سوئٹرزلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر امریکہ اور ایران میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈمیپ پر اتفاق کر
لیا گیا ہے۔
فریقین میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے قطر اور پاکستان
کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں مذاکرات کے حوالے سے ہونے والی
پیشرفت کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔
پاکستان اور قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے
کے مطابق ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے پہلے
اجلاس کا اختتام سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں ہوا، جس میں ایران اور امریکہ کے
درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے دو ممالک قطر اور پاکستان کے نمائندوں نے بھی شرکت
کی۔‘
اعلامیے میں درج ہے کہ سربراہی اجلاس ایک مثبت اور تعمیری
ماحول میں منعقد ہوا، جبکہ ’مزید تکنیکی مذاکرات کے لیے ایک طریقہ کار کے قیام سمیت
حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔‘
اعلامیے کے مطابق ’مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر فریقین
نے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے، جو ثالثی کے عمل کے لیے سیاسی نگرانی
فراہم کرے گی۔‘
پاکستان اور قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں درج ہے کہ ’مرکزی مذاکرات کار باقاعدگی سے اس اعلیٰ سطح کی کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے اور جوہری امور، پابندیوں اور مفاہمتی یادداشت کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور تنازعات کے حل سے متعلق ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے، نیز دیگر امور پر بھی کام کریں گے۔‘
اعلامیے کے مطابق ’اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈمیپ پر اتفاق کیا ہے، جو مزید تکنیکی مذاکرات کے فوری آغاز کی بنیاد فراہم کرے گا۔‘
’اس کے علاوہ مفاہمتی یادداشت کے پیراگراف پانچ میں بیان کردہ مدت کے لیے فریقین کے درمیان ایک مواصلاتی رابطہ بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکے اور واقعات و غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔‘
واضح رہے کہ امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت کے پیراگراف نمبر پانچ میں درج ہے کہ اس یادداشت پر دستخط کے بعد ایران 60 دن تک بغیر کسی فیس کے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے انتظامات کرے گا، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری خدمات کے انتظامات کے مستقبل کے حوالے سے عمان کے ساتھ مکالمہ کرے گا۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ فریقین نے ڈی کنفلیکشن سیل (تنازع کم کرنے والا سیل) بنانے پر اتفاق کیا ہے جو ’فریقین کے درمیان، لبنان کے ساتھ اور ثالثوں کی معاونت سے قائم کیا جائے گا، تاکہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘
اعلامیے کے مطابق تمام امور پر تکنیکی مذاکرات رواں ہفتے کے دوران برگن سٹاخ میں جاری رہیں گے، اس دوران ’ثالثی کرنے والے فریق مذاکرات کو تعمیری ماحول میں جاری رکھنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے، تاکہ حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔‘