امریکہ نے اپنے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف نافذ کر دیے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری تجارتی جنگ میں جن ممالک اور علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں برطانیہ، چین اور یورپی یونین شامل ہیں۔
ان کی تمام اشیا پر 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد ہوگا۔ یہ تقریباً تمام امریکی درآمدات کا احاطہ کرتا ہے۔
یہ ٹیرف جمعے کو ختم ہونے والے اسی نوعیت کے ایک سابقہ محصول کی جگہ لے رہے ہیں اور ان کی بنیاد اس دعوے پر ہے کہ اہم معاشی شراکت دار جبری مشقت کے مسئلے سے مناسب طور پر نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔
لیکن امریکی تجارتی ماہر کیرولین فرائنڈ نے کہا کہ یہ اقدام ’جبری مشقت کے بارے میں نہیں ہے‘ بلکہ ٹرمپ صرف ’ٹیرف نافذ کرنے کے لیے ایک قانونی وجہ تلاش کر رہے ہیں۔‘
امریکی سپریم کورٹ نے اس سال کے آغاز میں فیصلہ دیا تھا کہ ہنگامی اختیارات کے تحت دنیا بھر میں عائد کیے گئے کئی ٹیرف غیر قانونی طور پر نافذ کیے گئے تھے۔
درآمدات پر 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ڈیوٹی گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس نے تجویز کی تھی، کیونکہ اس کے مطابق متعلقہ ممالک جبری مشقت سے نمٹنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہے تھے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا ’آج کا اقدام ایک ایسے مسئلے کو درست کرنے کا آغاز کرے گا جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے اور تجارت کو بگاڑنے والا عمل بھی، تاکہ ہر جگہ مزدوروں کی فلاح و بہبود بہتر ہو۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ نئی ڈیوٹیاں امریکہ کے 60 بڑے تجارتی شراکت داروں پر لاگو ہوں گی، جو امریکی درآمدات کے 99.4 فیصد حصے کا احاطہ کرتے ہیں۔
یو سی سان ڈیاگو سکول آف گلوبل پالیسی اینڈ اسٹریٹجی کی ڈین، فرائنڈ نے بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ نئے ٹیرف جمعہ کو ختم ہونے والے نظام کے بدلے میں ہیں۔
جب ان سے جبری مشقت کی وجہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا ’میرا خیال ہے کہ وہ ٹیرف نافذ کرنے کے لیے ایک قانونی وجہ تلاش کر رہے تھے تاکہ انھیں برقرار رکھا جا سکے، کیونکہ ان کے مقاصد اس بارے میں بالکل واضح رہے ہیں‘۔
ہنرچ فاؤنڈیشن کی تجارتی پالیسی کی ماہر ڈیبورا ایلمز نے کہا کہ نئے محصولات ظاہر کرتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی ٹیرف حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے لیے ’پُرعزم‘ ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جن ممالک پر یہ ٹیرف لگائے گئے ہیں، ان کے لیے یہ ثابت کرنا مشکل ہوگا کہ انھوں نے جبری مشقت سے وابستہ درآمدات کو روکنے کے لیے کافی اقدامات کیے ہیں۔
ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی اقتصادی سلامتی کی ماہر وینڈی کٹلر نے کہا کہ ان محصولات کے نتیجے میں کاروباروں اور صارفین کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، اگرچہ مستثنیٰ قرار دی گئی متعدد اشیا کی وجہ سے اس کے اثرات کسی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر تجارتی شراکت دار نئے محصولات سے مایوس ہوں گے اور ممکنہ طور پر دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدے کرکے ’امریکہ پر اپنا انحصار کم کرنے‘ کے طریقوں پر توجہ دیں گے۔