ایک جانب پاکستان تحریک انصاف اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب جماعت احتجاجی لانگ مارچ کی تیاریوں میں بھی مصروف ہے۔ اس مرتبہ پی ٹی آئی نے اپنے احتجاجی مارچ کا آغاز خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جماعت کے ابتدائی منصوبے کے مطابق چار اکتوبر کو شروع ہونے والا لانگ مارچ چھ اکتوبر تک پشاور پہنچے گا، جس کے بعد چھ یا سات اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کا امکان ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان اور وزیر اطلاعات شفیع جان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں بتایا کہ لانگ مارچ کا آغاز ضلع لکی مروت کے مقام گنڈی چوک سے کیا جائے گا۔ تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے ابھی تک مارچ کے مکمل اور باضابطہ شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی اضلاع سے مارچ شروع کرنے کا فیصلہ جماعتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے بقول، ’ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں تاکہ عوامی حمایت اور قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا جا سکے۔‘
شفیع جان کے مطابق لانگ مارچ 4 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے گنڈی چوک سے روانہ ہوگا۔ پہلے دن قافلہ کرک میں قیام کرے گا، جبکہ 5 اکتوبر کو دوسرا پڑاؤ کوہاٹ میں ہوگا۔ اس کے بعد مارچ پشاور میں داخل ہوگا۔
انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’لانگ مارچ گنڈی چوک لکی مروت سے شروع ہوگا۔ پہلا پڑاؤ کرک اور 5 اکتوبر کو دوسرا پڑاؤ کوہاٹ میں ہوگا، جس کے بعد لانگ مارچ ضلع پشاور میں داخل ہوگا۔‘
اس حوالے سے صوبائی صدر جنید اکبر اور ترجمان شفیع جان سے مزید تفصیلات کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل کیے جانے تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
دوسری جانب ضلع بنوں سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر پختون یار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز زوم پر ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور سمیت دیگر رہنما شریک تھے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لانگ مارچ کا آغاز گنڈی چوک سے کیا جائے گا۔
تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مارچ کی عملی قیادت کون کرے گا۔ آیا وزیر اعلیٰ خود گنڈی چوک پہنچیں گے، علی امین گنڈاپور قافلے کی قیادت کریں گے، یا یہ ذمہ داری کسی اور رہنما کو سونپی جائے گی۔ پختون یار خان کا کہنا تھا کہ انھیں اس حوالے سے مزید معلومات نہیں دی گئیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے مارچ کے انتظامات کے لیے 50 لاکھ روپے دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان اور ٹانک سے کارکنوں کے قافلے گنڈی چوک پہنچیں گے، جبکہ بنوں، شمالی وزیرستان، نورنگ، لکی مروت اور دیگر قریبی علاقوں سے بھی کارکن اس مقام پر جمع ہوں گے۔
گنڈی چوک جنوبی اضلاع کا ایک اہم اور مرکزی مقام ہے جو انڈس ہائی وے پر واقع ہے۔ اس کے جنوب میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور جنوبی وزیرستان کے علاقے واقع ہیں، جبکہ شمال میں بنوں اور شمالی وزیرستان آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف اضلاع سے آنے والے قافلوں کے لیے یہ مقام ایک قدرتی اجتماع گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
گنڈی چوک سے پشاور کا فاصلہ تقریباً 220 سے 230 کلومیٹر بنتا ہے۔ اس روٹ پر گنڈی چوک سے کرک تقریباً 70 سے 80 کلومیٹر، کرک سے کوہاٹ 76 کلومیٹر اور کوہاٹ سے پشاور تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
سیاسی مبصرین، صحافیوں، پی ٹی آئی کارکنوں اور بعض مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جنوبی اضلاع سے مارچ شروع کرنے کی حکمت عملی موجودہ سیاسی حالات سے جڑی ہوئی ہو سکتی ہے۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قیاس آرائیاں موجود ہیں اور دوسری طرف حکومت و پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو احتجاجی تحریک کو محدود یا ختم کیا جا سکتا ہے، جبکہ اگر سیاسی تناؤ برقرار رہتا ہے تو جماعت کے پاس اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے مزید تیاری اور حکمت عملی مرتب کرنے کا وقت ہوگا۔
اُدھر پشاور میں موجود تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق انھیں ابھی تک کسی حتمی لائحہ عمل سے آگاہ نہیں کیا گیا، البتہ انھیں 24 گھنٹے کے نوٹس پر تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ پہلے پشاور سے صوابی جائیں گے اور وہاں قیام کریں گے۔ بعد ازاں مسکراتے ہوئے انھوں نے کہا تھا، ’پھر آگے جائیں گے‘، تاہم انھوں نے اسلام آباد کا نام نہیں لیا تھا۔