آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹرمپ کی یہ کہانی ’من گھڑت‘ ہے کہ میں نے اُن کے ساتھ تصویر لینے کے لیے ’منت سماجت‘ کی: جورجیا میلونی
اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی کا کہنا ہے کہ انھیں ڈونلڈ ٹرمپ کے اطالوی نیوز چینل کو دیے گئے اُس انٹرویو پر حیرت ہوئی ہے جس میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انھوں (میلونی) نے (ٹرمپ) کے ساتھ تصویر لینے کے لیے منت سماجت کی تھی۔
وزیر اعظم میلونی کے اِس بیان کے بعد دونوں عالمی رہنماؤں کے درمیان تنازع کُھل کر سامنے آ گیا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اٹلی کے ٹی وی چینل ’لا سیون‘ کو دیے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ’انھوں (میلونی) نے مجھ سے تصویر لینے کی درخواست کی اور مجھے اُن پر ترس آ گیا۔‘
جورجیا میلونی کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ کا یہ تبصرہ مکمل طور پر ’من گھڑت‘ ہے۔
دوسری جانب جورجیا میلونی نے اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو کی اگلے ہفتے کے اوائل میں امریکہ کا دورہ منسوخ کرنے کی بھی تصدیق کی۔
ٹرمپ اور میلونی کی جانب سے عوامی سطح پر دیے گئے اس نوعیت کے بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں ملکوں کے قریبی تعلقات میں کس حد تک دراڑ آ چکی ہے۔
جی سیون اجلاس کے موقع پر دونوں رہنماؤں کی کئی تصاویر منظر عام پر آئی تھیں۔ بعدازاں جورجیا میلونی نے صحافیوں کو بتایا کہ اُن کے باہمی تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
جی سیون اجلاس کے موقع پر یہ دونوں رہنما ایک چھوٹے سے صوفے پر بیٹھے گفتگو میں مصروف نظر آئے اور میلونی اس دوران بات کرتے ہوئے مسکرا رہی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطالوی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں جب اس سے متعلق سوال ہوا تو ٹرمپ نے کہا ’شاید وہ خوش ہیں کہ میں نے ان سے بات کی۔‘
یاد رہے ’لا سیون‘ چینل نے ٹرمپ کے اصل انگریزی الفاظ کو نشر نہیں کیا بلکہ انھیں اطالوی زبان میں ترجمہ کر کے نشر کیا ہے۔
ٹرمپ کے اس انٹرویو کے بعد میلونی نے اپنے انسٹاگرام پر اپنے 70 لاکھ فالوورز سے مختصر خطاب میں اس بات پر رد عمل دیتے ہوئے حیرانی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’سچ کہوں تو میں حیران رہ گئی تھی۔‘
میلونی نے کہا کہ ’یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ مجھے معلوم نہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیوں کرتے ہیں۔‘
’میں صرف یہ کہہ سکتی ہوں کہ یہ افسوسناک ہے کہ وہ مغرب کے دشمنوں اور امریکہ کے دشمنوں کے بارے میں ایسا رویہ نہیں رکھتے۔ وہ (دشمن) جن کے رہنماؤں کے ساتھ وہ بظاہر کہیں زیادہ نرمی برتتے ہیں۔‘
’لیکن ایک بات انھیں یاد رکھنی چاہیے کہ نہ میں اور نہ ہی اٹلی، ہم کبھی منت سماجت نہیں کرتے ہیں۔‘
بی بی سی نے اس معاملے پر ردعمل کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔
ٹرمپ کے بیان پر میلونی کا سحت ردعمل ان واقعات کے سلسلے کے بعد سامنے آیا جنھوں نے امریکہ اور اٹلی کے سیاسی تعلق کو کمزور کر دیا ہے۔ یہ دونوں ممالک کچھ عرصہ پہلے تک انتہائی قریب تھے۔
سنہ 2022 میں منتخب ہونے والی میلونی جنوری 2025 میں ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے والی واحد یورپی رہنما تھیں اور انھیں یورپی یونین میں اپنے ساتھیوں کی جانب سے امریکی صدر کے ساتھ ممکنہ رابطہ کار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
مگر میلونی نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کی کُھل کر مخالفت کی تھی اور اپریل میں ٹرمپ نے اطالوی اخبار (Corriere della Sera) کو دیے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں سمجھتا تھا کہ وہ باہمت ہیں، لیکن میں غلط تھا۔‘
جب ماضی قریب میں ٹرمپ نے پوپ لیو پر شدید تنقید کی تھی تو میلونی نے ان بیانات کو ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔
ٹرمپ کے اس حالیہ انٹرویو کے جواب میں اٹلی کے صدر سرجیو ماتاریلا نے میلونی کو فون کیا اور اپنی حمایت کا یقین دلایا جبکہ اٹلی میں سیاسی حلقوں سے وابستہ شخصیات نے بھی ان کے دفاع میں آواز بلند کی ہے۔
اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فیلیپو سینسی نے کہا ہے کہ کسی کو بھی اطالوی وزیر اعظم سے اس قدر تکبر سے بات کرنے کا حق نہیں ہے۔
فائیو سٹار موومنٹ کے رہنما جوزیپے کونتے نے کہا ہے کہ اٹلی ایسی تذلیل کا مستحق نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کبھی بھی قومی وقار اور مفادات کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔
میلونی کی اپنی جماعت برادرز آف اٹلی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ گروپ لیڈر لوشیو مالان نے کہا کہ ٹرمپ کے الفاظ ان سخت بیانات کے وسیع تر سلسلے کا حصہ ہیں جو وہ مختلف یورپی رہنماؤں کے بارے میں دیتے رہے ہیں، اور یہ بیانات خود ٹرمپ کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
مالان نے کہا کہ جی سیون اجلاس کی ویڈیو دراصل ٹرمپ کی بیان کردہ صورتحال سے مختلف ہے۔
اُن کے مطابق ممکن ہے کہ جو چیز واقعی امریکی صدر کو کھٹکی ہو گی وہ میلونی کا وہ ریکارڈ ہے جس میں انھوں نے واشنگٹن کو انکار کیا تھا۔
حکومتی اتحادی لیگ کے میٹیو سالوینی نے مختصر بیان میں کہا کہ ’جو کوئی جارجیا پر حملہ کرتا ہے، وہ ہم سب پر حملہ کرتا ہے۔‘