آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ، اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں ہزاروں ہلاکتیں مگر ’اصل تعداد شاید کبھی معلوم نہ ہو سکے‘
- مصنف, کرسٹین جیونز
- مصنف, میٹ مرفی
- عہدہ, بی بی سی ویریفائی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اب جنگ ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔
ان ممالک کی سرکاری ہلاکتوں کی رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے اب تک ایران اور لبنان میں 7,300 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان میں سینکڑوں بچے اور درجنوں طبی عملے کے کارکن بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خطے کے دیگر حصوں میں بھی متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد یقیناً اصل سے کم ہے۔ بی بی سی ویریفائی سے بات کرتے ہوئے ماہرین نے بتایا کہ انٹرنیٹ، میڈیا اور حکومتی پابندیوں کے ساتھ ساتھ کچھ علاقوں میں مسلح گروہوں کی موجودگی کی وجہ سے قابلِ اعتماد اعداد و شمار حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
برطانیہ میں قائم فلاحی ادارے ایکشن آن آرمڈ وائلنس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایئن اوورٹن نے کہا کہ کئی ممالک میں پھیلے اس تنازع کی وجہ سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار ’اکثر نامکمل، تاخیر کا شکار یا آزادانہ طور پر تصدیق کے قابل نہیں ہوتے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جنگ کے خاتمے کے بعد بھی کئی سال تک ہلاکتوں کی حتمی تعداد متنازع رہنے کا امکان ہے۔‘
ایران
اپریل کے وسط تک، ایرانی حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 3,468 ایرانی ہلاک ہو چکے تھے، جن میں 499 خواتین بھی شامل ہیں۔
ریاستی خبر رساں ایجنسی ارنا نے 26 اپریل کو رپورٹ کیا کہ حملوں میں مرنے والوں میں 1,460 شہری اور 2,008 فوجی اہلکار شامل ہیں۔
تاہم امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (ہرانا) کا کہنا ہے کہ ان کی گنتی اس سے زیادہ یعنی 3,636 ہلاکتوں پر مبنی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
18 مئی کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں ایجنسی نے بتایا کہ ان کے اعداد و شمار میں 1,701 شہری شامل ہیں، جن میں 307 بچے بھی ہیں، 1,221 فوجی اہلکار، اور 714 ایسے افراد شامل ہیں جن کی شناخت یا حیثیت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ان کے مرتب کردہ اعداد و شمار کو ’کم از کم تعداد‘ سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ ہلاکتوں کی معلومات حاصل کرنا بہت مشکل تھا، جس کی وجہ متاثرہ مقامات تک رسائی میں مشکلات، حکومت کی طرف سے انٹرنیٹ کی بندش، اور سیاسی دباؤ ہے۔
ادارے کے نائب ڈائریکٹر اسکائلر تھامسن نے کہا کہ ’حکام اکثر ہلاکتوں کے بارے میں معلومات چھپا لیتے ہیں، اور خاندانوں پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے کہ وہ اموات کے حالات کے بارے میں عوامی طور پر بات نہ کریں۔‘
ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ملک بھر میں حملوں کے دوران شہری ڈھانچوں کو نشانہ بنایا۔ متعدد تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنگ کے پہلے دن امریکی میزائل حملہ میناب سکول پر ہوا، جس کے بارے میں ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس میں 168 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 110 بچے شامل تھے۔ امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ اس حملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
چند دن بعد ایرانی حکام نے بتایا کہ لامرد شہر میں لڑکیوں کے والی بال میچ کے دوران ایک میزائل کھیل کے ہال پر گرا جس سے 20 افراد ہلاک ہو گئے۔
امریکہ نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، لیکن ماہرین نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ غالباً اس حملے میں امریکہ کا بنایا ہوا پریسیژن سٹرائیک میزائل (PrSM) استعمال کیا گیا تھا۔
لبنان
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع 2 مارچ کو دوبارہ شروع ہوا جب حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت کے ردعمل میں اسرائیل پر راکٹ داغے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی حملوں کی مہم اور جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی شروع کی۔
اس کے بعد سے لبنانی محکمہ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 3,912 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں 366 خواتین اور 247 بچے شامل ہیں۔
یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں کتنے حزب اللہ کے جنگجو شامل ہیں۔ بی بی سی ویریفائی نے وزارتِ صحت سے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اگرچہ حزب اللہ نے اپنے اعداد و شمار جاری نہیں کیے، لیکن گذشتہ ماہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے 3,000 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔
مارچ کے اوائل میں لبنانی وزارتِ صحت نے کہا کہ وادی بقاع کے مشرقی علاقے میں ایک قصبے کے قریب اسرائیل کی بڑی فضائی اور زمینی کارروائی میں 41 افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ ان کے اہلکار 40 سال پہلے لبنان میں ایک سابقہ جنگ کے دوران لاپتا ہونے والے ایک اسرائیلی فضائیہ کے اہلکار کی باقیات تلاش کر رہے تھے، مگر لبنانی حکام کے مطابق اس کارروائی میں ان کے تین فوجی بھی مارے گئے، جن کے ساتھ متعدد شہری اور بچے بھی شامل تھے۔
8 اپریل کو اسرائیلی حملوں کی ایک بڑی لہر میں لبنانی حکام کے مطابق صرف 10 منٹ کے اندر کم از کم 361 افراد ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس دن انھوں نے حزب اللہ کے 250 اہلکاروں کو نشانہ بنایا، لیکن لبنان کی وزارتِ صحت نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مرنے والوں میں اکثریت عام شہری تھے۔
اسی دوران اقوام متحدہ کے مطابق لبنان میں اس کے سات امن دستوں کے اہلکار بھی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سب سے حالیہ ہلاکت 4 جون کو ہوئی۔
اسرائیلی کارروائی کو شہری ہلاکتوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی فوج کے طرزِ عمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حملوں میں ’بہت زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔‘
پیرس میں جی سیون اجلاس کے دوران ٹرمپ نے کہا ’آپ کو ہر بار کسی کو تلاش کرنے کے لیے پورا اپارٹمنٹ بلاک گرانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ان عمارتوں میں بہت سے لوگ رہتے ہیں اور وہ سب حزب اللہ سے تعلق نہیں رکھتے۔‘
اسرائیل
ادھر اسرائیلی حکام کے مطابق 60 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر ایرانی حملوں اور حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے۔
بی بی سی کو فراہم کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان میں 29 شہری شامل ہیں، جن میں سے 21 ایرانی میزائل حملوں میں ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ 31 اسرائیلی فوجی لڑائی کے دوران مارے گئے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایک شخص اپنی ہی فوج کی غلطی سے ہونے والی فائرنگ میں ہلاک ہوا۔
اسرائیل اکثر ایران پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ ملک کے آبادی والے علاقوں میں کلسٹر بم استعمال کر رہا ہے۔ ایک حملے میں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ 70 سال کی عمر کے ایک میاں بیوی اس وقت ہلاک ہو گئے جب وہ ایک فضائی حملے سے بچنے کے لیے پناہ گاہ کی طرف جا رہے تھے، اور کلسٹر بم سے نکلنے والے چھوٹے بم رامات گان شہر پر گرے۔
مارچ میں ہیومن رائٹس واچ نے تہران پر الزام عائد کیا کہ اس نے کلسٹر بموں کے ذریعے شہری علاقوں کو نشانہ بنا کر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
ایچ آر ڈبلیو کے ایک محقق پیٹرک تھامسن نے کہا کہ ’کلسٹر بموں کے چھوٹے دھماکہ خیز حصے ایک وسیع علاقے میں پھیل جاتے ہیں اور یہ جنگ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔‘
مشرق وسطیٰ میں ہونے والی ہلاکتیں
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے پڑوسی عرب ممالک کو بھی نشانہ بنایا جہاں امریکی اڈے موجود ہیں۔
ایرانی افواج نے بیلسٹک میزائلوں اور دھماکہ خیز ڈرونز سے کئی حملے کیے، جن میں سے بہت سے مختلف شہری مقامات پر گرے، جن میں ہوائی اڈے، توانائی کی تنصیبات اور بندرگاہیں شامل ہیں۔ بہت سے مواقع پر دفاعی کارروائی کے دوران گرنے والا ملبہ رہائشی علاقوں پر آ گرا۔
بی بی سی ویریفائی پہلے ہی آٹھ ممالک میں فوجی اڈوں پر حملوں کی دستاویز تیار کر چکا ہے جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، قطر، کویت، عراق، اردن، بحرین اور عمان شامل ہیں۔
ان حملوں کی لہر نے ایران کے پڑوسی ممالک میں سخت ردعمل کو جنم دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا ’آپ کی جنگ آپ کے پڑوسیوں سے نہیں ہے، اور اس کشیدگی کے ذریعے آپ ان لوگوں کے بیانیے کو مضبوط کر رہے ہیں جو ایران کو خطے میں خطرے کا بنیادی ذریعہ سمجھتے ہیں۔‘
خطے بھر میں ہلاکتوں کی حتمی تعداد تک پہنچنا مشکل ہے کیونکہ تمام ممالک نے مجموعی اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں۔ تاہم سرکاری بیانات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق خلیجی ممالک کے زیادہ تر حصوں میں ہلاکتیں ہوئی ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات میں 13 ہلاکتیں بھی شامل ہیں، جیسا کہ ملک کی وزارتِ دفاع نے بتایا۔
عراق میں الجزیرہ اور فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں کم از کم 80 افراد نیم فوجی پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے ارکان بتائے گئے ہیں، جس پر ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں کا غلبہ ہے، اور یہ لوگ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔
ادھر پینٹاگون کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تعینات 13 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے سات ایرانی حملوں میں اور چھ عراق میں ایک ایندھن بھرنے والے طیارے کے حادثے میں مارے گئے۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں بحری جہازوں پر حملوں کے نتیجے میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 14 ملاح بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر اوورٹن نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں میں ’رسائی کی پابندیاں، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور سیاسی حساسیت‘ کی وجہ سے رپورٹنگ محدود ہو گئی ہے اور بعض صورتوں میں ہلاکتوں کی تعداد مکمل طور پر سامنے ہی نہیں آ سکی۔
ڈاکٹر اوورٹن نے مزید کہا کہ ’عراق، شام اور دیگر مقامات کے تنازعات کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد متنازع ہی رہتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ موجودہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو۔‘