آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لبنان میں 900 سال پرانے ’صلیبی قلعے‘ پر اسرائیلی فوج کا قبضہ کیوں اہم ہے؟
- مصنف, کین پیئری
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کی گئی باڈی کیمرہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی پہاڑی کی چوٹی پر تعمیر کیے گئے ایک قدیم قلعے کے کھنڈرات سے گزرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور وہاں اسرائیلی پرچم لہرا دیتے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ایک بار پھر جنوبی لبنان میں واقع سٹریٹیجک بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کر لیا ہے۔
قبضے کے بعد اتوار کے روز اسرائیل کے وزیر اعظم نے اسے ’ایک فیصلہ کن مرحلہ اور پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی‘ قرار دیا۔
بنیامین نیتن یاہو نے کہا: ’ہم نے خوف کی رکاوٹ توڑ دی ہے۔ ہم اب پہل کر رہے ہیں۔ ہم ہر محاذ پر سرگرم ہیں، شام میں، غزہ میں، لبنان میں۔‘
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی زمینی فوجیں دریائے لیطانی کی اصل حد بندی سے آگے بڑھتے ہوئے لبنانی علاقے میں مزید اندر تک جا رہی ہیں۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اسرائیل کی جانب سے کشیدگی میں حالیہ اضافے پر تنقید کی، جبکہ اسرائیلی دفاعی فوج (آئی ڈی ایف) نے جنوبی لبنان کے وسیع علاقے میں رہنے والے مزید شہریوں کو انخلا کی وارننگ دی۔ لبنان کے وزیر اعظم نے اسرائیل پر ’اجتماعی سزا‘ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔
تاہم یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل نے بیوفورٹ قلعے پر کنٹرول حاصل کیا ہو۔ 44 سال قبل بھی اسرائیلی فوج نے اس قلعے پر قبضہ کیا تھا۔
یہ سمجھنے کے لیے کہ اس مقام پر اتنی شدید لڑائی کیوں ہوتی رہی ہے، قلعے کی تاریخ اور اس پہاڑی سلسلے کی سٹریٹیجک اہمیت کو دیکھنا ہو گا، جہاں یہ قلعہ واقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ اس پہاڑی مقام قلعہ پہلی بار فونیقی یا رومی دور میں بنایا گیا تھا، تاہم جو قلعہ موجودہ شکل میں ہے وہ 12 ویں صدی کا ہے۔
صلیبی جنگوں کے دور، یعنی 11 ویں صدی کے اواخر سے 13 ویں صدی تک، یورپی افواج نے خطے میں پہاڑی قلعوں کی ایک زنجیر تعمیر کی، جو ساحلی علاقوں سے لے کر شہروں تک کے راستوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ بیوفورٹ ان میں سے ایک اہم قلعہ بن گیا۔ تقریباً 1190 میں صلاح الدین نے صلیبی افواج کو شکست دے کر اسے فتح کیا۔
قدیم یورپی تاریخ میں اس مقام کا نام بیوفورٹ آتا ہے، یہ ایک فرانسیسی لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’خوبصورت قلعہ‘۔ اس کا عربی نام قلعۃ الشقیف یا شقيف ارنون ہے، جس کا مطلب بلند چٹان کا قلعہ ہے۔
اس کی تاریخ اس کے منفرد طرزِ تعمیر میں بھی جھلکتی ہے جو صلیبی دور کے یورپی فنِ تعمیر اور مشرقی اسلامی عناصر کا امتزاج ہے۔ اور 2024 سے بیوفورٹ کو ان آثار قدیمہ اور ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا تھا جنھیں ثقافتی املاک کی حفاطت کے لیے بنائے گئے ہیگ کنونشن کے تحت تحفظ دیا جاتا ہے۔
بیوفورٹ قلعہ 20 ویں صدی کے دوسرے نصف میں دوبارہ اہمیت اختیار کر گیا، جب عرب اسرائیل تنازع نے شدت اختیار کی اور جنوبی لبنان ایک محاذ بنا۔
یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم کے پروفیسر آشر کافمین کے مطابق یہاں سے ایک وسیع علاقے کی نگرانی کی جا سکتی ہے اور اسی کے پیش نظر 1970 کی دہائی سے جون 1982 تک یہ ’اسرائیل کے خلاف لڑنے والے فلسطینی جنگجوؤں کا اڈہ رہا۔‘
کافمین کے مطابق 1982 کی اسرائیلی دراندازی کے دوران جنگ کے شدید ترین معرکوں میں سے چند اس قلعے نے بھی دیکھے۔ اس وقت نمایاں تین تصادم معرکہ شقیف تھا، جو آج بھی اسرائیل اور لبنان کی عسکری یادداشت میں اہم مقام رکھتا ہے۔
اور بالآخر چھ جون 1982 کو بیوفورٹ پر قبضہ کرنے کے بعد، اسرائیل نے اسے جنوبی لبنان میں اپنے زیرِ کنٹرول ’سکیورٹی زون‘ کے اندر ایک نگرانی کی چوکی کے طور پر استعمال کیا، یہاں تک کہ 2000 میں اس نے وہاں سے انخلا کیا۔
ارنون قصبے کے قریب ایک چٹانی پہاڑی پر واقع قلعے سے شمالی اسرائیل، جنوبی لبنان کے میدانوں اور وادی لیطانی پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
تاریخی طور پر، جو بھی اس پر قابض ہوتا، وہ جنوب کی جانب جانے والی اہم سڑکوں کی نگرانی کر سکتا تھا۔ اس وجہ سے یہ قلعہ قدیم دور سے لے کر جدید دور تک، متحارب قوتوں کا مستقل ہدف رہا۔
اس کے تنگ پتھریلے راستے، مضبوط تعمیر، پانی کے ذخائر اور کنویں جنگجوؤں کو محاصروں کے دوران طویل عرصے تک ڈٹے رہنے کا موقع فراہم کرتے تھے۔
چیتھم ہاؤس کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ پروگرام سے وابستہ ڈاکٹر لینا خطیب کے مطابق بیوفورٹ قلعے پر اسرائیل کا دوبارہ قبضہ بنیادی طور پر حزب اللہ اور اس کے حامیوں کے حوصلے کو متاثر کرنے کے لیے ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’بیوفورٹ قلعے پر قبضہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کو لبنانی علاقے میں اپنے قبضے کو وسعت دینے سے روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔‘
یہ قلعہ لبنان کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کا حصہ سمجھا جاتا ہے، اسے ایک محفوظ ورثہ قرار دیا جا چکا ہے اور حالیہ برسوں میں اسے اصل حالت میں بحال کر کے سیاحوں کے لیے دوبارہ کھولا گیا تھا۔
ارنون کے مقامی حکام نے اس مقام پر حالیہ حملوں کی مذمت کی ہے۔
اور پیر کے روز، یورپی یونین کے ترجمان انوار الانونی نے کہا: ’ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لبنان میں اپنی فوجی جارحیت کو روکے اور لبنان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔‘