آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تحریک انصاف لانگ مارچ کے لیے تعینات پولیس کے ہزاروں اہلکاروں کا ’خصوصی خیال‘ کیسے رکھا جا رہا ہے؟
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ابتدائی طور پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ چار اکتوبر تک کے لیے مؤخر کیا گیا تھا تاہم اب جہاں ایک جانب پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات کی دعوت کو قبول کرنے کا اعلان کیا ہے وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چار اکتوبر کو مجوزہ احتجاج کا آغاز پشاور کے بجائے لکی مروت سے ہو گا اور یہ مرحلہ وار انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان کے مطابق چار اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ پانچ اکتوبر کو کوہاٹ میں پڑاؤ کرے گا اور اس کے بعد ضلع پشاور میں داخل ہو گا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال نہ تو اس سے آگے کا پلان دیا گیا ہے اور نہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ مارچ اسلام آباد کب تک پہنچے گا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ انھیں حکومت کی جانب سے ’ملاقات کا پیغام‘ موصول ہوا جسے انھوں نے قبول کر لیا ہے اور جمعہ کو اس حوالے سے حکومت کے ساتھ نشست ہو گی۔
اسی طرح جمعرات کی شب ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں بتایا گیا ہے وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کا مشترکہ وفد آج (جمعہ) پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات اور موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کرے گا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کی تاریخوں میں رد و بدل اور ملاقاتوں اور مذاکرات کے امکانات کے باوجود حکومت نے اس احتجاج کو روکنے کے لیے کیے گئے سکیورٹی انتظامات میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد نہ صرف اسلام آباد اور اس کے قریبی اضلاع میں موجود ہیں بلکہ سڑکوں کے کنارے موجود کنٹینرز بھی جوں کے توں پڑے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب کے اضلاع راولپنڈی، اٹک اور حسن ابدال سمیت مختلف علاقوں میں ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن کی رہائش اور خوراک پر روزانہ لاکھوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب اس سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات متعدد پولیس اہلکاروں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اُن کی خوراک اور رہائش کے انتظامات (جو زیادہ تر سرکاری سکولوں میں کیے گئے ہیں) ناکافی ہیں۔ تاہم متعلقہ پولیس حکام اس کی تردید کرتے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کے کھانے اور رہائش کا ناصرف بہتر انتظام موجود ہے بلکہ اس عمل کی نگرانی بھی کی جاتی ہے۔
اس صورتحال کے بیچ پنجاب کا ضلع اٹک خصوصی توجہ کا مرکز ہے جہاں ضلع کی اپنی پولیس کے علاوہ بڑی تعداد میں دیگر صوبوں کے پولیس افسران اور اہلکاروں کو بھی سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے پہنچایا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اُردو نے پولیس اہلکاروں اور افسران سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سیکورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کو کن مشکلات کا سامنا ہے اور حکام کی جانب سے خیبرپختونخوا سے آنے والے لانگ مارچ کو اٹک میں روکنے کے لیے کیا حکمت عملی بنائی گئی ہے؟
توجہ کا مرکز ضلع اٹک
اس لانگ مارچ کے حوالے سے بظاہر حکومتی توجہ کا سب سے بڑا مرکز ضلع اٹک لگتا ہے، جو خیبر پختونخوا اور پنجاب کو زمینی راستے سے جوڑتا ہے۔
اس ضلع میں کیے گئے خصوصی سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا سے نکل کر وفاقی دارالحکومت کی جانب بڑھنے کا ارادہ کرتی ہے تو اسے بظاہر اٹک میں ہی بھرپور انداز میں روکنے کی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔
متعلقہ ضلعی حکام کے مطابق اس مقصد کے لیے ابتدائی طور پر سکیورٹی کی چار تہیں قائم کی گئی ہیں جبکہ پنجاب پولیس کے ساتھ رینجرز کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے اس وقت تقریباً 30 ہزار پولیس اہلکار اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں تعینات ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر اہلکار پنجاب پولیس سے تعلق رکھتے ہیں جن کی تعداد 25 ہزار سے زائد ہے، جبکہ اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق سندھ پولیس کے تقریباً دو ہزار اہلکار اس وقت وفاقی دارالحکومت میں خصوصی سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔
وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے پنجاب پولیس سے مزید دس ہزار اہلکاروں کی نفری بھی طلب کر رکھی ہے، تاہم یہ نفری تاحال اسلام آباد نہیں پہنچی ہے۔ اسلام آباد پولیس کے حکام کے مطابق یہ اضافی نفری 27 ستمبر سے قبل اسلام آباد پہنچنا تھی، تاہم لانگ مارچ میں ایک ہفتے کی تاخیر کے اعلان کے بعد اسے طلب نہیں کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اس بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
اٹک کے ضلعی پولیس دفتر میں تعینات ایک سینیئر پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً 20 ہزار اہلکار ضلع کے مختلف علاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق اس بڑی نفری کی نگرانی کے لیے ڈی آئی جی رینک کے چھ افسر جبکہ ایس پی اور ڈی ایس پی رینک کے تقریباً 200 افسران تعینات کیے گئے ہیں، جنھیں ضلع اٹک کے مختلف علاقوں میں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ یہ اہلکار پنجاب کے 26 اضلاع سے بلائے گئے ہیں جبکہ ان میں مختلف اضلاع کے ڈسٹرکٹ پولیس افسران بھی شامل ہیں جبکہ مجموعی طور پر اٹک میں موجود اس فورس کی کمان راولپنڈی کے ریجنل پولیس افسر کے پاس ہے۔
سکولوں اور سرکاری عمارتوں میں رہائش
پنجاب پولیس کے اہلکار کے مطابق اٹک میں اتنی بڑی نفری کو سرکاری سکولوں، ہیلتھ مراکز اور دیگر سرکاری عمارتوں میں رکھا گیا ہے جبکہ بعض افسران کے لیے ریسٹ ہاؤسز اور فرنشڈ مکانات کرائے پر حاصل کیے گئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ جن سرکاری سکولوں میں پولیس اہلکار مقیم ہیں وہاں گذشتہ دس روز سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔
محکمہ تعلیم پنجاب کے ایک اہلکار کے مطابق ضلع اٹک کے 60 سے زیادہ تعلیمی اداروں میں پولیس اہلکاروں کو ٹھہرایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان سکولوں کی بندش کا کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، تاہم طلبا کو زبانی طور پر بتایا گیا ہے کہ سکول کھلنے پر انھیں آگاہ کر دیا جائے گا۔
فیصل آباد ریجن سے ڈیوٹی پر آنے والے ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ابتدائی طور پر انھیں آگاہ کیا گیا تھا کہ نفری کا اٹک میں قیام ایک ہفتے کے لیے ہو گا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ وہ ایک ہزار اہلکاروں کے اس دستے کا حصہ تھے، جو 20 ستمبر کو اٹک پہنچا تھا، تاہم ابھی تک انھیں معلوم نہیں کہ مزید کتنے دن قیام کرنا پڑے گا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ کھانے کے معیار میں روز بروز کمی آ رہی تھی جس پر افسران بالا کو متعدد شکایات بھی کی گئیں جس کے بعد کچھ حد تک صورتحال بہتر ہوئی ہے۔
ضلع اٹک میں ملتان سے آنے والے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر کہتے ہیں کہ انھیں ایک سرکاری گرلز سکول میں ٹھہرایا گیا ہے، جہاں ایک ہزار کے قریب اہلکار مقیم ہیں۔
ان کے مطابق زیادہ تر اہلکار اپنے گھروں سے چادریں لے کر آئے تھے جبکہ کلاس رومز میں بچھائی دریوں اور قالینوں پر اہلکار سوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سکول میں موجود نفری کے مقابلے میں وہاں موجود ٹوائلٹس کی تعداد بہت کم ہیں، جس کے باعث روزانہ قطاریں لگی رہتی ہیں۔
’نہانے کے مناسب انتظامات بھی موجود نہیں اور بعض اہلکاروں نے مشترکہ طور پر بالٹی خرید کر ٹوائلٹ میں نہانے کا بندوبست کیا ہے۔‘
اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے مطابق اس ضمن میں شکایت کے بعد حکام نے عارضی ٹوائلٹس بنانے کی یقین دہانی تو کرائی ہے لیکن ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔
دوسری جانب اٹک کی تحصیل جنڈ میں قائم ایک سرکاری سکول میں رہائش پذیر پنجاب پولیس کے ایک ڈی ایس پی رینک کے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ تقریباً 300 جوانوں کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق ان اہلکاروں کو ایک پرائمری سکول میں رکھا گیا ہے، جہاں ہر کلاس روم میں تقریباً 50 جوان مقیم ہیں۔
افسر کا کہنا تھا کہ علاقہ پہاڑی ہے اور اس کی سرحدیں کوہاٹ اور نوشہرہ سے ملتی ہیں۔ ان کے مطابق لوڈشیڈنگ کے باعث مچھروں کی بہتات ہے اور متعدد اہلکار بیمار بھی ہوئے ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ دنوں میں تین اہلکار ڈینگی کا شکار ہوئے ہیں جنھیں مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
افسر کے مطابق کھانا مقامی سطح پر تیار کیا جاتا ہے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کے معیار میں بھی کمی آئی ہے جس کی شکایت مانیٹرنگ ٹیموں کو دی جا چکی ہے۔
سیالکوٹ سے حسن ابدال تعینات کیے گئے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ہزاروں اہلکار مختلف سکولوں میں مقیم ہیں اور مجموعی صورتحال اٹک کے دیگر علاقوں سے مختلف نہیں۔
ان کے مطابق تقریباً دو ہزار اہلکار ایک سرکاری سکول میں مقیم ہیں، تاہم یہاں ایک سہولت یہ ہے کہ قریب ہی سکھ مذہب کا مقدس مقام پنجہ صاحب موجود ہے۔
اہلکار نے بتایا کہ اگر میس کا کھانا پسند نہ آئے تو بعض اہلکار پنجہ صاحب کے لنگر سے بھی کھانا حاصل کر لیتے ہیں۔
پنجاب پولیس کے علاوہ رینجرز کے اہلکار بھی اٹک میں تعینات ہیں۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے راولپنڈی، جہلم، میانوالی اور اٹک میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دے رکھی ہے۔
پولیس حکام کا مؤقف
دوسری جانب ریجنل پولیس افسر کے دفتر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کا ’خصوصی خیال‘ رکھا جا رہا ہے۔
ریجنل پولیس افسر راولپنڈی کے ترجمان سردار نثار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اٹک میں تعینات اہلکاروں کا خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے‘ اور اُن کے کھانے پینے کے انتظامات مختلف ٹھیکیداروں کے سپرد کیے گئے ہیں جبکہ کھانے کے معیار کی نگرانی کے لیے خصوصی مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر کوالٹی کو چیک کرتی ہیں۔
ان کے مطابق پولیس اہلکاروں کو دن میں تین مرتبہ کھانا فراہم کیا جاتا ہے، جس میں ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا شامل ہے۔
سردار نثار کا کہنا تھا کہ پولیس قیادت اس بات سے آگاہ ہے کہ اگر اہلکاروں کو معیاری خوراک اور بنیادی سہولیات فراہم نہ کی جائیں تو ان کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
اٹک کے ضلعی پولیس دفتر میں تعینات ایک متعلقہ اہلکار کے مطابق صرف کھانے کی مد میں روزانہ ایک کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق انسپکٹر سے لے کر ڈی آئی جی رینک تک افسران کے کھانے پینے کے اخراجات اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن پر اٹھنے والے اخراجات اس رقم کے علاوہ ہیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ پنجاب سے آنے والی نفری کو خیبر پختونخوا سے ملحق اہم شاہراہوں، موٹر ویز اور داخلی راستوں پر تعینات کیا گیا ہے۔
ان علاقوں میں ایبٹ آباد، ہری پور اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ملانے والی شاہراہیں، صوابی انٹرچینج، خوشحال گڑھ۔کوہاٹ روٹ، ہزارہ موٹروے، سی پیک روٹ اور حسن ابدال کے گرد و نواح شامل ہیں۔
فارغ اوقات میں کھیل اور شہر کی سیر
اٹک کے مقامی صحافیوں کے مطابق پولیس اہلکاروں کے پاس روزمرہ ڈیوٹی کے علاوہ زیادہ مصروفیت نہیں ہے۔
مقامی صحافی ندیم رضا کے مطابق اہلکار دن کے اوقات میں پریڈ اور ممکنہ احتجاجی مظاہرین کو روکنے کی مشقیں کرتے ہیں، تاہم اس کے بعد اکثر اہلکار ٹریک سوٹ پہن کر شہر اور قریبی دیہات میں گھومتے نظر آتے ہیں۔
ان کے مطابق ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد کئی اہلکار والی بال، فٹبال اور کرکٹ کھیلتے ہیں جبکہ بعض اہلکار فارغ اوقات میں اٹک شہر یا حسن ابدال کا رخ کرتے ہیں۔
کنٹینرز کی واپسی کی درخواست مسترد
دوسری جانب 27 ستمبر کو لانگ مارچ کی ابتدائی اطلاع سے قبل حکام نے سڑکوں کے کنارے بڑی تعداد میں کنٹینرز لا کر رکھے تھے جو تاحال جوں کے توں موجود ہیں۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اویس نے بی بی سی کو بتایا کہ لانگ مارچ میں ایک ہفتے کی تاخیر کے اعلان کے بعد انھوں نے اسلام آباد انتظامیہ سے رابطہ کیا تھا تاکہ کنٹینرز عارضی طور پر واپس لیے جا سکیں اور ٹرانسپورٹ کا کاروبار بحال ہو سکے۔
ان کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے یہ درخواست مسترد کر دی تھی۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ سے یہ درخواست بھی کی گئی کہ کم از کم وہ کنٹینرز واپس کر دیے جائیں جن میں مال برداری کا سامان موجود ہے تاکہ متعلقہ افراد اپنا سامان وصول کر سکیں، تاہم اس مطالبے کو بھی قبول نہیں کیا گیا۔
چوہدری اویس کے مطابق انھوں نے انتظامیہ کو یہ تجویز بھی دی کہ گذشتہ دو ہفتوں سے سرکاری استعمال میں رہنے والے کنٹینرز کا کرایہ ادا کر دیا جائے تو یہ بھی قابل قبول ہو گا، لیکن اس سلسلے میں بھی تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔