لائیو, اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز: ’اگر امریکہ ایران معاہدے پر دستخط ہوئے تو شاید میں پاکستان جاؤں‘، ٹرمپ
ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے ابتدائی ایران، امریکہ معاہدے کا حصہ تھی۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جس کے بعد امریکہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے قریب ہے اور اگر یہ معاہدہ ہوتا ہے تو شاید وہ خود پاکستان کا دورہ کریں گے۔
خلاصہ
لبنان اور اسرائیل میں دس روزہ جنگ بندی کا آغاز ہو گیا ہے، ایران کا کہنا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے ابتدائی ایران، امریکہ معاہدے کا حصہ تھی
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جس کے بعد امریکہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے قریب ہے
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ، ایران معاہدہ اسلام آباد میں ہوتا ہے تو شاید وہ خود پاکستان کا دورہ کریں گے
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بی بی سی اُردو کو بتایا ہے کہ فی الوقت کسی بھی پاکستانی نمائندے کا امریکہ کا دورہ طے نہیں ہے
اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ: شہر کے اطراف بس اڈے بند کرنے کے احکامات جبکہ پنجاب سے پولیس کی اضافی نفری طلب کر لی گئی
لائیو کوریج
اسرائیل اور لبنان کے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایشیائی منڈی میں تیل کی قیمت میں معمولی کمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد جمعے کی صبح ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً ایک فیصد کم ہو کر 98.50 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے جبکہ امریکی خام تیل 1.2 فیصد کمی کے ساتھ 93.60 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری دو ہفتے کی مشروط جنگ بندی کو بھی متاثر کیا تھا۔
ایران کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے لبنان پر حملے اس معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔
یورپ کو جیٹ فیول کی شدید قلت کے خدشات، جون تک صورتحال نازک ہو سکتی ہے: بین الاقوامی توانائی ایجنسی, تھیو لیگیٹ اور جیما کریو، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے پاس اب صرف چھ ہفتوں تک ہوائی جہازوں کے ایندھن کا ذخیرہ موجود رہ گیا ہے اور اگر مشرقِ وسطیٰ سے درآمدات بحال نہ ہو سکیں تو جون تک صورتحال نازک ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ خلیج سے جیٹ فیول کی ترسیل کا اہم راستہ آبنائے ہرمز ایران کی جانب سے چھ ہفتوں سے بند ہےجس کے باعث قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور قلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا کہ اگر سپلائی بحال نہ ہوئی تو پروازوں کی منسوخی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر جیٹ فیول کی سب سے بڑی برآمد خلیجی ممالک سے ہوتی ہے جبکہ جنوبی کوریا، انڈیا اور چین جیسے ممالک کی ریفائنریاں بھی مشرقِ وسطیٰ کے خام تیل پر انحصار کرتی ہیں۔
اس بحران نے ایوی ایشن فیول مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔
برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ایئرلائنز اور فیول سپلائرز کے ساتھ مل کر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور فی الحال برطانیہ میں سپلائی میں کوئی رکاوٹ رپورٹ نہیں ہوئی۔ ایئرلائنز یوکے کے مطابق اگر بحران بڑھا تو اس پر قابو کے لیے حکومتی اقدامات ضروری ہوں گے۔
یورپ ماضی میں اپنی 75 فیصد جیٹ فیول درآمدات مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا رہا ہے، اور اب وہ امریکہ اور نائجیریا سے متبادل سپلائی تلاش کر رہا ہے۔
آئی ای اے کا کہنا ہے کہ امریکی برآمدات میں تیزی آئی ہے، لیکن یہ مجموعی کمی کا صرف نصف حصہ پورا کر سکتی ہیں۔
ادارے نے خبردار کیا کہ اگر یورپ اپنی ضروری سپلائی کا 50 فیصد بھی پورا نہ کر سکا تو بعض ہوائی اڈوں پر ایندھن کی کمی اور پروازوں کی منسوخی کا امکان ہے
ادارے کے مطابق اگر 75 فیصد سپلائی بھی بحال ہو جائے تو بھی اگست تک مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہے خلیج سے سپلائی جلد بحال ہو بھی جائے، موسمِ گرما کے سفر کے عروج سے پہلے یورپ کے کچھ علاقوں میں قلت کا سامنا رہ سکتا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: صدر اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر سمیت کن رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں؟
،تصویر کا ذریعہPress TV
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے دورے کے دوسرے روز ایرانی صدر اور پاسدارانِ انقلاب کے رہنماؤں سمیت دیگر حکام سےملاقاتیں کی ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ بدھ کو تہران پہنچے تھے، جہاں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اُن کا استقبال کیا تھا۔ تہران آمد کے پہلے روز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عباس عراقچی سے ملاقات کی تھی۔
تہران میں قیام کے دوسرے روز جمعرات کو فیلڈ مارشل نے مصروف دن گزارا اور ایرانی صدر، سپیکر پارلیمنٹ اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں۔
،تصویر کا ذریعہGovernment of Iran
فیلڈ مارشل نے جمعرات کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کی۔
اس ملاقات کے حوالے سے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے تاحال تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم ایرانی حکومت اور اس سے منسلک خبر رساں اداروں کی جانب سے ان ملاقاتوں کی تصاویر اور تفصیلات شیئر کی جا رہی ہیں۔
ایرانی حکومت سے منسلک ایکس اکاؤنٹ سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے صدر مسعود پیزشکیان سے ملاقات میں کہا کہ ’اگرچہ یہ جنگ ختم ہو جائے گی لیکن خطہ اپنے سابقہ حالات پر واپس نہیں آئے گا۔ تمام ممالک کو تعمیرِ نو، استحکام اور دیرپا امن کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔‘
ایرانی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق آرمی چیف نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب، مصر اور ترکی نے اس بحران کے دوران سفارتی کوششوں کی حمایت کی۔ ایران اور پاکستان کے درمیان گہرے مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتے ہیں۔ جلد ہی معاہدہ ہو سکتا ہے۔ یہ جنگ تباہی اور نقصان کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘
بیان کے مطابق صدر پیزشکیان نے کہا کہ جنگ بندی کی طرف بڑھنے میں پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار قابلِ ذکر ہے۔ ایران خطے میں امن، استحکام اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کا اتحاد اسرائیلی حکومت کے مقاصد کو ناکام بنا دے گا۔
صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی عوام وعدوں کی بار بار خلاف ورزیوں کی وجہ سے امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے۔ ایران بین الاقوامی قانون کے اندر اپنے حقوق کے تحفظ پر اصرار کرتا ہے اور ثالثی، جنگ بندی کے عمل اور اسلام آباد میں ایرانی وفد کی میزبانی میں پاکستان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGovernment of Iran
سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف
جمعرات کو ہی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی۔ محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کی تھی۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ملاقات کے دوران محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی وعدوں کی خلاف ورزی خطے میں امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
،تصویر کا ذریعہIRNA
قالیباف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ جامع تعلقات استوار کرنا اسلامی جمہوریہ کی ایک مستحکم اور فیصلہ کن پالیسی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے جنگ شروع کی اور اب اسے روکنے کی شدت سے کوشش کر رہے ہیں، وہ ماضی میں عدم اعتماد پیدا کرنے والے رویوں کو ترک کریں گے۔‘
پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ
جمعرات کو ہی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انھوں نے کمانڈر سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے دوران انھوں نے آئی جی آر سی کے کمانڈر کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے فریم ورک کے تحت کیے گئے اقدامات اور تہران میں ہونے والی اپنی حالیہ بات چیت سے متعلق گفتگو کی۔
فریقین کے درمیان خطے کی صورتحال اور امن و استحکام کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
،تصویر کا ذریعہPress TV
پریس ٹی وی ایران کے مطابق اعلیٰ ایرانی کمانڈر نے ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بتایا کہ ’ہم نے اس جنگ میں جو بھی ہتھیار استعمال کیے وہ مقامی طور پر ایرانی نوجوانوں نے تیار کیے تھے۔ آج کسی کو شک نہیں کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی برے اقدام کی صورت میں مسلح افواج ہر طرح کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔‘
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر زور دیا کہ جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے جاری کوششوں کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
جنگ بندی کے اعلان پر اسرائیل میں شکوک و شبہات, لوسی ولیئم سن، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
شمالی اسرائیل میں جنگ بندی کی خبر سامنے آتے ہی تین مرتبہ راکٹ حملوں کے سائرن بجے اور نہاریا کے اوپر موجود اسرائیلی فضائی دفاع نے راکٹوں کو فضا میں ہی روک لیا۔
طبی حکام کے مطابق جنگ بندی کے نافذ ہونے سے چند گھنٹے پہلے کم از کم تین افراد راکٹ حملوں سے زخمی ہوئے جن میں دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
نہاریا کے رہائشیوں اور ملک کے دیگر حصوں میں کئی لوگ اس بات پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں کہ اسرائیلی قیادت نے اس مرحلے پر جنگ بندی کیوں قبول کی۔
کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ اس بار صورتحال مختلف ہوگی لیکن ایک بار پھر ایسا معاہدہ سامنے آیا ہے جو ان کے مطابق کوئی دیرپا حل پیش نہیں کرتا۔
نہاریا کے ایک طالب علم نے کہا کہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے، کیونکہ انھیں ’یقین دلایا گیا تھا کہ اس بار نتیجہ مختلف ہوگا لیکن ایک بار پھر ایسا معاہدہ سامنے آیا ہے جو کوئی دیرپا حل نہیں دیتا۔‘
ایک اور شہری کا کہنا تھا کہ لبنان کی حکومت کو موقع دیا گیا تھا مگر وہ معاہدے کی شرائط پوری نہ کر سکی، خاص طور پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے معاملے میں۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے اعلان سے کچھ دیر پہلے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے صرف پانچ منٹ کے نوٹس پر سکیورٹی کابینہ کا اجلاس بلایا جبکہ وزرا کو اس جنگ بندی پر ووٹ دینے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ پر لڑائی روکنے پر آمادگی ظاہر کی، چاہے شرائط یا وقت اسرائیل کی خواہش کے مطابق نہ ہو۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فوج کے پاس اس وقت جنوبی لبنان میں پانچ ڈویژن موجود ہیں، اور صرف ایک روز قبل ہی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ فوجی پیش قدمی جاری رہے گی۔
حزب اللہ جنگ بندی کے دوران ذمہ داری کا مظاہرہ کرے: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں موجود ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کی پابندی میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ حزب اللہ اس اہم مرحلے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا۔
ٹرمپ کے مطابق ’اگر ایسا ہوا تو یہ اس کے لیے ایک ’بہت بڑا لمحہ‘ ہوگا۔‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب مزید خونریزی نہیں ہونی چاہیے اور امن قائم ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ یہ جنگ بندی باضابطہ طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہے جہاں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ متحرک ہے۔
اسرائیلی حکام نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ جنگ بندی کے دوران اسرائیل صرف اُس صورت میں کارروائی کرے گا جب حزب اللہ کی جانب سے کوئی فوری خطرہ لاحق ہو۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا تھا کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ کو غیر مسلح کیا جائے۔
لبنان جنگ بندی میں ثالثی پر ریاست پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے شکر گزار ہیں: محمد باقر قالیباف
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے لبنان میں جنگ بندی کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا ہے اور اپنے پیغام میں حکومت پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ایکس پر جاری اپنے پیغام میں باقر قالیباف نے کہا کہ ’جنگ بندی صرف حزب اللہ کی ثابت قدمی اور مزاحمتی محور کے اتحاد کا نتیجہ ہے۔ ہم اس جنگ بندی پر احتیاط کے ساتھ ڈیل کریں گے اور مکمل کامیابی کے حصول تک ایک ساتھ رہیں گے اور اس پیش رفت کو مکمل فتح کے حصول تک محتاط انداز میں آگے بڑھایا جائےگا۔
یاد رہے کہ محمد باقر قالیباف نے پاکستان میں مذاکرات کے لیے آنے والے ایرانی وفد کی سربراہی بھی کی تھی۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے جس 10 روزہ معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا اس کا آغاز اب ہو چکا ہے۔
لبنان میں جنگ بندی کے بعد کے مناظر
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بیروت میں جشن اور خوشی کے مناظر دیکھنے میں آئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
جنگ بندی شروع ہونے کے بعد بے گھر افراد اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان کے صدر نے جوزف عون نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا، جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس اسے امن کا ’تاریخی‘ موقع قرار دیا ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا آغاز
لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے جس 10 روزہ معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا اس کا آغاز اب ہو چکا ہے۔
لبنان کے صدر نے جوزف عون نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا، جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس اسے امن کا ’تاریخی‘ موقع قرار دیا ہے۔
ایران کی حامی حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کرے گی لیکن جنگ بندی سے قبل وہ اسرائیلی فورسز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتی رہی ہے۔
لبنان میں جنگ بندی پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے ابتدائی معاہدے کا حصہ تھی: ایران
،تصویر کا ذریعہIran Foreign Ministry
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے ابتدائی ایران‑امریکہ معاہدے کا حصہ تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران نے ’ابتدا ہی سے‘ اس بات پر زور دیا تھا کہ ’پورے خطے، بشمول لبنان، میں بیک وقت جنگ بندی‘ کی ضرورت ہے۔
بقائی نے لبنان کے عوام اور حکومت کے ساتھ ’یکجہتی‘ کا اظہار کیا اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے ’مکمل انخلا‘ کی ضرورت پر زور دیا، ایک ایسا اقدام جس کی اسرائیلی وزیرِاعظم پہلے ہی نفی کر چکے ہیں۔
انھوں نے تمام قیدیوں کی رہائی، بے گھر ہونے والے رہائشیوں کی اپنے گھروں کو واپسی کا بھی مطالبہ کیا اور اسرائیل‑لبنان جنگ بندی معاہدہ طے کرانے میں پاکستان کی کوششوں پر اس کا شکریہ ادا کیا۔
ایران کے ساتھ معاہدے پر اسلام آباد میں دستخط ہوتے ہیں تو شاید پاکستان چلا جاؤں: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے امریکی مطالبے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور اگر اسلام آباد میں کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو ’میں شاید خود چلا جاؤں۔‘
جمعرات کو وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے امریکہ کی تقریباً تمام شرائط مان لی ہیں۔
خیال رہے پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں بطور ثالث کردار ادا کر رہا ہے اور گذشتہ ہفتے دونوں کے درمیان بات چیت کا پہلا دور اسلام آباد میں ہوا تھا۔
گفتگو کے دوران ایک صحافی نے امریکی صدر سے سوال کیا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے پر مہر ثبت کرنے پاکستان جائیں گے، تو ان کا کہنا تھا: ’اگر معاہدے پر دستخط اسلام آباد میں ہوتے ہیں تو شاید میں چلا جاؤں۔‘
’پاکستان میں فیلڈ مارشل اور وزیرِ اعظم بہترین لوگ ہیں، شاید میں وہاں چلا جاؤں۔‘
ایران یا امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بہت قریب ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے 20 برس تک جوہری ہتھیار نہ حاصل کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
’اچھا لگ رہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہے ہیں اور یہ ایک اچھا معاہدہ ہوگا، جس میں جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔‘
’ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔ ایمانداری کے ساتھ 20 برس کی کسی حد کو میں نہیں مانتا۔‘
خیال رہے ایران نے اب تک امریکی صدر کے دعوؤں پر تبصرہ نہیں کیا ہے
اس وقت کسی بھی پاکستانی نمائندے کا دورۂ امریکہ طے نہیں: وائٹ ہاؤس عہدیدار, روحان احمد، بی بی سی اردو اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا ہے کہ فی الوقت کسی بھی پاکستانی نمائندے کا امریکہ کا دورہ طے نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کی جانب سے بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ شاید پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعے کو واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔
اس حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ: ’اس وقت پاکستان کے کسی بھی نمائندے کا دورہ طے نہیں ہے۔‘
’تاہم جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے پاکستان (ایران کے ساتھ) مذاکرات میں بہت مددگار ثابت ہوا ہے اور بات چیت ابھی بھی جاری ہے۔‘
خیال رہے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہوا تھا اور مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
گذشتہ روز پاکستان کے چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچے تھا، جہاں انھوں نے سیاسی اور عسکری شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ دورہ ثالثی کی کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
اہم خبروں کا خلاصہ
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
امریکہ نے اپنے براعظم میں واقع ممالک کے ان افراد کو ویزوں کے اجرا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو اس کے مطابق ’امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے میں (امریکہ کے) حریفوں کی حمایت کرتے ہیں۔‘
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں ’لبنانی سرزمین پر ہر جگہ حملوں کا مکمل خاتمہ‘ اور ’اسرائیلی افواج کے لیے نقل و حرکت کی کوئی آزادی نہ ہونا‘ جیسے نکات شامل ہونا چاہییں۔
اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور سے قبل سکیورٹی کے انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق 18 اپریل سے اسلام آباد میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند کردیا جائے گا۔ فیض آباد اور منڈی موڑ پر موجود بسوں کے اڈے آج رات 11 بجے سے تاحکم ثانی بند ہوں گے۔
پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انھوں نے کمانڈر سے ملاقات کی ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت بی بی سی کی رپورٹ کی فیکٹ فائندنگ کمیٹی سے تحقیقات کرے گی۔
بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید
بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں ہم آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں ککو شامل کرتے ہیں۔