آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میزائل پروگرام پر خدشات سے ’حقیقی دوستی‘ تک: پیٹ ہیگسیتھ نے شنگریلا کانفرنس میں پاکستان امریکہ تعلقات پر کیا کہا؟
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
ماضی میں امریکی عہدیداروں کی جانب سے پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق تشویش کے برعکس امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اسے امریکہ کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دینے سے انکار کیا ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع سے جب سنیچر کے روز پاکستان کے میزائل پروگرام پر سوال کیا گیا تو انھوں نے سابقہ امریکی انٹیلیجنس خدشات دہرانے کے بجائے اسلام آباد کو براہِ راست امریکہ کے لیے خطرہ قرار دینے سے گریز کیا۔
سنگاپور میں ہونے والے شنگریلا ڈائیلاگ میں، جو ایشیا کا ایک اہم اور بااثر سکیورٹی فورم سمجھا جاتا ہے، امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے امریکہ کی ایشیا پالیسی اور علاقائی سکیورٹی کے وسیع تر تناظر پر گفتگو کی۔
اسی سیشن کے دوران ان سے پاکستان کے ممکنہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پروگرام اور انڈیا کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تجربات کے بارے میں سوال کیا گیا تو ہیگسیتھ نے کسی بھی ملک کو امریکہ کے لیے فوری یا براہِ راست خطرہ قرار دینے سے گریز کیا۔
اپنے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں دونوں ایک دوسرے کے بارے میں سکیورٹی خدشات رکھتے ہیں، جو کسی حد تک قابلِ فہم ہیں اور جن میں سے کچھ کو ہم مختلف انداز میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔‘
تاہم امریکی سکیرٹری دفاع نے واشنگٹن کی موجودہ پالیسی کے مطابق کسی بھی فریق کو براہِ راست امریکہ کے لیے خطرہ قرار نہیں دیا اور کہا کہ ’ہماری طرف سے، کم از کم اس وقت، ہم نہ انڈیا اور نہ ہی پاکستان کی طرف انگلی اٹھا رہے ہیں اور نہ ہی انھیں امریکہ کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔‘
ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نے اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے دنیا میں امن کے لیے جو مثبت کردار ادا کیا، اس کے لیے ہم شکرگزار ہیں۔
خیال رہے پاکستان کا میزائل پروگرام اور اس کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیتیں ایک ایسا موضوع ہے جو حالیہ برسوں میں امریکی سٹریٹجک حلقوں میں بار بار زیرِ بحث رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے میزائل پروگرام پر خدشات کیوں سامنے آئے تھے؟
رواں برس اپریل میں امریکی سینیٹ کو دی گئی ایک بریفنگ کے دوران نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے پاکستان کو اُن ممالک میں شامل کیا تھا جو امریکہ کے لیے نمایاں سکیورٹی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سامنے ’سالانہ تھریٹ اسیسمنٹ‘ رپورٹ پیش کرتے ہوئے تلسی گبارڈ نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی میزائل صلاحیتیں مستقبل میں امریکی سرزمین کو اپنی رینج میں لے سکتی ہیں۔
تلسی گبارڈ کا کہنا تھا کہ ’روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان ایٹمی اور روایتی پے لوڈز کے ساتھ جدید، روایتی یا نئے قسم کے میزائل نظاموں میں خاصی تحقیق اور ترقی کر رہے ہیں، جو ہمارے ملک (امریکہ) کو (ان میزائلوں کی) رینج میں لے آتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی مستقبل میں ایسے بین البراعظمی میزائل سسٹم تک ترقی پا سکتی ہے، جس کی رینج امریکہ تک بھی ہو سکتی ہے۔
تِلسی گبارڈ نے یہ بھی کہا تھا کہ ’تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ میں جن ممالک کی نشاندہی کی گئی وہ غالباً امریکہ کے جدید میزائل دفاعی منصوبوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تاکہ وہ اپنی میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی کی سمت کا تعین کر سکیں اور دفاعی حکمتِ عملی اور ڈیٹرنس کے حوالے سے واشنگٹن کے ارادوں کا اندازہ لگانے کے قابل بن سکیں۔‘
ستمبر 2024 میں اُس وقت کی امریکی انتظامیہ کے ایک سینئیر حکومتی اہلکار نے باضابطہ طور پر دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے ایک ایسی ’کارآمد میزائل ٹیکنالوجی‘ تیار کر لی، جو اسے امریکہ کو بھی نشانہ بنانے کے قابل بنائے گی۔‘
امریکی تھنک ٹینک ’کارنیگی انڈاؤمنٹ‘ کے زیرِاہتمام منعقد ہونے والی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے اُس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے نائب مشیر جان فائنر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے لانگ رینج میزائل سسٹم اور ایسے دیگر ہتھیار بنا لیے ہیں جو ’اسے بڑی راکٹ موٹرز کے (ذریعے) تجربات کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو پاکستان کے پاس جنوبی ایشیا سے باہر بھی اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت آ جائے گی، اس میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس چیز سے پاکستان کے ارادوں پر حقیقی سوالات اُٹھتے ہیں۔‘
امریکی لہجے میں تبدیلی: ہیگسیتھ نے پاکستان امریکہ تعلقات کے متعلق کیا کہا؟
ماضی کے امریکی بیانات کے برعکس سنگاپور میں ہونے والے شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے اندازِ گفتگو میں واضح تبدیلی دیکھی گئی۔
یہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ پہلے کی انٹیلیجنس رپورٹ میں استعمال ہونے والی نسبتاً سخت زبان کے برعکس تھا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھانے سے گریز کرتے ہوئے اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکی سکیریٹری دفاع نے جنوبی ایشیا میں بدلتے ہوئے تعلقات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خطے میں امن کے لیے پاکستان، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف کے کردار کو سراہا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے یہاں انڈیا کا ذکر کیا لیکن میں بہت آسانی سے پاکستان کا بھی ذکر کر سکتا تھا اور فیلڈ مارشل (عاصم منیر) اور وزیرِاعظم (شہباز شریف) امن مذاکرات میں جو کردار ادا کر رہے ہیں۔۔۔ میرے خیال میں یہ غیر متوقع پیشرفت ہے اور ایک حقیقی دوستی پروان چڑھ رہی ہے، جو میرے خیال میں بہت اہم ہے۔‘
انھوں نے کہا ’آپ نے یہ اس وقت دیکھا جب صدر نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان، جو دو ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک ہیں، امن کے قیام میں کردار ادا کیا۔‘
تاہم ہیگسیتھ کے ریمارکس پاکستان کے بارے میں جہاں نسبتاً نرم تھے، وہیں انھوں نے انڈیا کی تعریف بھی کی، جسے انھوں نے ایک طاقتور اور اپنے دفاعی نظام کو جدید بنانے والا ملک قرار دیا۔
امریکی سکیریٹری دفاع نے انڈیا کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں انڈیا اہم ستون (اینکر) کی حیثیت رکھتا ہے جو خطے میں توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ان کے مطابق ’ایک مضبوط اور خودمختار انڈیا، جو اپنے قومی مفاد کے تحت فیصلے کرتا ہے، اس مشترکہ ہدف کو آگے بڑھاتا ہے کہ پورے خطے میں طاقت کا توازن قائم رہے۔‘
انھوں نے کہا کہ انڈیا اپنی فوج کو جدید بنا رہا ہے تاکہ وہ سکیورٹی کی ذمہ داری میں اپنا حصہ ڈال سکے، خاص طور پر بحرِ ہند کے خطے میں۔ ان کے مطابق انڈیا اپنی بھاری صنعتی اور لاجسٹکس صلاحیتوں کو بھی فروغ دے رہا ہے تاکہ اعلیٰ سطحی فوجی آپریشنز کو سپورٹ کیا جا سکے اور امریکی بحریہ کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے انڈیا کے ساتھ مشترکہ دفاعی پیداوار کے منصوبوں پر اتفاق کیا ہے جن میں جیوولن اینٹی ٹینک گائیڈڈ نظام شامل ہیں تاکہ دونوں ممالک کی افواج کی تیاری اور عملی صلاحیت میں اضافہ ہو سکے۔
پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق یہ تمام اقدامات صرف طویل المدتی منصوبے نہیں بلکہ فوری اور عملی ضروریات کا حصہ ہیں۔
امریکی سکیریٹری دفاع کے اس بیان کو پاکستان میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’پچھلے کئی سال سے پاکستان کے میزائل پروگرام کو لگاتار پابندیوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ وزیر دفاع کا یہ بیان خوشگوار حد تک حیران کن ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ فوری ٹرمپ حکومت سے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے میزائل کمپنیوں پر عائد پابندیوں کےخاتمے کی بات کرے۔‘
صحافی وسیم عباسی نےامریکی وزیرِ دفاع کا بیان شئیر کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق امریکی نیشنل انٹیلیجنس کے جائزے سے مختلف موقف اختیار کر لیا ہے۔‘
پاکستان کا میزائل پروگرام کیا ہے؟
پاکستان کا وہ میزائل پروگرام جس کا تذکرہ ستمبر 2024 میں امریکی خارجہ کے اعلامیے میں کیا گیا تھا اس میں میڈیم رینج یا درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بلیسٹک میزائل شاہین تھری (رینج 2750 کلومیٹر) اور ابابیل ( رینج 2200 کلومیٹر) شامل ہیں جو ملٹیپل ری انٹر وہیکل یا ایم آر وی کہلاتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کے میزائل ہتھیاروں میں یہ سب سے بہترین صلاحتیوں والے میزائل سسٹمز ہیں۔
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان نے 2017 میں ابابیل میزائل کا پہلا تجربہ کرنے کے بعد گذشتہ برس 18 اکتوبر 2023 کو بھی زمین سے زمین پر درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے ابابیل میزائل کی ایک نئی قسم کا تجربہ کیا تھا جس کے بعد رواں برس 23 مارچ کو پاکستان ڈے پریڈ کے موقع پر پہلی مرتبہ اس کی نمائش کی گئی۔
کینبرا کی نیشنل یونیورسٹی میں سٹریٹیجک اور ڈیفینس سٹڈیز کے لیکچرر ڈاکٹر منصور احمد کے مطابق یہ جنوبی ایشیا میں پہلا ایسا میزائل ہے جو 2200 کلومیٹر کے فاصلے تک متعدد وار ہیڈز یا جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مختلف اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر منصور احمد کے مطابق دفاعی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ابابیل میزائل تین یا اس سے زائد نیوکلیئر وار ہیڈز یا جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایم آر وی میزائل سسٹم ہے جو دشمن کے بیلسٹک میزائل ڈیفنس شیلڈ کو شکست دینے اور بے اثر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا۔
ابابیل میزائل میں موجود ہر وار ہیڈ ایک سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے تاہم ڈاکٹر منصور کے مطابق اہم نکتہ یہ ہے کہ ابابیل ایسے ہائی ویلیو اہداف، جو بیلسٹک میزائل ڈیفنس (بی ایم ڈی) شیلڈ سے محفوظ بنائے گئے ہوں، کے خلاف پہلی یا دوسری سٹرائیک کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسلام آباد میں مقیم دفاعی امور کے ماہر سید محمد علی بتاتے ہیں کہ ایم آر وی میزائل ٹیکنالوجی کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ اگر ہدف کے قریب پہنچنے پر ان کے خلاف مخالف سمت میں میزائل ڈیفنس شیلڈ یا بیلسٹک میزائل سسٹم موجود ہو تو وہ انھیں کنفیوژ کر سکتے ہیں۔
اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’بالکل ویسے ہی جیسے ایک فاسٹ بالر گیند کو سوئنگ کرتا ہے جس میں وہ بیٹسمین کے ڈیفنس کو توڑنے کے لیے اپنی رفتار کے ساتھ سوئنگ اور سیم پر بھی انحصار کرتا ہے۔‘
سید محمد علی بتاتے ہیں کہ ’ایم آئی آر ویز میزائل میں کئی وار ہیڈز ہوتے ہیں جو آزادانہ طور پر پروگرامڈ ہوتے ہیں اور آزادانہ طور پر ہی اپنے اپنے اہداف کی جانب جاتے ہیں اور ہر ایک کا فلائٹ پاتھ یعنی فضائی راستہ مختلف ہوتا ہے۔‘
ڈاکٹر منصور کے مطابق ’انڈیا تقریباً ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے بلیسٹک میزائل سسٹم پر کام کر رہا ہے اور وہ ناصرف اس کے تجربات کرتے رہتے ہیں بلکہ عوامی سطح پر اس کے بارے میں بات بھی کرتے ہیں۔‘
انڈیا نے حال ہی میں پہلے ایم آر وی اگنی فائیو کا ایک سے زائد وار ہیڈز کے ساتھ تجربہ کیا۔ یہ انٹرکونٹینینٹل بیلسٹک میزائل ہے جس کی رینج کم از کم 5000-8000 کلومیٹر ہے اس کے مقابلے میں ابابیل کی رینج محض 2200 کلومیٹر ہے اور یہ پوری دنیا میں سب سے کم رینج تک مار کرنے والا ایم آر وی ہے۔
ڈاکٹر منصور بتاتے ہیں کہ ایسی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ انڈیا کا ’اگنی پی‘ بھی ایم آر وی ہے جس کی رینج 2000 کلومیٹر تک ہے۔
پاکستان کا شاہین تھری میزائل کیا ہے؟
ڈاکٹر منصور کہتے ہیں کہ ’ابابیل صرف اور صرف انڈیا کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا لیکن امریکہ کو 2021 سے جس میزائل پر تشویش ہو رہی ہے وہ شاہین تھری میزائل ہے جس کی رینج 2740 کلومیٹر ہے۔‘
دراصل ابابیل شاہین تھری میزائل کی اگلی جنریشن ہے۔
ڈاکٹر منصور بتاتے ہیں کہ شاہین تھری کے تجربے کے وقت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد قدوائی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’یہ میزائل صرف اور صرف انڈیا کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا اور اس کا مقصد انڈیا میں اہم سٹریٹجک اہداف (خاص طور پر انڈمان اور نیکوبار جزیروں اور مشرق میں وہ مقامات جہاں ان کی نیوکلئیر سب میرین بیسز تعمیر کی جا رہی ہیں) کو نشانہ بنانا ہے تاکہ انڈیا کو چپھنے کے لیے کوئی جگہ نہ مل سکے اور یہ غلط فہمی نہ رہے کہ انڈیا میں ایسی جگہیں ہیں جہاں وہ کاؤنٹر یا پہلی سٹرائیک کے لیے اپنے سسٹمز چھپا سکتے ہیں اور پاکستان ان مقامات کو نشانہ نہیں بنا سکتا۔‘
ڈاکٹر منصور کے مطابق انڈیا کے وزیر دفاع رجنات سنگھ سمیت انڈین عہدیدار کئی مواقع پر ایسے بیانات دیتے آئے ہیں جن میں یہ اشارہ دیا گیا کہ ’انڈیا نے ایسی صلاحیتیں حاصل کر لی ہیں جو اسے پاکستان کے خلاف قبل از وقت حملہ کرنے کے قابل بناتی ہیں۔‘
وہ سپرسونک براہموس میزائل کی مثال دیتے ہیں جو روایتی کے ساتھ نیوکلئیر ہتھیار بھی ہے اور اس کے علاوہ انڈیا بہت سے ایسے سسٹمز بنا رہا ہے جو پہلی سٹرائیک کے لیے زمین، فضا اور سمندر سے بھی لانچ ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے سنہ 2022 میں ایک براہموس میزائل پاکستان میں آ گرا تھا جس کے بارے میں انڈین وزارت دفاع کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پاکستان کی حدود میں گرنے والا براہموس میزائل حادثاتی طور پر انڈیا سے فائر ہوا تھا۔
ڈاکٹر منصور کا کہنا ہے کہ ’انڈیا براہموس کو پاکستانی سٹریٹجک فورسز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے خلاف روایتی کاؤنٹر فورس (پہلی) سٹرائیک کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور پھر انڈیا یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ہم نے تو محض روایتی حملہ کیا لیکن اس طرح کی روایتی سٹرائیک کو پاکستان کی طرف سے پہلا جوہری حملہ تصور کیا جائے گا۔‘
ان کا ماننا ہے کہ ’یہ وہ ساری صورتحال ہیں جن میں کسی بھی حملے کو روکنے کے لیے پاکستان کو تیار رہنا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے اگر پاکستان دشمن کو دکھانے کے لیے اپنی صلاحتیوں کا اظہار کرتا رہے۔ اور اسی مقصد سے پاکستان نے شاہین تھری اور ابابیل جیسے نیوکلئیر وار ہیڈز بنائے ہیں اور ان کی نمائش کی ہے۔‘