پاکستان اور انڈیا کی معروف شخصیات کا شہباز، مودی کے نام خط: ’بات چیت دوستوں کے ساتھ اِتنی ضروری نہیں، جتنی دشمنوں کے ساتھ ضروری ہے‘

    • مصنف, شمائلہ خان، شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اُردو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 13 منٹ

انڈیا اور پاکستان کے سو سے زائد ممتاز شہریوں نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے مشترکہ اپیل کی ہے کہ وہ باہمی مذاکرات، سفارتی تعلقات، تجارت اور عوامی روابط کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کریں۔

اس ضمن میں 30 جون 2026 کو جاری کیے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی نے سماجی، معاشی اور انسانی سطح پر بھاری قیمت وصول کی ہے، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ’تنہائی کے بجائے روابط، مخاصمت کے بجائے مکالمہ اور تصادم کے بجائے تعاون‘ کا راستہ اختیار کیا جائے۔

اس اپیل پر دونوں ممالک کے درجنوں سابق سفارتکاروں، سیاستدانوں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنوں نے دستخط کیے ہیں۔

انڈیا اور اِس کے زیر انتظام کشمیر سے اِس اپیل پر دستخط کرنے والوں میں انڈین خفیہ ادارے ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دُلت، فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، میر واعظ عمر فاروق، منی شنکر ایئر، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہیں۔

جبکہ پاکستان سے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق سفارتکار اشرف جہانگیر قاضی، ماہر طبعیات پروفیسر ہودبھائی، صحافی بینا سرور، سماجی کارکن شیما کرمانی، سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر اور فنکارہ سلیمہ ہاشمی سمیت سول سوسائٹی کے معروف افرد نے دستخط کیے ہیں۔

یہ اپیل ’سینٹر فار پیس اینڈ پراگریس‘ کے چیئرمین او پی شاہ کی جانب سے مرتب کی گئی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا اور پاکستان کے درمیان مسلسل دشمنی لاکھوں نوجوانوں کو مواقع، خوشحالی اور محفوظ مستقبل سے محروم کر رہی ہے۔‘

دستخط کنندگان نے فوری طور پر دونوں ملکوں کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے، نئی دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمشنرز تعینات کرنے اور معمول کی ویزا سروسز دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام تصفیہ طلب مسائل، بشمول جموں و کشمیر، پر جامع اور بامعنی مذاکرات کا دوبارہ آغاز کیا جانا چاہیے، جبکہ دونوں ممالک کے سکیورٹی خدشات کو بھی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

اپیل میں دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سفری پابندیوں میں نرمی کی جائے اور خاندانوں، طلبا، اساتذہ، صحافیوں، فنکاروں، تاجروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے درمیان روابط کو فروغ دیا جائے۔

’اس مقصد کے لیے دہلی لاہور بس سروس، سمجھوتہ ایکسپریس، تھر ایکسپریس اور سرینگر مظفرآباد بس سروس کی بحالی کی سفارش کی گئی ہے، جو ماضی میں تقسیم شدہ خاندانوں کو ایک دوسرے سے ملانے کا ذریعہ تھیں۔‘

خط میں واہگہ اٹاری سرحد کو تجارت اور آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے، فضائی رابطے بحال کرنے اور کارگل سکردو روٹ کھولنے پر بھی غور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خط میں مزید یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کا مقصد کسی سیاسی موقف کی حمایت کرنا نہیں بلکہ خطے کے عوام کے مفاد کو ترجیح دینا ہے۔

’بات چیت دوستوں کے ساتھ اتنی ضروری نہیں، جتنی دشمنوں کے ساتھ ضروری ہوتی ہے‘

انڈین خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دولت انڈیا کی اُن شخصیات میں شامل ہیں جنھوں نے اس خط پر دستخط کیے ہیں۔

بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ پانچ سال تک کام کیا ہے۔ وہ امن کے بہت بڑے حامی تھے۔ اُن کے خیالات نے میری سوچ کو بہت متاثر کیا ہے۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے جب اس خط کے بارے میں پتہ چلا اور جب مجھے معلوم ہوا کہ اس پر سب سے پہلے دستخط کرنے والوں میں ڈاکٹر فارو‍ق عبداللہ بھی شامل ہیں، تو میں نے بھی اس پر دستخط کرنے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر عبداللہ سالوں سے کہہ رہے ہیں کہ بات چیت بہت ضروری ہے۔ بات چیت کے بغیر کشمیر میں دہشت گردی ختم نہیں ہونے والی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم اس میں یقین رکھتے ہیں کہ بات چیت کے علاوہ دونوں ملکوں کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ بات چیت دوستوں کے ساتھ اتنی ضروری نہیں ہوتی، جتنی دشمنوں کے ساتھ ضروری ہوتی ہے۔ اگر مسئلہ حل کرنا ہے تو بات کریں۔‘

اے ایس دولت نے کہا کہ ’ان خطوں سے یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے، لیکن ایک بات ضرور ہے کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ماحول میں کچھ تبدیلی ضرور آئی ہے کیونکہ آر ایس ایس کے کچھ رہنماؤں نے کچھ کہا ہے ( بات چیت کے حق میں)۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ابھی حال ہی میں کولمبو میں ٹریک ٹو کی میٹنگ ہوئی تھی جس میں آر ایس ایس کے لیڈر رام مادھو شرکت کے لیے گئے تھے۔ تو ایسا لگتا ہے کہ ماحول میں کچھ بدلاؤ ہے۔‘

اے ایس دولت نے کہا کہ ’اس پر پاکستان سے جن لوگوں نے دستخط کیے ہیں اُن میں اشرف جہانگیر قاضی بھی شامل ہیں۔ اگر آپ کو یاد ہو تو قاضی صاحب اور لال کرشن اڈوانی نے آگرہ سمٹ کروائی تھی۔ قاضی صاحب سے میں بہت بار ملا ہوں۔ وہ بہت اچھے انسان ہیں۔‘

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے میر واعظ عمر فاروق بھی اس خط پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔

انھوں نے سرینگر سے فون پر بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دونوں ملکوں کے تعلقات تاریخ میں کبھی اتنے بُرے نہیں رہے ہیں، لیکن ان حالات میں بھی کچھ لوگ ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بحال کرنے اور ماحول بہتر کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا یہ یقین ہے کہ نہ صرف خطے میں امن کے لیے انڈیا اور پاکستان کے درمیان مذاکرات ضروری ہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ اس خط میں مصالحت کی بات کہی گئی ہے۔ ان حالات میں ہی ہمیں آگے کا راستہ تلاش کرنا ہے۔‘

میر واعظ نے کہا کہ ’ایران اور امریکہ کے ٹکراؤ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگ اور طاقت کسی مسئلہ کا حل نہیں ہیں اور آخر کار بات چیت کے لیے میز پر بیٹھنا ہی ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے تو سب سے زیادہ فائدہ دونوں ملکوں کے عوام کو ہو گا۔ لیکن اس میں جموں و کشمیر کے عوام کا بھی فائدہ ہے۔ کیونکہ یہاں کے عوام بھی ایک مصیبت سے دوچار ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس خط میں مصالحت کی بات کہی گئی ہے، عوامی رابطوں کو بحال کرنے کی بات ہوئی ہے۔ چونکہ حکومتوں کے درمیان بات چیت بہت محدود ہے تو صرف سول سوسائٹیز کی طرف سے اس مرحلے پر ایسی کوششیں کرنا بہت ضروری اور اہم ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایسا لگتا تو نہیں کہ فضا میں کسی تبدیلی کے کوئی آثار ہیں کیونکہ جب ہم مذاکرات کی بات کریں یا کشمیر کی بات کریں تو بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات بہت منفی ہوتے ہیں۔‘

’وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کشمیر کا مسئلہ حل کر دیا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یکطرفہ فیصلوں سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ البتہ انڈیا میں ایک طبقہ ضرور موجود ہے جو بات چیت چاہتا ہے۔ عالمی منظر نامہ بدل رہا ہے اور اس میں یہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ اگر خدا نخواستہ کل کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو انڈیا اور پاکستان پھر انھیں حالات کا سامنا نہ کر رہے ہوں جیسے پچھلے سال پہلگام حملے کے بعد ہوا تھا۔ آج کے عالمی تناظر میں طاقت کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نظر نہیں آتا۔‘

دوسری جانب حکمراں جماعت بی جے پی کے سینیئر ترجمان شہزاد پونے والا نے انڈیا اور پاکستان کے ممتاز شہریوں کی جانب سے جاری کیے گئے کھلے خط پر سخت تنقید کی ہے۔

ایک ٹی وی چینل پر ردعمل دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’ایسے وقت میں جب آپریشن سندور جاری ہے اور پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ تعطل کا شکار ہے، فاروق عبداللہ، منوج جھا اور محبوبہ مفتی جیسے لوگ پاکستان سے بات چیت کی بات کر رہے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ وہی افراد ہیں جو دہشت گردی کے حملوں کے بعد بھی پاکستان کی حمایت کرتے ہیں اور دہشت گردی کے بارے میں نرم رویہ رکھتے ہیں۔‘ اُن کے مطابق ’اس طرح کا خط ہمارے شہیدوں اور مسلح افواج کی توہین کے مترادف ہے۔‘

حالیہ دنوں میں ذرائع ابلاغ میں کچھ ایسی رپورٹس شائع ہوئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مئی 2025 کے پاکستان، انڈیا تنازع کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی ٹریک ٹو سفارت کاری کا سلسلہ جاری ہے۔ ان رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں قطر، بنکاک اور کولمبو وغیرہ میں چند غیررسمی ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔

دو روز قبل اس ضمن میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انڈیا کے سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے کہا تھا کہ ’یہ نجی طور پر منعقد کی گئی تقاریب ہوتی ہیں، جن کا اہتمام غیر سرکاری فریقوں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔‘

خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) سے گفتگو کرتے ہوئے وکرم مصری کا کہنا تھا کہ ’ہمارے نزدیک اِن (تقریبات، ملاقاتوں) کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے۔ انڈیا سے جو بھی افراد ان تقریبات میں شریک ہوتے ہیں، چاہے وہ ریٹائرڈ سفارتکار ہوں، ریٹائرڈ فوجی افسران ہوں یا سول سوسائٹی کے ارکان، وہ اس میں اپنی ذاتی حیثیت میں شرکت کرتے ہیں اور اپنا ذاتی نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں۔‘

انڈین سیکریٹری خارجہ کے مطابق اِن تقاریب میں شریک ہونے والے افراد ’کسی بھی طرح سے انڈین حکومت کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے اور نہ ہی کر سکتے ہیں۔‘

پاکستان کی جانب سے تاحال اس ضمن میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کو اس خط میں اپیل کے ساتھ ساتھ ’چینج ڈاٹ اوج‘ پر ’انڈیا، پاکستان پیپلز ریزولیوشن‘ کے نام سے ایک پٹیشن بھی شروع کی گئی ہے جس پر دونوں ممالک نامور شخصیات نے دستخط کیے ہیں۔

’متنازع مسائل کے حل کا واحد دانشمندانہ راستہ مکالمہ ہے، نہ کہ جذباتی قوم پرستی اور جنگی جنون‘

پاکستان کی جانب سے اِس خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر بھی شامل ہیں جنھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے نام اس اپیل پر دستخط کیے ہیں کیونکہ میرے نزدیک متنازع مسائل کے حل کا واحد دانشمندانہ راستہ مکالمہ ہے، نہ کہ جذباتی قوم پرستی، جنگی جنون اور وقتاً فوقتاً جوہری ہتھیاروں کی دھمکیاں دینا۔‘

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ’یہی وہ مؤقف تھا جس پر میری قائد بے نظیر بھٹو بھی یقین رکھتی تھیں اور جس کی وہ مسلسل وکالت کرتی رہیں۔ انھوں نے ویزا پالیسیوں میں نرمی، ثقافتی تبادلوں اور عوامی روابط کے فروغ کی حمایت کی تاکہ دہائیوں پر محیط ادارہ جاتی مخاصمت اور گہرے عدم اعتماد کا مقابلہ کیا جا سکے۔‘

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ ’اُن کے نظریات کا ایک نہایت اہم پہلو جمہوری طرزِ حکمرانی اور بااختیار پارلیمان، پر ان کا زور تھا، جو عسکری مہم جوئی اور یکطرفہ پالیسیوں کے مقابل توازن پیدا کر کے اعتماد سازی اور تاریخی خلیجوں کو باٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

فرحت اللہ بابر نے مزید کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ یہ خط دونوں جانب کے سنجیدہ اور سوچنے والے لوگوں کو غور و فکر پر آمادہ کرے گا اور جنگی نعروں کی جگہ خود احتسابی اور مکالمے کی آوازوں کو فروغ دے گا۔ شاید یہ ایک خواب لگے، لیکن جیسا کہ بے نظیر بھٹو نے ایک بار کہا تھا کہ ’ہر انسان کو خواب دیکھنے کا حق حاصل ہے۔‘

اس خط پر پاکستان سے دستخط کرنے والے پرویز ہودبھائی نے کہا کہ ’ایک ایسے وقت میں جب پاکستان دنیا کے کسی دوسرے خطے میں امن کی ثالثی کے لیے فخر کے ساتھ ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، ہمارے حکمرانوں کے لیے یہ اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ پاکستان اور انڈیا میں بھی امن کی جانب قدم بڑھائیں۔‘

بی بی سی سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ ’دونوں ممالک ایک دوسرے کو بڑے پیمانے پر تباہی سے دوچار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، دونوں کے ہاں ضرورت مند افراد کی ایک بڑی آبادی ہے اور دونوں ہمیشہ پڑوسی ہی رہیں گے۔ لہٰذا، نفرت انگیز بیان بازی کا سلسلہ اب لازماً بند ہونا چاہیے اور ہمیں عام سفارتی تعلقات بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ویزے کی پابندیوں کو بھی نرم کرنا چاہیے۔‘

حالیہ امن اپیل پر دستخط کرنے والوں میں پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری بھی شامل ہیں۔سنہ 2002 سے سنہ 2007 تک اُن کے دورِ وزارت میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان جامع مذاکراتی عمل دوبارہ شروع ہوا تھا، سرحدی کشیدگی میں کمی آئی تھی اور جنگ بندی کے اقدامات کیے گئے۔

انھوں نے اپنے دور میں ہونے والے تجربات اور کامیابیوں کو اپنی کتاب ’نائیدر اے ہاک نور اے ڈوو‘ Neither a Hawk Nor a Dove میں بھی درج کیا ہے۔

خورشید محمود قصوری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا تو اعتقاد ہے کہ تعلقات اُس وقت تک بہتر ہو ہی نہیں سکتے جب تک لوگوں کے لوگوں سے روابط نہیں بنیں گے۔ اگر جنگ ہو تو ایک پارٹی ہارتی ہے اور ایک جیت جاتی ہے، مگر سفارتکاری ہو تو دونوں کے لیے جیت ہوتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے دور میں ہونے والی پیش رفت کی بڑی وجہ دونوں طرف سے بہت زیادہ ویزے دیے جانا تھا جس سے خیر سگالی بڑھتی تھی۔‘

’مجھے یاد ہے کہ لاہور میں میچ ہوا تھا جس میں انڈیا جیتا اور پاکستان ہار گیا۔ انڈین سٹیڈیم سے باہر آنے میں گھبرا رہے تھے کہ کوئی احتجاج نہ ہو۔ لیکن وہ حیران ہو گئے کہ لاہور کے نوجوان انڈیا اور پاکستان کے جھنڈے لے کر باہر آئے اور دونوں ٹیموں کے لیے نعرے لگائے۔‘

خورشید قصوری نے کہا کہ ’پہلے جنگوں میں فوجی مارے جاتے تھے، لیکن پچھلے سال انڈیا پاکستان کا تنازع، روس یوکرین کی جنگ اور امریکہ نے ابھی جو ایران پہ حملہ کیا ہے اس سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ اب جو جنگ ہو گی وہ تباہی مچا دے گی اور میں نیوکلیئر ہتھیاروں کی بات نہیں کر رہا ہوں، میں ماڈرن وار فیئر کی بات کر رہا ہوں جو ڈرونز اور میزائیل ہیں، یہ تو تباہ کر دیں گے چاہے بمبئی ہو، لاہور ہو، کلکتہ ہو، دلی ہو یا کراچی۔ دونوں ملک 20، 30 سال پیچھے چلے جائیں گے، ہم یہ افورڈ ہی نہیں کر سکتے۔‘

’جو عوام چاہتے ہیں وہ حکومتیں نہیں کر رہی ہیں‘

ساوتھ ایشیا پیس ایکشن نیٹ ورک (سپن) نامی ادارے کی سربراہ اور طویل عرصہ سے خطے میں امن کے لیے سرگرم پاکستانی صحافی بینا سرور کہتی ہیں کہ ’ہمارے تعلقات میں اُتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے لیکن اب اس وقت جہاں سوشل میڈیا نے ہمیں قربت فراہم کی ہے وہیں حکومتوں نے ویزے فراہم کرنے میں سختی کردی ہے اور لوگوں کو نہیں ملنے دیا جا رہا۔ یہ ایک طرح سے لوگوں کو سزا دینے کے مترادف ہے۔ چاہے خوشی کا موقع ہو یا غم کا، آپ نہیں مل سکتے۔‘

’ہم کہہ رہے ہیں کہ آپ لوگوں کے بارے میں سوچیں۔ بات چیت کریں اور تجارت کھولیں، لوگوں کو ملنے دیں گے تو آپ لوگوں کو خوشیاں دے رہے ہوں گے اور خوشحالی لارہے ہوں گے۔‘

بینا کے بقول ’ہم اس طرح کی نجانے کتنی اپیلیں بھیج چکے ہیں، لیکن جن سے ہم یہ اپیل کررہے ہیں لگتا ہے ان کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنی بات کرنا چھوڑ دیں۔ جو عوام چاہتے ہیں وہ حکومتیں نہیں کر رہی ہیں، چاہے وہ انڈیا کی ہو، پاکستان کی ہو یا پھر امریکہ اور اسرائیل کی ہو۔‘

انھوں نے سوشل میڈیا سے پہلے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ٹریک ٹو کی کامیابی کی ایک مثال دیتے ہوئے ایک پاکستانی نور فاطمہ کا حوالہ دیا جن کے دل کے علاج کے لیے لاہور اور دلی کے درمیان بس سروس کھول دی گئی تھی۔

نور فاطمہ سنہ 2003 میں پاکستان سے انڈیا گئیں اور بنگلور کے ہسپتال میں اُن کی کامیاب اوپن ہارٹ سرجری کی گئی۔ اس وقت نور کی عمر تقریباً ڈھائی سال کی تھیں۔ اس وقت نور فاطمہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان عوامی تعلقات کی ایک علامت بن گئیں تھیں۔

انھوں نے سنہ 2010 سے سنہ 2014 کے درمیان چلائے جانے والے پراجیکٹ ’امن کی آشا‘ کا حوالہ دیا جس کی بدولت بہت سے انڈین شہری پہلی بار موہن جو دڑو کا دورہ کر سکے۔

اسی طرح انھوں نے جوائنٹ جوڈیشل کمیشن کی مثال دی جس کے تحت دونوں ملک ہر چھ ماہ بعد ایک دوسرے کی جیلوں میں قید شہریوں کی فہرست جاری کرتے ہیں۔ بینا کے بقول ’یہ لوگوں کی مسلسل کاوشوں اور دباؤ کا نتیجہ تھا۔ اس میں ہم کم از کم یہ کر سکتے ہیں کہ اپنی آواز اٹھائیں۔‘

سکیورٹی کے بغیر بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے میں دشواری پر کہا کہ ’آپ لوگوں کی چھان بین کریں۔ دہشت گرد کسی سے اجازت لے کے آتے ہیں کیا؟‘