آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
باڑہ کے خستہ حال کمرے سے فرانسیسی خاتون اور بچے بازیاب: ’شوہر کی بدسلوکی اور تشدد کا سامنا تھا، فرانس واپس جاؤں گی‘
- مصنف, محمد زبیر خان، عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے فرانس سے تعلق رکھنے والی 54 سالہ خاتون اور اُن کے بچوں کو ’باڑہ‘ کے علاقے میں واقع ایک گھر سے بازیاب کرنے کے بعد شوہر کے خلاف تشدد اور حبس بے جا میں رکھنے جیسے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ضلعی پولیس آفیسر خیبر وقار احمد نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ فرانسیسی خاتون سلویا یاسمینا کو باڑہ میں واقع اپنے شوہر کے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی، لیکن اُن کے ایک بیٹے نے موقع ملتے ہیں گھر سے باہر جا کر مقامی پولیس کو اطلاع کر دی جس کے فوراً بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی گی۔
ڈی پی او کے مطابق خاتون اور اُن کے بچوں کو پشاور میں وویمن کرائسز سینٹر (دارالامان) پہنچا دیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ خاتون کی درخواست پر اُن کے شوہر کے خلاف مقدمے کے اندارج کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ڈی پی او وقار احمد کے مطابق بازیابی کے بعد اب خاتون اور اُن کے بچے آزاد شہری ہیں اور چونکہ اُن کے پاس فرانس کے پاسپورٹ ہیں، اس لیے وہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے خاتون اور بچوں کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور وزارتِ خارجہ کے ذریعے فرانس کے سفارتخانے کو بھی اس بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ خاتون نے فرانس واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
خاتون کی مدعیت میں درج مقدمے میں کیا کہا گیا ہے؟
بازیابی کے بعد مذکورہ خاتون نے پولیس کو اپنے شوہر کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست دی جس پر ایف آئی آر درج کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف آئی آر میں سلویا یاسمینا نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ سنہ 2014 سے ضلع خیبر میں مقیم ہیں اور اس دورانیے میں انھیں شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے دعویٰ کیا کہ اُن کے شوہر نے بطور شوہر اور والد اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور روزانہ کی بنیاد پر اُن پر اور ان کے بچوں پر جسمانی و ذہنی دباؤ ڈالا۔
خاتون نے الزام لگایا کہ گذشتہ برسوں کے دوران اُن کے شوہر انھیں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے، جس کے نتیجے میں اُن کے جسم اور چہرے پر زخموں کے نشانات موجود ہیں۔
خاتون نے اپنی درخواست میں شوہر کو ’انتہائی پرتشدد شخص‘ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی تھی۔
باڑہ پولیس کا کہنا ہے کہ شوہر کی جانب سے تاحال کسی وکیل نے رابطہ نہیں کیا ہے۔
شوہر کے خلاف ایف آئی آر دفعہ 337 (تشدد، جسمانی چوٹ یا ایذا پہنچانا)، دفعہ 342 (غیر قانونی طور پر کسی شخص کو قید یا محدود رکھنا)، دفعہ 506 (جان، مال یا عزت کے نقصان کی دھمکی دینا) اور پروٹیکشن اگینسٹ ڈومیسٹک وائلنس کی دفعات کے تحت درج ہوئی ہے۔
فرانسیسی خاتون باڑہ کیسے پہنچیں؟
اس کیس کی تفتیش سے منسلک ایک سینیئر اہلکار کے مطابق خاتون کو باڑہ میں واقع ایک گھر کے بوسیدہ کمرے سے برآمد کیا گیا ہے۔ اُن کے مطابق خاتون کے پاس بیرونی دنیا سے رابطے کا کوئی ذریعہ یعنی موبائل فون بھی نہیں تھا۔
اُن کے مطابق ’کمرے کی حالت انتہائی بوسیدہ تھی، جو ظاہر کر رہی تھی کہ خاتون اور اس کے بچوں کو انتہائی بُرے حالات میں رکھا گیا ہے۔‘
باڑہ پولیس نے بازیابی کی ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں پولیس کے پہنچنے پر وہ بوسیدہ کمرے سے جلدبازی میں اپنا سامان اکٹھا کر رہی ہیں اور پولیس کے لیے شکریہ کلمات ادا کر رہی ہیں۔
پولیس کی جانب سے فراہم کردہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون کو خستہ حال اور کچے کمرے سے بازیاب کیا جا رہا ہے اور اس کمرے میں صرف چار سے پانچ پلنگ پڑے ہیں۔
پولیس افسر کے مطابق خاتون نے ابتدائی تفتیش کے دوران بتایا کہ اُن کی اپنے خاوند کے ساتھ شادی سنہ 2003 میں آسڑیلیا میں ہوئی تھی۔
پولیس افسر کے مطابق ’خاتون کا خاوند آسڑیلیا میں غیر قانونی طور پر مقیم تھا جہاں اس کی ملاقات فرانسیسی خاتون سلویا سے ہوئی اور انھوں نے کچھ عرصہ کی ملاقاتوں کے بعد 2003 میں آسڑیلیا ہی میں شادی کر لی تھی۔‘
سینیئر پولیس اہلکار کے مطابق خاتون کے مؤقف کے مطابق شادی کے بعد اُن کے دو بڑے بچے آسڑیلیا میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ ’دو بچوں کی پیدائش کے بعد یہ خاندان دو مرتبہ پاکستان بھی آیا، جہاں پر کچھ عرصہ رہائش اختیار کرنے کے بعد وہ دوبارہ آسڑیلیا چلے گئے۔ اس دوران وہ اپنے خاوند کو مالی طور پر سپورٹ بھی کرتی رہی تھیں۔‘
تفتیش سے منسلک اہلکار کے مطابق سنہ 2014 یہ خاندان دوبارہ دونوں بڑے بچوں کے ہمراہ پاکستان آیا جہاں، خاتون کے دعوے کے مطابق، انھیں عملاً قید کر لیا تھا۔
ضلعی پولیس آفیسر خیبر وقار احمد نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ فرانسیسی خاتون سلویا یاسمینا کو باڑہ میں واقع اپنے شوہر کے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ جبکہ سینیئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ ’خاتون کے مطابق اُن کے شوہر انھیں کہیں آنے جانے نہیں دیتے تھے، کسی کے ساتھ ملاقات کرنے کی اجازت نہیں تھی، دونوں بڑے بچوں کی پڑھائی چھوٹ گئی تھی جبکہ بعد ازاں تین بچے پاکستان میں پیدا ہوئے تھے اور اُن بچوں کو سکول داخل نہیں کروایا گیا۔‘
سینیئر پولیس اہلکار کے مطابق خاتون کا دعویٰ ہے کہ شوہر اُن پر اور بچوں، بالخصوص بیٹی، پر تشدد اور سختی کرتا تھا۔
پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ ابتدائی بیان میں خاتون نے کہا کہ ’مجھے لگ رہا تھا کہ میرا مستقبل تو تباہ ہوا ہی ہے، بچوں کا مستقبل بھی تباہ و برباد ہو جائے گا۔ اس لیے میں موقع کی تلاش میں تھی اور یہ موقع مجھے پولیس کے ذریعے سے ملا ہے اور میں اب واپس بچوں کے ہمراہ فرانس جاؤں گی۔‘