انڈیا نے ’آپریشن سندور‘ میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے نام ظاہر کر دیے: ’ہمارے وزیر دفاع نے تو کہا تھا کہ کسی فوجی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان میں ہونے والی فضائی جھڑپوں کے لگ بھگ ایک سال بعد پہلی بار اپنی مسلح افواج کے اُن چھ اہلکاروں کے نام ظاہر کیے ہیں جن کی ہلاکت اس تنازع کے دوران ہوئی تھی۔
اپریل 2025 کے دوران انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں شدت پسندوں کے حملے کے لگ بھگ ایک ماہ انڈیا نے پاکستان میں شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کارروائی کو سرکاری سطح پر ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا گیا تھا۔
پاکستان کی جانب سے بھی دفاعی اور جوابی کارروائی کی گئی تھی جسے سرکاری سطح پر ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا نام دیا گیا۔
دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے دعوے کیے گئے جبکہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کے دوران انڈیا کے جنگی طیارے بھی تباہ ہوئے تھے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے 13 مئی کو بتایا تھا کہ ان کارروائیوں میں پاکستانی مسلح افواج کے 11 اہلکار ہلاک ہوئے جن میں چھ کا تعلق بری فوج جبکہ پانچ کا پاکستانی فضائیہ سے تھا۔
تاہم پاکستان کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کی شناخت ظاہر کی گئی تھی اور انھیں اگست 2025 میں فوجی اعزازات سے بھی نوازا گیا تھا۔
تاہم 26 جون 2026 کو پہلی بار انڈین حکومت نے اس فوجی تنازع کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے فوجی اہلکاروں کے نام ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ’آپریشن سندور‘ میں ہلاک ہوئے۔ اس حوالے سے چھ ناموں کی فہرست نیشنل وار میموریئل کی ویب سائٹ پر ’رول آف آنر‘ میں شائع کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہNational War Memorial, India
ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں میں ہیڈکوارٹر 10 انفنٹری بریگیڈ کے صوبیدار میجر پاون کمار، 4 جموں اینڈ کشمیر لائٹ انفنٹری کے رائفل مین سنیل کمار (جنھیں ویر چکرا سے نوازا گیا)، 5 فیلڈ ریجیمنٹ کے لانس نائیک دنیش کمار، 851 لائٹ ریجیمنٹ کے ایوی ایشن ٹیکنیشن موڈ مرلی نائیک اور 237 فیلڈ ورکشاپ کمپنی کے حولدار سنیل کمار سنگھ شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جبکہ انڈین فضائیہ کی 38 ونگ کے سارجنٹ سریندر کمار کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے جنھیں وایو میڈل سے نوازا گیا تھا۔
انڈین میڈیا کے مطابق ان چھ اہلکاروں کے نام نئی دہلی میں نیشنل وار میموریئل کے تیاگ چکرا پر درج کیے جائیں گے۔
ان اہلکاروں کے نام 2025 کے دوران مختلف فوجی کارروائیوں میں ’عظیم قربانی دینے والے مسلح افواج کے اہلکاروں‘ کی سالانہ فہرست کے ساتھ جاری کیے گئے ہیں۔
انڈیا کی آزادی کے بعد تمام ایسے سپاہیوں کے نام، رینک اور یونٹ تیاگ چکرا (گرینائٹ کی 16 دیواروں) پر درج کیے جاتے ہیں جنھوں نے ’قوم کی خدمت میں اپنی جان قربان کی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس پیشرفت پر بہت سے انڈین صارفین نے بھی اپنی رائے ظاہر کی ہے۔
صحافی انوشا روی سود نے لکھا کہ ’مودی حکومت کو آپریشن سندور کے دوران اپنی جان قربان کرنے والے فوجیوں کے نام سرکاری طور پر جاری کرنے میں 400 دن لگے ہیں۔‘
تاہم صحافی سنیشن الیکش فلپ کا کہنا تھا کہ 11 مئی کی پریس کانفرنس میں انڈین ڈی جی ایم او نے تسلیم کیا تھا کہ آپریشن سندور میں پانچ فوجیوں کی جانیں گئی ہیں جبکہ انڈین فضائیہ کے سربراہ فضائیہ کے ہلاک ہونے والے اہلکار کے گھر بھی گئے تھے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ ان جوانوں کو ویر چکرا سمیت بہادری کے مختلف اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
انڈیا میں ویر چکرا میدان جنگ میں بہادری کے اعتراف میں دیا جانے والا تیسرا سب سے بڑا سرکاری اعزاز ہے۔ رواں ماہ کے آغاز پر انڈین فوج نے رائفل مین سنیل کمار کو بعد از مرگ ویر چکرا سے نوازا تھا اور انڈین حکومت کی طرف سے جاری کردہ فہرست میں سنیل کمار کا 'ڈیٹ آف ایکٹ' 10 مئی 2025 لکھا گیا تھا۔
ایک دوسرے صارف نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا پارلیمنٹ میں وہ بیان شیئر کیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اس آپریشن میں انڈین مسلح افواج کے کسی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔ کانگریس سے منسلک ایک اور اکاؤنٹ ڈاکٹر پوجا ترپاٹھی نے لکھا کہ ’لیکن راج ناتھ سنگھ جی نے تو کہا تھا کہ آپریشن سندور میں ہمارے کسی بھی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا تھا۔‘
انڈین اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما پاون کھیرا نے ایکس پر لکھا کہ مرنے والے جوانوں کے نام ’قومی شعور میں نقش ہو جانے چاہییں تھے۔۔۔ لیکن اس کے بجائے پورے ایک سال تک بی جے پی حکومت نے اُن کی شہادت کو قوم سے پوشیدہ رکھا۔‘
’وہی حکومت جو خود کو قومی پرچم میں لپیٹتی ہے اور قوم پرستی کی باتیں کرتی رہتی ہے۔ اس نے ان ہیروز کو اس طرح تسلیم نہیں کیا جس کے وہ مستحق تھے۔ کتنی شرم کی بات ہے۔‘
اگرچہ اس ٹویٹ کو کانگریس کے ترجمان جے رام رمیش نے بھی ری پوسٹ کیا تاہم اس پر بی جے پی کے حامی اکاؤنٹ نے کڑی تنقید کی ہے۔ جیسے ہتیش ستاوت نے لکھا کہ ’آپ نے ووٹوں اور ٹی آر پی کے لیے ہمارے شہدا کے خون کو بے شرمی سے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔‘
کانگریس سے منسلک ایک اور اکاؤنٹ وکرم سوامی نے رائے دی کہ ’ہمیں پورے ایک سال تک یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان بہادر جوانوں نے ہماری حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر دی تھیں۔‘
’وہ حکومت جو دوسروں سے حب الوطنی کے ثبوت مانگتی ہے اور غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتی ہے، دراصل وہی حکومت ہے جس نے ان قومی ہیروز کو اس اعتراف اور اعزاز سے محروم رکھا۔‘
























