آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’میں سیکس ورکر ہوں، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ میرا گینگ ریپ کریں گے؟‘
- مصنف, دلنواز پاشا
- عہدہ, بی بی سی ہندی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انتباہ: اس رپورٹ کے کچھ حصے آپ کو پریشان کر سکتے ہیں
’میں سیکس ورکر ہوں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ میرا اجتماعی ریپ کریں گے؟‘
ایک خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ دہلی میں ایک سلیپر بس میں ان کا گینگ ریپ کیا گیا ہے اور واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انھوں نے سب سے پہلے یہی سوال اٹھاتا ہے۔
دہلی پولیس کے مطابق 11 اور 12 مئی کی درمیانی شب 12 بج کر 15 منٹ اور 2 بج کر 30 منٹ کے درمیان پیش آنے والے اس واقعے کے بعد گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
گرفتار کیے گئے ملزمان کا تعلق اتر پردیش سے ہے۔ یہ دونوں افراد اس سلیپر بس کے ڈرائیور اور کلینر ہیں، جو دہلی اور بہار کے درمیان چلتی ہے۔
جس طرح اس واقعے کی میڈیا میں کوریج ہوئی، اس سے پریشان ہو کر اس خاتون نے اپنا گھر تبدیل کر لیا ہے۔
’مجھے سیکس کے بدلے پیسے دینے کی پیشکش کی گئی‘
خاتون نے روتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ’میڈیا کے کیمرے میرے گھر تک پہنچ گئے۔ پوری بستی کو معلوم ہو گیا کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتی ہوں۔ مجبور ہو کر کچھ دن پہلے ہی ’سیکس ورک‘ شروع کیا۔ میرے گھر والوں کو بھی اس کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ اب لوگ میرے ساتھ ہونے والے واقعے کی بات نہیں کر رہے، بلکہ میں گھر چلانے کے لیے کیا کر رہی تھی، اس پر میری کردار کشی کر رہے ہیں۔‘
خاتون کہتی ہیں کہ اگرچہ پچھلے کچھ دنوں سے وہ گھر چلانے کے لیے ’سیکس ورک‘ کر رہی تھیں، لیکن اس رات وہ اس کام کے لیے گھر سے نہیں نکلی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ بتاتی ہیں کہ ’میں نے اپنے بھائی کا کمرہ تبدیل کروایا تھا۔ اس کے بعد میں واپس گھر جا رہی تھی۔ بس سٹینڈ پر یہ بس رکی اور اس کے کنڈیکٹر نے مجھے بلایا۔ میں دروازے کے قریب کھڑی ہو کر بات کر رہی تھی۔ میں نے کام کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود وہ مجھے بس کے اندر کھینچ کر لے گئے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’انھوں نے مجھے سیکس کے بدلے پیسے دینے کی پیشکش کی لیکن میں نے انکار کر دیا تھا۔ بس میں کُل پانچ لوگ تھے۔ ایک آدمی سو رہا تھا۔ وہ پوری رات مجھے اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے۔ میں نے بار بار انکار کیا، اس کے باوجود ان میں سے دو لوگوں نے میرا ریپ کیا۔‘
دہلی پولیس نے ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات کے تحت ریپ اور گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا ہے۔
ڈی سی پی وکرم سنگھ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’پولیس کو اطلاع ملی تھی جس میں کال کرنے والے نے بتایا کہ اس کے ساتھ دو لوگوں نے غلط کام کیا ہے۔ جیسے ہی معاملہ پولیس کے علم میں آیا، پولیس نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کی مدد کی اور دو ملزمان کو گرفتار کیا۔ پولیس اس معاملے میں سخت کارروائی کر رہی ہے۔‘
’پولیس نے مدد کی‘
خاتون کے مطابق بس سے اترتے ہی انھوں نے پولیس ہیلپ لائن نمبر پر کال کی تھی اور پانچ منٹ کے اندر ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’موقع پر پہنچی پولیس نے فوراً میری بات سنی۔ مجھے تھانے لے جایا گیا اور میری شکایت کی بنیاد پر فوری طور پر مقدمہ درج کیا گیا۔ انھوں نے ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کی۔ میرا طبی معائنہ کروایا گیا اور مجھ سے کھانے کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔‘
دہلی پولیس کے مطابق واقعے کی رپورٹ درج ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
خاتون بتاتی ہیں کہ ’میرے شوہر کئی برسوں سے شدید بیمار ہیں۔ میری تین چھوٹی بیٹیاں ہیں۔ میرے گھر میں کوئی کمانے والا نہیں ہے۔ میں نے کچھ اور کام کرنے کی کوشش کی لیکن ایسا کوئی کام نہیں ملا جس سے میں اپنے خاندان کا خرچ چلا سکوں۔ کچھ دن پہلے میں نے یہ کام شروع کیا۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ ’اگر تین بیٹیوں کی ماں گھر سے نکل کر سیکس ورک کر رہی ہے تو وہ بہت مجبور ہوگی۔ کوئی اس کی مجبوری کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ملزمان سے ان کی کوئی پرانی جان پہچان نہیں ہے۔
میڈیا کوریج پر سوال
خاتون کے شوہر نے بی بی سی نیوز ہندی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میرے گھر میں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ میری بیوی گھر چلانے کے لیے کیا کر رہی ہے۔ اس نے مجھے بھی نہیں بتایا تھا۔ اس نے یہ سب گھر چلانے کے لیے کیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’کئی صحافی ہمارے گھر تک پہنچ گئے۔ بڑے بڑے کیمرے لے کر، باہر ویڈیو بنانے لگے۔ وہ میرا اور میری بیوی کا نام پوچھ رہے تھے۔ اب وہاں سب ہمیں شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ کیا ان حالات میں ہم وہاں رہ سکتے ہیں؟‘
خاتون زور دے کر کہتی ہیں کہ وہ اپنے مقدمے کو تب تک لڑیں گی جب تک انھیں انصاف نہیں مل جاتا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ صرف میری حفاظت کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ مجھ جیسی ہزاروں لڑکیوں کی سلامتی کا معاملہ ہے۔ سڑک پر کھڑی لڑکی کو بھی اتنا ہی تحفظ حاصل ہونا چاہیے جتنا کسی اور لڑکی کو ہوتا ہے۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ ’میری تین بیٹیاں ہیں۔ میں انھیں اچھی تعلیم دینا چاہتی ہوں۔ میں نہیں چاہتی کہ جو حالات میں نے جھیلے، میری بیٹیوں کو کبھی ان سے گزرنا پڑے۔ جب تک میرے معاملے میں سخت سزا نہیں ہو جاتی، میں پیچھے نہیں ہٹوں گی، چاہے مجھے پولیس سٹیشن یا عدالت کے کتنے ہی چکر لگانے پڑیں۔‘
سپریم کورٹ کے احکامات
انڈیا کی عدالتیں بارہا واضح کر چکی ہیں کہ سیکس ورکرز کو بھی ہر دوسرے شہری کی طرح آئینی وقار، تحفظ اور انصاف کا یکساں حق حاصل ہے۔
انڈیا کی سپریم کورٹ نے سنہ 2022 میں ایک فیصلے میں کہا تھا کہ سیکس ورک ایک ’پیشہ‘ ہے اور صرف کسی خاتون کے سیکس ورکر ہونے کی بنیاد پر پولیس یا معاشرہ اس کے حقوق سے انکار نہیں کر سکتا۔
عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ کسی سیکس ورکر کی شکایت کو یکساں حساسیت کے ساتھ درج کیا جانا چاہیے اور اس کی شناخت اور نجی زندگی کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ ’ہر خاتون کو، چاہے اس کا پیشہ کچھ بھی ہو، جنسی تشدد اور استحصال سے تحفظ حاصل کرنے کا حق رکھتی ہے۔‘
انڈین قانون کے تحت کسی بھی خاتون کی رضامندی کے بغیر جسمانی تعلق کو زیادتی تصور کیا جاتا ہے اور کسی خاتون کا سیکس ورکر ہونا اس کی رضامندی فرض کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس اپنے فیصلوں میں یہ بھی قرار دے چکی ہیں کہ ریپ کے مقدمات میں خاتون کے ’کردار‘ پر سوال اٹھا کر یا اس کے پیشے کو بنیاد بنا کر جرم کی سنگینی کو کم نہیں کیا جا سکتا۔