کرفیو کی وجہ سے نوشکی میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا: ’دو روز سے اپنے گھر نہیں جاسکا ہوں‘, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر نوشکی شہر سے تعلق رکھنے والے شہری مہیم بلوچ نے بتایا ہے کرفیو کی وجہ سے وہ دو روز سے اپنے گھر نہیں جاسکے ہیں جبکہ اس ہی شہر سے تعلق رکھنے والے تاجر رہنما احمد جان مینگل کا کہنا ہے کہ لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کرفیو میں کم از کم تین گھنٹے کی نرمی ہونی چاہیے۔
بلوچستان میں گذشتہ دو دہائیوں سے زائد کے عرصے سے جاری شورش کے دوران نوشکی وہ دوسرا علاقہ ہے جہاں باقاعدہ طور پر تین روز کے لیے کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے مطابق نوشکی میں عسکریت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے لوگوں کے جان و مال کو خطرات لاحق تھے جس کی وجہ سے وہاں 31 جولائی تک کرفیو نافذ ہے۔
’کرفیو سے ایک روز پہلے ہی نوشکی میں معمولات زندگی متاثر ہوگئیں‘
نوشکی شہر کے رہائشی مہیم بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ کرفیو سے ایک روز پہلے ہی نوشکی شہر میں معمولات زندگی متاثر ہونا شروع ہو گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ منگل کے روز جب نوشکی کے نواح میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ ہوا تو سیکورٹی فورسز کی جوابی کاروائی کے نتیجے میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی وجہ سے شہر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
وہ بتاتے ہیں کہ جب فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ اپنے دفتر میں موجود تھے۔ ان کے مطابق فائرنگ کی وجہ سے شہر میں دکانیں بند ہونا شروع ہوئیں تو وہ بھی اپنا دفتر بند کر کے نکل گئے۔
مہیم بلوچ کا کہنا تھا کہ سکول کی چھٹیوں کی وجہ سے ان کے بچے شہر میں نہیں تھے جس کی وجہ وہ اپنی بہن کے گھر چلے گئے اور وہیں رات کو پتہ چلا کہ پورے ضلع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ چونکہ ان کا گھر شہر کے اندر ہے اس لیے کرفیو کے باعث وہ دو روز سے اپنے گھر نہیں جا سکے ہیں۔
’شہر کی تاریخ کا پہلا طویل کرفیو‘
بلوچستان کے متعدد دیگر شہروں کی طرح ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد قیام پاکستان سے قبل سے نوشکی میں آباد ہیں۔
تجارت سے وابستہ اس برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ شہر کے وسط میں رہائش پذیرہیں جنھیں کرفیو کی وجہ سے بت حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے نوشکی میونسپل کمیٹی کے جنرل کونسلر نریش کمہار نے فون پر بتایا کہ آخری مرتبہ اگست 2006 میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد شدید ہنگاموں کی وجہ سے شہر میں کرفیو نافذ کیا گیا تھا لیکن وہ صرف چھ سے سات گھنٹوں کے لیے تھا۔
انھوں نے بتایا کہ اس وقت شہر میں مکمل کرفیو ہے جو کہ شہر کے لوگوں کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لازمی بات ہے کہ جب شہر میں راتوں رات کرفیو نافذ کر دیا گیا تو اس سے لوگوں کو مشکلات تو ہوں گی۔
ان کا کہنا ہے کہ بچوں کے دودھ سمیت کئی اشیا روزانہ کی بنیاد پر خریدی جاتی ہیں تاہم ’جب رات کو کرفیو لگا تو لوگ وہ خریداری نہیں کرسکے۔‘
نوشکی کے تاجر رہنما احمد جان مینگل کا کہنا ہے کہ کرفیو کے نفاذ سے قبل شہر میں حالات کشیدہ تھے جس کی وجہ سے بہت سارے دکانداروں نے اپنی دکانوں کی شٹر جلدی میں گرائے تھے اور وہ اپنی دکانوں میں بجلی نہیں بند کرسکے۔
انھوں نے کہا کہ مکمل کرفیو کی وجہ سے نہ صرف لوگ بنیادی اشیا صرف کی خریداری نہیں کر پا رہے بلکہ روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے بھی کرفیو کی وجہ سے اپنی آمدنی سے محروم ہو گئے ہیں۔
مینگل کا کہنا ہے کہ اس وقت شہر کے نواح میں پھنسے مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کے عملے کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
’نہیں معلوم کہ انھیں کھانے پینے کو کچھ مل بھی رہا ہے کہ نہیں کیونکہ کوئٹہ تفتان شاہراہ پر موجود ہوٹل بھی کرفیو کی وجہ سے بند ہیں۔‘
’کرفیو میں چند گھنٹے کی نرمی ہونی چاہیے‘
تاجر رہنما احمد جان مینگل کا کہنا ہے کہ ہماری تجویز ہے کہ دن کو 10 بجے سے 12 بجے تک کرفیو میں نرمی ہونی چاہیے تاکہ لوگ ضرورت کی اشیا کی خریداری کرسکیں اور مریضوں کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال لے جاسکیں۔
اگرچہ کرفیو پورے ضلع میں نافذ کیا گیا ہے تاہم ضلع کے دیہی اور دوردراز علاقوں میں لوگوں کی نقل و حمل معمول کے مطابق جاری ہے۔
رابطہ کرنے پر نوشکی کے مشرق میں واقع یونین کونسل کیشنگی میں لوگوں نے بتایا کہ اس علاقے میں لوگوں کی آمدورفت پر کوئی قدغن نہیں تاہم کوئٹہ اور نوشکی کے درمیان شاہراہ پر کرفیو کے باعث گاڑیوں کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر ہے۔
نوشکی کہاں واقع ہے اور وہاں کرفیو کیوں لگایا گیا ہے؟
نوشکی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً 130 کلومیٹر کے فاصلے پر مغرب میں واقع ہے جس کی شمال میں افغانستان سے طویل سرحد بھی لگتی ہے۔
نوشکی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہیں ۔
31 جنوری 2026 کو جب کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے ہیروف ٹو کے نام سے مختلف شہروں میں سرکاری تنصیبات پر حملے کیے گئے تو ان میں نوشکی شہر بھی شامل تھا۔
اس کاروائی کے دوران نہ صرف کالعدم تنظیم کے لوگ تین روز تک نوشکی شہر اندر موجود رہے بلکہ مجموعی طور پر ایک ہفتے تک نواحی علاقوں میں بھی ان کی موجودگی رہی۔
وہاں کرفیو کے نفاذ کے حکام کے حوالے سے بی بی سی نے محکمہ داخلہ کے بعض حکام سے رابطہ کیا لیکن انھوں نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
تاہم کرفیو کے حوالے سے محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ 28 جولائی کو ضلعی انٹیلیجینس کوآرڈینیشن کمیٹی نے رپورٹ دی کی شہر کے مغربی بائی پاس پر واقع ایف سی کے چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں نے حملہ کیا جس کے بعد سکیورٹی فورسز کی آپریشن سے عندیہ ملتا ہے کہ وہاں سیکورٹی کی صورتحال انتہائی غیر مستحکم ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق حساس سرکاری تنصیبات اور قومی شاہراہ این-40 پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے نوشکی میں امن و امان کی صورتحال کافی حد تک خراب ہوچکی ہے جس سے عوامی تحفظ، انسانی جانوں، سرکاری املاک اور مسافروں و سامان کی بلا تعطل نقل و حرکت کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹس سے اگست کے مہینے میں خطرے میں اضافے کا عندیہ ملتا ہے، جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرکاری تنصیبات اور دیگر حساس مقامات کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے۔
حکام نے اس تمام صورتحال کے باعث 28 جولائی کی رات 8 بجے سے 31 جولائی کی رات 8 بجے تک ضلع نوشکی کی حدود میں کرفیو نافذ کر دیا۔
ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں کرفیو کا نفاذ
بلوچستان میں موجودہ شورش کا آغاز سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوا۔
بلوچستان میں کوئٹہ ڈویژن، رخشان ڈویژن، مکران ڈویژن، سابقہ قلات ڈویژن، نصیر آباد ڈویژن اور سبی ڈویژن کے مختلف علاقے مختلف بلوچ عسکریت کے تنظیموں کی کاروائیوں کی وجہ سے شورش سے متاثر ہوئے۔
تاہم دو دہائیوں سے جاری بلوچستان کے موجودہ طویل شورش کے دوران نوشکی وہ دوسرا شہر ہے جہاں کرفیو نافذ کیا گیا۔ اس سے چند روز قبل نوشکی سے متصل ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔
نوشکی کی طرح کھڈکوچہ میں بھی لوگوں نے کرفیو اور سکیورٹی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کی شکایات کی ہیں۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے مطابق کھڈکوچہ میں کرفیو لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب نوشکی میں سکیورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر لوگوں کی گرفتاری کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم ابھی تک سرکاری سطح پر ان کی تعداد نہیں بتائی گئی۔
گذشتہ روز پاکستان کے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نوشکی میں سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں آٹھ مبینہ عسکریت پسند مارے گئے۔
اس سے قبل سرکاری حکام نے مستونگ میں مختلف کارروائیوں میں 13 سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔













