’اتحاد المجاہدین‘: پاکستان میں سامنے آنے والا نیا شدت پسند گروہ کالعدم ٹی ٹی پی سے مختلف کیسے ہے؟

    • مصنف, امیمہ ضیا
    • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

11 اپریل 2025 کو پاکستان میں موجود تین شدت پسند گروہوں، لشکرِ اسلام، حافظ گل بہادر گروپ اور انقلابِ اسلامی پاکستان، نے اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) کے نام سے ایک اتحاد کے قیام کا اعلان کیا تھا، اس اتحاد کے قیام کے تقریباً 15 ماہ بعد یہ تنظیم پاکستان کے سکیورٹی منظرنامے میں ایک فعال عسکریت پسند گروہ کے طور پر سامنے آئی ہے۔

اکتوبر 2025 سے فروری 2026 کے درمیان اس نئی شدت پسند تنظیم کی جانب سے جاری پراپیگنڈا مواد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ اس عرصے میں اس گروہ کی تشہیری اور پراپیگنڈا سرگرمیاں نسبتاً محدود رہیں اور اس کی جانب سے جاری پیغامات میں زیادہ تر پولیس کو دی جانے والی دھمکیاں اور اس تنظیم سے منسلک شدت پسندوں کی تربیت و مشقوں کی ویڈیوز شامل ہیں۔

اگرچہ اس گروہ کی توجہ کا محور پاکستان پر مرکوز رہا ہے، تاہم تنظیم کے بعض بیانات اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ وہ عالمی شدت پسندی کے ایجنڈے سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ القاعدہ برصغیر کے پراپیگنڈا مواد میں اتحاد المجاہدین پاکستان کو القاعدہ سے منسلک دیگر گروہوں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔

سنہ 2026 کے دوران ایک طرف جہاں اس گروہ کی جانب سے خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے دعوؤں میں کمی آئی ہے، وہیں بظاہر اتحاد المجاہدین پاکستان نے سنائپر اور ڈرون حملوں کو اپنی حکمت عملی کے طور پر اپنانے سے متعلق پراپیگنڈا مواد پوسٹ کیا ہے۔

اپنے پراپیگنّڈا اکاؤنٹس کے ذریعے آئی ایم پی نے مارچ 2026 سے جون 2026 کے درمیان 18 آئی ای ڈی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اس رپورٹ میں مارچ 2026 سے جون 2026 کے دوران آئی ایم پی کی جانب سے جاری پیغامات اور اس کی جانب سے قبول کیے گئے حملوں کے دعوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

جائزے کے لیے اس دورانیے کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ تنظیم نے طویل خاموشی کے بعد 28 فروری 2026 سے دوبارہ حملوں کے دعوے جاری کرنا شروع کیے تھے۔

آئی ایم پی کی جانب سے جاری پیغامات کن موضوعات پر تھے؟

23 جون کو آئی ایم پی نے اپنی مرکزی تنظیم انقلابِ اسلامی پاکستان (آئی آئی پی) کے ساتھ مل کر عید الاضحیٰ کے موقع پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں تنظیم کے ’سرحدوں سے ماورا عزائم‘ پیش کیے گئے، جن میں اُندلس (موجودہ سپین) تک پہنچنے کا مقصد بھی شامل تھا۔

پراپیگنڈا ویڈیو میں شدت پسندوں کو پشتو زبان میں ایک نظم گاتے دکھایا گیا جس میں عالمی جہادی عزائم بیان کیے گئے تھے۔

اس ویڈیو میں بظاہر غیرملکی جنگجوؤں کو آئی ایم پی اور آئی آئی پی میں شامل ہونے کی ترغیب بھی دی گئی۔

حالیہ مہینوں میں القاعدہ برصغیر کے رسالوں میں شائع ہونے والے انفارمیشن گرافکس میں پاکستان میں اتحاد المجاہدین پاکستان کے حملوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ آئی ایم پی اب القاعدہ کے وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ تاہم دونوں فریق کی جانب سے اس تعلق کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

ان دونوں تنظیموں کے نظریاتی قربت کے مزید اشارے ’ابتال‘ میڈیا نامی ایک ٹیلیگرام چینل سے بھی ملتے ہیں۔ طویل عرصے سے اس چینل کے بارے میں خیال کیا جاتا رہا ہے کہ یہ آئی ایم پی کا حامی چینل ہے۔ یہ ٹیلیگرام چینل اب اُردو زبان میں القاعدہ، القاعدہ برصغیر، آئی ایم پی اور انقلابِ اسلامی پاکستان کا مواد ایک ساتھ نشر کرتا ہے۔

کیا آئی ایم پی کا مقابلہ تحریک طالبان پاکستان سے ہے؟

پاکستان کے اندر اثر و رسوخ کے لیے آئی ایم پی کا مقابلہ زیادہ نمایاں شدت پسند کالعدم گروہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ہے۔

حالیہ عرصے کے دوران آئی ایم پی نے اپنی تشہیر کا بڑا حصہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس کو نشانہ بنانے پر مرکوز رکھا ہے۔ مئی 2026 میں ہونے والے ایک حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی اور آئی ایم پی دونوں نے ہی ایک ساتھ قبول کی تھی۔

پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں میں آئی ایم پی باقاعدگی سے ڈرونز اور خودکش حملوں کی حکمت عملی استعمال کرتی آئی ہے۔ اس کی ایک وجہ افرادی قوت کی کمی اور تنظیم میں نسبتاً تکنیکی مہارت رکھنے والی نئی شدت پسند نسل کی شمولیت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ٹی ٹی پی کی کارروائیاں روایتی قبائلی جنگی انداز سے زیادہ متاثر دکھائی دیتی ہیں۔

آئی ایم پی اپنی پراپیگنڈا ویڈیوز میں فوجی طرز کی یونیفارم کے استعمال کو بھی نمایاں طور پر اجاگر کرتی ہے، جبکہ ٹی ٹی پی نسبتاً غیر رسمی اور روایتی لباس پر زور دیتی ہے۔

تین گروہوں کے اتحاد سے بننے والا آئی ایم پی ممکنہ طور پر اپنی الگ شناخت قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ڈرونز سمیت ایسی جدید تکنیک کے استعمال کو اجاگر کر رہا ہے جن پر ٹی ٹی پی کی توجہ نسبتاً کم رہی ہے۔

یہ گروپ خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے اور اس کے لیے بڑے پیمانے پر حمایت یا افرادی قوت کے بجائے تکنیکی طور پر جدید انداز میں حملوں پر انحصار کرتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ متعدد مواقع پر ٹی ٹی پی اور آئی ایم پی کے درمیان حملوں میں تعاون کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

ایسے مواقع پر جہاں دونوں گروہوں نے ایک ہی حملے کی ذمہ داری قبول کی، وہاں آئی ایم پی کی جانب سے بعض اوقات ’برادر‘ شدت پسند گروہوں کے ساتھ تعاون کا اشارہ ملتا ہے جبکہ ٹی ٹی پی کی جانب سے عموماً اس معاملے میں خاموشی دیکھنے میں آتی ہے۔

مئی 2026 میں بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے شدت پسند گروہوں پر تحقیق کرنے والے محقق عبدالسید نے کہا تھا کہ ’اتحاد المجاہدین‘ دراصل پاکستانی طالبان کا ہی ایک دھڑا ہے جس کی قیادت حافظ گُل بہادر کے پاس ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کالعدم ٹی ٹی پی کے برعکس اتحاد المجاہدین کے اکثر حملے شمالی وزیرستان، بنوں اور خیبر اضلاع میں نظر آتے ہیں۔‘

’اس کی قیادت حافظ گل بہادر کے پاس ہے، جو دو دہائیوں سے زائد عرصے سے شمالی وزیرستان اور اس سے منسلک ضلع بنوں میں عسکریت پسندوں کا بڑا نیٹ ورک رکھتا ہے۔ اتحاد المجاہدین میں شامل لشکرِ اسلام بھی خیبر ضلع کے بعض علاقوں تک محدود ایک عسکریت پسند گروہ ہے جو دو دہائیاں قبل وجود میں آیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اتحاد المجاہدین میں سب سے اہم کردار حرکتِ انقلابِ اسلامی پاکستان کا ہے اور یہ گروہ پہلی مرتبہ مارچ 2025 کے وسط میں منظرِ عام پر آیا تھا، تاہم اس کی قیادت اور ارکان بھی اس تنظیم کی طرح نئے نام ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس تنظیم کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ دراصل پاکستان میں القاعدہ کی جنوبی ایشیا کے لیے علاقائی شاخ القاعدہ برصغیر کا فرنٹ گروپ نظر آتا ہے۔‘

صحافی و تجزیہ کار احسان ٹیپو محسود نے مئی 2026 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’بظاہر کالعدم ٹی ٹی پی سے منسلک گروہ جماعت الاحرار کی ہمدردی بھی اتحاد المجاہدین کے ساتھ ہے۔‘

اس سال اتحاد المجاہدین پاکستان کے پراپیگنڈا میں کیا تبدیلی آئی؟

گذشتہ برس اتحاد کے قیام کے بعد سے لے کر اکتوبر 2025 تک تنظیم کی جانب سے باقاعدگی سے ماہانہ حملوں کی رپورٹس شائع کی جاتی تھی۔ آئی ایم پی کی جانب سے ستمبر 2025 میں جاری ہونے والی آخری رپورٹ میں 53 حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔

تاہم اکتوبر 2025 کے بعد سے روزانہ کی بنیاد پر حملوں کے دعوے سامنے آنا بند ہو گئے جس کے بعد تنظیم نے اپنی ماہانہ رپورٹس دوبارہ جاری نہیں کیں۔ یہ ممکنہ طور پر آئی ایم پی کی میڈیا صلاحیت میں کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس وقت تنظیم کی جانب سے جاری کیا جانے والا بیشتر مواد پشتو، اُردو اور انگریزی میں ہوتا ہے جس میں روزانہ حملوں کے دعوے، تربیتی ویڈیوز اور دیگر انفرادی پیغامات شامل ہیں۔ تاہم اب بھی اس تنظیم کی جانب سے مستقل اور باقاعدگی سے اشاعتی مواد جاری نہیں کیا جاتا۔

مارچ 2026 سے جون 2026 کے درمیان اتحاد المجاہدین پاکستان نے مجموعی طور پر 248 حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اُن میں سے 240 خیبر پختونخوا جبکہ آٹھ پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان میں ہوئے۔

اتحاد المجاہدین پاکستان نے اس دورانیے میں سب سے زیادہ خیبر پختونخوا کے علاقے شمالی وزیرستان کو نشانہ بنایا جہاں تنظیم کی جانب سے 113 حملوں کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ آئی ایم پی کے مطابق ضلع خیبر میں 40 حملے کیے گئے ہیں۔

اس گروہ کی جانب سے سرحد پار توسیع سے متعلق بیانات کے باوجود پاکستان کے اندر اس کا جغرافیائی دائرہ کار بڑی حد تک تبدیل نہیں ہوا۔ آئی ایم پی کی جانب سے زیادہ تر شمالی اور جنوبی وزیرستان، بنوں اور خیبر میں کارروائیوں کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔

دوسری جانب اس کے برعکس ٹی ٹی پی نے رواں برس پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں بھی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم وزیرستان، خیبر اور بنوں ایسے علاقے ہیں جہاں دونوں گروہوں کی سرگرمیوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔

ٹی ٹی پی اب بھی آئی ایم پی کے مقابلے میں کہیں زیادہ حملوں کے دعوے کرتی ہے۔

اتحاد المجاہدین پاکستان کارروائیوں کے لیے کن طریقوں کا استعمال کرتی ہے؟

آئی ایم پی کے دعوؤں کے مطابق یہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں ڈرونز کے علاوہ خودکش حملوں کا استعمال بھی کرتی ہے۔

تاہم مارچ 2026 سے جون 2026 کے دوران اس تنظیم کی جانب سے سب سے زیادہ سنائپر حملوں کے دعوے کیے گئے۔ اس عرصے کے دوران آئی ایم پی کے مطابق اس نے 66 سنائپر حملے اور 47 ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف ڈرونز کے استعمال کے دعوؤں میں وقت کے ساتھ نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اپریل 2025 سے اپریل 2026 کے درمیان آئی ایم پی نے کم از کم 50 ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جو اوسطاً تقریبا ماہانہ چار حملے بنتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں صرف مارچ 2026 سے جون 2026 کے دوران چار ماہ میں 47 ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا گیا جو تقریباً 12 حملے ماہانہ بنتے ہیں۔

اسی عرصے کے دوران اتحاد المجاہدین پاکستان نے مئی 2026 میں ہونے والے ایک بڑے خودکش حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ تنظیم کے مطابق بنوں میں کیے جانے والے اس حملے 29 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

اگرچہ جولائی میں تنظیم نے بنوں اور جنوبی وزیرستان میں مزید دو خودکش حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی، تاہم مجموعی طور پر 2026 میں اس نے خودکش حملوں کا نسبتاً کم استعمال کیا ہے۔