماری میں مبتلا ہو، اگر وہ خودکشی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
عدالت نے کہا کہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور ماضی میں خودکشی کی کوشش کو اس لیے جرم قرار دیا گیا تھا تاکہ لوگوں کو اس عمل سے روکا جا سکے اور انھیں قانونی کارروائی کا خوف ہو۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کئی مسلم ممالک میں خودکشی کی کوشش کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔
عدالت کے مطابق محض ذہنی بیماری کی بنیاد پر اس قانون کو ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار پیش کیے گئے، جن کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد خودکشی کرتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ ذہنی بیماری ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ سخت سزائیں اور جرمانے خودکشی کے واقعات کو روکنے میں زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔
فیصلے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک شخص خودکشی کرتا ہے جبکہ تقریباً پانچ فیصد افراد نے اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار خودکشی کی کوشش کی ہو گی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ خودکشی کے 79 فیصد واقعات ترقی پذیر ممالک میں پیش آتے ہیں۔
وفاق کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا گیا کہ خودکشی کی کوشش سے متعلق قانون سازی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اکثر ایسی کوشش کرنے والے افراد ذہنی دباؤ یا ذہنی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔
وفاق نے یہ بھی کہا کہ چونکہ خودکشی کی کوشش کرنے والا شخص خود متاثرہ ہوتا ہے، اس لیے اس معاملے کو قانونی کے بجائے صحت کے مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔
مزید کہا گیا کہ ایسے افراد عموماً ذہنی، معاشی اور سماجی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، اس لیے انھیں سزا دینے کے بجائے علاج فراہم کیا جانا چاہیے۔
فیصلے میں وفاق کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس قانون سازی کا مقصد متاثرہ افراد کے اہلِ خانہ کی حوصلہ افزائی کرنا تھا تاکہ وہ اس معاملے کو بیماری کے طور پر لیں اور اسے قانونی کارروائی کے خوف سے چھپانے کے بجائے علاج کروائیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پیکا ایکٹ میں خودکشی کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ خودکشی یا خودکشی کی کوشش کی وجوہات صرف ذہنی بیماری یا دباؤ تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ اس میں دہشت گردی کے مقصد سے خودکشی کرنا، سیاسی یا مالی مفادات کے لیے بھوک ہڑتال، سرعام خود پر تیل چھڑک کر آگ لگانا اور بعض صورتوں میں انٹرنیٹ یا ایپس کے زیرِ اثر آ کر خودکشی کی کوشش بھی شامل ہو سکتی ہے۔
عدالت کے مطابق خودکشی کی کوشش کرنے والے ہر فرد کے حالات مختلف ہوتے ہیں، لیکن اس قانون کے ذریعے کسی بھی وجہ سے خودکشی کرنے کی کوشش کو جرم قرار نہ دینا مناسب نہیں۔
عدالت نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں ایسے افراد کے لیے داد رسی کا طریقہ کار موجود ہے جو ذہنی حوالے سے کسی کمی کا شکار ہوں۔
فیڈرل شریعت کورٹ نے اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی رائے طلب کی، جس کے مطابق خودکشی گناہِ کبیرہ ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ کونسل نے کہا کہ اس جرم کے لیے سزا کا برقرار رہنا ضروری ہے، لہٰذا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 325 کو بحال رکھا جائے۔
عدالت نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کا بھی اپنے فیصلے میں ذکر کیا۔
کونسل کے مطابق اگر کوئی شخص طبی معائنے کے بعد کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا قرار پائے، تو اس پر سزا نافذ نہ کی جائے بلکہ اسے علاج کے لیے بحالی مراکز بھیجا جائے۔
عدالت نے کہا کہ اس قانون کے خاتمے سے سنجیدہ نوعیت کے دو قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر خودکشی کی کوشش جرم نہیں ہو گی تو اس شخص کے خلاف کیسے کارروائی کی جائے گی جو ایسے عمل میں مدد فراہم کرے۔
دوسرا یہ کہ دفعہ 325 کے خاتمے سے معاشرے، خصوصاً بچوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ اس سے لوگوں کو خودکشی پر اکسانا آسان ہو سکتا ہے۔
عدالت نے درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے متعلقہ قانون سازی کو کالعدم قرار دیا اور حکم دیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 325 کو بحال رکھا جائے۔
دفعہ 325 کیا ہے؟
تعزیرات پاکستان کی دفعہ 325 کے تحت خودکشی کی کوشش کو بھی قابل سزا جرم قرار دیا گیا تھا۔ پھر اسمبلی نے سنہ 2022 میں خودکشی کرنے کی کوشش کو جرم کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔
جب دفعہ 325 کو ختم کرنے کا بل ایوان بالا (سینیٹ) میں پیش کیا گیا، تو اُس وقت اس بحث نے جنم لیا تھا کہ آیا خودکشی جرم ہے یا ذہنی صحت کا مسئلہ یا مرض؟ ایوان بالا میں پیش کیے گئے بل میں کہا گیا تھا کہ خودکشی کو جرائم کی فہرست سے نکال کر اسے ذہنی کیفیت یا بیماری کا درجہ دیا جائے جیسا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں کیا گیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان نے اس بل کو منظور کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ خود کشی دراصل ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کی سوجھ بوجھ کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور انسان انتہائی اقدام یعنی اپنی جان لینے جیسا عمل کر گزرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے لوگوں کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ لوگ سزا کے مستحق نہیں ہوتے۔‘
دوسری جانب پارلیمان میں جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیٹر عبدالغفور حیدری کا مؤقف تھا کہ اسلام میں خود کشی کو حرام قرار دیا گیا اور اسی لیے اسے ذہنی بیماری سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
بی بی سی کے پشاور میں نامہ نگار عزیز اللہ خان کو ماہر قانون نور عالم ایڈووکیٹ نے اس بارے میں بتایا تھا کہ ان سے ایسے کئی لوگ رابطہ کرتے ہیں جو خود کشی کی کوشش کے بعد پولیس اور عدالتوں کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مروجہ قوانین کے مطابق اس جرم کا ارتکاب کرنے والے اگر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ کوئی قابل گرفت جرم نہیں رہتا (جیسا کہ دیگر کیسز میں ہوتا ہے) لیکن اگر خودکشی کی کوشش کرنے والا بچ جائے تو انھیں تعزیرات پاکستان کے سیکشن 325 کے تحت زیادہ سے زیادہ ایک سال تک قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
23 دسمبر 2022 کو اُس وقت کے صدر عارف علوی نے یہ دفعہ ختم کرنے کے بل پر دستخط کیے تھے۔
تاہم اب وفاقی شرعی عدالت نے اسے اسلامی اصولوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے پھر سے جرم قرار دے دیا ہے۔