جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی میں ’خونیں جھڑپ‘ اور 18 شدت پسندوں کی ہلاکت: کیا پاکستانی شدت پسند تنظیموں کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں؟

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں شدت پسند تنظیموں کے درمیان بدھ کو ہونے والی جھڑپ کے نتیجے میں 18 شدت پسندوں کی ہلاکت کے بعد، اِن کالعدم تنظیموں کے درمیان گہرے ہوتے اختلافات پر ایک مرتبہ پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔

ضلع کرم کی پولیس نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے لیکن اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

کالعدم جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ اُن کے ’18 ساتھیوں‘ کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مفتی نور ولی محسود دھڑے نے نشانہ بنایا۔ ترجمان نے اعلان کیا کہ ’اب اس کا بدلہ فرض ہے۔‘

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے تاحال اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا اور جب اُن سے اس ضمن میں رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس معاملے پر ردعمل دینے سے انکار کیا۔

پاکستان میں شدت پسند تنظیموں کے درمیان ماضی میں مختلف مواقع پر اتحاد اور اختلاف کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں اور اِن تنظیموں کے ارکان کے درمیان جھڑپیں بھی رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔

تاہم ایک کالعدم تنظیم کی جانب سے دوسری کالعدم تنظیم کے ڈیڑھ درجن اراکین کو ہلاک کیے جانے کے بعد، ایک مرتبہ پھر ان مسلح تنظیموں کے درمیان اختلافات واضح ہو رہے ہیں۔

ضلع کرم سے یہ اطلاع بدھ کے روز سامنے آئی تھی کہ وسطی کرم کے علاقے مناتو میں دو شدت پسندوں گروہوں کے درمیان جھڑپ میں 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی پولیس ذرائع نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ اس جھڑپ کے بارے میں مزید بتایا گیا کہ یہ شدت پسندوں کے دو مقامی اور ذیلی گروہوں ’کاظم گروپ‘ اور ’امتی گروپ‘ کے درمیان ہوئی جس میں مبینہ طور پر امتی گروپ کے کمانڈر ممتاز سمیت 18 افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق امتی گروپ کا تعلق جماعت الاحرار سے ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ امتی گروپ کے شدت پسندوں پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں بڑا جانی نقصان ہوا۔

’بڑا خونیں واقعہ‘

تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت پاکستان میں سب سے بڑی شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کو سمجھا جاتا ہے جس میں لگ بھگ 60 کے قریب چھوٹے بڑے گروپ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران بڑے پرتشدد حملے کرنے والے گروپ ’اتحاد المجاہدین پاکستان‘ کا نام بھی زیر بحث آتا رہا ہے۔ اتحاد المجاہدین پاکستان میں تین بڑے کالعدم گروپ شامل ہیں اور یہ حافظ گل بہادر کے ساتھ منسلک اتحاد ہے۔

اگرچہ جماعت الاحرار ٹی ٹی پی کے ساتھ اتحاد میں بھی شامل ہے لیکن ماضی میں بھی اُن کے آپسی تعلقات میں اُتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔

سینیئر محقق اور تجزیہ کار عبدالسید کے مطابق دونوں تنظیموں کے درمیان کرم کے علاقے میں یہ جھڑپ حالیہ برسوں میں پاکستانی طالبان کے جاری داخلی تنازعات کا اب تک کا ’سب سے بڑا خونیں واقعہ‘ ہے۔

ان کے مطابق اِن دو دھڑوں کے درمیان کشیدگی کا آغاز اگست 2022 میں جماعت الاحرار کے بانی سربراہ عمر خالد خراسانی کی افغانستان میں ہوئے ایک پراسرار حملے میں ہلاکت کے بعد سے ہوا، جس میں گذشتہ برس کے دوران بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سینیئر صحافی رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے اتحاد میں شامل سب سے بڑا دھڑا جماعت الاحرار کو سمجھا جاتا ہے اور اس تنظیم نے ماضی میں بڑی کارروائیاں بھی کی ہیں۔ ان کے مطابق جماعت الاحرار اپنا میڈیا نیٹ ورک ’غازی میڈیا‘ بھی چلاتی ہے۔

یاد رہے کہ جنوری 2024 میں ’غازی میڈیا‘ نے اپنے ایک بیان میں ٹی ٹی پی کے رہنما نور ولی محسود پر جماعت الاحرار کے لیڈر عمر خالد خراسانی کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

رفعت اورکزئی کے مطابق جب حالیہ برسوں میں ٹی ٹی پی نے تنظیمِ نو کی تو اس میں مکرم خراسانی سمیت کچھ لوگوں کو عہدے دیے گئے تھے لیکن بظاہر دونوں تنظیموں کے درمیان عدم اعتماد یا شکوک و شبہات موجود رہے ہیں۔

رفعت اورکزئی نے دعویٰ کیا کہ ان دونوں گروہوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لیے ماضی میں افغان طالبان نے بھی کردار ادا کیا تھا۔

تجزیہ کارعبدالسید بتاتے ہیں کہ سنہ 2014 میں تحریک طالبان پاکستان میں ہونے والے داخلی اختلافات کے باعث عمر خالد خراسانی نے اپنے ساتھیوں سمیت اس گروہ سے علیحدگی اختیار کر کے جماعت الاحرار کے نام سے نیا دھڑا قائم کیا تھا۔

عبدالسید کے مطابق بعدازاں اگست 2020 میں جماعت الاحرار دوبارہ تحریک طالبان پاکستان کے اتحاد میں شامل ہو گئی تاہم عمر خالد خراسانی کی ہلاکت کے بعد دونوں دھڑوں کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں، جن میں کئی مرتبہ مشروط مصالحت بھی ہوئی تاہم یہ کشیدگی وقت کے ساتھ بتدریج بڑھتی رہی۔

ان کا کہنا تھا اگرچہ 2025 کے اوائل سے جماعت الاحرار نے غیر اعلانیہ طور پر تحریک طالبان پاکستان کا متوازی تنظیمی نیٹ ورک فعال کیا تاہم اس نے اب تک رسمی طور پر ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار نہیں کی اور نہ ہی تحریک طالبان پاکستان نے اسے علیحدہ گروہ قرار دیا۔

خراسان ڈائری کے مدیر اور صحافی افتحار فردوس کہتے ہیں کہ گذشتہ برس نومبر میں ٹی ٹی پی نے ایک فتوی جاری کیا تھا جس میں منحرف ہو کر 2020 میں دوبارہ اس میں شامل ہونے والے ایسے جنگجو، جو لوٹ مار میں ملوث ہیں اور افراتفری پھیلا رہے ہیں، کو قتل کرنے کا کہا گیا تھا۔

اُن کے بقول اس کے بعد جنوری 2026 میں جماعت الاحرار سے منسلک چار شدت پسندوں کو مبینہ طور پر ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں نے قتل کر دیا تھا تاہم دونوں گروپس نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔ اس موقع پر ٹی ٹی پی کے بعض رہنماؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں ٹی ٹی پی سے الگ ہونے کے باوجود اسلحہ رکھنے اور لوگوں کو لوٹنے کی پاداش میں قتل کیا گیا۔

اس کے بعد کچھ ذرائع سے یہ خبریں آئی تھیں کہ جماعت الاحرار نے ٹی ٹی پی سے الگ ہو کر آزادانہ طور پر اپنی کارروائیاں کرنے کا اعلان کیا۔

’اب جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کا ساتھ چلنا مشکل ہے‘

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ جماعت الاحرار اگرچہ ٹی ٹی پی کے ساتھ اتحاد میں شامل ہے لیکن ایسی اطلاعات ہیں کہ جماعت الاحرار کی ہمدردیاں ’اتحاد المجاہدین پاکستان‘ کے ساتھ رہی ہیں۔

کرم واقعے پر رفعت اللہ اورکزئی کہتے ہیں کہ بظاہر اس بڑے واقعے کے بعد اب جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کا ساتھ چلنا مشکل نظر آتا ہے اور کالعدم تنظیموں سے قریب سمجھے جانے والے حلقوں میں دعوے کیے جا رہے ہیں کہ جماعت الاحرار حافظ گل بہادر کے دھڑے اتحاد المجاہدین پاکستان کے ساتھ اتحاد کر سکتی ہے۔

عبدالسید کا کہنا ہے کہ کرم واقعے پر جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور کے بیانات اُن کے رسمی سوشل میڈیا چینلز پر فوری طور پر سامنے آئے ہیں، جن میں اس واقعے کے ردِعمل میں انتقامی کارروائی کی دھمکی دی گئی تھی۔ تاہم اس واقعے پر اب تک تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی یا اس کے کسی رکن کا باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔

سنہ 2014 کے بعد جب پاکستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف بڑی کارروائیاں ہوئیں تو اس کے نتیجے میں شدت پسند وزیرستان اور دیگر علاقوں میں اپنے زیرِ کنٹرول ٹھکانے چھوڑ کر افغانستان منتقل ہوئے تھے، اس کی ایک اہم وجہ اُس وقت ان کی داخلی لڑائی بھی تھی جس کے باعث وہ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔

افتحار فردوس کے بقول پاکستان اور افغانستان میں ’جہادی نظام‘ ایک دوسرے سے ٹکراؤ کا شکار ہے کیونکہ متعدد گروہ اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’ان گروہوں کے درمیان دیگر سماجی و سیاسی عوامل کے درمیان مختلف مذہبی معاملات کے مسائل پر بھی دیوبندی اور غیر دیوبندی فرقوں کا بھی اختلاف ہے۔‘

اُن کے بقول ٹی ٹی پی اور اس کے مخالف دھڑوں کے درمیان جھڑپوں اور ہلاکتوں کا بدلہ لینے کے اعلان کے بعد کالعدم شدت پسند گروہ القاعدہ اور افغان طالبان مزید خونریزی روکنے کے لیے مداخلت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جماعت الاحرار کیا ہے؟

تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے نومبر 2025 میں بی بی سی پشتو کے سید عبداللہ نظامی کو بتایا تھا کہ بعض غیر ملکی جنگجوؤں، جن میں پاکستانی طالبان کے مقامی دھڑے اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے متعدد عسکریت پسند گروہ شامل ہیں، نے ایک اتحاد کے تحت اُن کے دھڑے میں شمولیت اختیار کی تھی، جسے جماعت الاحرار کا نام دیا گیا۔

ان کے مطابق جماعت الاحرار کی قیادت کے انتخاب کے لیے ایک شوریٰ تشکیل دی گئی تھی، جس نے باہمی ووٹنگ کے ذریعے عمر خالد خراسانی کو جماعت الاحرار کا سربراہ منتخب کیا تھا۔

احسان اللہ احسان کے مطابق بعد ازاں علامتی طور پر قیادت مولانا قاسم خراسانی المعروف ’ناظم‘ کے حوالے کی گئی، جو سوات کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شدت پسند کمانڈر ہیں۔ نومبر 2025 تک ’ناظم‘ جماعت الاحرار کے میڈیا اور مشاورتی امور میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

احسان اللہ احسان کے مطابق، حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد جب سوات طالبان کے رہنما مولوی فضل اللہ نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی قیادت سنبھالی تھی، تو تنظیم کے اندر وسیع پیمانے پر اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ ان اختلافات کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ بعض مسلح کمانڈروں کی خواہش تھی کہ تنظیم کے اختیارات کے ڈھانچے کو تبدیل کیا جائے اور افغان طالبان کی طرز پر ایک مضبوط شوریٰ قائم کی جائے۔

انھوں نے مزید دعویٰ کیا جماعت الاحرار کا بنیادی مقصد ’پاکستانی حکومت کے خلاف پہلے سے جاری مسلح جدوجہد کو مزید مضبوط بنانا تھا۔‘

احسان اللہ احسان نے دعویٰ کیا کہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب ہزاروں افراد نے اس گروہ میں ساتھ شمولیت اختیار کی تھی۔

بی بی سی پشتو کو دستیاب معلومات کے مطابق، اس گروہ نے اپنی زیادہ تر توجہ مہمند ایجنسی اور اس کے ملحقہ علاقوں پر مرکوز رکھی کیونکہ اس کی قیادت کا تعلق انھی علاقوں سے تھا۔

مزید برآں، تحریک طالبان پاکستان کے متعدد اہم کمانڈرز بعدازاں جماعت الاحرار میں شامل ہوئے، جن میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے مولوی صابر بھی شامل تھے۔

یہ تنظیم پاکستان میں کئی بڑے شدت پسندانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ عام شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔