پشاور: دھماکہ، ایک ہلاک، سترہ افراد زخمی

وقت اشاعت

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو لے جانے والی گاڑیوں کا ایک قافلہ سڑک کنارے نصب باردوی سرنگ سے ٹکرانے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور چھ پولیس اہلکاروں سمیت سترہ افراد زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق زخمیوں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔

دریں اثناء کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی صبح جی ٹی روڈ پر گلبہار پولیس سٹیشن کے سامنے اس وقت پیش آیا جب مردان پولیس کے اہلکار سینٹرل جیل پشاور سے قیدیوں کو گاڑیوں میں ایک قافلے کی صورت میں لے جا رہے تھے۔

پولیس اہلکار جمیل خان نے نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ دھماکے میں پولیس کی دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

’اس واقعے میں ایک پولیس اہلکار شاہ حسین ہلاک اور چھ پولیس اہلکاروں سمیت سترہ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور قیدیوں کو لے جانے والی گاڑیوں کو اپنے تحویل میں لے لیا۔

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ مردان لے جانے والے قیدیوں میں کوئی اہم شدت پسند رہنما شامل تھا یا نہیں۔

اہلکار کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو لیڈی ریڈنگ ہستال منتقل کردیا گیا جن میں بعض کی حالت خطرناک بتائی جاتی ہے۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو فون کر کے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں قید کی سزا کاٹنے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام پر بنائے گئے ان کی تنظیم کے ایک گروپ نے یہ کارروائی کی ہے۔

ترجمان کے مطابق قیدیوں میں ان کی تنظیم کے ارکان شامل تھے تاہم انہوں نے ان کے نام بتانے سے گریز کیا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے پشاور کے قریب ضلع نوشہر کے علاقے اکوڑہ خٹک میں اجمل خٹک کے مزار کو نامعلوم افراد نے دھماکے سے تباہ کر دیا تھا۔