لائیو, امریکہ اور ایران کے درمیان اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں مذاکرات ممکن ہیں: ٹرمپ
امریکی صدر ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں مذاکرات ممکن ہیں۔ جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز میں تین مال بردار جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ ادھر ایرانی میڈیا کو دیے بیان کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے خلاف ورزی کے مرتکب دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
خلاصہ
امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز میں تین مال بردار جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں
پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے خلاف ورزی کے مرتکب دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے
ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کے ساتھ ساتھ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا
اسلام آباد میں دوبارہ مذاکرات کا امکان تھا تاہم ایران اور امریکہ کی جانب سے اپنے وفود پاکستان روانہ نہیں کیے گئے
ایران کے ایک سینیئر مشیر مہدی محمدی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان ’بے معنی‘ ہے اور یہ ’اچانک حملے کے لیے مزید وقت حاصل کرنے کی چال ہے‘
لائیو کوریج
لبنانی صدر کی امن مشن میں شامل دوسرے فرانسیسی اہلکار کی ہلاکت کی مذمت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
لبنان کے صدر جوزف عون نے جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے خدمات انجام دینے والے فرانسیسی فوج کے دستے پر حملے اور اس میں ہونے والی اہلکار کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔
اس سے قبل فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے سنیچر کے روز ہونے والے حملے کے نتیجے میں دوسرے فرانسیسی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، جس کا الزام انھوں ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ پر عائد کیا۔
تاہم حزب اللہ کی جانب سے اس حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
صدر عون کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں انھوں نے اس واقعے کی دوبارہ مذمت کرتے ہوئے فرانس اور یونیفل یعنی اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس برائے لبنان کی قیادت سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ لبنان میں قیامِ امن کے لیے یہ فورس سنہ 1978 میں اقوامِ متحدہ نے قائم کی تھی۔
یونان کی مال بردار جہاز پر ایرانی حملے کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہCOPERNICUS SENTINEL-2/Reuters
یونان کے وزیرِ خارجہ کے مطابق یونانی مال بردار جہاز ایپامینونڈاس کو پاسداران انقلاب کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ایران نے اسے حراست میں لیا ہے۔
سی این این سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جہاز پر حملہ کیا گیا اور اسے ’شدید نقصان‘ پہنچا ہے۔ یونانی میڈیا کے مطابق شپنگ کی وزارت نے جہاز کو حراست میں لیے جانے کی تردید کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ یونان کے مال بردار جہاز پر حملہ ہوا۔ تاہم میں اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتا کہ اسے ایرانیوں نے تحویل میں لیا ہے۔‘
اس سے قبل پاسداران انقلاب نے کہا تھا کہ ایپامینونڈاس اور ایم ایس سی فرانسسکا کو ’تحویل میں لے لیا گیا‘۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کا کہنا ہے کہ جہاز پر پاسداران انقلاب کی ایک گن بوٹ نے فائرنگ کی تھی جس سے جہاز کے برج کو نقصان پہنچا ہے۔
فرانسیسی امن دستے کا دوسرا اہلکار لبنان میں ہلاک ہو گیا: صدر ایمانویل میکخواں
،تصویر کا ذریعہReuters
فرانسیسی صدر ایمانویل
میکخواں نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ہاتھوں زخمی ہونے والا فرانسیسی امن
دستے کا دوسرا اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔
سوشل میڈیا
پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’کارپورل
اینیسیٹ جیرارڈن کو گذشتہ روز وطن واپس بھیجا گیا تھا اور آج صبح وہ دم توڑ گئے۔‘
سنیچر کے روز جنوبی
لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے خدمات انجام دینے والے فرانسیسی اہلکار اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب گشت کے دوران ان پر فائرنگ کی گئی۔
میکخواں نے
حملے کا الزام حزب اللہ پر لگایا ہے، تاہم ایران کی حمایت یافتہ اس تنظیم نے واقعے
سے ’کسی بھی قسم کے تعلق‘ سے انکار کیا ہے۔
امن دستے کے دو
مزید اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
اس سے پہلے میکخواں
نے کہا تھا کہ وہ حزب اللہ اور اسرائیل میں جنگ بندی کی ’بھرپور‘ حمایت کرتے ہیں۔ اس
کے ساتھ انھوں نے تشویش کا اظہار بھی کیا کہ ’جاری عسکری کارروائیوں کی وجہ سے
ممکنہ طور پر یہ جنگ بندی پہلے ہی متاثر ہو چکی ہے۔‘
انھوں نے حزب
اللہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے
ہتھیار ترک کر دیں اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ لبنان کی خود مختاری کا احترام
کرے۔
لبنان میں کار پر اسرائیلی حملے سے دو افراد ہلاک: سرکاری میڈیا
لبنان کی
سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان کے گاؤں ال تری میں کار پر اسرائیلی حملے
سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
’حزب اللہ کی
جاری دہشت گردی کی کارروائیوں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے گذشتہ روز اسرائیلی فوج نے
رہائیشیوں کو انتباہ جاری کیا تھا کہ وہ دریائے لیطانی سے دور رہیں۔
16 اپریل کو
لبنان اور اسرائیل میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جس نے 10 روز تک جاری رہنا
ہے۔ جمعرات کے روز واشنگٹن سفارتی سطح کے مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔
حزب اللہ اور
اسرائیل دونوں نے ہی ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے ہیں۔ اس
سے پہلے اسرائیلی فوج نے کہا کہ حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز پر
حملہ کیا تھا۔
بریکنگ, اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں امریکہ ایران مذاکرات ممکن ہیں، ٹرمپ کا نیو یارک پوسٹ کو پیغام
،تصویر کا ذریعہReuters
نیو یارک پوسٹ کے مطابق اسلام آباد میں آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں کے دوران مذاکرات ہونے کے امکان کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا ہے کہ ’یہ ممکن ہے۔‘
نیو یارک پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ذرائع نے کہا ہے کہ اگلے 26 سے 72 گھنٹوں تک یعنی جمعے کو پاکستان میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو سکتا ہے۔
نیو یارک پوسٹ سے وابستہ صحافی کیٹلن ڈورنبوس نے کہا ہے کہ انھیں ٹرمپ اور پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ بات چیت جمعے کو بھی ممکن ہے۔
اسلام آباد کا علاقہ ریڈ زون تاحال سیل ہے اور وہاں سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ علاقے میں موجود سرکاری دفاتر بدستور بند ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ براہ راست مذاکرات کی میزبانی کرنے والا سرینا ہوٹل تاحال عام عوام کے لیے بند ہے۔ نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق صرف مخصوص عملے کو ہی ہوٹل تک رسائی حاصل ہے۔
امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کے ’دو ہزار سے زیادہ بجلی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا‘
ایران کے نائب وزیرِ توانائی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران بجلی کے ہزاروں مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مصطفیٰ رجبی مشہدی کا کہنا تھا کہ ’بجلی کے بنیادی ڈھانچے سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد مقامات پر حملے کیے گئے۔‘ انھوں نے کہا کہ اس کے باوجود بجلی کی بندش عموماً ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں بحال کر دی جاتی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بجلی کے نظام کو نشانہ بنانا عوام پر حملے کے مترادف ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ ایران کے بجلی کے شعبے میں تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار افراد کام کرتے ہیں جن میں سے تیس ہزار چوبیس گھنٹے خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق حملوں کے دوران اس شعبے کے 12 ملازمین ہلاک ہوئے۔
اس جنگ کے دوران ایران کے بجلی کے نظام کو بارہا نشانہ بنایا گیا۔ 21 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر دوبارہ نہ کھولی تو امریکی افواج ایرانی بجلی گھروں کو ’نشانہ بنا کر تباہ‘ کریں گی جس کا آغاز ’سب سے بڑے پاور پلانٹ سے کیا جائے گا۔‘
28 مارچ کو تہران میں بجلی کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کے باعث بڑے پیمانے پر بندش کی اطلاعات تھیں۔ 29 مارچ کو وزارتِ توانائی نے بتایا کہ تہران صوبے میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے نتیجے میں دارالحکومت کے بعض حصوں اور ہمسایہ صوبہ البرز میں بجلی متاثر ہوئی تھی۔
کیا یہ جہاز آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے؟, جانیتھن جوزفس، بزنس رپورٹر/بی بی سی
،تصویر کا ذریعہ(C)2007 {Henk de Winde}, all rights reserved
آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے جن تین جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، ان میں سے بظاہر دو کا تعلق دنیا کی سب سے بڑی شپنگ کمپنی ایم ایس سی سے ہے۔
جمعے کو آبنائے ہرمز بظاہر کچھ دیگر جہازوں کے لیے کھلی تھی اور شاید ان جہازوں کی کوشش تھی کہ وہ جلد از جلد اسے عبور کر لیں۔
ایم ایس سی فرانسسکا اور ایم ایس سی ایپامینونڈاس سمیت چار دیگر جہاز اس لڑائی کے آغاز سے خلیج میں پھنسے ہوئے تھے۔
میری ٹائم ڈیٹا کی کمپنی لائنر لیٹیکا کے تجزیے کے مطابق ایم ایس سی کلارا، ایم ایس سی گریس، ایم ایس سی مارگریٹ ہشتم اور ایم ایس سی میڈلین بحیرہ عرب میں مشرق کی جانب محفوظ ہیں۔
تاہم نسبتاً چھوٹے مال بردار بحری جہاز ایم ایس سی فرانسسکا اور ایم ایس سی ایپامینونڈاس اتنے خوش قسمت نہیں تھے اور انھیں بظاہر جانچ پڑتال کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
تاحال ایم ایس سی نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کمپنی عام طور پر ایسے معاملات میں خاموشی اختیار کرتی ہے۔
اس کمپنی کا ہیڈکوارٹر زمین سے گھرے ہوئے ملک سوئٹزرلینڈ میں ہے۔ اس کے باوجود یہ کمپنی دنیا بھر میں سمندری راستوں کے ذریعے اشیا کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد کنٹرول کرتی ہے۔
ایران امریکہ مذاکرات اور آپ کے سوال
،ویڈیو کیپشنایران امریکہ مذاکرات اور آپ کے سوال
اسلام آباد میں جنگ بندی کے بعد معاہدے کے لیے مذاکرات کے دوسرے دور میں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کی قیادت کی شرکت متوقع تھی لیکن بات چیت فی الحال آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔
اس صورتحال سے متعلق لوگوں کے سوالات کے جواب جانیے ترہب اصغر اور فرقان الہی کی اس ویڈیو میں۔۔۔
اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں ایران میں ایک اور شخص کو پھانسی دے دی گئی, بی بی سی مانیٹرنگ
ایران کی ایک عدالت نے بدھ کو اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مذکورہ شخص حساس سرکاری ادارے کی پیسِیو ڈیفنس کمیٹی میں کام کرتا تھا اور اس کے موساد کے ایک افسر سے وسیع روابط تھے۔
منگل کو بھی ایران نے جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے متعلق ایک اور شخص کو پھانسی دی تھی۔ اس شخص پر بھی موساد سے روابط رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
تنازع کے آغاز کے بعد سے ایران اب تک ایک درجن سے زائد افراد کو پھانسی دے چکا ہے۔ بعض افراد پر اسرائیل کے لیے جاسوسی، کچھ پر جلا وطن اپوزیشن گروپ مجاہدینِ خلق تنظیم سے وابستگی جبکہ دیگر پر جنوری کے ہنگاموں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
ادھر منگل کو ایران کی عدلیہ نے ان خبروں کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ آٹھ خواتین کو جلد پھانسی دی جائے گی۔ یہ تردید اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
عدلیہ کے زیر انتظام میزان نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کو ’جعلی خبروں‘ کے ذریعے گمراہ کیا گیا جو ’دشمن‘ میڈیا نے پھیلائیں۔ ایجنسی کے مطابق ان خواتین میں سے کئی کو پہلے ہی رہا کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر کو ایسے الزامات کا سامنا ہے جن کی سزا موت نہیں ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں خصوصی سکیورٹی انتظامات میں نرمی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہReuters
اسلام آباد میں رواں ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا امکان تھا تاہم دونوں ملکوں کے وفد نے فی الحال پاکستان آنے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
اطلاعات ہیں کہ راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس سے لے کر اسلام آباد ایکسپریس وے پر تعینات فوجی اہلکاروں کو وہاں سے ہٹا لیا گیا ہے۔
ان اہلکاروں کو اسلام آباد میں مذاکرات کے امکان کے پیش نظر وی وی آئی پی موومنٹ کے حوالے سے تعینات کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق فوجی اہلکاروں کو امریکہ اور ایران کے درمیان مزاکرات کے دوسرے دور کے لیے ان دونوں ملکوں کی شخصیات کی پاکستان آمد اور ان کی سکیورٹی کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔
گلزار قائد اور ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب جانے والے راستوں سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔
ایکسپریس وے پر پولیس اہلکاروں کی نفری میں بھی بڑی حد تک کمی کر دی گئی ہے۔ تاہم وہاں اب بھی اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس کے اہلکار تعینات ہیں۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان ’جنگ بندی میں توسیع کے لیے رابطے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لبنان کے صدر جوزف عون کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی مدت میں توسیع کے لیے رابطے جاری ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن ڈی سی میں جمعرات کو مذاکرات کا دوسرا دور ہونے جا رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اس وقت 10 روزہ عارضی جنگ بندی جاری ہے جو 16 اپریل کو نافذ ہوئی تھی۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں صدر جوزف عون نے کہا کہ جن مذاکرات کی تیاری کی جا رہی ہے وہ اسرائیلی جارحیت کے مکمل خاتمے، لبنانی علاقوں سے اسرائیلی انخلا، قیدیوں کی واپسی، بین الاقوامی سرحدوں پر لبنانی فوج کی تعیناتی اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو پر مبنی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’مذاکرات کے حوالے سے لبنان کا مؤقف واضح ہے۔ کوئی رعایت نہیں، کوئی سودے بازی نہیں اور کوئی ہتھیار ڈالنا نہیں۔ سوائے اس کے کہ لبنانی خودمختاری اور تمام لبنانیوں کے مفاد کو یقینی بنایا جائے۔‘
صدر عون کے دفتر کی جانب سے جاری پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی حمایت نے لبنان کو ایک ایسا موقع فراہم کیا ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں؟
تیل بردار جہازوں کے لیے دنیا کی سب سے مصروف بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ایک تیسرا جہاز بھی فائرنگ کی زد میں آ گیا ہے۔ یہاں سمندری آمدورفت میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز پر تمام بحری ٹریفک روک دی تھی جس کے بعد امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی شروع کی۔
اتوار کے روز امریکی افواج نے ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز پر سوار ہو کر اس کی تلاشی لی جبکہ پینٹاگون نے بتایا کہ گذشتہ روز بحرالکاہل کے علاقے میں ایران سے منسلک ایک پابندی زدہ ٹینکر کو بھی روکا گیا۔ ایران نے اس اقدام کو ’قزاقی‘ قرار دیا تھا۔
امریکہ نے کیا کہا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اس شرط پر طے پائی تھی کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث ایران کو روزانہ 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکہ یہ جنگ ’واضح برتری‘ سے جیت رہا ہے اور یہ کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے تک ناکہ بندی جاری رہے گی۔
جنگ بندی کے خاتمے کے قریب آتے ہی ایران کی مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رہی جس کے بعد ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں پیش رفت تک جنگ بندی میں توسیع کر دی۔
ایران نے کیا کہا ہے؟
ایران کے ایک سینئر قانون ساز ابراہیم عزیزی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول ’کبھی ترک نہیں کرے گا‘۔ جبکہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی ناکہ بندی کو ’جارحانہ عمل‘ قرار دیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ ہفتے مخصوص محفوظ راستوں کے ذریعے تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی تھی تاہم جب صدر ٹرمپ نے بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا تو تہران نے ایک بار پھر اسے بند کر دیا۔
ایران کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں گے: ایرانی وزارت خارجہ
،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست کے بعد ایران ’سیاسی میدان میں ہونے والی پیش رفت پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔‘
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اور مناسب اقدامات کرے گا۔
گذشتہ شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اس کی وجہ ایران میں ’شدید تقسیم‘ کو قرار دیا تھا۔
واشنگٹن کے ساتھ مزید مذاکرات کے امکان پر بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ سفارت کاری قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے اور ’معقول حالات میں ضرورت پڑنے پر ہم اسے استعمال کریں گے۔‘
آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے باعث جنگ بندی پر بڑھتا دباؤ, سباسچن اشر، مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار
،تصویر کا ذریعہEPA
ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایران بظاہر آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کرتا دکھائی دے رہا ہے جو امن معاہدے کی جانب پیش رفت میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاسداران انقلاب کی گن بوٹس نے آبی گزرگاہ عبور کرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو روکا۔
اب تک کسی جانی نقصان یا بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم اس اقدام سے جنگ بندی پر دباؤ بڑھے گا۔ ساتھ ہی یہ خطرہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ ڈیڈلاک کے دوران تنازع دوبارہ بھڑک سکتا ہے۔
اپنی تازہ گفتگو میں صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی بندش کو تہران کے لیے ایک معاشی نقصان قرار دیا۔ لیکن بظاہر ایران کا مقصد امریکہ پر پڑنے والے سیاسی دباؤ کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے۔
آبنائے ہرمز میں تین جہازوں پر حملے: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟
،تصویر کا ذریعہAgustin Alapont via Marine Traffic
،تصویر کا کیپشنپانامہ کے پرچم بردار جہاز ایم ایس سی فرانسسکا کی ایک تصویر
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تین مال بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اب تک دستیاب معلومات کے مطابق ہمیں یہ معلوم ہے:
پہلا حملہ
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کی ایک گن بوٹ نے آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر بردار جہاز پر فائرنگ کی۔ یہ واقعہ عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 15 بحری میل کے فاصلے پر پیش آیا جس کے نتیجے میں جہاز کے برج کو شدید نقصان پہنچا۔ اس واقعے میں ملوث جہاز ایپامینونڈاس ہے یونانی کمپنی کی ملکیت ہے۔
دوسرا حملہ
وینگارڈ اور یو کے ایم ٹی او کے مطابق پانامہ کا پرچم بردار جہاز یوفوریا ایران کے مغرب میں تقریباً آٹھ بحری میل کے فاصلے پر حملے کی زد میں آیا۔ کہا گیا ہے کہ جہاز کا عملہ محفوظ ہے اور جہاز کو کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ جہاز متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی کی ملکیت ہے۔
تیسرا حملہ
سمندری انٹیلی جنس فراہم کرنے والے ادارے وینگارڈ نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا ہے کہ پانامہ کے پرچم بردار جہاز ایم ایس سی فرانسسکا کو ایران کے ساحل سے تقریباً چھ بحری میل کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت یہ آبنائے ہرمز سے جنوبی سمت میں خلیج عمان کی جانب جا رہا تھا۔ جہاز کی جانب سے ہل اور رہائشی حصے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے۔
پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ ایم ایس سی فرانسسکا اور ایپامینونڈاس کو تحویل میں لے کر ایرانی ساحل کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس نے جہازوں پر بغیر اجازت کے گزرنے کی کوشش کرنے اور بحری نیویگیشن کے نظام سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
پاسداران انقلاب کی بحریہ نے تین جہازوں کو نشانہ بنایا، دو کو اپنی تحویل میں لے لیا: ایرانی میڈیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنایم ایس سی فرانسسکا کی یہ تصویر 2018 میں جرمنی میں لی گئی تھی
ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں نشانہ بننے والے تینوں جہازوں کو پاسداران انقلاب نے نشانہ بنایا ہے۔
پاسداران انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے فارس کا کہنا ہے کہ یوفوریا نامی ایک جہاز کو نشانہ بنایا گیا اور وہ اس وقت ایرانی ساحل کے قریب گراؤنڈ ہو چکا ہے۔
ایرانی میڈیا کو دیے بیان کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے خلاف ورزی کے مرتکب دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لیا اور ایرانی ساحل کی جانب منتقل کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ’نظم و سلامتی میں خلل ڈالنا ہماری سرخ لکیر ہے۔‘
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے بعد سے آبنائے ہرمز پر تین جہازوں پر حملے, بی بی سی ویریفائی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سمندری انٹیلی جنس فراہم کرنے والے ادارے وینگارڈ نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا ہے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایک تیسرا مال بردار جہاز حملے کی زد میں آیا ہے۔
ایران کے ساحل سے تقریباً چھ بحری میل کے فاصلے پر پانامہ کے پرچم بردار جہاز ایم ایس سی فرانسسکا کو آبنائے ہرمز سے جنوبی سمت میں خلیج عمان کی جانب جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔
وینگارڈ کے مطابق پاسداران انقلاب نے ایم ایس سی فرانسسکا سے رابطہ کیا اور اسے لنگر انداز ہونے کی ہدایت دی۔
جہاز کی جانب سے ہل اور رہائشی حصے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔
اس سے قبل بی بی سی ویریفائی کے مطابق آج صبح جس مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا وہ پانامہ کا پرچم بردار جہاز یوفوریا ہے جو متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی کی ملکیت ہے۔
کلپر کے اے آئی ایس ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز 22 اپریل کو آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع ہوا تھا اور اس کی منزل سعودی عرب کا شہر جدہ درج تھی۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر اور وینگارڈ کی رپورٹس کے مطابق ایران کے مغرب میں تقریباً آٹھ بحری میل کے فاصلے پر جہاز کو حملے کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد جہاز کے کیپٹن نے اسے روک دیا۔
بتایا گیا ہے کہ جہاز کا عملہ محفوظ ہے اور جہاز کو کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ آج صبح خلیج میں نشانہ بننے والا دوسرا جہاز ہے۔
اس سے قبل اطلاع دی گئی تھی کہ ایک یونانی ملکیت کے جہاز پر پاسداران انقلاب نے فائرنگ کی تھی۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پاسداران انقلاب کی ایک گن بوٹ نے کنٹینر بردار جہاز پر فائرنگ کی۔ بی بی سی ویریفائی کے مطابق اس واقعے میں ملوث جہاز یونان کا پرچم بردار ’ایپامینونڈاس‘ ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے وابستہ خبر رساں ادارے نور نیوز نے جہاز کے کپتان کی جانب سے یو کے ایم ٹی او کو دیے گئے اس بیان سے اختلاف کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جہاز کو کسی قسم کی ریڈیو وارننگ نہیں دی گئی تھی۔
نور نیوز کے مطابق جہاز نے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے دی جانے والی وارننگز کو نظر انداز کیا تھا۔
یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 15 بحری میل کے فاصلے پر پیش آیا اور فائرنگ کے نتیجے میں جہاز کے برج کو شدید نقصان پہنچا۔
پہلگام حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر مودی کا پیغام اور پاکستان کا ردعمل
،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر
مودی نے گذشتہ سال ہونے والے پہلگام حملے کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انڈیا کبھی بھی کسی قسم کی دہشت گردی
کے آگے نہیں جھکے گا۔‘
ایکس پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ
’ہم گذشتہ برس اسی دن پہلگام کے ہولناک دہشت گرد حملے میں جان گنوانے والے بے گناہ
افراد کو یاد کر رہے ہیں۔ انھیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ دکھ کی اس گھڑی میں
میری ہمدردیاں ان سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں جو اس نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
’بطور قوم ہم غم اور عزم کے ساتھ متحد ہیں۔
انڈیا کبھی بھی کسی قسم کی دہشت گردی کے آگے نہیں جھکے گا۔ دہشت گردوں کے مذموم
عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔‘
اس کے ردعمل میں پاکستان کے وزیر اطلاعات
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ انڈیا پہلگام حملے کے ایک سال بعد بھی ’اپنے موقف کے حق میں شواہد پیش نہیں کر سکا۔‘
ان کا دعویٰ تھا کہ انڈیا ’اپنے اندرونی معاملات کو بیرونی اور بیرونی
معاملات کو اندرونی رنگ دے کر پیش کرتا رہا ہے۔ دہشت گردی اس کا اندرونی معاملہ ہے
جسے وہ بیرونی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے۔‘
عطا تارڑ نے یاد دلایا کہ پاکستان کے
وزیراعظم شہباز شریف نے اس ’فالس فلیگ آپریشن‘
کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی مگر انڈیا کے پاس ’اس کا کوئی
خاطر خواہ جواب نہیں تھا۔‘
انھوں نے مئی 2025 کی لڑائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اپنی
خودمختاری، وقار اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔‘
ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع بے معنی ہے: ایرانی مشیر
ایران کے ایک سینیئر مشیر مہدی محمدی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی بات ’بے معنی‘ ہے اور یہ یقینی طور پر ’اچانک حملے کے لیے مزید وقت حاصل کرنے کی چال ہے۔‘
مہدی محمدی ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے مشیر ہیں۔
ایکس پر فارسی زبان میں ایک پیغام میں مہدی محمدی نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے ’ناکہ بندی کا تسلسل بمباری سے مختلف نہیں۔ اس کا جواب فوجی کارروائی کی صورت میں دیا جانا چاہیے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ایران خود پہل کرے۔‘
امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کیے ہوئے ہے۔
اتوار کے روز امریکی افواج نے ایرانی مال بردار جہاز پر سوار ہو کر اس کی تلاشی لی۔ اس سے قبل ایران کئی ہفتوں سے اس مصروف سمندری تجارتی راستے کو عملی طور پر بند کیے ہوئے تھا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی سفر سے ملاقات، قیام امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال
،تصویر کا ذریعہPMO
وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایران کے سفیر سے ملاقات کی ہے۔
پاکستان میں وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے 22 اپریل 2026 کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں جاری علاقائی صورت حال اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘
خیال رہے کہ ایرانی سفیر نے گذشتہ روز اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’یہ ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ایک بڑی تہذیب کا حامل کوئی بھی ملک دھمکی اور طاقت کے زیر اثر مذاکرات نہیں کرتا۔ یہ ایک مضبوط، اسلامی اور فقہی اصول ہے۔ کاش امریکہ نے اس حقیقت کو سمجھا ہوتا۔۔۔‘