’حکومت وہی کرے جو سپریم کورٹ کہتی ہے‘

وقت اشاعت

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کسی فوجی بغاوت کی حمایت نہیں کرے گی لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہی کرے جو سپریم کورٹ کہہ رہی ہے۔

جمعرات کو لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری غیر جانبدار صدر نہیں ہیں وہ این آر او کے نتیجے میں صدر بنے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ جب این آر او ہی کو غلط قرار دے دیا گیا ہے تو پھر اس کے نتیجے میں صدر بننے والے آصف زرداری صدارتی استثنیٰ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

نامہ نگار علی سلمان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ اگر ووٹر لسٹوں کی تیاری میں کچھ تاخیر ہے تو اس وقت تک کے لیے کوئی نگران حکومت بنائی جا سکتی ہے البتہ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی نگران سیٹ اپ کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ صرف (سیاسی) سونامی کے ذریعے تبدیلی لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا وقت گزر چکا ہے اور اب اسے صرف وہ کرنا چاہیے جو سپریم کورٹ کہہ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ مسلم لیگ نون کے سوا باقی تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں کیونکہ مسلم لیگ نون نے انہیں دو بار دھوکہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا مسلم لیگ نون ڈرامہ نہ کرے بلکہ اگر وہ مخلص ہے تو پھر وہ اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے۔

پریس کانفرس کے موقع پر چند مقامی سیاستدانوں نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان بھی کیا۔