پاکستان کی ’جین زی‘ سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کیوں کر رہی ہے؟

Stock Market
،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق حالیہ عرصے میں پاکستانی نوجوانوں کی جانب سے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
    • مصنف, عدیل احمد
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

’پاکستان سٹاک ایکسچینج میں میری دلچسپی 2019 سے تھی اور میں اس میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی تھی لیکن اس وقت مواقع اتنے محدود تھے کہ میں چاہ کر بھی پہلا قدم نہیں اٹھا پا رہی تھی اور اسی لیے پھر میں کرپٹو اور فاریکس مارکیٹ کی طرف چلی گئی۔‘

یہ کہنا ہے پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ طالبہ اور کانٹینٹ کریئیٹر زینب فاطمہ کا جو ان ہزاروں نوجوانوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے پچھلے ایک سال کے دوران پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی ہے۔

گذشتہ دو، تین برسوں میں پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے اور لاکھوں نئے اکاوٴنٹس کھلے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد ’جین زی‘ یعنی نوجوانوں کی ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں میں یہ سلسلہ مزید تیز ہوا اور اب بھی جاری ہے۔

نیشنل کلیئرنس کمپنی آف پاکستان (این سی سی پی ایل) کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2025 سے ستمبر 2026 تک یعنی پچھلے 14 مہینوں کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں دو لاکھ 54 ہزار سے زیادہ نئے اکاوٴنٹس کھلے۔ ان میں سے 46 فیصد اکاوٴنٹس 18 سے 30 سال کے نوجوانوں کے تھے۔

این سی سی پی ایل، سٹاک مارکیٹ کے تین اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کے ذریعے پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں حصص کی خرید و فروخت کے دوران رقوم اور شیئرز کی منتقلی کا عمل انجام پاتا ہے۔

این سی سی پی ایل کے ڈیٹا کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نئے اکاوٴنٹس کے حوالے سے بہت اچھا ثابت ہوا۔

گذشتہ ماہ 25 ہزار 281 نئے سرمایہ کاروں کا اضافہ ہوا جو اب تک کسی بھی ایک مہینے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے 54 فیصد اکاوٴنٹس نوجوانوں کے ہیں۔ لیکن اس رجحان کی وجہ کیا ہے اور کیا پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری واقعی منافع بخش ہے؟

Pakistan stock market

نوجوان کیا سوچ کر سٹاک مارکیٹ کی طرف آ رہے ہیں؟

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ نوجوان سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی طرف تیزی سے راغب ہو رہے ہیں۔ کیا یہاں انھیں کوئی ایسے پوشیدہ مواقع نظر آ رہے ہیں جو ان سے پہلے کی جنریشنز سے اوجھل تھے یا پھر یہ سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک وقتی رجحان ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہی جاننے کے لیے ہم نے زینب سمیت کچھ ایسے نوجوانوں سے بات کی جنھوں نے حال ہی میں سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی ہے۔

زینب فاطمہ دو ہفتے پہلے ہی سٹاک مارکیٹ کا حصہ بنی ہیں۔ بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ پہلے وہ سٹاک مارکیٹ کے بارے میں آگاہی رکھنے کے باوجود کئی مسائل کی وجہ سے اس کا حصہ نہیں بن پا رہی تھیں جس کی وجہ سے انھوں نے پھر کرپٹو اور فاریکس مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری کی۔

لیکن ان کے بقول اب سٹاک مارکیٹ میں اکاوٴنٹ کھولنے کا عمل کافی آسان ہو گیا ہے جس کی وجہ سے وہ دوبارہ اس طرف راغب ہوئیں۔

زینب کا کہنا تھا کہ ’میرا مقصد سادہ ہے: سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی رقم کو بڑھانا، مارکیٹ کو سمجھنا اور سیکھنا اور اسے سے اپنی آمدن اور بچت میں اضافہ کرنا۔‘

ان کے بقول ’عام طور پر ہماری تنخواہ یا معمول کی آمدن ایک حد تک محدود رہتی ہے اور اس میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوتا۔ لیکن جب آپ سرمایہ کاری کی طرف آتے ہیں تو وہاں کمپاؤنڈنگ (پیسے سے پیسا بنانا) کے ذریعے اپنی سرمایہ کاری میں اضافے کا موقع مل سکتا ہے۔‘

زینب کی طرح جہلم کی نور بھی حال ہی میں سٹاک مارکیٹ کا حصہ بنی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہٴ قانون میں زیر تعلیم نور کہتی ہیں کہ سٹاک مارکیٹ میں میری دلچسپی 2023 میں پیدا ہوئی۔

'لیکن اس وقت مجھے مناسب معلومات اور رہنمائی نہیں مل سکی تھی اور مجھے یہ تاثر دیا گیا کہ سرمایہ کاری شروع کرنے کے لیے بہت بڑی رقم درکار ہے۔'

ان کی یہ غلط فہمی کئی ماہ بعد دور ہوئی اور پھر انھوں نے اپنا اکاوٴنٹ کھلوایا۔

نور کے بقول ’میں نے صرف پانچ ہزار روپے کی ابتدائی رقم سے سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔ میرا مقصد فوری منافع کمانا یا راتوں رات امیر ہونا نہیں تھا۔ بلکہ میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے ذریعے آمدن کا ایک اضافی ذریعہ بنانا چاہتی تھی۔‘

وہ سمجھتی ہیں کہ ملک میں آگاہی کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ’بینکوں اور پاکستان سٹاک ایکسچینج سمیت متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو سرمایہ کاری کے مواقع اور طریقۂ کار سے زیادہ مؤثر انداز میں آگاہ کریں۔‘

Pakistan Youth
،تصویر کا کیپشنزینب کے بقول سرمایہ کاری کے ذریعے پیسہ کمانا نسبتاً بہتر راستہ ہے

کراچی کے محمد علی مدنی اور طلحہٰ انس دونوں اے لیول کے طالب علم ہیں اور یہ دونوں بھی پچھلے کئی مہینوں سے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور مارکیٹ کے بارے میں سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

طلحہٰ کو سوشل میڈیا سے سٹاک مارکیٹ کے بارے میں پتا چلا اور پھر انھوں نے یوٹیوب پر اس بارے میں مزید ویڈیوز دیکھیں تو ان کی دلچسپی بڑھتی گئی اور ایک دن پھر انھوں نے اکاوٴنٹ کھلوانے کا فیصلہ کیا۔

19 سالہ طلحہٰ بتاتے ہیں کہ ’ابتدا میں مجھے توقع تھی کہ مجھے بہت جلدی منافع ملنے لگے گا لیکن جب منافع کے بجائے نقصان ہوا تو میں مایوس ہو گیا تھا۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ میں نے مارکیٹ کو سمجھنا شروع کیا اور اب شارٹ ٹرم ٹریڈنگ کے بجائے طویل مدتی سرمایہ کاری پر توجہ دیتا ہوں۔‘

محمد علی مدنی بتاتے ہیں کہ انھیں سٹاک مارکیٹ کے بارے میں اپنی پڑھائی کے دوران ہی پتا چلا لیکن ان کی دلچسپی کی ایک بڑی وجہ ویب سیریز اور فلمیں بھی رہیں۔

علی نے گذشتہ سال ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ سٹاک مارکیٹ میں اکاوٴنٹ کھلوایا اور ان کے بقول چند ہی مہینوں میں انھیں اچھا منافع بھی ملا جسے انھوں نے دوبارہ انویسٹ کر دیا ہے۔

یہ تمام نوجوان اس امید میں سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں کہ ان کا یہ فیصلہ انھیں مستقبل میں مالی آزادی اور خود مختاری دلائے گا۔

Pakistan Youth
،تصویر کا کیپشنمحمد علی

ڈالر، رئیل سٹیٹ اور منافع: ماہرین کیا بتاتے ہیں؟

جین زی کے سٹاک مارکیٹ کے طرف رجحان کی وجوہات سمجھنے کے لیے ہم نے کئی ماہرین سے بھی بات کی جنھوں نے اس کے پیچھے کئی اہم عوامل کی نشان دہی کی جن میں سٹاک مارکیٹ کی پچھلے چند برسوں میں اچھی کارکردگی کے علاوہ حکومتی اقدامات بھی شامل ہیں۔

معروف کاروباری شخصیت اور اے کے ڈی گروپ کے چیئرمین عقیل کریم ڈھیڈی نے بی بی سی نیوز اردو سے گفتگو میں بتایا کہ جین زی کی سٹاک مارکیٹ میں بڑھتی شمولیت کے کئی محرکات ہیں جن میں سے ایک ڈالر کی قیمت میں پچھلے کئی ماہ سے جاری استحکام بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ڈالر کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والے اتار چڑھاوٴ کو جب سے کنٹرول کیا گیا ہے، تب سے سٹاک مارکیٹ میں بہتری آنا شروع ہوئی ہے۔

عقیل کریم ڈھیڈی کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو برسوں میں پاکستان کی سٹاک مارکیٹ نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی اور سرمایہ کاروں کو اچھا منافع ملا جس کی وجہ سے نئے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی بڑھی۔

سٹاک ایکسچینج کی بروکیج فرم ڈارسن سیکیورٹیز سے وابستہ تجزیہ کار شہریار بٹ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ سٹاک مارکیٹ کی اچھی کارکردگی نئے سرمایہ کاروں کو راغب کر رہی ہے۔

شہریار بٹ نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ 2023 میں سٹاک مارکیٹ نے سرمایہ کاروں کو 85 فیصد تک منافع دیا جب کہ 2025 میں 55 فیصد سے زیادہ کا منافع دیا۔

ان کے بقول اس کے علاوہ ڈالر کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کی حوصلہ شکنی اور رئیل سٹیٹ مارکیٹ میں پچھلے تین سال سے جاری نسبتاً مندی کے رجحان نے بھی لوگوں کو سٹاک مارکیٹ کی طرف متوجہ کیا ہے۔

Pakistan youth
،تصویر کا کیپشنشہریار بٹ

حکومتی اقدامات اور اصلاحات

میکرو اکنامکس، فنانشل سٹریٹجی اور بینکنگ سیکٹر پر مہارت رکھنے والی المیزان انویسٹمنٹ کی ہیڈ آف ریسرچ عمرین سورانی کہتی ہیں کہ جین زی کے سٹاک مارکیٹ کا رخ کرنے کی وجوہات میں مہنگائی میں مسلسل اضافہ اور سوشل میڈیا پر مالیاتی تعلیم کا فروغ اور آگاہی بڑھنا شامل ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں عمرین سورانی نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں اکاوٴنٹ کھولنے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کی وجہ سے بھی نوجوانوں کی شمولیت بڑھی ہے اور نوجوان نسل خصوصاً جین زی دولت کو محفوظ رکھنے اور اس میں اضافے کے لیے سٹاک مارکیٹ کا رخ کر رہی ہے۔

تجزیہ کار شہریار بٹ نے بھی حکومتی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جین زی کو اس طرف راغب کرنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ اکاوٴنٹ کھولنے کے نظام کو آسان بنانا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار بٹ کا کہنا تھا کہ 2022 تک سٹاک مارکیٹ میں دو لاکھ سے کچھ زیادہ انویسٹرز تھے لیکن اس کے بعد ریگولیٹرز نے کوشش کی کہ نئے سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کی طرف متوجہ کیا جائے اور اس کے لیے سہولت اکاوٴنٹ متعارف کرایا گیا جس کے ذریعے طلبہ اور خواتین خانہ بھی باآسانی اکاوٴنٹس کھلوا سکتی ہیں۔

Pakistan Youth
،تصویر کا کیپشنعمرین سورانی

’ہدف سرمایہ کاروں کی تعداد 25 لاکھ تک پہنچانا ہے‘

حکومتی اقدامات اور اہداف کی تفصیلات کے لیے ہم نے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ترجمان ساجد گوندل سے بات کی جنھوں نے بتایا کہ سٹاک مارکیٹ میں نئے سرمایہ کاروں کی شمولیت بڑھانے کے لیے ایس ای سی پی مسلسل کام کر رہا ہے۔ ’ہمارا ہدف سرمایہ کاروں کی تعداد کو 25 لاکھ تک پہنچانا ہے اور اس مقصد کے لیے کوششیں جاری ہیں۔‘

ساجد گوندل کا کہنا تھا کہ اکاؤنٹ کھولنے کا عمل پہلے سے آسان بنایا گیا ہے تاکہ لوگ گھر بیٹھے سرمایہ کاری شروع کرنے کے طریقے تک رسائی حاصل کر سکیں۔ اور اسی کی وجہ سے رواں سال جنوری سے ستمبر تک سٹاک مارکیٹ میں تقریباً دو لاکھ نئے اکاؤنٹس کھلے۔

ترجمان ایس ای سی پی کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ جامعات اور کالجوں میں سیمینارز منعقد کیے جا رہے ہیں جن میں نوجوانوں کو سٹاک مارکیٹ، سرمایہ کاری کے بنیادی اصولوں اور سرمایہ کاروں کے حقوق کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاری سیکھنے کے لیے مفت آن لائن کورسز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

Pakistan Stock market

سوشل میڈیا کا ایک بڑا کردار

ماہرین نے اپنی گفتگو میں سوشل میڈیا کے کردار پر بھی بالخصوص بات کی۔

شہریار بٹ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر کچھ نامور شخصیات اور سلیبرٹیز بھی سٹاک مارکیٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس وجہ سے بھی نوجوان متوجہ ہوئے۔

عمرین سورانی کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا کانٹینٹ ابتدا میں جلدی اور شارٹ ٹرم منافع کی تلاش میں نوجوان سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کی طرف کھینچ لاتا ہے، لیکن مارکیٹ کے رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوانوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سنجیدہ اور پختہ دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’نوجوان سرمایہ کار اب بتدریج باقاعدہ سرمایہ کاری کے منصوبوں، منافع دینے والے بڑی اور مستحکم کمپنیوں کے شیئرز اور میوچل فنڈز کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں تاکہ منظم اور طویل المدتی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی دولت میں اضافہ کر سکیں۔‘

Aqeel Karim Dhedhi
،تصویر کا کیپشنعقیل کریم ڈھیڈی

کرپٹو مارکیٹ میں نقصانات

عقیل کریم ڈھیڈی کے مطابق جین زی کے سٹاک مارکیٹ کی طرف آنے کی ایک بڑی وجہ کرپٹو مارکیٹ بھی ہے۔

ان کے بقول پاکستانی نوجوانوں نے کرپٹو ٹریڈنگ میں بھاری نقصانات اٹھائے ہیں جب کہ سٹاک مارکیٹ سرمایہ کاری کے لیے نسبتا محفوظ اور مکمل طور پر ریگولیٹڈ ہے۔ ’اس لیے بھی نوجوان اس طرف آئے ہیں۔‘

تجزیہ کار شہریار بٹ بھی اس بات سے متفق ہیں۔ ان کے بقول پاکستان کرپٹو کی ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اور غیر سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستانی نوجوانوں نے اربوں روپے مالیت کی کرپٹو میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

’لوگ کرپٹو میں مار کھا کر آئے ہیں جب کہ پاکستان سٹاک مارکیٹ پوری طرح قانونی ہے، دھوکہ دہی کا امکان نہیں ہے۔‘

تاہم شہریار بٹ نے نئے سرمایہ کاروں سے متعلق ایک اہم امر کی بھی نشان دہی کی۔

ان کا کہنا تھا ’نئے انویسٹرز تو بہت زیادہ آ رہے ہیں لیکن مارکیٹ کا حجم اس حساب سے نہیں بڑھا۔ جو اس بات کی نشان دہی ہے کہ یہ چھوٹے یا انتہائی کم رقم سے سرمایہ کاری کرنے والے انویسٹرز ہیں جو سہولت اکاوٴنٹ کھول رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’زیادہ تر نئے سرمایہ کار سیکھنے کے یا تجرباتی مرحلے میں ہیں جو زیادہ تر کمپاوٴنڈنگ کی طرف جا رہے ہیں اور ہر مہینے اپنی بچت میں سے کچھ رقم سٹاک مارکیٹ میں ڈال رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔‘