آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
41 سال قبل بچھڑ جانے والے بہن بھائی کی ملاقات: ’مجھے معلوم ہوا میری بہترین دوست دراصل میری بہن ہے‘
- مصنف, روون برج
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
ڈیو گرین اور اینڈریا اُرمسٹن کی دوستی اس وقت فوراً مضبوط ہو گئی جب انگلینڈ کے شہر مانچسٹر کے ہوائی اڈے پر مختلف شعبوں میں کام کرتے ہوئے ان کی ملاقات ہوئی۔
دونوں کے درمیان جلد ہی ایسی بے ساختہ ہم آہنگی پیدا ہو گئی کہ وہ ایک دوسرے کے جملے تک مکمل کر دیا کرتے تھے۔ اُس وقت انھیں اندازہ نہیں تھا کہ اس غیر معمولی قربت کے پیچھے ایک حیران کن حقیقت پوشیدہ ہے۔
بعد میں معلوم ہوا کہ ڈیو دراصل اینڈریا کا حقیقی بھائی ہے، جسے بچپن میں ایک دوسرے خاندان نے گود لے لیا تھا۔
اینڈریا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کانپ رہی تھی، مسلسل کانپ رہی تھی، اور میرا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’آخرکار میں نے اسے ڈھونڈ لیا تھا۔ یہ واقعی ناقابلِ یقین تھا۔‘
سنہ 2005 میں ڈیو مانچسٹر ہوائی اڈے کے بس سٹیشن کا انتظام سنبھالتے تھے، جبکہ اینڈریا وینڈنگ مشینوں کی دیکھ بھال اور مرمت کی ذمہ دار تھیں۔
یہیں سے ان کی دوستی کا آغاز ہوا، جو وقت کے ساتھ اتنی گہری ہو گئی کہ دونوں ایک دوسرے کے انتہائی قریبی دوست بن گئے، حالانکہ وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ وہ دراصل برسوں سے بچھڑے ہوئے بہن بھائی ہیں۔
اگلے دو برسوں کے دوران دونوں کے درمیان گہری دوستی پروان چڑھی۔ کام کے اوقات کے علاوہ بھی وہ ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہتے، ٹیکسٹ پیغامات کا تبادلہ کرتے اور طویل فون کالز پر باتیں کیا کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پھر ایک روز فون پر گفتگو کے دوران ڈیو نے اینڈریا کو اپنی زندگی کی ایک ایسی بات بتائی جس کا انھوں نے اس سے پہلے کبھی ذکر نہیں کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں بچپن میں گود لے لیا گیا تھا اور ان کا پیدائشی نام سٹورٹ پراڈلوو تھا۔
یہ نام سنتے ہی اینڈریا پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا۔ انھیں فوراً احساس ہو گیا کہ وہ جس شخص سے بات کر رہی ہیں، وہ کوئی اور نہیں بلکہ ان کا برسوں سے بچھڑے ہوئے بھائی ہیں۔
اینڈریا نے اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ششدر رہ گئی تھی۔ تقریباً ایک منٹ تک میرے منھ سے ایک لفظ بھی نہیں نکل سکا۔‘
اینڈریا کا خاندانی نام بھی پراڈلوو تھا، اور وہ بچپن ہی سے جانتی تھیں کہ ان کے ایک بھائی تھے جنھیں ان کی پیدائش سے پہلے گود دے دیا گیا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ کوئی عام خاندانی نام نہیں تھا، اس لیے مجھے فوراً احساس ہوا کہ یہ وہی ہو سکتا ہے۔ اپنے خاندان کے علاوہ میں نے یہ نام کبھی کہیں اور نہیں سنا تھا۔‘
یقین کرنے کے لیے اینڈریا نے فوراً اپنی والدہ، سوزن، کو فون کیا اور اپنے برسوں سے بچھڑے بھائی کی تاریخِ پیدائش پوچھی۔ جب تاریخ معلوم ہوئی تو اس کے تمام شکوک دور ہو گئے۔ دونوں کی تاریخِ پیدائش ایک ہی تھی: 24 مارچ 1966۔
اس کے بعد اینڈریا نے دوبارہ ڈیو کو فون کیا۔
وہ اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میں نے ان سے کہا، ’یہ تم ہی ہو سکتے ہو، یقیناً تم ہی ہو۔‘ پھر میں نے کہا، ’مجھے تم سے ملنا ہے۔ چنانچہ میں فوراً اسے ڈھونڈنے نکل پڑی۔‘
یہ وہ لمحہ تھا جب ایک عام سی دوستی اچانک ایک جذباتی انکشاف میں بدل گئی، اور دو بہن بھائیوں کو احساس ہوا کہ قسمت برسوں بعد انھیں دوبارہ ایک دوسرے کے قریب لے آئی ہے۔
’بہت آنسو بہے‘
جب اینڈریا ڈیو کو اپنی والدہ کے گھر لے جا رہی تھیں تو راستے میں ڈیو کو اچانک احساس ہوا کہ وہ کس علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔ وہ اسی بس روٹ پر سفر کر رہے تھے جس پر وہ سپروائزر بننے سے پہلے کام کیا کرتے تھے۔
مزید حیرت کی بات یہ تھی کہ ان کا پرانا روٹ عین اس گھر کے سامنے سے گزرتا تھا جہاں ان کی حقیقی والدہ رہتی تھیں، جبکہ اسی راستے پر وہ سکول بھی واقع تھا جہاں اینڈریا نے تعلیم حاصل کی تھی۔ یوں وہ برسوں تک اپنی حقیقی فیملی کے انتہائی قریب رہے، مگر انھیں اس کا کبھی احساس نہ ہو سکا۔
ڈیو کی والدہ سوزن نے اپنے بیٹے سے پہلی ملاقات کے لمحے کو ایک خواب جیسا اور ناقابلِ یقین تجربہ قرار دیا۔
اینڈریا نے اس جذباتی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’بہت آنسو بہے۔ پھر ہم سب نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں اپنے بھائی اور اپنی ماں کو دوبارہ ملا سکی ہوں۔ یہ واقعی ایک ناقابلِ یقین لمحہ تھا۔‘
اینڈریا کو بچپن ہی میں ان کی والدہ نے بتایا تھا کہ ان کا ایک بھائی ہے۔ سوزن نے انھیں سمجھایا تھا کہ انھیں گود دے دیا گیا تھا اور وہ ایک ایسی مہربان خاتون کے پاس پرورش پا رہے ہیں جو خود اولاد نہیں تھی۔
اینڈریا کہتی ہیں کہ ’میرا دل چاہتا تھا کہ فوراً جا کر اسے ڈھونڈ لاؤں تاکہ ہم اکٹھے کھیل سکیں۔‘
دوسری جانب سوزن نے بھی اپنے بیٹے کی تلاش کبھی نہیں چھوڑی۔ انھوں نے سیلویشن آرمی کی مدد سے انھیں ڈھونڈنے کی کوشش کی، لیکن تمام کوششوں کے باوجود وہ انھیں تلاش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔
بالآخر قسمت نے وہ کام کر دکھایا جو برسوں کی تلاش نہ کر سکی، اور ایک معمولی سی دوستی نے ایک بچھڑے ہوئے خاندان کو دوبارہ جوڑ دیا۔
اینڈریا کو بچپن ہی سے اپنے بچھڑے ہوئے بھائی کے بارے میں تجسس تھا۔ وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میں نے ماں سے پوچھا تھا کہ کیا ہم جا کر اسے واپس لا سکتے ہیں؟‘
ان کے بقول، والدہ نے انھیں سمجھایا کہ معاملات اس طرح نہیں ہوتے، مگر اس جواب نے ان کے ارادے کو کمزور نہیں کیا۔
’تب میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ایک دن میں اسے ضرور ڈھونڈ نکالوں گی۔‘
اور برسوں بعد، وہ وعدہ حقیقت بن گیا۔
اینڈریا نے کہا کہ ’وہ جب سے مجھے یاد ہے، یہی چاہتی تھیں۔ اس لیے ہاں، آخرکار میں نے ان کی یہ خواہش پوری کر دی۔‘
اس جذباتی کہانی کی ایک اور حیران کن بات سوزن کے گھر میں رکھی ایک تصویر تھی۔ گھر کی آتش دان کی شیلف پر ڈیو کی ایک تصویر سجی ہوئی تھی، جو گود لینے کے چند روز بعد اس کے منھ بولے والدین نے اس کی حقیقی والدہ کو بھیجی تھی۔
دلچسپ امر یہ تھا کہ یہی تصویر ڈیو کے منھ بولے والدین کے گھر میں بھی آویزاں رہی، گویا دونوں خاندان برسوں تک ایک ہی یاد سے جڑے رہے۔
ڈیو کو دس برس کی عمر میں معلوم ہو گیا تھا کہ اسے گود لیا گیا تھا، کیونکہ اس کے منھ بولے والدین نے انھیں ان سے متعلق دستاویزات دکھا دی تھیں۔
تاہم وہ اپنے بچپن کو خوشگوار قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھیں کبھی اپنی حقیقی ماں کو تلاش کرنے کی شدید خواہش محسوس نہیں ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ ’میرا بچپن بہت خوشگوار گزرا۔ مجھے کبھی ایسا نہیں لگا کہ مجھے اپنی اصل فیملی کو تلاش کرنا چاہیے یا میرے ذہن میں کوئی ایسا سوال ہے جس کا جواب ملنا باقی ہو۔‘
پھر بھی قسمت نے ایک ایسا راستہ نکالا کہ برسوں سے بچھڑے ہوئے بہن بھائی نہ صرف ایک دوسرے سے مل گئے بلکہ ایک ماں بھی اپنے کھوئے ہوئے بیٹے سے دوبارہ جا ملی۔
’لاٹری جیتنے جیسا‘
تینوں کے لیے یہ ملاقات زندگی بدل دینے والا تجربہ ثابت ہوئی۔
ڈیو کا کہنا تھا کہ ’اس وقت میری زندگی میں خوشیاں بہت کم تھیں، لیکن پھر مجھے معلوم ہوا کہ میری بہترین دوست دراصل میری بہن ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے اپنی حقیقی ماں مل گئی، اور ایک طرح سے میں اسے حقیقی خوشی دینے کے قابل ہوا۔ اس کے ساتھ ہی مجھے ایک ایسے خاندان کا بھی پتا چلا جس کے وجود سے میں مکمل طور پر بے خبر تھا۔‘
اگرچہ سوزن اب اس دنیا میں نہیں رہیں، لیکن ڈیو اور اینڈریا دونوں اس بات پر شکر گزار ہیں کہ وہ اپنے بیٹے سے دوبارہ ملنے میں کامیاب ہو گئیں۔
اینڈریا نے اپنے بھائی سے کہا کہ ’وہ تمھیں ڈھونڈنے کے لیے بے چین رہتی تھیں۔ وہ صرف یہ جاننا چاہتی تھیں کہ تم خوش اور اچھی زندگی گزار رہے ہو۔‘
اینڈریا کے لیے یہ ملاپ خوشی اور اداسی، دونوں جذبات کا امتزاج تھا۔ انھوں نے برسوں تک اپنے بھائی کو تلاش کرنے کی آرزو دل میں بسائے رکھی تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’بدقسمتی سے میرے والدین میں علیحدگی ہو گئی تھی، اس لیے میں نے زندگی کے کچھ بہت مشکل دور دیکھے۔ ان دنوں یہ جان کر دل اور بھی بھاری ہو جاتا تھا کہ میرا بھائی کہیں موجود ہے، مگر مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں ہے۔‘
آج دونوں بہن بھائی سٹافورڈشائر میں ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ساتھ گزارا جانے والا ہر لمحہ بھرپور انداز میں جیا جائے۔
ان کے نزدیک برسوں بعد ایک دوسرے کو ڈھونڈ لینا کسی معجزے سے کم نہیں۔
دونوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’یہ بالکل لاٹری جیتنے جیسا تھا۔‘