لائیو, فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وفد کے ہمراہ تہران آمد، اگر مذاکرات ہوئے تو قوی امکان ہے کہ اسلام آباد میں ہوں گے: وائٹ ہاؤس
امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے ہیں۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ایران سے متعلق جنگ بندی کے بارے میں کہا کہ یہ رپورٹس درست نہیں ہیں کہ امریکہ نے اس میں باضابطہ توسیع کی درخواست کی ہے۔
خلاصہ
لبنان کے ساتھ مذاکرات کے بعد بھی اسرائیل کے حملے جاری
ٹرمپ ایران کے ساتھ ’کوئی چھوٹا معاہدہ نہیں، بلکہ بہت بڑی بارگین‘ کرنا چاہتے ہیں: نائب صدر جے ڈی وینس
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں جنگ ختم ہونے کے قریب ہے اور ایران بہت شدت سے کسی معاہدے تک پہنچنے کا خواہشمند ہے
ٹرمپ کا پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کا عندیہ: ’ایران سے اگلے دو روز میں مذاکرات ہو سکتے ہیں‘
دس ہزار اہلکاروں اور درجنوں جنگی جہازوں کی مدد سے امریکہ نے سمندر کے راستے ایرانی تجارت کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے: سینٹ کام
لائیو کوریج
امریکہ کو جنگ بندی میں لبنان کی شمولیت تسلیم کرنا ہوگی: باقر قالیباف
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’امریکہ کو لبنان سمیت جنگ بندی کے معاہدے کی ’پابندی کرنا ہوگی۔‘
انھوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’لبنان میں جامع جنگ بندی کی تکمیل حزب اللہ کی ثابت قدم جدوجہد پر منحصر ہے جو ایران کی حمایت یافتہ تنظیم ہے۔‘
قالیباف نے کہا کہ ’ایران اور ’محورِ مزاحمت‘ (جو کہ ایران کی حمایت یافتہ علاقائی تنظیموں کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے) جن میں حزب اللہ، حماس، یمن کے حوثی اور عراقی شیعہ ملیشیائیں شامل ہیں، ایک ہی روح کی مانند ہیں، چاہے جنگ ہو یا جنگ بندی۔
انھوں نے آخر میں کہا کہ امریکہ کو اسرائیل فرسٹ کی غلطی سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔
ناکہ بندی سے بچ نکلنے والے ایرانی پرچم بردار بحری جہاز روک لیا گیا: امریکہ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہCENTCOM
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ اس نے ایرانی پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو روک لیا ہے جس نے ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں پر عائد ناکہ بندی سے بچنے کی کوشش کی تھی۔
سینٹکام کے مطابق یہ جہاز منگل کے روز ایرانی بندرگاہ والے شہر بندر عباس سے روانہ ہو کر آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد روکا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی بحریہ کے ڈسٹرائر یو ایس ایس سپرونس نے ’کامیابی کے ساتھ جہاز کا رخ موڑ دیا‘ اور اب یہ ایران کی جانب واپس جا رہا ہے۔
سینٹکام نے مزید بتایا کہ اب تک 10 جہازوں کو واپس ایران بھیجا جا چکا ہے اور پیر کے روز نافذ کی گئی اس ناکہ بندی کے بعد کوئی بھی جہاز اسے عبور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
ایران اور لبنان جنگ: اسرائیل ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار‘ ہے، نیتن یاہو
،تصویر کا ذریعہ@netanyahu via X
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ
ان کا ملک ایران اور لبنان میں جاری جنگ کے تناظر میں ’ہر ممکنہ صورتحال کے لیے
تیار‘ ہے۔
نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ
اسرائیل جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ایک ’اہم ترین اڈے‘ کو تباہ کرنے کے قریب ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے فوج کو ہدایت دی ہے
کہ وہ اس علاقے میں ’بفر زون کی سکیورٹی کو برقرار رکھے‘ اور اسے ’مشرق کی جانب
مزید وسعت دے۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس جنگ
میں اسرائیل کے مقاصد بدستور امریکہ کے اہداف سے ملتے جُلتے ہیں۔
حکومت کا داخلی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات معطل کرنے کا فیصلہ: ایرانی میڈیا, غنچہ حبیبی زادہ، بی بی سی فارسی
ایرانی میڈیا کے مطابق ملک نے ’داخلی ضروریات‘ کو پورا کرنے کے لیے تمام پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات کو تا حکمِ ثانی معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل نے ایران میں متعدد پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں جنوبی علاقوں عسلویہ اور ماہشہر شامل ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے جماران کے مطابق ماہشہر میں فجر انرجی پرشین گلف اور عسلویہ میں موبین انرجی اور دماوند انرجی جیسے پلانٹس کو ’شدید نقصان‘ پہنچا ہے، جبکہ دونوں علاقوں میں 50 سے زائد پیٹروکیمیکل کمپلیکسز میں پیداوار معطل ہو چکی ہے۔
اس صنعت کی مصنوعات میں پلاسٹک سے لے کر کھاد تک شامل ہیں، جس کے باعث اس کے اثرات ایران کے مختلف صنعتی شعبوں اور روزگار پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
اگر مذاکرات دوبارہ ہوئے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ اسلام آباد میں ہی ہوں گے: وائٹ ہاؤس سیکریٹری کیرولین لیویٹ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ سے اب سے
کُچھ دیر قبل پریس بریفنگ کے دوران ایران سے متعلق جنگ بندی کے بارے میں سوال کیا
گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ رپورٹس درست نہیں ہیں کہ امریکہ نے اس میں باضابطہ
توسیع کی درخواست کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم ان مذاکرات میں بدستور بھرپور
طور پر مصروف ہیں،‘ اور انھوں نے بات چیت کو ’تعمیری اور جاری‘ قرار دیا۔
پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے یہ بھی بتایا کہ ’اگر مذاکرات ہوئے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اسی مقام پر ہوں گے یعنی اسلام آباد میں منعقد ہوں گے جہاں پہلے ہوئے تھے۔‘
میڈیا بریفنگ کے دوران لیویٹ کے ہمراہ وزیرِ خزانہ سکاٹ
بیسنٹ بھی موجود تھے۔
فریقین کی آمنے سامنے ملاقاتوں سے متعلق رپورٹس پر
انھوں نے کہا کہ ’ان امور پر بات ہو رہی ہے، لیکن جب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے
باضابطہ اعلان نہ ہو کچھ بھی حتمی نہیں ہوگا۔‘
لیویٹ نے مزید کہا کہ ’ہمیں معاہدے کے امکانات کے
حوالے سے اچھا محسوس ہو رہا ہے،‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کے مطالبات پورے
کرنا ’ایران کے بہترین مفاد میں ہے،‘ جنھیں ان کے بقول وہ ’بالکل واضح‘ کر چکے
ہیں۔‘
اسی موقع پر انھوں نے ایک مرتبہ پھر سے ایران امریکہ
کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا۔
جنگ کے آغاز سے اب تک 2167 افراد ہلاک ہوئے: لبنانی وزارتِ صحت کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
لبنان میں جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 2167
تک پہنچ گئی ہے یہ بات لبنان کی وزارتِ صحت کی تازہ رپورٹ میں بتائی گئی ہے جسے
سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی نے جاری کیا ہے۔
یہ تعداد منگل کے اعداد و شمار کے مقابلے میں 43
افراد کے اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس جنگ کے دوران اب تک زخمی ہونے والے افراد کی
تعداد 7061 ہو گئی ہے۔
پاکستانی وفد سے ملاقات کے بعد ایران امریکہ سے مستقبل کی بات چیت پر فیصلہ کرے گا: سرکاری میڈیا, غنچہ حبیبی زادہ، بی بی سی فارسی
،تصویر کا ذریعہCredit Gov of Iran
ایران کی سرکاری خبر ایجنسیوں کے مطابق، ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ آئندہ دور کے مذاکرات کے بارے میں فیصلہ آج پاکستانی وفد سے ملاقات کے بعد کرے گا۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے لبنان کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کو ایران کے لیے آئندہ مذاکرات کے حوالے سے ایک ’مثبت اشارہ‘ سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو مذاکرات کے لیے ’معقول فریم ورک‘ اپنانا ہوگا، زیادہ مطالبات کے ذریعے مذاکراتی عمل کو نہیں روکنا چاہیے اور جنگ بندی سے پہلے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔
تسنیم نے مزید کہا کہ امریکی میڈیا رپورٹس میں واشنگٹن کی مذاکرات شروع کرنے کی خواہش کا ذکر ہے، لیکن ایرانی وفد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کو ’منصفانہ اور معقول مذاکرات‘ کے لیے ضروری اصولوں کی پابندی کرنی ہوگی۔
یار رہے امریکہ ایران کے ساتھ دوسرے دور کے مذاکرات پر بات کر رہا ہے، لیکن ابھی تک کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی۔
پہلے 48 گھنٹوں میں کوئی جہاز امریکی فورسز کی ناکہ بندی توڑ کر آگے نہیں بڑھ سکا: سینٹ کام
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے جہازوں پر عائد امریکی ناکہ بندی کے پہلے 48 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز امریکی فورسز کی ناکہ بندی توڑ کر آگے نہیں بڑھ سکا۔
سینٹ کام کا مزید کہنا ہے کہ اس عرصے میں نو جہازوں نے امریکی فورسز کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے واپس پلٹ کر ایران کی بندرگاہ یا ساحلی علاقے کی طرف رخ کر لیا۔
دو محاذوں پر دو الگ مذاکرات: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سنیچر کے روز پاکستان میں امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پہنچے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی ابھی تک برقرار ہے۔ اسی دوران اسرائیل اور لبنانی گروہ حزب اللہ سرحد کے دونوں طرف ایک دوسرے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امن قائم کرنے کی امید کے ساتھ دونوں محاذوں پر مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ ان کے بارے میں اہم معلومات درج ذیل ہیں:
امریکہ-ایران مذاکرات
واشنگٹن اور تہران کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات، جن کی میزبانی پاکستان نے کی، اتوار کو بغیر کسی بڑی پیش رفت کے ختم ہو گئے، یعنی جنگ ختم کرنے میں کوئی اہم پیش رفت نہ ہو سکی۔
منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ مذاکرات اگلے دو دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ ایران نے کہا کہ اسے کسی نئی ملاقات کی معلومات نہیں ہیں۔
بی بی سی کے مطابق امریکہ ایران کے ساتھ دوسرے دور کے مذاکرات پر بات کر رہا ہے، لیکن ابھی کوئی شیڈول طے نہیں ہوا۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ رابطے پاکستان کے ذریعے جاری ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ موجودہ جنگ بندی بڑھانے کے لیے بات چیت جاری ہے۔
اسی دوران پاکستان کا ایک وفد تہران پہنچ گیا ہے۔
لبنان-اسرائیل مذاکرات
منگل کے روز واشنگٹن میں اسرائیلی اور لبنانی سفیروں کی ملاقات ہوئی۔
دونوں فریقوں نے ملاقات کے بعد براہ راست مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ لبنان کے سفیر نے ان مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیا، جبکہ اسرائیلی سفیر نے کہا کہ امریکہ، لبنان اور اسرائیل ایک ہی سمت میں کام کر رہے ہیں۔
مذاکرات کے دوران بھی اسرائیل اور حزب اللہ ایک دوسرے پر حملے کرتے رہے۔ اسرائیل پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ جنگ بندی اس کی لبنان میں کارروائیوں پر لاگو نہیں ہوتی۔
،تصویر کا ذریعہReuters
دباؤ کے باوجود برطانیہ ایران جنگ میں شامل نہیں ہو گا: کیئر سٹارمر
،تصویر کا ذریعہHouse of Commons
برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے۔
پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے سٹارمر نے کہا: ’یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ مجھ پر پالیسی تبدیل کرنے کے لیے کافی دباؤ ڈالا گیا ہے، اور اس دباؤ میں گذشتہ رات پیش آنے والے واقعات بھی شامل ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا ’میں اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کروں گا۔ میں دباؤ کے آگے نہیں جھکوں گا۔ اس جنگ میں شامل ہونا ہمارے قومی مفاد میں نہیں ہے، اور ہم ایسا نہیں کریں گے۔ مجھے معلوم ہے کہ میرا مؤقف کیا ہے۔‘
سٹارمر کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان گذشتہ سال طے پانے والے تجارتی معاہدے کی شرائط ’تبدیل کی جا سکتی ہیں‘۔
بریکنگ, فیلڈ مارشل عاصم منیر وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہISPR
امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے ہیں۔
یاد رہے اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک پاکستانی ثالث کے ذریعے رابطے برقرار ہیں۔
بقائی نے امکان ظاہر کیا تھا کہ پاکستان کا ایک وفد آج ایران کا دورہ کرے گا، جو اسلام آباد میں ہونے والی سابقہ بات چیت کا تسلسل ہو گا، اور اس میں ایران اور امریکہ کے مؤقف پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک پاکستانی ثالث کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، اگرچہ حالیہ مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں بتایا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک پاکستانی ثالث کے ذریعے رابطے برقرار ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف ’واضح طور پر پیش کیا جا چکا ہے اور بعد کے رابطوں میں بھی دہرایا گیا ہے۔‘
بقائی نے مزید بتایا کہ امکان ہے کہ پاکستان کا ایک وفد آج ایران کا دورہ کرے گا، جو اسلام آباد میں ہونے والی سابقہ بات چیت کا تسلسل ہوگا، اور اس میں ایران اور امریکہ کے مؤقف پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
انھوں نے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنی ضروریات کے مطابق یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کا حق ہونا چاہیے، تاہم افزودگی کی نوعیت اور سطح پر بات چیت کی گنجائش موجود ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور 26 فروری کو ہوا تھا، جو جنگ شروع ہونے سے صرف دو دن قبل منعقد ہوا تھا۔
آبنائے ہرمز کھل رہی ہے، جہاز واپس آ رہے ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل رہی ہے اور بحری جہاز اس راستے سے گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔
فوکس بزنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا: ’آبنائے ہرمز کھل رہی ہے‘ اور ’جہاز واپس آ رہے ہیں‘، تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو خلیج، بحیرہ احمر اور خلیج عمان میں جہاز رانی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکہ کی جانب سے نافذ کی گئی بحری ناکہ بندی پیر کے روز شروع ہوئی تھی، اور منگل کو امریکی فوج نے بتایا کہ ابتدائی 24 گھنٹوں میں کوئی بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے مزید کہا: ’ہم نے ابھی کام ختم نہیں کیا‘، لیکن انھوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکہ ایران کے ساتھ ایک ’بہترین معاہدہ‘ کر سکتا ہے۔
بریکنگ, امریکی ناکہ بندی جاری رہی تو اہم سمندری راستوں میں تجارت روک دی جائے گی: ایران کی دھمکی, غنچہ حبیبی زادہ، بی بی سی فارسی
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رکھتا ہے تو خطے میں جہاز رانی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کے لیے عدم تحفظ پیدا کرتا رہا تو یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایسی صورت میں ایرانی مسلح افواج خلیج فارس، بحیرۂ عمان اور بحیرۂ احمر میں ’کسی بھی درآمد یا برآمد کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گی۔‘
تاہم عبداللہی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ممالک کی تجارت متاثر ہو سکتی ہے، حالانکہ ان کے بیان کردہ سمندری علاقے نہایت وسیع ہیں اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
ادھر، امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی پیر کے روز شروع کی گئی تھی۔ امریکی فوج کے مطابق ابتدائی 24 گھنٹوں میں کوئی جہاز اس ناکہ بندی کو عبور نہیں کر سکا، جبکہ خلیج عمان میں چھ تجارتی جہازوں کو واپس لوٹنا پڑا۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تقریباً چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد 8 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ناکام رہا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آئندہ دو دنوں میں بات چیت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، جس کی ایران کی جانب سے تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔
بریکنگ, ’چین ایران کو ہتھیار نہیں بھیجے گا، وہ بہت خوش ہیں کہ میں آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھول رہا ہوں‘: ٹرمپ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے ایران کو ہتھیار نہ بھیجنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے چینی صدر شی جن پنگ کو خط لکھ کر اس معاملے پر درخواست کی تھی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا: ’چین اس بات پر بہت خوش ہے کہ میں آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھول رہا ہوں۔ میں یہ ان کے لیے بھی کر رہا ہوں اور پوری دنیا کے لیے بھی۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’یہ صورتحال دوبارہ کبھی پیش نہیں آئے گی۔ انھوں نے اتفاق کیا ہے کہ وہ ایران کو ہتھیار نہیں بھیجیں گے۔‘
اپنے بیان میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور چین اس معاملے پر ’دانشمندی اور بہترین طریقے سے‘ مل کر کام کر رہے ہیں، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ لڑنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
دوسری جانب، چین نے منگل کے روز ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان خبروں کو بھی مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ چین ایران کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، اور انھیں ’مکمل طور پر بے بنیاد‘ قرار دیا۔
یاد رہے امریکی فوج کے مطابق ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد ابتدائی 24 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز سے کوئی جہاز نہیں گزرا، حالانکہ اس سے قبل چینی جہاز ان چند بحری جہازوں میں شامل تھے جو اس راستے سے گزرنے میں کامیاب ہو رہے تھے۔
فضائی مال برداری کے بڑھتے اخراجات صارفین کو ادا کرنا ہوں گے
ایئر فارورڈرز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برینڈن فرائیڈ، جو کہ امریکہ کی سینکڑوں فریٹ فارورڈنگ کمپنیوں کی نمائندگی کرنے والا ایک تجارتی ادارہ ہے، کا کہنا ہے کہ کارگو میں خلل ’وسیع اور بڑے پیمانے پر‘ ہے۔
وہ بی بی سی ریڈیو فور کے ٹوڈے پروگرام کو بتاتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز جیسے ایمریٹس، اتحاد اور قطر ایئرویز عام طور پر دنیا کے کل کارگو کا تقریباً پانچواں حصہ لے جاتی ہیں، لیکن اس وقت وہ اپنی مکمل گنجائش سے کم پر کام کر رہی ہیں، جس سے بھیڑ اور تاخیر پیدا ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق یہ صورتحال اب عالمی سطح پر اثر انداز ہونا شروع ہو گئی ہے، اور جیٹ فیول کی بڑھتی ہوئی قیمت، کارگو کے راستوں میں تبدیلی، رسک انشورنس اور اضافی سیکیورٹی اقدامات اس مسئلے میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ شرح مختلف ہوتی ہیں، لیکن حالیہ ہفتوں میں کچھ فضائی مال برداری کے کرائے میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
انھوں نے مزید کہا: ’بطور صنعت ہم یہ بوجھ زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتے، جلد یا بدیر اس کی قیمت اصل صارف کو ادا کرنا پڑے گی۔‘
خیرپور میں خاتون کو ’کاری‘ قرار دے کر قتل کرنے کی وائرل ویڈیو: ’حقائق سامنے لانے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی‘, ریاض سہیل، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کراچی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ضلع خیرپور میں 22 سالہ خاتون
کے مبینہ غیرت کے نام پر قتل میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد اس واقعے
کی تحقیقات اور حقائق کو سامنے لانے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
پولیس کے مطابق خیرپور کے علاقے ٹنڈو مستی سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ خالدہ کو مبینہ طور پر ’کاری‘
قرار دے کر قتل کیے جانے کے واقعے میں ملوث ملزمان، خاتون کے ماموں اور دادا، کو
گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ اس واقعے کی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔
اس واقعے سے متعلق ایک ویڈیو بھی پاکستان کے سوشل میڈیا پر
وائرل ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سُرخ
کپڑوں میں ملبوس ایک خاتون کو دو مردوں نے بازوں سے پکڑا ہوا ہے جبکہ ویڈیو میں
موجود تیسرے شخص کے ہاتھ میں پستول ہے۔ خاتون کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ بے
گناہ ہیں مگر اسی اثنا میں پستول لوڈ کر کے اُن پر فائرنگ کر دی جاتی ہے۔
ایس ایس پی خیرپور سعود مگسی کے دفتر سے جاری ہونے والے
اعلامیے میں کہا گیاہے کہ یہ واقعہ چار روز پرانا ہے۔
پولیس کی جانب سے دائر ایف آئی آر سے معلوم ہوتا ہے کہ پولیس
اہلکاروں کی موجودگی میں لڑکی کو مبینہ طور پر گولی ماری گئی۔
ایس ایس پی خیرپور سعود مگسی سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ ایف
آئی آر کے مطابق جب پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی تھی تو پھر زخمی لڑکی کو ہسپتال کیوں
منتقل نہیں کیا گیا، تو ان کا کہنا تھا کہ خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو تمام
حقائق سامنے لائے گی۔
اس واقعے کی ایف آئی آر سرکاری مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ اس
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ 10 اپریل کی شب پولیس اہلکار رات کو ایک بجے گشت
کے لیے روانہ ہوئے اور جب وہ فیض کینال سٹاپ پر پہنچے تو انھیں اطلاع ملی کہ گاؤں
بٹو چانڈیو میں ملزمان خالدہ نامی خاتون کو کاری کا الزام لگا کر قتل کرنا چاہتے
ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق جب پولیس اہلکار مذکورہ گاؤں پہنچے تو
انھوں نے پولیس موبائل کی روشنی میں دیکھا کہ چار مسلح ملزمان اور ایک عورت کھڑے
تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ اس لڑکی کو کاری کرکے ماریں گے۔
ایف آئی آر کے مطابق ’ہم نے گاڑی روکی اور آواز لگائی کہ پولیس
آگئی ہے فائر نہ کریں، لیکن اسی اثنا میں ملزم قیصر جاور غلام عباس نے فائر کیے جس
کے بعد لڑکی زمین پر گر گئی اور پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن
ملزمان گلیوں میں فرار ہو گئے۔‘
ایف آئی ار کے مطابقفائرنگ کی آواز پر گاؤں کی خواتین آئیں جنھوں نے بتایا کہ لڑکی کا نام خالدہ
ہے جو پولیس کے سامنے فوت ہو گئی اور جب پولیس اہلکاروں نے چیک کیا تو اس کو سینے
پر دو فائر لگے ہوئے تھے جو آر پار ہو چکے تھے۔
لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی چھ سال قبل شادی ہوئی
تھی اور وہ جمعرات کو گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی جس کے بعد انھوں نے اپنے بھائیوں کو
بتایا، فون کالز کی گئیں۔
جنوبی لبنان میں ’بھاری طاقت‘ کے ساتھ کارروائی کر رہے ہیں: اسرائیلی فوج
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ان علاقوں کے لیے ایک نیا انخلا کا حکم جاری کیا ہے جہاں اس کے مطابق فضائی حملے جاری ہیں۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ وہ دریائے زہرانی کے جنوب میں واقع علاقے میں نمایاں طاقت کے ساتھ کارروائی کر رہی ہے، اور لوگوں کو چاہیے کہ فوراً علاقہ خالی کر کے شمال کی جانب منتقل ہو جائیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے: ’جو کوئی بھی حزب اللہ کے عناصر، ان کی تنصیبات یا ان کی جنگی گاڑیوں کے قریب موجود ہوگا، وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔‘
ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہو گی، مسعود پزشکیان
،تصویر کا ذریعہgettyimages
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی اور ایرانی قوم کبھی بھی ایسے رویے کو قبول نہیں کرے گی۔
بدھ کے روز تہران کے ایمرجنسی سروسز کے حکام کے ساتھ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ تہران جنگ یا عدم استحکام کا خواہاں نہیں ہے۔
اس کے بجائے صدر نے کہا کہ ’[ایران] نے ہمیشہ مختلف ممالک کے ساتھ تعمیری بات چیت اور روابط کی ضرورت پر زور دیا ہے۔‘
ایرانی میڈیا کے مطابق ان کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت اگلے دو دنوں میں پاکستان میں دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، تاہم تہران کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
حزب اللہ کے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے
لبنان کے ایران نواز مسلح گروہ حزب اللہ نے بدھ کے روز شمالی اسرائیل میں کئی راکٹ داغے ہیں۔
ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں حزب اللہ نے کہا ہے کہ اسرائیل پر حملے ’اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ہمارے ملک اور ہمارے لوگوں پر اسرائیلی امریکی جارحیت بند نہیں ہوتی۔‘
ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا حملوں نے کوئی نقصان پہنچایا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حزب اللہ کی جانب سے داغے گئے راکٹوں کی تعداد 30 کے قریب تھی۔ جبکہ حزب اللہ نے اسرائیل پر اور لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں پر 24 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
دوسری جانب لبنان کی سرکاری خبر رساں
ایجنسی این این اے کے مطابق جنوبی لبنان میں صبح کے وقت دو اسرائیلی حملوں میں ایک
خاندان کے چار افراد سمیت نو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بیروت سے جنوبی شہروں کو جانے
والی شاہراہ پر ایک گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب لبنان اور
اسرائیل کے درمیان تین دہائیوں بعد پہلی سفارتی بات چیت کا آغاز ہوا ہے، تاہم حزب
اللہ ان مذاکرات کا حصہ نہیں اور ایک عہدے دار نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نیوز ایجنسی کو
بتایا کہ حزب اللہ ان مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی معاہدے کی پاسداری
نہیں کرے گی۔
لبنانی
وزارت صحت کے مطابق، دو مارچ سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد سے اب تک دو
ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔