آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’یہ عبادت کی جگہ ہے، میدان جنگ نہیں‘: امریکی ریاست کیلیفورنیا میں مسجد پر حملے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
- مصنف, سارین حبیشیان اور میکس ماٹزا
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو کی ایک مسجد میں فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کا خیال ہے کہ فائرنگ دو نو عمر حملہ آوروں نے کی۔
پیر کی صبح پولیس کو کال موصول ہوئی کہ ایک نو عمر لڑکا گھر سے بھاگ گیا ہے جو ممکنہ طور پر خودکشی کا رجحان رکھتا ہے۔ ابھی پولیس اس معاملے کی تفتیش کر ہی رہی تھی کہ فائرنگ کا واقعہ پیش آ گیا۔
مقامی وقت کے مطابق دن 11 بج کر 43 منٹ پر پولیس کو اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو میں فائرنگ کی اطلاع ملی۔ عمارت کے سامنے تین افراد کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس کے فوراً بعد انھیں ایک اور کال موصول ہوئی کہ قریب ہی ایک گاڑی سے ایک شخص پر بھی فائرنگ کی گئی ہے۔ جب پولیس افسران دوسرے مقام پر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ 17 اور 18 سال عمر والے دو مشتبہ افراد خود کو لگائے گئے زخموں کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک سکیورٹی گارڈ بھی شامل تھے جو اس مرکز میں کام کرتے تھے اور اگر وہ اپنا کردار ادا نہ کرتے تو حملہ ’زیادہ سنگین‘ ہو سکتا تھا۔
سان ڈیاگو کے پولیس چیف سکاٹ وال نے ایک پریس کانفرنس میں کہا: ’یہ کہنا بجا ہے کہ انھوں (سکیورٹی گارڈ) نے بہادری کا مظاہرہ کیا اور جانیں بچائیں۔‘
حکام نے ابھی تک تینوں متاثرین کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ تاہم بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس کو سکیورٹی گارڈ سے واقف ایک شخص نے بتایا کہ وہ آٹھ بچوں کے باپ تھے۔
ایف بی آئی کے مطابق اس واقعے کی تفتیش ایک نفرت پر مبنی جرم کے طور پر کی جا رہی ہے، کیونکہ مشتبہ افراد میں سے ایک کی والدہ کو کچھ تحریریں ملی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سان ڈیاگو کے پولیس چیف سکاٹ وال نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پولیس کو پہلی بار صبح 11 بج کر 43 منٹ پر اسلامی مرکز بلایا گیا اور وہاں انھوں نے ’سامنے تین افراد دیکھے جو بظاہر ہلاک ہو چکے تھے۔‘
حملے سے پہلے، مقامی وقت کے مطابق نو بج کر 42 منٹ پر ایک مشتبہ شخص کی والدہ نے پولیس کو کال کی اور بتایا کہ جب ان کا بیٹا گھر سے نکلا تو وہ ان کی کئی بندوقیں اور گاڑی بھی ساتھ لے گیا۔
خاتون نے بتایا کہ ان کا بیٹا ایک ساتھی کے ساتھ گیا تھا اور دونوں نے کیموفلاج لباس پہن رکھا تھا۔ نوجوان کی جانب سے چھوڑے گئے ایک نوٹ میں ’نفرت پر مبنی عمومی بیانات‘ شامل تھے۔
وال نے کہا کہ خودکشی کا رجحان رکھنے والے شخص کا عام طور پر جو رویہ ہوتا ہے، پولیس کو مشتبہ شخص کا رویہ ’اس کے مطابق نہیں لگا۔‘
تفتیش کار پھر ایک مقامی ہائی سکول گئے جہاں نو عمروں میں سے ایک زیر تعلیم تھا، اور اس شاپنگ مال میں بھی گئے جہاں گاڑی کا سراغ ملا۔
وال نے مزید کہا کہ حملے کا مقصد فی الحال معلوم نہیں، لیکن مسجد جس جگہ واقع تھی اور اسے جو نمایاں مقام حاصل تھا، اس کے پیش نظر اسے نفرت پر مبنی جرم تصور کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مشتبہ نوجوان کے چھوڑے گئے نوٹ میں مسجد یا کسی اور مقام یا فرد کے خلاف کوئی مخصوص دھمکی نہیں تھی۔
جب فائرنگ ہوئی تو افسران اُس وقت مشتبہ شخص کی والدہ سے بات چیت میں مصروف تھے اور مسجد سے صرف چند بلاکس کے فاصلے پر تھے۔
مسجد پہنچنے پر جب انھوں نے عمارت کے باہر گولیوں سے زخمی تین افراد کو دیکھا تو اندر داخل ہو کر حملہ آور سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر عمل شروع کیا۔
جب وہ کمروں کی تلاشی لے رہے تھے تو قریب ہی مزید فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
مشتبہ افراد نے مبینہ طور پر اپنی گاڑی سے ایک مالی پر فائرنگ کی، جو زخمی نہیں ہوئے۔ وال نے کہا کہ ممکن ہے مالی کو سر پر نشانہ بنایا گیا ہو، لیکن ہیلمٹ کی وجہ سے وہ بچ گئے ہوں۔ تاہم اس کی تصدیق ابھی باقی ہے۔
جب پولیس دوسرے مقام پر پہنچی تو انھیں دونوں مشتبہ افراد کی لاشیں ملیں۔
اسلامی سینٹر کے کیمپس میں الرشید سکول واقع ہے، جہاں مذہب اور زبان کے کورسز کرائے جاتے ہیں۔ پیر کو واقعے کے وقت بچے بھی وہاں موجود تھے۔
ایف بی آئی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی کوئی بھی معلومات فراہم کریں جو تحقیقات میں مددگار ثابت ہو سکیں۔
بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز سے بات کرنے والے ایک عینی شاہد نے کہا کہ انھوں نے 30 گولیوں کی آواز سنی، اور آواز سے معلوم ہوتا تھا جیسے یہ گولیاں کسی ’نیم خود کار ہتھیار‘ سے چلائی جا رہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ پہلے تقریباً ایک درجن گولیاں چلائے جانے کی آواز آئی، پھر وقفہ ہوا، اور اس کے بعد ممکنہ طور پر مزید ایک درجن گولیاں چلیں۔
یہ عینی شاہد اپنی نوکری سے ریٹائر ہو چکے ہیں اور گھر میں دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے 911 پر کال کی اور پولیس ’پانچ سے 10 منٹ‘ میں پہنچ گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ تعطیلات کے دوران مسجد بہت مصروف ہو جاتی ہے۔
عینی شاہد نے مزید کہا: ’یہ اچھی بات ہے کہ واقعہ جمعہ کو نہیں پیش آیا، کیونکہ اس روز سڑکیں لوگوں سے بھری ہوتی ہیں۔‘
اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو کے ڈائیریکٹر امام طہٰ حسنی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا: ’عبادت کی جگہ کو نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے۔ یہ مرکز عبادت کی جگہ ہے، میدان جنگ نہیں۔‘
وہاں رہنے والی مسلم برادری اس وقت بڑی عید کی تیاری کر رہی ہے۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے ایک بیان میں کہا کہ ایسا مرکز ’جہاں خاندان اور بچے جمع ہو کر امن اور بھائی چارے سے عبادت کرتے ہیں‘ وہاں پُر تشدد حملے پر وہ ’شدید صدمے میں‘ ہیں۔
نیوزم نے مزید کہا کہ ریاست ’مذہبی برادریوں کے خلاف دہشت یا دھمکی کے اقدامات کو برداشت نہیں کرے گی۔‘
پیر کو اس فائرنگ کے بارے میں پوچھے جانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ایک ’خوفناک صورتحال‘ قرار دیا۔
انھوں نے وائٹ ہاؤس کی ایک تقریب کے دوران کہا: ’مجھے ابتدائی معلومات دی گئی ہیں، لیکن ہم اس کا نہایت سنجیدگی سے جائزہ لیں گے۔‘