آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, موجودہ عالمی صورتحال پیچیدہ، تنازع کا دوبارہ آغاز ’ناقابل قبول‘ ہو گا: چینی صدر شی جن پنگ

چینی صدر شی جن پنگ نے روسی صدر پوتن کے ساتھ بیجنگ میں ملاقات کے دوران موجودہ عالمی صورتحال کو ’پیچیدہ اور غیر مستحکم‘ قرار دیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کو مل کر’مزید منصفانہ اور مساوی عالمی طرز حکمرانی کے نظام‘ کی تشکیل کے لیے کام کرنا چاہیے۔

خلاصہ

  • چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک 'اہم موڑ' پر ہے اور اس وقت جنگ سے امن کی جانب منتقلی کے مرحلے میں ہے تاہم تنازع کا دوبارہ آغاز 'ناقابل قبول' ہوگا۔
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ 'جنگ میں واپسی کی صورت میں امریکہ کو بہت سے سرپرائز ملیں گے۔'
  • تہران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے 'وقت محدود' ہے: صدر ٹرمپ کا ایران پر ایک اور حملے کا عندیہ
  • براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنانے والے ڈرونز عراق سے آئے تھے: متحدہ عرب امارات کا دعویٰ
  • افغان طالبان سے جڑے دہشت گرد نیٹ ورکس اور اُن کے سہولت کاروں کو انجام تک پہنچایا جائے گا: وزیرِاعظم شہباز شریف

لائیو کوریج

  1. پوتن کا چین کے ساتھ تعلقات ’غیر معمولی حد تک بلند ‘ہونے کا دعویٰ اور چین کا محتاط رویہ, لورا بیکر نامہ نگار بی بی سی کا تجزیہ

    روسی صدر پوتن نے بیجنگ میں ملاقات کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ روس اور چین کے درمیان تعلقات ’غیر معمولی حد تک بلند سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں۔

    ہم اس جملے کو پہلے بھی سن چکے ہیں۔ گزشتہ سال جون اور ستمبر میں چین کے دوروں کے دوران پوتن اور ان کے حکام بھی یہی بات کہہ چکے تھے۔

    تاہم یہ بیان ہمیشہ روس کی جانب سے آتا ہے۔

    یہ درست ہے کہ دوطرفہ تجارت ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے لیکن جب زبان اور اندازِ بیان کی بات آتی ہے تو چین زیادہ محتاط، حتیٰ کہ قدرے محتاط اور دور اندیشی سے کام لیتا ہے۔

    شی جن پنگ اپنے ہم منصب کو ’پرانا دوست‘ کہتے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کو ’غیر متزلزل‘ قرار دے چکے ہیں۔

    چینی رہنما عموماً محتاط انداز اختیار کرتے ہیں اور وہ بلند آہنگ بیانات دینے کے بجائے اپنی برتری برقرار رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    چین وہ شراکت دار ہے جس کی روس کو ضرورت ہے اور اس کے پاس وہ معاشی طاقت اور سفارتی اثر و رسوخ موجود ہے جس کی بنیاد پر وہ تعلقات کے رخ اور شرائط طے کر سکتا ہے۔

  2. موجودہ عالمی صورتحال پیچیدہ، تنازع کا دوبارہ آغاز ’ناقابل قبول‘ ہو گا: چینی صدر شی جن پنگ

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک ’اہم موڑ‘ پر ہے اور اس وقت جنگ سے امن کی جانب منتقلی کے مرحلے میں ہے تاہم تنازع کا دوبارہ آغاز ’ناقابل قبول‘ ہوگا۔

    چینی صدر نے یہ بات روسی صدر پوتن سے ملاقات کے دوران کہی جو اس وقت چین کے سرکاری دورے پر موجود ہیں جہاں وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ بیجنگ میں ایک سربراہی اجلاس میں شریک ہیں۔

    چینی میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے موجودہ عالمی صورتحال کو ’پیچیدہ اور غیر مستحکم‘ قرار دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو مل کر’مزید منصفانہ اور مساوی عالمی طرز حکمرانی کے نظام‘ کی تشکیل کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    اس موقع پر روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان تعلقات ’غیر معمولی حد تک بلند سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں اور گزشتہ 25 برسوں کے دوران روس اور چین کے درمیان تجارتی حجم میں 30 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

    یاد رہے کہ پوتن کا اس سال پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔

    شی جن پنگ ’عزیز دوست‘ ہیں: روسی صدر

    روسی سرکاری میڈیا تاس (TASS) کے مطابق صدر پوتن نے شی جن پنگ کو پہلے کی طرح ایک بار پھر ’عزیز دوست‘ قرار دیا۔

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ چین اور روس کے تعلقات جس سطح تک پہنچے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک مسلسل ’باہمی سیاسی اعتماد اورسٹریٹیجک تعاون کو مضبوط‘ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

    شی جن پنگ نے موجودہ عالمی صورتحال کو ’پیچیدہ اور غیر مستحکم‘ قرار دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو مل کر’مزید منصفانہ اور مساوی عالمی طرز حکمرانی کے نظام‘ کی تشکیل کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ’ناگزیر‘ ہے: شی جن پنگ

    مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ یہ خطہ اس وقت ایک ’اہم موڑ‘ پر ہے اور جنگ سے امن کی جانب منتقلی کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ چینی رہنما کے مطابق جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ’ناگزیر‘ ہے جبکہ تنازع کا دوبارہ آغاز ’ناقابل قبول‘ ہوگا۔

    چینی صدر شی نے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے اور فروغ دینے کے لیے چار نکاتی تجویز کا مقصد بین الاقوامی اتفاقِ رائے کو مزید مضبوط بنانا اور کشیدگی کم کرنے، تنازع کو گھٹانے اور امن کے فروغ میں مدد دینا ہے۔‘

    یاد رہے کہ یہ چار نکاتی تجویز گزشتہ ماہ ابو ظہبی کے ولی عہد سے ملاقات کے دوران پیش کی گئی تھی، جس میں پرامن بقائے باہمی، قومی خودمختاری، بین الاقوامی قانون کی بالادستی، اور ترقی و سلامتی کے لیے مربوط حکمت عملی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، شی جن پنگ نے اس ملاقات میں اپنے ابتدائی کلمات میں پوتن سے کہا کہ دونوں ممالک کو ترقی کے عمل میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔

    بیجنگ میں ہونے والی دونوں ملکوں کے صدر کی ابتدائی مختصر نشست ختم ہو چکی ہے جس کے بعد کریملن کی جانب سے جاری ایجنڈا کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ایک ’وسیع فارمیٹ‘ کی ملاقات طے ہے۔

    اس دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ بھی علیحدہ مذاکرات کریں گے۔

  3. جنگ میں واپسی کی صورت میں امریکہ کو بہت سے ’سرپرائز‘ ملیں گے: عباس عراقچی کا دعویٰ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر دوبارہ فوجی حملہ شروع کرنے کے عندیے کے جواب میں کہا ہے کہ ’یقین رکھیں کہ میدان جنگ میں واپسی کی صورت میں آپ کو بہت سے سرپرائز ملیں گے۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران کے پاس کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’محدود وقت‘ بچا ہے کیونکہ امریکہ اسے ’جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتا۔معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔‘

    عباس عراقچی نے ٹرمپ کی دھمکی آمیز بیان کے بعد جوابی بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دیا جس میں کہا ہے کہ ’ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے چند ماہ بعد امریکی کانگریس نے اربوں ڈالر مالیت کے درجنوں طیاروں کی تباہی کا اعتراف کیا ہے۔ ‘

    عباس عراقچی کے مطابق ’اب یہ باضابطہ طور پر تصدیق ہو گئی ہے کہ ہماری طاقتور مسلح افواج دنیا کی پہلی طاقت تھی جس نے جدید اور مشہور F-35 لڑاکا طیارے کو مار گرایا۔"

    اس پوسٹ کے آخر میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے جو سیکھا اور جو علم ہم نے حاصل کیا ہے اس کے ساتھ، یقین رکھیں کہ میدان جنگ میں واپسی اور بھی بہت سی حیرتیں ساتھ لائے گی۔‘

    منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ’ مزید کہا کہ ’ایران کے پاس دو، تین دن اور ہیں، شاید جمعے، سنیچر اور اتوار یا اگلے ہفتے کی ابتدا تک کا وقت ہے۔‘

    خیال رہے صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ انھوں نے منگل کو ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، تاہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے رہنماؤں کی درخواست پر انھوں نے اسے مؤخر کیا۔

  4. لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 19 افراد ہلاک: لبنانی وزارت صحت

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق منگل کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود حزب اللہ اور اسرائیلی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    لبنانی وزارت صحت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ضلع طائر پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 10 افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین بچے اور تین خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔‘

    وزارت کے مطابق دیگر اضلاع میں حملوں کے دوران ایک خاتون سمیت نو افراد ہلاک اور 29 زخمی ہوئے۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے کہا کہ اس کے جنگجو جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف ہیں۔

    لبنانی حکام کے مطابق، 2 مارچ سے لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 3,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور لبنان نے 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ جنگ بندی کی شرائط میں ابتدائی طور پر 10 روزہ جنگ بندی کا ذکر تھا اور کہا گیا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت کی صورت میں اس میں مزید توسیع بھی ہو سکتی ہے۔

    امریکہ محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں اسرائیل اور لبنان کی جنگ بندی کے متعدد نکات میں یہ شرط موجود تھی کہ کسی بھی منصوبہ بندی کے تحت یا فوری حملے کی صورت میں ’اسرائیل کے دفاع کا حق‘ برقرار رکھا جائے گا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ یہ جنگ بندی اسرائیل کی جانب سے ’خیر سگالی کا مثبت اشارہ‘ اور ’اچھی نیت‘ کے ساتھ ایک مستقل اور دیرپا امن معاہدے کی کوششوں کا سلسلہ ہے۔

  5. امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ’کافی پیش رفت‘ ہوئی ہے: جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ’کافی پیش رفت‘ ہوئی ہے اور دونوں فریق فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہتے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق، وینس نے وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں لگتا ہے کہ ایرانی ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ اُن کی حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی ہے اور امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے۔

    وینس کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی تعداد محدود رکھی جائے، اور اسی لیے ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں۔‘

    امریکی نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ اُن کا ملک چاہتا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ ایسے عمل میں شامل ہو جو یہ یقینی بنائے کہ آنے والے برسوں میں تہران دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔

  6. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔ بدھ کے روز خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے پہلے ہم آپ کے لیے گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ شامل کر رہے ہیں۔

    • متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ 17 مئی کو براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ہونے والے ڈرون حملے کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ اس واقعے میں شامل تینوں یو اے ویز عراق سے بھیجے گئے تھے۔
    • بلوچستان کے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے تحفظ کے لیے متعدد فیصلے کیے گئے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’محدود وقت‘ بچا ہے کیونکہ امریکہ اسے ’جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتا۔‘ منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔
    • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’آپریشن غضب للحق پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے تاکہ افغان طالبان سے وابستہ دہشت گرد پراکسیز کے خلاف معصوم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور معاونت فراہم کرنے والے ڈھانچوں کو سخت سزا دی جا سکے۔‘
    • پاکستان کے صوبہ سندھ کے شمالی ضلع گھوٹکی میں ایک خاتون سے مبینہ اجتماعی ریپ کرنے کا مقدمہ پانچ ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے اس کیس میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔
    • کراچی میں فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف خاندان اور مزدور تنظیموں کی جانب سے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا گیا۔
    • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ’پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والی دشمن قوتیں ناکام ہوں گی۔
    • ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جرمنی کے چانسلر کے اس الزام کی تردید کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کا متحدہ عرب امارات کے ایک جوہری پلانٹ کے قریب ہونے والے حملے میں کردار تھا۔
    • عالمی ادارہ صحت کے ایک ڈاکٹر نے خبردار کیا ہے کہ کانگو میں ایبولا وائرس پہلے اندازے سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس وبا سے اب تک کم از کم 131 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  7. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں آپک ے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبریں اور تجزیے شامل کیے جاتے ہیں۔

    اگر آپ 19 مئی کی خبریں پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔