لائیو, صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جلد معاہدے پر دستخط کا عندیہ: جب تک تمام نکات پر اتفاق نہ ہو جائے، دستخط کی باتیں بے معنی ہیں، ایرانی وزارتِ خارجہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ معاہدے کے دستاویزات کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ ’اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جانا چاہیے اور اس پر شاید یورپ میں دستخط ہوں گے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جب تک معاہدے کے تمام نکات پر اتفاق نہ ہو جائے، معاہدے پر دستخط کب اور کہاں ہوں گے، ان باتوں کا فائدہ نہیں۔
خلاصہ
جب تک تمام نکات پر اتفاق نہ ہو جائے، دستخط کی باتیں بے معنی ہیں: ایرانی وزارتِ خارجہ
امریکی صدر کا ایران پر حملے منسوخ کرنے کا اعلان، معاہدے پر پہنچنے کا عندیہ
ایران کے ساتھ معاہدے کی صورت میں جے ڈی وینس اس تقریب میں شرکت کریں گے: ٹرمپ
خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملے ناقابلِ قبول ہیں: یورپی یونین عہدیدار
امریکی اتحادیوں کا نقصان 'ایرانی اکاؤنٹس سے حاصل کیے گئے فنڈز' سے پورا کیا جائے گا: سیکریٹری خزانہ
غلط حکمتِ عملی اور جذباتی فیصلے پورے منظرنامے کو بدتر سمت میں لے جائیں گے: قالیباف کی امریکہ کو تنبیہ
لائیو کوریج
پنجاب میں 24 گھنٹوں کے دوران بارش اور آندھی سے جڑے واقعات میں پانچ افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے صوبہ پنجاب
میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش اور آندھی سے جڑے واعات میں پانچ افراد ہلاک
اور 23 زخمی ہوئے ہیں۔
ریسکیو پنجاب کی
جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نارووال میں آسمانی بجلی گرنے کے دو مختلف واقعات
میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ گوجرانوالہ میں درخت گرنے سے ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
بیان کے مطابق لاہور
میں ایک شخص کرنٹ لگنے جبکہ کینال روڈ پر درخت گرنے سے ایک موٹر سائیکل سوار ہلاک
ہوا ہے۔
اس کے علاوہ لاہور،
گوجرانوالہ، نارووال، قصور اور شیخوپورہ میں مختلف واقعات میں 23 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان ریسکیو فاروق
احمد کا کہنا ہے کہ شہری کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو ہیلپ لائین 1122 پر
ابلاع دیں۔
انڈیا میں پیٹرول پمپس پر کسی بھی صارف کو 200 لیٹر سے زیادہ ڈیزل فروخت کرنے پر پابندی عائد
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
انڈیا کی وزارتِ پیٹرولیم نے پیٹرول پمپس کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کسی بھی صارف کو ایک دن میں 200 لیٹر سے زیادہ ہائی اسپیڈ ڈیزل فروخت نہ کریں۔
نئے حکم نامے کے مطابق صنعتی، تجارتی اور ادارہ جاتی صارفین کو پیٹرول پمپس سے پیٹرول اور ڈیزل خریدنے سے روک دیا گیا ہے اور انھیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ضرورت کا ایندھن بلک یا بڑی تعداد میں پیٹرولیم مصنوعات فروخت کے مراکز سے خریدیں۔
بی بی سی ہندی نے انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق اگلے 90 روز تک ہو گا۔ پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق ’یہ اقدام بعض علاقوں میں ڈیزل کی طلب میں غیر معمولی اضافے کے بعد اٹھایا گیا ہے، جہاں بلک صارفین قیمت کے فرق کی وجہ سے پیٹرول پمپوں سے ایندھن خریدنے لگے تھے۔‘
ڈیزل بلک میں زیادہ قیمت پر اُن ٹیلی کام ٹاورز اور بڑی صنعتوں کو فروخت کیا جاتا ہے جو بجلی پیدا کرنے یا دیگر ضروریات کے لیے ڈیزل استعمال کرتی ہیں۔
دہلی میں پیٹرول پمپوں پر ڈیزل کی قیمت 95.20 انڈین روپے فی لیٹر ہے، جبکہ بلک میں اس کی قیمت 134.50 روپے ہے۔
مصر کا ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے منسوخ کرنے کا خیر مقدم: دونوں ملک معاہدے تک پہنچنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں، مصری وزارتِ خارجہ
مصر نے امریکی صدر ڈونلڈ
ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف طے شدہ حملے منسوخ کرنے کے اعلان کو سراہتے ہوئے
ایران اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایک معاہدے تک پہنچنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
مصری وزارتِ خارجہ
کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مصر کو امید ہے کہ ’دستیاب موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف
زیرِ التوا امور پر اتفاقِ رائے حاصل کیا جائے گا اور ایک ایسا ماحول پیدا کیا
جائے گا جو جنگ کے خاتمے اور علاقائی استحکام کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کے لیے
سازگار ہو۔‘
بیان میں مزید کہا
گیا ہے کہ مصر ’علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے اور تعاون کے
ذریعے کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اپنی مسلسل، سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں جاری
رکھے ہوئے ہے۔‘
حزب اللہ کا جنوبی لبنان اور وادیِ بقاع میں اسرائیلی فوج پر متعدد حملوں کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان اور وادیِ بقاع کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوجی دستوں، بکتر بند گاڑیوں کے خلاف ڈرون، میزائل اور راکٹ حملوں کی ایک سلسلہ وار کارروائی کی ہے۔
گروہ کی جانب سے بدھ سے جمعرات تک جاری رہنے والی کارروائیوں کے متعلق جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوجیوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا۔
حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے خاص طور پر الطیّر حرفا سے ملحقہ علاقے الراجمان پر مرکوز تھے، جہاں چار مختلف مواقع پر حملے کیے گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ لبنانی شہروں ناقورہ، القوازہ، رشّاف، القنطرہ، زوتر الشرقیہ اور یعمر الشقيف میں بھی اسرائیلی افواج اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
پشین اور قلعہ عبداللہ میں دو پولیس تھانوں پر حملے، نامعلوم افراد اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فرار
پاکستان کے صوبہ بلوچستان
کے اضلاع پشین اور قلعہ عبداللہ میں جمعرات کے روز نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کے
دو تھانوں پر حملے کیے اور انھیں نقصان پہنچایا جبکہ وہاں موجود اہلکاروں سے اسلحہ
بھی چھین کر لے گئے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان
کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ قلعہ عبداللہ میں حملہ گیلو کے علاقے
میں کیا گیا۔
بی بی سی کی جانب
سے بذریعہ فون رابطہ کرنے پر قلعہ عبداللہ میں تعینات ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ
کرنے کی شرط پر بتایا کہ بدھ کے روز مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے گلستان کے سرحدی
علاقے میں واقع گیلو پولیس چوکی پر حملہ کیا۔
ان کے مطابق حملہ آوروں
نے پولیس تھانے کو گرا دیا جبکہ اس کے بعض حصوں کو نذر آتش بھی کیا۔
انھوں نے بتایا کہ اس
حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم حملہ آور تھانے سے دو ایس ایم جیز، ایک گاڑی
اور موٹر سائیکل لے گئے۔
سینیئر پولیس اہلکار
کا کہنا تھا کہ جب پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری حملہ آوروں کے خلاف کاروائی
کے لیے پہنچی تو اس سے پہلے ہی وہ وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔
انھوں نے مزید بتایا
کہ جس علاقے میں یہ حملہ ہوا ہے وہ ضلع نوشکی کے سرحد کے قریب واقع ہے۔
اس ہی روز ایک اور
حملے میں مسلح افراد نے ضلع پشین کے سرحدی علاقے دینار میں سلطان پولیس تھانے کو بھی
نقصان پہنچایا۔
پشین میں تعینات ایک
پولیس اہلکار نے بتایا کہ مسلح افراد تھانے کو نقصان پہنچانے کے علاوہ اہلکاروں سے
اسلحہ بھی چھین کر لے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ عید سے
قبل اسی تھانے کی حدود سے نامعلوم مسلح افراد محکمہ حیوانات کے شیپ فارم سے 400 سے
زائد بھیڑیں بھی چھین کر لے گئے تھے۔
یہ گذشتہ 48 گھنٹوں
کے دوران بلوچستان میں پولیس کے تھانوں پر تیسرا حملہ تھا۔
اس سے قبل ضلع دُکی
میں نرہن پولیس تھانے پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔
ایس پی دُکی منصور احمد
بزدار نے بتایا کہ حملہ آوروں نے بھاری اسلحے سے تھانے پر حملہ کیا لیکن پولیس اہلکاروں
کی بھرپور مزاحمت کی وجہ سے وہ تھانے میں داخل نہیں ہوسکے۔
انھوں نے بتایا کہ جھڑپ
کے دوران پولیس کا ایک جوان ہلاک اور ایک زخمی بھی ہوا ہے۔
ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن
آرمی نے قبول کی ہے۔
ایران کی انڈین بحری جہازوں پر امریکی حملوں کی مذمت
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر انڈین تجارتی جہازوں پر ’وحشیانہ حملوں‘ کا الزام لگاتے ہوئے اسے ’امریکہ کی مسلح لوٹ مار اور ریاستی قزاقی کی جاری پالیسی کا واضح ثبوت‘ قرار دیا پے۔
خیال رہے کہ جمعرات کی صبح پالاؤ کے پرچم بردار سیٹّی بیلو نامی آئل ٹیکر پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاح ہلاک ہو گئے تھے جسے انڈیا کے وزیرِ جہاز رانی نے ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں انڈین ملاحوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بقائی نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کو اس ’غیر قانونی رویے‘ پر جوابدہ ٹھہرائے۔
ایران کے ساتھ معاہدے کی صورت میں جے ڈی وینس اس تقریب میں شرکت کریں گے: ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ابتدائی معاہدے پر دستخط ممکنہ طور پر اس ہفتے کے اختتام پر یورپ میں ہوں تاہم وہ اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس تقریب میں شرکت کریں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس نے کی تھی۔
جب تک تمام نکات پر اتفاق نہ ہو جائے، دستخط کی باتیں بے معنی ہیں: ایرانی وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ قطر اور پاکستان کی بطور ثالث کوششوں کے باوجود امریکہ کے اقدامات کی وجہ سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا ہے۔
اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ معاہدے کے متن کے بیشتر حصے پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے تاہم امریکہ کے متضاد مؤقف نے معاہدے تک پہنچنے کے عمل میں عدم استحکام اور رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک انٹرویو میں معاہدے کے وقت اور مقام سے متعلق دعوؤں کو ’محض میڈیا کی قیاس آرائیاں‘ قرار دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک متعلقہ حکام معاہدے کے متن کے ہر ایک جز پر حتمی نتیجے تک نہیں پہنچتے، تب تک اس پر دستخط کے وقت اور مقام کے بارے میں بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کا متن ہمارے لیے پہلے ہی واضح ہے مگر امریکی فریق ہر بار غیر معقول مطالبات سامنے لاتا رہا۔ انھوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود اپنے اصولی مؤقف اور ریڈ لائنز سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
دستاویزات کو ’حتمی شکل دینے کے مرحلے‘ میں ہیں: صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ یورپ میں ممکنہ معاہدے پر دستخط کا عندیہ
،تصویر کا ذریعہAFP VIA gETTY iMAGES
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر ایک ’بہترین معاہدہ‘ طے کر لیا ہے اور وہ اب دستاویزات کو ’حتمی شکل دینے کے مرحلے‘ میں داخل ہو رہے ہیں۔
اوول آفس میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں دستاویزات کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ ’اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جانا چاہیے۔ ہم شاید یورپ میں اس پر دستخط کریں گے اور یہ ایک اچھی پیش رفت ہوگی۔‘
خیال رہے اس سے قبل ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی ایران کی اعلی ترین قیادت سے منظوری کے بعد وہ ایران کے خلاف آج کے طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر رہے ہیں۔
اوول آفس میں بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسا معاہدہ ہونے جا رہا ہے، جس کے تحت ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکے گا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر ’جلد ہی دستخط ہوں گے اور دستاویزات تقریباً حتمی شکل میں ہیں۔‘
انھوں نے اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف بھی کی اور کہا کہ وہ اسرائیل، قظر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب بحرین، کویت اور دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بات کر چکے ہیں اور اب ترکی کے صدر اردوغان سے بھی بات کریں گے۔
’سب بہت خوش ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ بھی بہت خوش ہے۔‘
کیا ایرانی رہبرِ اعلیٰ اس ممکنہ معاہدے سے متفق ہیں؟
اوول آفس میں ایک صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ اس بات کے بارے میں کتنے پُراعتماد ہیں کہ اس ہفتے کے آخر تک ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا؟
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ٹرمپ نے جواب دیا: ’یہ جلد ہی ہوگا، شاید اسی ہفتے کے آخر میں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے اس معاہدے سے اتفاق کر لیا ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’میری معلومات کے مطابق جواب ہاں میں ہے۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جیسے ہی معاہدے پر دستخط ہوں گے، آبنائے ہرمز پر امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر اٹھا لی جائے گی۔
اس موقع پر ایک صحافی نے ذکر کیا کہ ٹرمپ ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے کے قریب ہیں، تو اس بار کیا بات مختلف ہے؟
ٹرمپ نے جواب دیا: ’کیونکہ انھوں نے سخت نقصان اٹھایا ہے۔ انھوں نے ایسا نقصان اٹھایا ہے جو بہت کم لوگ ہی برداشت کر سکتے ہیں اور وہ میرے مقابلے میں معاہدہ کرنے کے کہیں زیادہ خواہش مند ہیں۔‘
ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جو چیز بدلی ہے وہ معاہدے کے لیے ایران کا ’جوش و جذبہ‘ ہے۔
گذشتہ روز کی اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی ایران کی اعلی ترین قیادت سے منظوری کے بعد وہ ایران کے خلاف آج کے طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بات چیت اور حتمی نکات، تصوراتی اور تفصیلی دونوں سطحوں پر، تمام متعلقہ فریقوں کی جانب سے منظور کر لیے گئے ہیں، جن میں امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر شامل ہیں۔‘
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کلاس نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران خلیجی ریاستوں پر ایران کے تازہ حملوں کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔
ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف مزید حملے کرنے کی کوشش کی تو اسے ’پہلے سے کہیں زیادہ سخت‘ جواب دیا جائے گا۔
امریکی سیکریٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی اتحادیوں کے خلاف کیے جانے والے کسی بھی نقصان کی قیمت ’ایرانی اکاؤنٹس سے حاصل کیے گئے فنڈز‘ سے ادا کی جائے گی۔
ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’غلط حکمتِ عملیاں اور جذباتی فیصلے پورے منظرنامے کو بدتر سمت میں لے جائیں گے۔‘
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔