آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نیٹ فلکس کا شو ’انڈین میچ میکنگ‘: سیما آنٹی ایک بار پھر تنقید کی زد میں کیوں ہیں؟
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
- وقت اشاعت
نیٹ فلکس پر ’انڈین میچ میکنگ‘ نامی شو دو سال قبل انڈیا سمیت دنیا بھر میں بہت مقبول ہوا۔ آج کل اس کا دوسرے سیزن خبروں میں ہے۔ اس شو نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا یہ شو ’دقیانوسی خیالات‘ کی عکاسی کرتا ہے یا اس میں دیانتداری سے معاشرے کی اصل حقیقت کی عکاسی کی گئی ہے۔
آٹھ اقساط پر مشتمل اس سیزن میں ایک انڈین میچ میکر یعنی رشتہ کرانے والی سیما تپاریا اپنے امیر کلائنٹس کے لیے انڈیا اور امریکہ میں مناسب رشتے تلاش کرتی ہیں۔ یہ شو ٹائم میگزین کے اب تک کے 50 سب سے زیادہ بااثر ریئلٹی ٹی وی شوز کی فہرست میں شامل ہے۔
اس شو کے ہر سین کے پیچھے کوئی وجہ ہے اور وہ ہے دولہا یا دلہن کو تلاش کرنا کیونکہ جیسا کہ تپاریا شروع میں بتاتی ہیں، ’پہلے شادی، پھر محبت‘ اور ’شادی کے بعد سب کچھ ایڈجسٹ ہو جاتا ہے۔‘
نئے سیزن میں سیزن ون سے ان کے کچھ پرانے کلائنٹس اور کئی نئے چہرے شامل ہیں۔ ان افراد کو امید ہے کہ سیما تپاریا جو کہ ’ممبئی کی ٹاپ میچ میکر‘ ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، انھیں جیون ساتھی تلاش کرنے میں مدد کریں گی۔
بہت سے امیر لوگوں کو اس کامیاب میچ میکر (سیما آنٹی) پر جتنا اعتبار ہے، ناظرین کو یہ بات کچھ پسند نہیں آئی کیونکہ پچھلے سیزن سے ان کا کوئی بھی میچ کامیاب نہیں ہوا۔
لیکن یہ واحد چیز نہیں ہے جو سیما آنٹی یا شو کے بارے میں قابل اعتراض ہے۔
شو کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود، اس کے پہلے سیزن کو تعصب، ذات پات، رنگ اور نسل جیسی چیزوں کے باعث تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
نئے سیزن میں میچ میکر کی شخصیت کو ذرا نرم دکھایا گیا ہے اور کبھی کبھار انھیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ بہت سوچ سمجھ کر بول رہی ہیں۔ شاید اس کی وجہ گذشتہ سیزن پر آنے والا ردعمل ہو، لیکن یہ شو اب بھی جنس پرستی اور خواتین کے ساتھ تعصب سے بھرپور ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ اب بھی مردوں کے ساتھ اچھی طرح سے برتاؤ کرتی ہیں۔ مرد ’اچھے لڑکے‘ ہیں جبکہ خواتین ’ضدی‘ اور ’سمجھوتہ نہ کرنے والی‘ ہیں جنھیں وہ ’لچکدار بننے‘ کا مشورہ دیتی ہیں۔
اس شو میں اکشے ایک مرد کلائنٹ ہیں جو اپنے آپ کو ’دنیا کا سب سے اہل بیچلر‘ کہتے ہیں۔ اکشے کو خواتین کو ’چِکس‘ کہنے کی اجازت ہے جبکہ خواتین کلائنٹس کو بار بار کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی توقعات کو کم کریں۔ وہ انھیں یاد دلاتی رہتی ہیں ’آپ کو 100 فیصد نہیں ملے گا‘۔ وہ خواتین کلائنٹس کو کہتی ہیں کہ ان کی 60-70 فیصد توقعات پوری ہوں گی جو معقول ہے۔
اس شو میں عمر کے فرق پر تپاریا کے متنازع تبصرے پر انڈیا میں خاصا ردِعمل آیا۔ وہ ایک خاتون کلائنٹ کو بتاتی ہیں کہ سات سال چھوٹے آدمی کے ساتھ اس کا رشتہ مناسب نہیں، ’بالکل پرینکا چوپڑا اور نک جونس کی طرح‘۔
ناقدین اس شو پر دقیانوسی خیالات کو فروغ دینے کا الزام بھی لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ مختلف کلچرز اور نوجوان نسل کے نئے خیالات کو فروغ دینے کے لیے کچھ نہیں کر رہا۔
دی پرنٹ ویب سائٹ کی ادارتی مشیر شیلجا باجپائی کہتی ہیں ’یہ صرف ایک قسم کے لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ سب امیر، اونچی ذات کے اور گوری رنگت والے لوگ ہیں۔ ایک سکھ کے علاوہ کوئی دوسری ذات یا مذہبی اقلیت شامل نہیں۔ اور مجھے یاد نہیں ہے کہ ان کا کوئی ایک بھی ایسا کلائنٹ ہو جس کی جِلد کا رنگ گہرا ہو۔‘
تنقید کے باوجود، یہ سیریز 10 اگست کو شروع ہونے کے بعد سے دو ہفتوں تک انڈیا میں ٹاپ پانچ شوز میں شامل تھی۔ یہ اپنی ریلیز کے پہلے ہفتے میں امریکہ، کینیڈا اور جنوبی افریقہ سمیت 13 ممالک میں ٹاپ 10 میں شامل تھی اور مزید ایک ہفتے تک سات ممالک کی فہرست میں شامل رہی۔
ہزاروں افراد نے سوشل میڈیا پر شو کے بارے میں اپنے تاثرات شیئر کیے ہیں۔ اس کے سیزن تھری کا اعلان بھی ہو چکا ہے جس میں برطانیہ میں میچ میکنگ پر توجہ دی جائے گی۔
فلم اور تجارتی تجزیہ کار کومل ناہٹا کا کہنا ہے کہ شو میں دلچسپی اس لیے ہے کیونکہ پہلا سیزن ’نہ صرف انڈیا میں بلکہ امریکہ اور کئی دوسرے ممالک میں بھی بہت کامیاب رہا تھا۔‘
انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’مغربی ممالک جہاں زیادہ تر ٹنڈر، بمبل اور دیگر ویب سائٹس پر میچز تلاش کرنے کے لیے جاتے ہیں، یہ شو حیران کن حد تک کامیاب رہا۔ انڈیا میں اس قسم کی میچ میکنگ ایک منفرد سی بات ہے لیکن مغرب میں رہنے والوں کو یقین نہیں آیا کہ ایسا بھی ہوتا ہے۔‘
انڈیا میں جہاں 90 فیصد شادیاں ’ارینج‘ ہوتی ہیں، وہیں شہروں اور دیہاتوں میں پیشہ ورانہ میچ میکنگ میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ناہٹا کہتے ہیں ’وہ دن گئے جب چچا، خالہ اور دیگر رشتہ دار آپ کے لیے لڑکی یا لڑکا ڈھونڈتے تھے۔ طلاق کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے اب رشتہ دار تو کیا یہاں تک کہ والدین بھی میچ میکنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے ہیں۔ تاکہ اگر شادی کامیاب نہ ہو تو ان پر الزام نہ لگے۔ لہذا، میچ میکرز آ گئے ہیں، وہ ہر جگہ موجود ہیں۔‘
باجپائی کہتی ہیں کہ لوگ میچ میکرز کے پاس اس لیے جاتے ہیں کیونکہ ’میچ تلاش کرنا آسان نہیں ہے، اور بعض اوقات آپ کو تھوڑی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ شو میں بہت سے مسائل ہیں کیونکہ ’یہ اب بھی قدامت پسندانہ خیالات پر تنقید نہیں کر رہا ہے‘ اور ’صرف پہلے سے رچے بسے تعصبات کو فروغ دے رہا ہے۔‘
’مجھے جو چیز سب سے زیادہ عجیب لگی وہ یہ تھی کہ امریکہ میں رہنے والی یہ تمام خواتین جو تعلیم یافتہ اور خود مختار ہیں اور جس سے چاہیں شادی کرنے کے لیے آزاد ہیں، پھر بھی تپاریا جیسے کسی کو تلاش کر رہی ہیں۔ اور ذات پات اور مذہب کو دیکھ رہی ہیں۔ شو میں ایک ایسی بھی عورت ہے جسے صرف گجراتی لڑکا نہیں چاہیے بلکہ وہ چاہتی ہے کہ اسے گجراتی بولنی بھی آنی چاہیے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں ’یہ سوچ کر مجھے دُکھ ہوا کہ ان تمام خواتین نے اتنے برسوں میں امریکہ میں رہ کر کچھ نہیں سیکھا۔‘
گذشتہ ہفتے ورائٹی کے ساتھ ایک انٹرویو میں شو کی تخلیق کار، سمرتی مندھرا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ شو کے کچھ مناظر شرمندگی یا عجیب و غریب احساسات کا باعث ہیں۔
’کچھ چیزیں جو ہم کرتے یا کہتے ہیں یا جن پر یقین رکھتے ہیں وہ نسل در نسل سے ہماری شخصیت کا حصہ بن گئی ہیں مگر یقیناً وہ ناگوار ہیں یا ہمیں ان سے شرمندگی کا احساس ہوتا ہے۔ اس چیز کا احساس مشکل ہے کہ یہ موضوع یا ان پر بات چیت سے آپ کی شخصیت کی عکاسی ہوتی ہے۔‘
لیکن وہ مزید کہتی ہیں ان موضوعات کو سامنے لا کر اس سیریز نے خاندانوں کو ’مشکل موضوعات پر بات چیت‘ کرنے کا موقع فراہم کیا۔
لیکن سٹیٹس سنگل (شہروں میں رہنے والی غیر شادی شدہ خواتین کے لیے انڈیا کی پہلی اور واحد کمیونٹی) کی بانی اور مصنف سریموئی پیو کنڈو پوچھتی ہیں کہ انڈیا جیسے ملک جہاں خواتین کو شادی نہ کرنے پر پہلے ہی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ملک میں میچ میکنگ جیسا شو بنانے کی ضرورت کیا تھی۔
انڈین قوم کو شادی کا جنون ہے جو کہ ذہنی صحت کے حوالے سے ایک بہت ہی غیر صحت بخش رجحان ہے۔ اور یہ شو پدرانہ سماج پر رچے بسے خیالات کو فروغ دیتا ہے کہ ’شادی سب کے لیے ضروری ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ یہ خاص طور پر اس لیے بھی مضحکہ خیز ہے کیونکہ اس ملک میں ہر سال ہزاروں دلہنوں کو جہیز نہ دیے جانے کی وجہ سے قتل کر دیا جاتا ہے، ازدواجی ریپ کو جرم قرار نہیں دیا جاتا اور ہر سال ہزاروں خواتین کو خودکشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔
وہ پوچھتی ہیں ’میں نیٹ فلکس سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ اپنا پیسہ ایک ایسے شو میں کیوں لگا رہے ہیں جو بڑے پیمانے پر عورتوں سے نفرت کو فروغ دیتا ہے؟غیر شادی شدہ خواتین پر شو کیوں نہیں بناتے؟‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’شادی ہماری زندگی میں کامیابی کا پیمانہ نہیں ہے۔‘