لائیو, عسکری طور پر ایران کو شکست دے چکے، اسے کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے: ٹرمپ

ایران کے خلاف جنگ میں اپنے ملک کی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کو عسکری طور پر شکست دے چکا ہے۔ دوسری جانب مذاکرات میں تعطل کے بیچ ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 111 ڈالر کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔

خلاصہ

  • بحری جہازوں پر قبضے کے امریکی اقدامات کا جواب دینے کا حق ہے: ایران کا اقوام متحدہ کو خط
  • مذاکرات میں تعطل کے بیچ ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ: برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 111 ڈالر سے تجاوز کر گئی
  • ایران نے چین اور روس کے لیے پروازوں کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے: ایرانی میڈیا
  • صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے اور یہ کہ تہران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے
  • وائٹ ہاؤس میں اپنے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران برطانوی شاہ چارلس کا نیٹو اتحاد کی اہمیت پر زور

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ نے ایران کے طویل محاصرے کے لیے تیاری کی ہدایت جاری کر دی: وال سٹریٹ جرنل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہNathan Howard/Getty Images

    امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو ایران کے طویل محاصرے کے لیے تیاری کی ہدایت کر دی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے حالیہ اجلاسوں کے دوران یہ فیصلہ کیا کہ ایرانی بندرگاہوں تک جانے والی اور وہاں سے آنے والی بحری آمد و رفت روک ایرانی معیشت اور تیل کی برآمدات پر دباؤ جاری رکھا جائے۔

    رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا خیال ہے کہ دیگر آپشنز، جیسے دوبارہ بمباری شروع کرنا یا تنازع سے دستبردار ہونا، محاصرے کو برقرار رکھنے کے مقابلے میں زیادہ خطرات رکھتے ہیں۔

  2. ایران میں شہریوں کے لیے سبسڈی کی ضمانت پر اُدھار خریداری کی سکیم

    تہران میں سبزی کی دکان

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایرانی میڈیا کے مطابق حکومت کی منظوری کے بعد ایک نئی سکیم متعارف کرائی جا رہی ہے، جس کے تحت شہری سبسڈی کی ضمانت پر اشیا اُدھار خرید سکیں گے۔

    اس سکیم کے تحت ہر خاندان کے لیے سبسڈی کی حد مقرر ہو گی اور وہ ہر دو ماہ بعد اسی حد تک بنیادی ضرورت کی چیزیں دکانوں سے اُدھار لے سکیں گے۔

    بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے لیے درکار کریڈٹ نجی کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیا جائے گا۔

    حالیہ ہفتوں میں ایران میں متعدد اشیا کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔

    تہران سے شائع ہونے والے روزنامہ دنیائے اقتصاد نے حال ہی میں 2026 میں مہنگائی کے حوالے سے تین منظرنامے پیش کیے ہیں۔

    اخبار کے مطابق اگر امریکہ کے ساتھ معاہدہ ہو جاتا ہے تو بھی ’سب سے خوش کن‘ منظر نامہ یہ ہو گا کہ مہنگائی کی شرح 49 فیصد رہے گی۔

    دنیائے اقتصاد کا کہنا ہے کہ اگر ’نہ جنگ اور نہ ہی امن‘ والی صورتحال رہتی ہے اور وہی کیفیت برقرار رہتی ہے جو مارچ میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے پہلے تھی، تو مہنگائی 67 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ جبکہ جنگ کے جاری رہنے کی صورت میں ایران کو 123 فیصد کی انتہائی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  3. بحری جہازوں پر قبضے کے امریکی اقدامات کا جواب دینے کا حق ہے: ایران کا اقوام متحدہ کو خط

    اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید

    ،تصویر کا ذریعہStephanie Keith/Getty Images

    اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید نے امریکہ کی جانب سے ایرانی جہازوں کے ضبط کیے جانے کو ’قذاقی‘ اور ’بین الاقوامی پانیوں میں ڈاکہ‘ قرار دیا ہے۔

    منگل کے روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط میں انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’بین الاقوامی قانون کے مطابق ایران کو ان اقدامات کا جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔‘

    امیر سعید نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایرانی تجارتی جہازوں اور تیل بردار جہازوں پر قبضے کے امریکی اقدامات کی ’سخت مذمت‘ کریں اور ان جہازوں کو فوری طور پر چھوڑ دیا جائے۔

    یہ خط امریکی وزیر خزانہ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں سکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکہ کی بحری ناکہ بندی جاری رہنے سے ایران کے پاس مزید تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہو جائے گی، اس سے ایران کی تیل کی پائپ لائنوں کو نقصان پہنچے گا اور پٹرول کی کمی ہو گی۔

  4. ’چارلس مجھ سے اتفاق کرتے ہیں‘: ٹرمپ کے دعوے پر بکنگھم پیلس کا رد عمل

    امریکی صدر ٹرمپ اور برطانوی شاہ چارلس

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    برطانوی شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا پارکر کے اعزاز میں دیے گئے سرکاری عشائیے کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کی تقریر میں مشرق وسطیٰ کے تنازع کا مختصر حوالہ بھی شامل تھا۔

    ایران کو ’عسکری طور پر شکست‘ دینے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا: ’ہم کبھی بھی اس حریف (ایران) کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے، چارلس مجھ سے اتفاق کرتے ہیں۔‘

    اس بیان پر بی بی سی کو بکنگھم پیلس کا رد عمل موصول ہوا ہے۔

    بکنگھم پیلس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا: ’جوہری پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ان کی حکومت کا طویل عرصے سے جو معروف مؤقف ہے، شاہ چارلس اس سے آگاہ ہیں۔‘

  5. وائٹ ہاؤس میں برطانوی بادشاہ کے اعزاز میں عشائیہ: شاہ چارلس کا نیٹو اتحاد کی اہمیت پر زور، ٹرمپ کے لیے گھنٹی کا تحفہ

    امریکی صدر ٹرمپ اور برطانوی بادشاہ چارلس

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا پارکر کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں ایک سرکاری عشائیہ دیا گیا۔ اس موقع پر برطانوی بادشاہ اور امریکی صدر کی گفتگو میں مزاح کے ساتھ ساتھ تاریخی حوالے بھی شامل تھے۔ جبکہ شاہ چارلس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک گھنٹی کا تحفہ بھی دیا۔

    برطانوی بادشاہ نے اوکس (آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ میں اتحاد) اور نیٹو اتحاد کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ’دونوں ملکوں میں تیکنیکی اور عسکری تعاون بڑھایا جا سکے۔‘

    اس کے بعد انھوں نے سنہ 1944 میں برطانیہ کے ایک شپ یارڈ سے لانچ کی گئی ایک آبدوز کا ذکر کیا۔

    اس آبدوز کا نام ایچ ایم ایس ٹرمپ تھا اور اس نے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا تھا۔ شاہ چارلس نے اس آبدوز میں نصب گھنٹی بطور تحفہ امریکی صدر کو دی اور کہا ’اگر کبھی ہم سے رابطہ کرنا ہو تو بس گھنٹی بجا دیجیے گا۔‘

    ٹرمپ کو شاہ چارلس کی طرف سے تحفے میں دی گئی گھنٹی

    ،تصویر کا ذریعہSamir Hussein/WireImage

    عشائیے کے دوران شاہ چارلس اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے اپنی تقاریر میں مزاحیہ جملوں کا سہارا لیا۔ صدر ٹرمپ نے کانگریس میں شاہ چارلس کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ڈیموکریٹس کو کھڑے ہو کر داد دینے پر مجبور کر دیا، جو ان کے بقول وہ خود نہیں کر سکے۔

    شاہ چارلس نے وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ میں حالیہ تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے سنہ 1814 میں برطانوی افواج کی جانب سے وائٹ ہاؤس کو نذر آتش کیے جانے کا حوالہ دیا اور کہا ’ہم نے سنہ 1814 میں وائٹ ہاؤس کی از سر نو تعمیر کی اپنی کوشش کی تھی۔‘

    اپنی گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نہ ہوتا تو یورپ جرمن بول رہا ہوتا، اس کے جواب میں شاہ چارلس نے کہا کہ شاید برطانیہ نہ ہوتا تو امریکی شہری فرانسیسی زبان بول رہے ہوتے۔

    اپنی تقریر میں امریکی صدر نے ایران کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے اس مخصوص حریف کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے۔‘

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’ہم اس حریف (ایران) کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے اور شاہ چارلس بھی مجھ سے اتفاق کرتے ہیں۔‘

  6. ایران جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے مخصوص اقدامات کرنا ہوں گے: برطانوی وزیر خزانہ

    برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات سے معیشت کو بچانے کے لیے مخصوص اقدامات کی ضرورت ہے اور یہ اقدامات اس طرح ہونے چاہییں کہ شرحِ سود پر ان کے دیرپا اثرات نہ پڑیں۔

    مشرق وسطیٰ کے لیے قائم رد عمل کمیٹی کے اجلاس کے بعد ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا: ’وزیر خزانہ اس بات پر واضح تھیں کہ حکومت کو چوکنا اور ذمہ دار ہونا چاہیے، اور سنہ 2022 کے توانائی بحران پر رد عمل دیتے ہوئے جو سبق سیکھے تھے، حکومت کو ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔‘

  7. اسرائیلی حملے میں لبنان کے دو فوجی زخمی

    لبنانی فوج کے مطابق ملک کے جنوبی علاقے میں امدادی کارروائیاں انجام دینے کے دوران اسرائیل کے حملے میں اس کے دو فوجی زخمی ہو گئے۔

    اسرائیل سے جنگ بندی کے بعد اس نوعیت کے پہلے بیان میں لبنانی فوج نے کہا: ’گشت کرتے فوجی دستے کو اسرائیل کی جانب سے ہدف بنایا گیا، جس سے دو فوجی زخمی ہو گئے۔‘

    بیان کے مطابق یہ دستہ شہری دفاع کے اہلکاروں اور دو غیر فوجی بلڈوزروں کے ہمراہ جنوبی لبنان میں شہریوں کو بچانے کا کام کر رہا تھا۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    دونوں فریق سرکاری طور پر جنگ بندی کی حالت میں ہیں، تاہم ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔

  8. ایرانی فوج کی امریکی اڈے پر حملے کی تصدیق, بی بی سی مانیٹرنگ

    بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا

    ،تصویر کا ذریعہIRINN

    ایرانی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی ایف 5 لڑاکا طیاروں نے خلیج فارس کے خطے میں ایک امریکی فوجی اڈے کو ’کامیابی سے‘ نشانہ بنایا۔

    28 اپریل کو ایرانی سرکاری نیوز چینل آئی آر آئی این این پر براہ راست گفتگو کے دوران بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے این بی سی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ تنازع کے دوران ایران نے امریکی فوجی اڈوں اور سازوسامان کو جو نقصان پہنچایا، وہ پہلے دی گئی رپورٹس سے کہیں زیادہ تھا۔

    25 اپریل کو شائع ہونے والی این بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران نے خطے کے سات ممالک میں موجود 100 سے زائد امریکی اہداف پر حملے کیے۔

    اس رپورٹ کے مطابق، ایک ایرانی ایف 5 لڑاکا طیارے نے کویت میں واقع کیمپ بیورنگ پر بمباری کی اور اڈے کے فضائی دفاعی نظام کو چیرتے ہوئے اندر تک پہنچ گیا، جو اس سخت حفاظتی انتظامات والے اڈے کے دفاع میں ایک بڑی ناکامی تصور کی جائے گی۔

    ایرانی کمانڈر نے کہا: ’ایف 5 لڑاکا طیارے امریکی فضائی دفاع کی مختلف تہوں کو عبور کرنے میں کامیاب ہوئے اور متعلقہ اڈے کو درست نشانہ بنایا۔ اگر منفرد نہ بھی کہیں تو بھی اسے ایک کامیاب اور نایاب کارروائی کے طور پر جانچا گیا ہے۔‘

    اگرچہ این بی سی کی رپورٹ میں ایک ہی ایرانی لڑاکا طیارے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم فوجی ترجمان نے جمع کا صیغہ استعمال کیا اور یہ واضح نہیں کیا کہ یہ حملہ کب ہوا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق، این بی سی نے بتایا کہ ایف 5 کا یہ حملہ جنگ کے آغاز کے ابتدائی گھنٹوں میں ہوا تھا۔ اکرمینیا نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ آیا پائلٹ بحفاظت واپس آئے یا نہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران ایران کی باقاعدہ فوج اور پاسداران انقلاب کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون پہلے سے کہیں زیادہ رہا۔ ان کے مطابق مشترکہ کارروائیاں کی گئیں جن میں آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے کا کنٹرول باقاعدہ فوج کے پاس تھا جبکہ مغربی حصے میں پاسداران انقلاب کی عمل داری تھی اور یہ سب مکمل طور پر مربوط کمان کے تحت ہوا۔

    اکرمینیا نے کہا کہ مسلح افواج کے دیگر شعبوں میں بھی اسی سطح کی ہم آہنگی موجود ہے، جس کے باعث کارروائیاں پہلے سے زیادہ مؤثر انداز میں انجام دی جا سکیں۔

    ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کے فضائی دفاع اور پاسداران انقلاب کے فضائی یونٹس نے 170 سے زائد دشمن ڈرونز اور 16 لڑاکا طیاروں کو روکا۔

    امریکہ اور دیگر مخالفین پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آٹھ اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے باوجود ایران یہی سمجھتا ہے کہ ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی۔

    فوجی تیاریوں کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ایران نے اپنے اہداف کی فہرستیں از سر نو ترتیب دی ہیں، جنگی تجربات کی بنیاد پر اہلکاروں کی تربیت جاری ہے اور سازوسامان کو بہتر بنایا گیا ہے۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ میں موجودہ وقفے کے باوجود ایران حالت جنگ میں ہے اور خبردار کیا کہ کسی بھی نئی جارحیت کا جواب ’نئے سازوسامان سے، نئے طریقوں سے اور نئے محاذوں پر‘ دیا جائے گا۔

  9. برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 111 ڈالر سے تجاوز کر گئی

    تیل بردار جہاز اور ایک کشتی جس پر بظاہر ایرانی فوجی سوار ہیں

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے انجام سے متعلق مسلسل بے یقینی اور امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے باعث بدھ کی صبح ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی، یہاں تک کہ برینٹ تیل کی فی بیرل قیمت 111 ڈالر سے اوپر چلی گئی۔

    امریکہ میں بھی ایندھن کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ پٹرول کی قیمت جنگ کے آغاز کے بعد سے بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل 28 اپریل کو امریکہ میں پیٹرول کی اوسط فی گیلن قیمت 4 ڈالر 18 سینٹ ریکارڈ کی گئی۔

    ان رپورٹس کے مطابق، ایران پر امریکی فوجی حملے کے بعد سے اب تک امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں لگ بھگ 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

  10. ایران نے روس اور چین کے لیے پروازوں کی بحالی کا اعلان کر دیا

    ایران میں میڈیا اداروں نے اطلاع دی ہے کہ تقریباً 60 روز کے وقفے کے بعد ایران نے روس اور چین کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔

    اس سے ایک دن قبل قومی فضائی کمپنی ایران ایئر نے بھی اپنی پروازوں کی بحالی کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔

    جبکہ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ خبردار کر چکے ہیں کہ ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیاں امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔

    سکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ غیر ملکی حکومتیں یقینی بنائیں کہ ان کے دائرہ اختیار میں آنے والی کمپنیاں ایرانی طیاروں کو کوئی خدمات فراہم نہ کریں، جن میں ’طیاروں کے لیے ایندھن کی فراہمی، کیٹرنگ سروسز، ہوائی اڈوں پر لینڈنگ فیس یا طیاروں کی دیکھ بھال‘ شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا تھا کہ امریکی وزارت خزانہ ’کسی بھی ایسے تیسرے فریق کے خلاف کارروائی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی جو ایرانی اداروں کے ساتھ لین دین کرے یا انہیں سہولت فراہم کرے۔‘

  11. ’ان پڑھ افراد کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کر دیا گیا‘: تاجک کمانڈر کا طالبان قیادت پر نسلی جانبداری کا الزام, بی بی سی مانیٹرنگ

    شمالی افغانستان سے تعلق رکھنے والے تاجک طالبان کمانڈر، مولوی عبدالقادر سعد نے طالبان قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ تحریک پر پشتونوں کا غلبہ ہو چکا ہے اور غیر پشتون علاقوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

    واضح نہیں ہے کہ یہ بیان کس وقت دیا گیا، تاہم بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ حال ہی میں دیا گیا ہے۔ طویل مدت سے طالبان کمانڈر رہنے والے مولوی عبدالقادر سعد نے یہ غیرمعمولی تنقید شمالی صوبے سرِ پُل میں ایک مسجد میں خطاب کے دوران کی۔

    مسجد میں خطاب کے دوران مولوی سعد نے ملک میں بڑھتی بے چینی اور اس کے ممکنہ رد عمل سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بعض شمالی تاجک طالبان کو اپنی ہی برادریوں سے انتقامی کارروائی کا خدشہ ہے۔

    انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ’چرواہوں‘ اور ان پڑھ افراد کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کر کے مقامی آبادیوں پر مسلط کیا گیا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ طالبان کا نظام ممکنہ طور پر ختم ہو سکتا ہے، اور یہ بھی کہا کہ شمال کے بعض طالبان جنگجو اب اپنی ہی تاجک برادریوں کی جانب سے انتقامی کارروائی کے خوف میں مبتلا ہیں، ان کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

    ان کا کہنا تھا: ’آج ہم اپنی ہی قوم اور اپنی ہی برادری میں بے عزت ہو چکے ہیں۔ ہم سے ہماری عزت چھین لی گئی ہے، ہمارے جہاد کا فخر ہم سے لے لیا گیا ہے۔ ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں رہی۔‘

    مولوی عبدالقادر سعد کی یہ تقریر سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر موجود ہے۔

    مولوی عبدالقادر سعد

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشنمولوی عبدالقادر سعد (بائیں)

    مولوی سعد نے جن خیالات کا اظہار کیا، ان کی تائید بدخشاں سے تعلق رکھنے والے ایک اور تاجک طالبان کمانڈر صلاح الدین سالار نے بھی کی، جنھوں نے 26 اپریل کو سعد کے خطاب کی ویڈیو فیس بک پر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’ہمارے مخالفین نے آپ کے بارے میں جو طعنے دیے اور جو پیش گوئیاں کی تھیں، وہ سب ہمیں بھی سنائی گئیں، لیکن ہم نے ان پر یقین کرنے سے انکار کیا۔‘

    صلاح الدین کی پوسٹ میں مزید لکھا گیا: ’ہم اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ امارت (طالبان حکومت) کے رہنماؤں کا کوئی بڑا مقصد ہو گا۔ مگر آخر کار ہمارے مخالفین کی تمام باتیں سچ ثابت ہو گئیں۔‘

    اس نوعیت کے تبصرے بالکل نئے نہیں ہیں، تاہم سنہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ان میں اضافے کا تاثر ملتا ہے۔

    پنج شیر سے تعلق رکھنے والے تاجک طالبان کمانڈر عبدالحامد خراسانی نے اس بات پر بارہا تنقید کی ہے جسے وہ گروپ میں موجود ’نسلی تعصب‘ کہتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کئی سینیئر ازبک طالبان کمانڈروں نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت نے بتدریج کئی غیر پشتون کمانڈروں کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے، یا تو انھیں انتظامی عہدوں پر تعینات کر کے، یا انھیں ان کے شمالی طاقت کے مراکز سے ہٹا کر جنوبی صوبوں میں منتقل کر کے۔ اسے بعض لوگ اندرونی جلاوطنی کی ایک شکل کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    ان الزامات کے ساتھ ساتھ، غیر پشتون علاقوں کو نظر انداز کیے جانے کی شکایات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

    اس کے علاوہ قدرتی وسائل کے بڑے پیمانے پر نکالے جانے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں، بالخصوص بدخشاں میں کان کنی کی سرگرمیوں کے حوالے سے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پشتون طالبان عہدیداروں سے منسلک کاروباری اداروں کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔ اس سے معاشی فوائد کی غیر مساوی تقسیم اور مقامی آبادی کو حقوق سے محروم کیے جانے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

  12. سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030 کے آخری مرحلے کے آغاز کا اعلان, بی بی سی مانیٹرنگ

    سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمحمد بن سلمان کے مطابق عالمی معاشی اور سیاسی بے یقینی کے باوجود وژن 2030 نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرنا جاری رکھیں

    سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مملکت کا اہم اصلاحاتی منصوبہ وژن 2030 رواں سال اپنے تیسرے اور آخری مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔

    سعودی میڈیا کے مطابق محمد بن سلمان کے یہ بیانات کونسل آف اکنامک اینڈ ڈیولپمنٹ افیئرز کے اجلاس میں سامنے آئے جس میں وژن 2030 سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

    یاد رہے کہ سعودی عرب کے مطابق اس منصوبے کا مقصد معیشت کو متنوع بنانا اور معاشرے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

    لندن سے شائع ہونے والے عرب اخبار الشرق الاوسط کے مطابق سعودی ولی عہد نے کہا کہ عالمی معاشی اور سیاسی بے یقینی کے باوجود وژن 2030 نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرنا جاری رکھی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منصوبے کے آغاز سے اب تک اور آئندہ بھی اس کی سب سے اہم سرمایہ کاری سعودی شہریوں کی ترقی اور انھیں بااختیار بنانا رہی ہے۔

    سعودی شہریوں کی ترقی کو وژن 2030 کا مرکزی نکتہ قرار دینا اس منصوبے کے ابتدائی مرحلے سے ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    سنہ 2016 میں منصوبے کے آغاز کے بعد ابتدائی برسوں میں توجہ زیادہ تر مملکت کے تیل پر انحصار کو کم کرنے پر مرکوز تھی۔

    ولی عہد کے یہ بیانات سعودی حکام اور میڈیا کی جانب سے وژن 2030 کے حوالے سے ایک وسیع تر بیانیے کا حصہ ہیں جس میں اس منصوبے کے سعودی معاشرے اور قومی شناخت پر اثرات کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

    یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وژن 2030 کے چند انتہائی اہم منصوبوں کو محدود کر دیا گیا ہے جن میں مستقبل کے شہر نیوم کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

    ’مستقبل مقامی سطح پر تعمیر کیا جا رہا ہے‘

    وژن 2030

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنوژن 2030 کا ایک مقصد نجی شعبے کو تقویت دینا ہے

    سعودی حکومت کے حامی اخبار عکاظ نے 28 اپریل کو شائع ہونے والے ایک تبصرے میں وژن 2030 کو تیز اور سب سے بڑا منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس منصوبے کے سعودی معاشرے پر اثرات کو نمایاں کیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ جب وژن 2030 کا آغاز کیا گیا تو اس کے اہداف صرف معیشت کی تنوع اور غیر تیل آمدن میں اضافے تک محدود نہیں تھے بلکہ یہ ’اجتماعی شعور، معاشرتی ثقافت اور سماجی فکر کی تشکیلِ نو کا ایک جامع منصوبہ‘ تھا۔

    میگا منصوبے نیوم کے حوالے سے تبصرے میں کہا گیا کہ یہ ’محض ایک رئیل سٹیٹ سرمایہ کاری نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ مستقبل مقامی سطح پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔‘

    دوسری جانب حکومت کے حامی اخبار الریاض میں شائع ہونے والے ایک اور تبصرے میں اصلاحات کی ’کامیابیوں‘ کو اجاگر کیا گیا، خاص طور پر معیشت پر ان کے اثرات پر زور دیا گیا۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کہ اس منصوبے کی سب سے نمایاں کامیابی شہریوں کے چہرے پر ’امید اور خوش بینی کی مسکراہٹ‘ ہے، کیونکہ وہ وژن کے پروگراموں کی اہمیت اور مملکت کے لیے ایک روشن مستقبل تشکیل دینے کی ان کی صلاحیت پر قائل ہو چکے ہیں۔

  13. ایران میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں متعدد گرفتاریاں اور ’جاسوسی کے اڈوں‘ پر چھاپے, بی بی سی مانیٹرنگ

    تصویر ایرانی پولیس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران میں جنگ کے بعد ملک بھر میں جاری کارروائیوں کے دوران مزید گرفتاریاں کی گئی ہیں اور انٹیلیجنس آپریشنز کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔

    سکیورٹی حکام کے مطابق وسطی تہران میں ایک رہائشی یونٹ سے ایک مبینہ جاسوسی اڈہ سامنے آیا ہے، جہاں اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ نصب تھا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس اڈے کو مبینہ طور پر غیر ملکی انٹیلیجنس اداروں اور اپوزیشن میڈیا نیٹ ورکس کو معلومات فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق دو روز قبل شمال مغربی تہران میں ایک کمپلیکس کے اندر تین تجارتی یونٹس کو غیر قانونی سیٹلائٹ انٹرنیٹ آلات کے استعمال کے الزام میں سیل کر دیا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں سے ایک یونٹ مبینہ طور پر لگ بھگ 19 مرتبہ دشمن کو معلومات فراہم کر چکا تھا۔

    دوسری جانب مہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ صوبہ کرمان کے شہر انار میں پولیس نے ایک شخص کو اس الزام میں گرفتار کیا ہے کہ اس نے غیر ملکی میڈیا میں موجود مخالف عناصر سے رابطہ رکھا، جن کا مقصد امن و امان میں خلل ڈالنا تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق صوبہ فارس کے شہر سروستان میں پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ حساس اور اہم مقامات سے پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز مخالف نیٹ ورکس کے ساتھ شیئر کر رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ گرفتاری انٹیلیجنس کارروائیوں کے بعد عمل میں لائی گئی۔

    ادھر ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے کہا ہے کہ ’وطن کے غداروں اور شرانگیز عناصر کا ساتھ دینے والوں‘ کے اثاثے ضبط کیے جائیں گے۔

    انھوں نے بیرونِ ملک مقیم ان ایرانیوں سے بھی خطاب کیا جنھوں نے اب دشمن کے خلاف موقف اختیار کیا ہے،

    ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ وطن ان کے لیے ’کھلے بازوؤں ‘ کے ساتھ موجود ہے اور ان کی واپسی کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے صوبائی مرکز نے صوبہ زنجان میں اسلحہ برآمد اور ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق 28 اپریل کو آئی آر جی سی کے انصارالمہدی بیس نے خدابندہ شہر میں بسیج فورسز کی ایک چیک پوسٹ سے مختلف اقسام کے ٹیزر، آنسو گیس کے شیل، ہتھکڑیاں اور دھوئیں کے شیل برآمد کیے جبکہ ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا۔

    آئی آر جی سی کے ایک بیان میں بعض دیگر کارروائیوں کے دوران چار افراد کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ان کارروائیوں میں کلاشنکوف رائفلیں، ہینڈ گنز، گولہ بارود، فوجی معیار کا دستی بم، جعلی شناختی دستاویزات اور اسٹارلنک سیٹلائٹ مواصلاتی آلات ضبط کیے۔

    یاد رہے کہ ایرانی حکام ماضی میں بھی کرد مسلح گروہوں پر سرحدی صوبوں میں حملوں کی منصوبہ بندی یا ان پر عمل درآمد کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

  14. عسکری طور پر ایران کو شکست دے دی ہے: امریکی صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہSamir Hussein/WireImage

    ایران کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ’بہت اچھا جا رہا رہے۔‘

    برطانوی بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا پارکر کے اعزاز میں دیے گئے سرکاری عشائیے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے اس مخصوص حریف کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس میں منعقدہ اس تقریب سے خطاب میں امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’ہم اس حریف (ایران) کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’چارلس بھی مجھ سے اتفاق کرتے ہیں۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ اور برطانیہ ہمیشہ ’کمیونزم، فاشزم اور جبر کی قوتوں کے خلاف‘ ڈٹ کر کھڑے رہے اور سرخرو ہوئے۔

  15. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔ یہ تیل برآمد کرنے والے ان گروپوں اور ان کے غیر اعلانیہ قائد سعودی عرب کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، خاص کر ایک ایسے وقت میں جب ایران کی جنگ نے توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی بحران پیدا کر دیا ہے اور عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران نے ابھی ہمیں اطلاع دی ہے کہ وہ اس وقت ایک ’انتہائی بحران کی حالت‘ میں ہے۔‘ صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’وہ چاہتے ہیں کہ ہم ’آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولیں‘ جبکہ وہ اپنی قیادت کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں (جسے میرا خیال ہے کہ وہ سنبھال لیں گے۔‘
    • بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں ایک گھر پر دھماکہ خیز مواد گرنے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔
    • نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 25 کلوواٹ تک کے سولر صارفین کے لیے لائسنس اور لائسنس فیس کی شرط ختم کر دی ہے۔
  16. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔