بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے صنعاء میں ’انتہائی اہم‘ اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ صعدہ اور تعز میں بھی فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ اسی دوران میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کی شام حوثی جماعت انصار اللہ کے زیرِ کنٹرول یمنی دارالحکومت میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی تصاویر میں شہر کے اوپر دھوئیں کے بڑے بڑے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیے، جبکہ انصار اللہ سے وابستہ خبر رساں ایجنسی ’سبأ‘ نے ایکس پر ان واقعات کو ’سعودی جارحیت‘ قرار دیا۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں یمنی حکومتی فورسز کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے کہا کہ دارالحکومت صنعاء میں حملوں کے ساتھ ساتھ شمال مغربی یمن کے صوبہ صعدہ میں بھی 11 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
تعز کے حوالے سے حکومتی فورسز کے ترجمان نے ایک سابق بیان میں کہا: ’ہماری فضائیہ کے شاہینوں نے تعز کے مختلف محاذوں پر 27 انتہائی درست اور مرکوز فضائی حملے کیے، جن کا ہدف حوثی دہشت گرد ملیشیا کا ایک مکمل فوجی نظام تھا۔‘
بیان کے مطابق حملوں میں میزائلوں کا ایک گودام، کمانڈ اور کنٹرول مراکز، اسلحہ اور رسد کے مراکز، ملیشیا کے جنگجوؤں کے اجتماعات اور فوجی گاڑیاں و سازوسامان نشانہ بنائے گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حملوں نے اپنے اہداف کو ’براہ راست اور انتہائی درست انداز میں‘ نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں درجنوں فوجی گاڑیاں اور عسکری صلاحیتیں تباہ ہوئیں اور ملیشیا کے بڑی تعداد میں ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے۔
دوسری جانب اتحاد نے جمعرات کی شام ایکس پر بتایا کہ اس نے جنوبی شہر جازان کے اوپر دو بیلسٹک میزائل اور چار ڈرون مار گرائے۔ جازان ان توانائی اور تیل کی تنصیبات کے قریب واقع ہے جنہیں حالیہ ہفتوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسی طرح جنوب مغربی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط کے اوپر بھی اہداف کو تباہ کیا گیا، جہاں ایک فضائی اڈہ موجود ہے۔
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق خمیس مشیط کے علاقے میں ایک بیلسٹک میزائل کو روکنے کے بعد اس کا ملبہ گرنے سے ’محدود مالی نقصان‘ ہوا۔
اس سے قبل جمعرات کو اتحاد نے کہا تھا کہ حوثیوں نے اس ہفتے مدینہ میں بجلی کی تقسیم کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ٹرانسفارمر ناکارہ ہو گیا، تاہم بجلی کی فراہمی کا نظام متاثر نہیں ہوا۔
اتحاد کے مطابق تفتیش اور ایک ڈرون کے ملبے کے معائنے سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ منگل کے روز ہونے والے اس حملے میں حوثی جماعت ملوث تھی۔ یہ بجلی گھر مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب انصار اللہ کے زیرِ انتظام خبر رساں ایجنسی سبأ نے اپنی حکومت کی وزارتِ دفاع کے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے کہا کہ بجلی گھر کو نشانہ بنانے کا سعودی الزام ’بے بنیاد‘ ہے۔
اس ذریعے نے اس الزام کو ’جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اس بات سے توجہ ہٹانا ہے جسے اس نے مکہ مکرمہ پر حملے کے سابق سعودی الزام کو ثابت کرنے میں سعودی عرب کی ناکامی قرار دیا۔
سعودی عرب نے دو ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے مکہ کے جنوب میں انصار اللہ جماعت کی جانب سے بھیجے گئے ایک ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک کر تباہ کر دیا تھا۔
اتحاد نے اس واقعے کو 2017 کے بعد مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی جماعت کی دوسری کوشش قرار دیا تھا، جبکہ انصار اللہ نے مکہ مکرمہ یا کسی دوسرے مقدس اسلامی مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کی تھی۔
اتحاد کا کہنا تھا کہ مدینہ منورہ پر حملہ حوثیوں کی جانب سے حرمین شریفین کو نشانہ بنانے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی ’بار بار کی جانے والی کوششوں‘ کا حصہ ہے۔
اتحاد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ مقدس مقامات اور ان کے زائرین کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔