بلیو اوریجن کا راکٹ دھماکے سے تباہ، کیا ناسا کا خلاباز چاند پر بھیجنے اور مون بیس بنانے کا خواب پورا ہو گا؟

    • مصنف, پلّب گھوش
    • عہدہ, بی بی سی نیوز کے نمائندہ برائے سائنس
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر کے اوپر گذشتہ رات آسمان کو روشن کر دینے والے آگ کے گولے (دھماکے) نے اس بات پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ آیا جیف بیزوس کی کمپنی ’بلیو اوریجن‘ ناسا کے ساتھ کیے گئے ان وعدوں کو پورا کر پائے گی، جو خلابازوں کو چاند کی سطح پر بھیجنے اور وہاں ایک مون بیس (چاند پر اڈہ) تعمیر کرنے کی کوششوں سے متعلق ہیں۔

بلیو اوریجن کا ’نیو گلین‘ راکٹ مقامی وقت کے مطابق رات کے تقریباً نو بجے اپنے انجنوں کے ایک معمول کے ٹیسٹ کے دوران دھماکے سے پھٹ گیا۔

98 میٹر بلند اس راکٹ کو 4 جون جیسے قریبی وقت میں ایمیزون کے ’لیو‘ براڈبینڈ نیٹ ورک کے لیے 48 سیٹلائٹس لے کر روانہ ہونا تھا۔

یہ دھماکہ ظاہر ہے ’لیو نیٹ ورک‘ کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے، جو ایلون مسک کی کمپنی ’سپیس ایکس‘ اور اس کی ’سٹار لنک‘ سروس کا اصل مدمقابل بننے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ لیکن اس حادثے کے اثرات اس سے کہیں زیادہ دور تک جائیں گے۔

اچھی خبر یہ تھی کہ اس ہولناک دھماکے کے باوجود کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

جیف بیزوس نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا کہ ’تمام عملہ محفوظ ہے اور سب خیریت سے ہیں۔ بہت مشکل دن تھا، لیکن جو کچھ بھی دوبارہ بنانے کی ضرورت ہے ہم اسے بنائیں گے اور دوبارہ اڑان بھریں گے۔ یہ (کوشش) اس کے لائق ہے۔‘

لیکن اس دھماکے نے، جس نے ’سپیس لانچ کمپلیکس 36‘ (ایل سی-36) کو ہلا کر رکھ دیا اور اسے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکے کے بعد لانچ پیڈ کا ایک آسمانی بجلی سے بچانے والا ٹاور گر رہا ہے۔

ایل سی-36 دنیا کی واحد تنصیب ہے جو ’نیو گلین‘ راکٹ کو لانچ کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک اس لانچ پیڈ کو دوبارہ تعمیر اور اس کی دوبارہ تصدیق نہیں کر لی جاتی، بلیو اوریجن کے پاس اپنے سب سے بڑے راکٹ کو اڑانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کام میں ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں لگیں گے۔

یہ دھچکا ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین کی جانب سے ایجنسی کے چاند پر بیس بنانے کے منصوبوں کے پہلے تین مشنز کے اعلان کے چند دن بعد ہی سامنے آیا ہے یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جسے انھوں نے چاند کے قطب جنوبی پر ایک ’مستقل موجودگی‘ کی شروعات قرار دیا تھا۔

پہلا مشن، ’مون بیس 1‘، بلیو اوریجن کے روبوٹک ’بلو مون مارک 1‘ (اینڈیورنس) لینڈر کے ذریعے روانہ ہونا ہے، اور اس کی لانچنگ کے لیے خزاں 2026 سے پہلے کا وقت طے نہیں کیا گیا ہے۔

اس مشن کا مقصد ناسا کے سائنس سے متعلق دو پے لوڈز (آلات) کو چاند کے ’شیکلیٹن کنیکٹنگ رج‘ تک لے جانا اور درست طریقے سے اترنے کی ان تکنیکوں کا مظاہرہ کرنا ہے جو مستقبل میں انسانوں والے مشنز کی محفوظ لینڈنگ کے لیے ضروری ہیں۔

لیکن اس لینڈر کو ’نیو گلین‘ راکٹ کے اوپر رکھ کر ہی چاند پر بھیجا جانا تھا یعنی بالکل اسی قسم کا راکٹ جو اب ایل سی-36 پر ملبے کی شکل میں بکھرا پڑا ہے، جس نے فوری طور پر یہ شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں کہ آیا اب یہ ٹائم ٹیبل ممکن رہا ہے یا نہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز میں ناسا نے بلیو اوریجن کو 2028 تک چاند کے قطب جنوبی پر دو تجارتی گاڑیاں (لیونر ٹرینز وہیکلز) پہنچانے کا 468 ملین ڈالر مالیت کا معاہدہ بھی دیا تھا، جنھیں ’ایسٹرولیب‘ اور ’لیونر آؤٹ پوسٹ‘ نے تیار کیا ہے۔

ان روورز (گاڑیوں) کو خلابازوں کے پہنچنے سے پہلے وہاں موجود ہونا ہے۔ ناسا نے انسانوں والے مشن کی لینڈنگ کے لیے 2028 کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے، حالانکہ گذشتہ رات کے دھماکے سے پہلے بھی اس تاریخ پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔

تباہ ہونے والے اس راکٹ کے ذریعے ایمیزون کے ’لیو‘ براڈبینڈ نیٹ ورک کے لیے 48 سیٹلائٹس کی ایک کھیپ خلا میں بھیجی جانی تھی۔ یہ وہی نیٹ ورک ہے جسے پہلے ’پروجیکٹ کائپر‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور اسے ایلون مسک کی کمپنی ’سٹار لنک‘ کو ٹکر دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اس وقت ایمیزون کے صرف 300 سے کچھ زائد ’لیو سیٹلائٹس‘ مدار میں موجود ہیں، اور حیران کن طور پر یہ سب کے سب خود بلیو اوریجن کے بجائے سپیس ایکس، یونائیٹڈ لانچ الائنس اور ایرین سپیس کے ذریعے خلا میں بھیجے گئے ہیں۔

اب ’لیو‘ اور ’سٹار لنک‘ کے درمیان کا یہ بڑا فرق جیف بیزوس کے گروپ کے لیے ایک سنگین تجارتی مسئلہ بن چکا ہے، کیونکہ سٹار لنک کے 10,000 سے زائد سیٹلائٹس پہلے ہی مدار میں گردش کر رہے ہیں۔

امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (ایف سی سی) کے لائسنس کے تحت، ایمیزون کے لیے لازم ہے کہ وہ 30 جولائی 2026 تک اپنے مجموعی 3,236 سیٹلائٹس کا آدھا حصہ مدار میں پہنچا دے۔ تاہم، مئی کے اواخر تک کمپنی اپنے اس ہدف سے اب بھی 1,300 سے زائد سیٹلائٹس پیچھے ہے، اور اس تاخیر کی جزوی وجہ بلیو اوریجن اور دیگر کمپنیوں کی جانب سے ’لانچ وہیکل (راکٹ) کی عدم دستیابی‘ کو قرار دیا گیا ہے۔

اب جبکہ ’نیو گلین‘ راکٹ کے مہینوں تک گراؤنڈ رہنے کا خدشہ ہے، ایمیزون کو اپنے اس منصوبے کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے حریفوں خاص طور پر سپیس ایکس پر مزید انحصار کرنا پڑے گا، اور یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ اسے ایف سی سی سے اپنے ٹائم ٹیبل میں توسیع کی نئی درخواست کرنی پڑے گی۔

دوسری جانب سپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے ایکس پر اس دھماکے کی ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ ’انتہائی بدقسمتی۔ راکٹ بنانا (اور اڑانا) ایک مشکل کام ہے۔‘

مزید مسائل

ناسا کا اگلا انسانی خلائی مشن، ’آرٹیمس III‘، اگلے سال روانہ ہونا ہے اور اسے دو تجارتی لیونر لینڈرز، جنھیں بلیو اوریجن اور سپیس ایکس نے تیار کیا ہے، کی زمین کے نچلے مدار (لو ارتھ آربٹ) میں پرواز کے تجربے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اس دھماکے سے پہلے تک، بلیو اوریجن کو ان دونوں کمپنیوں میں زیادہ تیار تصور کیا جا رہا تھا۔ اس کا ’مارک 1‘ ڈیمونسٹریٹر فلوریڈا میں آخری مراحل میں تھا، جبکہ دوسری طرف سپیس ایکس کا ’سٹار شپ‘ ابھی تک خلا میں ایندھن کی منتقلی کا کامیاب تجربہ بھی نہیں کر سکا ہے۔

یہ تمام صورتحال ناسا کے 2028 تک خلابازوں کو دوبارہ چاند پر اتارنے اور وہاں ایک مون بیس تعمیر کرنے کے منصوبے کو کئی ایسے مسائل سے دوچار کر دیتی ہے، جن کے باعث اب تاخیر ناگزیر ہو جائے گی۔

آرٹیمس III کے لیے لینڈر کا ٹیسٹ اسی راکٹ فیملی پر منحصر ہے، اور مون بیس کے لیے روورز کی ترسیل بھی معاہدے کے تحت ’نیو گلین‘ سے جڑی ہوئی ہے۔

دوسری جانب، چین 2030 تک اپنے خلابازوں کو چاند پر اتارنے کے منصوبے پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے ناسا کے پاس اب غلطی یا تاخیر کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے اس حالیہ دھچکے پر ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’خلائی سفر بے رحم ہے، اور ایک نئی ہیوی لفٹ لانچنگ صلاحیت تیار کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔‘

لیکن گذشتہ رات کے اس حادثے کے بعد، ناسا کے چاند کے پروگرام کو مزید جارحانہ اور تیز رفتار مشنز کی طرف لے جانے کی آئزک مین کی کوشش اب شدید شکوک و شبہات کا شکار ہو گئی ہے۔