آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’خوبصورت شخص، فرشتہ اور مشکل مذاکرات کار‘، فرانس میں ٹرمپ اور مودی کی ملاقات کے دوران کیا ہوا؟
’آپ ان کو دیکھیں یہ دیکھنے میں بہت ہی خوبصورت لگتے ہیں۔۔۔ یہ فرشتے لگتے ہیں لیکن یہ بہت مشکل آدمی ہیں۔۔۔ یہ بہت مشکل مذاکرات کار ہیں، یہ کلر ہیں۔ یہ آپ کو حیران کر سکتے ہیں۔‘
یہ وہ الفاظ ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی سے فرانس میں جی سیون اجلاس کے دوران ہونے والی ملاقات کے دوران کہے۔
دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ اور انڈیا کے درمیان تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی ہے اور چند روز قبل خلیج عمان میں ایک بحری جہاز پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت کے بعد تناؤ میں مزید اضافہ ہوا۔
لیکن فرانس کے شہر ایویان میں صدر ٹرمپ اور وزیرِ اعظم مودی کی ملاقات کے بعد میڈیا کے سامنے دونوں رہنماؤں کی ایک دوسرے کی تعریف اور صدر ٹرمپ کے انڈیا کے دورے کے عندیے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے لیکن بعض حلقے اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔
گفتگو کے دوران نریندر مودی نے جہاں ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر صدر ٹرمپ کی تعریف کی تو وہیں اُنھوں نے معاہدے میں ملاحوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کی شق شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
گذشتہ ہفتے امریکی فوجی کارروائی میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔ یہ ملاح خلیجِ عمان میں اس وقت مارے گئے جب امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا جس پر ایران کی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔
’یہ میرے اچھے دوست مگر بہت مشکل مذاکرات کار ہیں‘
جی سیون ممالک کے اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ اور وزیرِ اعظم مودی کی ملاقات کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا کے سامنے لگ بھگ 20 منٹ کی گفتگو سے قبل دونوں رہنماؤں نے وفود کی سطح پر بات چیت کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس حوالے سے انڈین وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے تجارت، دفاع اور باہمی تعلقات سمیت خطے کی صورتحال پر بات چیت کی۔
ملاقات کے بعد انڈین وزیرِ اعظم نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے ’تجارت، توانائی، دفاع، ٹیکنالوجی اور عوام سے عوام کے تعلقات میں اپنے دوطرفہ تعاون میں پائیدار پیشرفت کا جائزہ لیا۔‘
مغربی ایشیا میں امن اور استحکام کی بحالی کی کوششوں میں پیشرفت پر مودی نے صدر ٹرمپ کی تعریف کی کیونکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا عالمی معیشت کے لیے بہت ضروری ہے۔
ملاقات کے بعد امریکہ اور انڈیا کے دفاعی تعلقات سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمارا اس حوالے سے معاہدہ ہے، اگر ان پر حملہ ہوتا ہے تو ہم ان کی مدد کے لیے آئیں گے۔‘
ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے وزیرِ اعظم مودی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ ’یہ اچھا بیان ہے ناں۔‘
وزیرِ اعظم نریندر مودی کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی اس شخص پر حملہ کرتا ہے تو ہم وہاں موجود ہوں گے۔۔۔ البتہ اگر کوئی نیا رہنما آ گیا تو میں اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔‘
’کیا انڈیا ان عمدہ الفاظ کے انتخاب کے لیے ٹرمپ پر بھروسہ کر سکتا ہے؟‘
سوشل میڈیا پر بھی امریکی صدر اور وزیرِ اعظم مودی کی اس ملاقات کا چرچا ہے، انڈین صارفین اسے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کا آغاز قرار دے رہے ہیں تاہم اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مودی حکومت پر یہ تنقید جاری ہے کہ اُنھوں نے انڈین ملاحوں کی ہلاکت کو امریکہ کے سامنے درست انداز میں نہیں اُٹھایا۔
انڈین صحافی راجدیپ سردیسائی نے ایکس پر لکھا کہ صدر ٹرمپ نے وزیرِ اعظم مودی کو پرسکون اور کلر قرار دیا لیکن کیا انڈیا ان عمدہ الفاظ کے انتخاب کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ پر بھروسہ کر سکتا ہے؟
صدر ٹرمپ کی جانب سے انڈیا پر حملے کی صورت میں اس کا ساتھ دینے کے بیان پر اپسالا یونیورسٹی سویڈن سے منسلک پروفیسر اشوک سوین نے کہا کہ ’جس وقت امریکی میزائل خلیج میں انڈین شہریوں کو مار رہے تھے، اس وقت بھی ٹرمپ امریکہ کے صدر تھے؟ جب انڈیا کی چین اور پاکستان کے ساتھ لڑائی ہوئی تو اُس وقت بھی ٹرمپ ہی امریکہ کے صدر تھے۔ اس وقت اُن کا کردار کیا تھا۔‘
اٹلانٹک کونسل میں جنوبی ایشیا کے سینیئر فیلو مائیکل کوگلمین نے ایکس پر لکھا کہ ’ٹرمپ اور مودی کی ملاقات کے بعد یہ سمجھنا کہ دونوں ممالک کے تعلقات پہلے جیسے ہو جائیں گے تو ایسا نہیں ہو گا۔ مارکو روبیو کے حالیہ دورے کے باوجود یہ تعلقات مستحکم نہیں ہوئے۔‘
انڈین صحافی راہول شیوشنکر نے ایکس پر ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان پر کہا کہ پاکستان یا سرحد پار دہشت گردی کا کوئی ذکر نہیں۔ ’یہ آپریشن سندور کے بعد دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات تھی اور اس کا ذکر اس بیان میں ہونا چاہیے تھا۔‘
انڈین سپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا نے صدر ٹرمپ کے مودی کے حوالے سے تعریفی کلمات پر کہا کہ یہ 16 ماہ بعد دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ اس عرصے کے دوران کیا کچھ ہوتا رہا۔
انڈین صحافی سوہاسنی حیدر نے سوال اُٹھایا کہ آخر کب انڈیا کو کسی تنازع میں امریکہ کی ضرورت پڑی ہو؟ امریکی صدر کا یہ کہنا، چاہے مذاق میں ہی کیوں نہ ہو، توہین آمیز ہے، خاص طور پر جب وہ اسے کسی ملک کے بجائے کسی ایک شخص پر ذاتی احسان کے طور پر پیش کریں۔
مودی نے جی سیون اجلاس سے خطاب میں کیا کہا؟
منگل کو جی7 رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کا ذکر کیا اور کہا کہ ’متعدد انڈین شہری‘ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ سمندری کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
مودی نے کہا کہ ’آج دنیا کو وسائل کی کمی کا سامنا نہیں بلکہ اعتماد کی کمی کا سامنا ہے اور ہماری شراکت داریوں کا مستقبل اسی اعتماد کی تعمیر پر منحصر ہے۔‘
انڈیا میں بعض مبصرین نے ان ریمارکس کو ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات سے جوڑا۔
انڈیا اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد درآمد کرتا ہے اور ایران میں جنگ اور اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش سے اسے شدید نقصان پہنچا۔ عالمی تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل معمول کے مطابق اسی راستے سے ہوتی ہے۔
اگرچہ آبنائے ہرمز جلد دوبارہ کھل بھی جائے تب بھی عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
جی7 اجلاس کے موقع پر ہونے والی یہ ملاقات ٹرمپ اور مودی کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی کی عکاس سمجھی جا رہی ہے۔
گذشتہ سال فروری میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے واشنگٹن کا دورہ کیا تھا، جہاں وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات نسبتاً سرد ماحول میں ہوئی تھی۔
گذدہ ایک برس میں امریکہ انڈیا تعلقات میں اتار چڑھاؤ
یاد رہے کہ امریکہ اور انڈیا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے دونوں ممالک کے حکام آئندہ ہفتے نئی دہلی میں ملاقات کریں گے۔ انڈین سیکریٹری تجارت کے مطابق مذاکرات میں معاہدے کی ’آخری جزئیات‘ طے کی جائیں گی۔
انڈیا گزشتہ سال امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات شروع کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا تاہم یہ عمل توقع سے زیادہ پیچیدہ ثابت ہوا۔
ایک مرحلے پر امریکہ نے بعض انڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک محصولات عائد کر دیے تھے تاہم فروری میں عبوری تجارتی معاہدے کے بعد ان شرحوں کو کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا۔
بعد ازاں امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے متعدد ٹیرف غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیے، جس کے بعد موجودہ شرح 10 فیصد رہ گئی ہے۔
گذشتہ ایک سال کے دوران نئی دہلی کو ٹرمپ کے ان دعوؤں پر بھی اعتراض رہا کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا تھا جبکہ انھوں نے کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی۔
کشمیر ایک متنازع خطہ ہے جس پر دونوں ممالک دعویٰ کرتے ہیں۔ انڈیا کشمیر کے معاملے میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی کو مسترد کرتا ہے اور مودی نے گذشتہ سال ٹرمپ کو اس مؤقف سے ’واضح اور دوٹوک انداز‘ میں آگاہ کیا تھا۔
اس کے بعد کے مہینوں میں پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اپنے روابط برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی اور بعض مواقع پر واشنگٹن، تہران اور عرب دارالحکومتوں کے درمیان رابطہ کار کا کردار بھی ادا کیا۔
دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ کے دیگر اسباب میں ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی، غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن اور ایچ ون بی ویزوں پر عائد پابندیاں شامل ہیں، جو طویل عرصے سے انڈین شہریوں کے لیے امریکہ میں روزگار حاصل کرنے کا اہم ذریعہ رہے ہیں۔